Baaghi TV

Blog

  • خطے میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں جس کے دور رس اثرات ہوں گے، وزیراعظم

    خطے میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں جس کے دور رس اثرات ہوں گے، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ برادرانہ تعلقات ہیں اور یہ پاکستان کے اہم کردار کا اعتراف تھا۔

    کراچی میں پاک بحریہ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاس ہونے والے کیڈٹس کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دوست ممالک کے کیڈٹس کو دیکھ کر خوشی ہوئی، معرکہ حق میں نیوی کا کردار شاندار رہا۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے، پاکستان کی مخلصانہ کوششوں سے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے، اسلام آباد اکارڈ پر دستخط پاکستان کے لیے باعث اعزاز ہے، امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت میں دوسمت ممالک کا تعاون قابل قدر رہا جب کہ قیام امن کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر نےشب و روز انتھک محنت کی، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ برادرانہ تعلقات ہیں یہ پاکستان کے اہم کردار کا اعتراف تھا، خطے میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں جس کے دور رس اثرات ہوں گے، ہمارے مشرقی ہمسائے نے شکست کے بعد پراکسیز کا استعمال شروع کردیا ہے، پاکستان بیرون سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا سامنا کررہا ہے، افواج پاکستان دہشتگردی کو مکمل ناکام بنانےاور اس کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، پاکستان دنیا میں امن کے علمبردار کے طور پر پہنچانا جاتا ہے، پاکستان کشمیر اور فلسطین میں کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا

  • ثناء میر  قومی ویمن ٹیم کی کارکردگی پر ہونے والی تنقید پر برس پڑیں

    ثناء میر قومی ویمن ٹیم کی کارکردگی پر ہونے والی تنقید پر برس پڑیں

    پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثناء میر نے قومی ویمن ٹیم کی کارکردگی پر ہونے والی تنقید، خاص طور پر خواتین کرکٹرز کو نشانہ بنانے والے رویوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف خواتین ہونے کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو غیر منصفانہ تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    ثناء میر نے سوال اٹھایا کہ کیا پاکستان کی مردوں کی کرکٹ ٹیم نے کبھی ورلڈ کپ نہیں ہارا؟ کیا ان کی کارکردگی میں کبھی اتار چڑھاؤ نہیں آیا؟ انہوں نے کہا کہ مرد کرکٹرز کی خراب کارکردگی پر کبھی کسی خاتون کرکٹر نے یہ نہیں کہا کہ وہ "تندور پر روٹی لگانے” کے زیادہ قابل ہیں، لیکن خواتین کرکٹرز کے بارے میں اس قسم کے توہین آمیز جملے عام سننے کو ملتے ہیں۔سابق کپتان نے کہا کہ خواتین کرکٹرز کو صرف ان کی جنس کی بنیاد پر زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جو افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق بعض عناصر مصنوعی ذہانت ے ذریعے خواتین کرکٹرز کی جعلی ویڈیوز تیار کرکے جھوٹا پروپیگنڈا بھی کرتے ہیں، جس سے نہ صرف کھلاڑیوں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ خواتین کے کھیل کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

    ثناء میر کا کہنا تھا کہ انہیں موجودہ معاشرتی ذہنیت سے شدید تکلیف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک خواتین کے بارے میں اس امتیازی سوچ کو تبدیل نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک کھیلوں سمیت مختلف شعبوں میں حقیقی ترقی ممکن نہیں ہوگی۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کرکٹرز کو بھی وہی احترام، حوصلہ افزائی اور تعمیری تنقید ملنی چاہیے جو مرد کھلاڑیوں کو دی جاتی ہے، تاکہ وہ بہتر ماحول میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔

  • خاران اور مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 8 دہشتگرد ہلاک

    خاران اور مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 8 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان کے اضلاع خاران اور مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 8 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 25 اور 26 جون کو فتنہ الہندوستان کے خلاف انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیا،آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے خاران میں دہشتگردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا، فورسز کی بروقت اور مؤثرکارروائی میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کے 3دہشتگرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے،اس کے علاوہ 26جون کومستونگ میں ممکنہ خودکش حملہ آور کی موجودگی کی اطلاع پر قبل ازوقت انٹیلی جنس آپریشن کیا گیا جس میں فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 5 دہشتگرد ہلاک ہوگئے جن میں ایک خودکش حملہ آور بھی شامل تھا۔

  • ٹرک اور ٹریکٹر ٹرالی میں خوفناک تصادم،ڈرائیور موقع پر جانبحق

    ٹرک اور ٹریکٹر ٹرالی میں خوفناک تصادم،ڈرائیور موقع پر جانبحق

    قصور
    تحصیل چونیاں میں ٹرک اور ٹریکٹر میں تصادم، نوجوان ڈرائیور جاں بحق

    تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل چونیاں میں برادرز شوگر مل چونیاں کے قریب مرغیوں سے لدا ایک ٹرک ٹریکٹر سے ٹکرانے کے بعد بے قابو ہو کر سڑک کنارے درخت سے جا ٹکرایا جس کے نتیجے میں 18 سالہ ٹرک ڈرائیور جاں بحق ہو گیا

    ریسکیو 1122 کے مطابق کنٹرول روم کو حادثے کی اطلاع موصول ہونے پر تین امدادی گاڑیاں فوری طور پر موقع پر روانہ کی گئیں ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ڈرائیور کو دورانِ سفر نیند آنے کے باعث ٹرک پہلے ایک ٹریکٹر سے ٹکرایا جس کے بعد وہ بے قابو ہو کر درخت سے جا ٹکرایا

    حادثے کے نتیجے میں ٹرک ڈرائیور ثاقب ولد محمد بوٹا بعمر عمر 18 سال موقع پر ہی دم توڑ گیا
    متوفی کی لاش ٹرک کے کیبن میں پھنس گئی تھی جسے ریسکیو اہلکاروں نے آپریشن کے بعد نکال لیا

    ٹریفک پولیس قصور و ریسکیو 1122 نے ڈرائیوروں سے اپیل کی ہے کہ دورانِ سفر تھکاوٹ یا نیند محسوس ہونے کی صورت میں گاڑی روک کر آرام کریں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو حادثات سے محفوظ رکھا جا سکے

  • بنوں میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، اسلحہ سے بھری گاڑی تباہ، 4 دہشتگرد ہلاک

    بنوں میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، اسلحہ سے بھری گاڑی تباہ، 4 دہشتگرد ہلاک

    بنوں: سیکیورٹی فورسز نے ضلع بنوں کے علاقے سردی خیل میں بروقت کارروائی کرتے ہوئے بھاری اسلحہ اور گولہ بارود سے لدی ایک مشکوک گاڑی کو تباہ کر دیا، جبکہ کارروائی کے دوران چار مبینہ دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 26 جون 2026 کو فورسز کو مصدقہ خفیہ اطلاع موصول ہوئی کہ سردی خیل کے علاقے میں ایک مشکوک گاڑی بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود لے کر نقل و حرکت کر رہی ہے۔ اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گاڑی کا تعاقب شروع کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جب سیکیورٹی اہلکاروں نے گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تو اس میں سوار مسلح افراد نے فائرنگ شروع کر دی، جس کے جواب میں فورسز نے مؤثر کارروائی کی۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران گاڑی میں موجود بھاری اسلحہ، جس میں 12.7 ملی میٹر گن، آر پی جی راکٹ اور 75 ملی میٹر مارٹر گولے شامل تھے، زور دار دھماکے سے پھٹ گئے، جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ذرائع کے مطابق دھماکے اور جوابی کارروائی کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چار مبینہ دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔

    سیکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ علاقے میں ممکنہ طور پر فرار ہونے والے دیگر مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ اور کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاشی کا عمل مزید تیز کر دیا ہے۔

  • کم عمری میں جنسی تعلقات بڑھاپے میں صحت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، تحقیق

    کم عمری میں جنسی تعلقات بڑھاپے میں صحت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، تحقیق

    ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ کسی شخص کی پہلی بار جنسی تعلق قائم کرنے کی عمر مستقبل میں اس کی صحت اور بڑھاپے کے معیار پر اثر ڈال سکتی ہے۔

    محققین کے مطابق کم عمری میں جنسی زندگی کا آغاز کرنے والے افراد میں عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی کمزوری، ذہنی مسائل اور بعض دائمی بیماریوں کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے، تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ صرف ایک رویہ کسی شخص کی پوری زندگی یا صحت کا تعین نہیں کرتا۔چین کی شیڈونگ یونیورسٹی کے محققین نے ایک بڑے جینیاتی ڈیٹا بیس کا تجزیہ کرتے ہوئے ایسے جینیاتی عوامل کی نشاندہی کی جو اس عمر سے تعلق رکھتے ہیں جس میں افراد پہلی بار جنسی تعلق قائم کرتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا جلد یا دیر سے جنسی زندگی شروع کرنے سے وابستہ جینیاتی خصوصیات کا بڑھاپے میں صحت اور معیارِ زندگی سے بھی کوئی تعلق موجود ہے۔تحقیق کے مطابق جن افراد میں کم عمری میں جنسی تعلقات شروع کرنے سے متعلق جینیاتی رجحانات پائے گئے، ان میں بڑھاپے کے دوران جسمانی کمزوری ، کمزور صحت اور طویل عمر سے متعلق منفی اشاریے نسبتاً زیادہ دیکھے گئے۔

    تحقیق کے مرکزی مصنف کائشیان وانگ کے مطابق ٹیم نے اس تعلق کی ممکنہ وجوہات جاننے کے لیے 145 مختلف عوامل کا جائزہ لیا، جن میں سے 34 کو مزید تحقیق کے لیے اہم قرار دیا گیا۔محققین کے مطابق چار عوامل اس تعلق میں سب سے زیادہ نمایاں رہے، جن میں جسمانی کمزوری، ذہنی پریشانی یا اداسی، دائمی رکاوٹی پھیپھڑوں کی بیماری اور توجہ کی کمی و حد سے زیادہ سرگرمی کی خرابی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کم عمری میں جنسی سرگرمی اور خراب صحت کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے تو ان بیماریوں اور نفسیاتی مسائل کا اس میں اہم کردار ہو سکتا ہے۔وانگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس تحقیق کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ صرف پہلی بار جنسی تعلق قائم کرنے کی عمر ہی مستقبل کی صحت کا فیصلہ کرتی ہے، بلکہ ابتدائی زندگی کے مختلف تجربات اکثر ذہنی صحت، دائمی بیماریوں اور جسمانی صلاحیت میں کمی جیسے عوامل کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ صحت پر مجموعی اثر ڈالتے ہیں۔

    تحقیق کے شریک مصنف لونگ سن کے مطابق نتائج اس بات کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ نوجوانی ہی سے صحت کے خطرات کی بروقت روک تھام اور مناسب مداخلت کی جائے تاکہ بعد کی زندگی میں بیماریوں اور جسمانی کمزوری کے امکانات کم کیے جا سکیں۔محققین نے یہ بھی کہا کہ جامع جنسی صحت کی تعلیم اور ایسے نوجوانوں کی بہتر رہنمائی ضروری ہے جو مختلف سماجی یا نفسیاتی خطرات کا سامنا کر سکتے ہیں۔

    دوسری جانب اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں نوجوان پہلے کی نسبت زیادہ عمر میں جنسی تعلقات قائم کر رہے ہیں۔ قومی سرویز کے مطابق امریکیوں میں پہلی بار جنسی تعلق قائم کرنے کی اوسط عمر تقریباً 17 سال ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اس عمر میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق جنریشن زی میں جنسی سرگرمیوں میں تاخیر کی وجوہات میں اسکرین ٹائم میں اضافہ، ڈیٹنگ کلچر میں تبدیلی، ذہنی صحت کے بڑھتے مسائل اور کووڈ-19 وبا کے اثرات شامل ہیں۔ بعض ماہرین اس رجحان کو "سیکس ریسیشن” کا نام بھی دیتے ہیں۔ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اس تحقیق سے صرف ایک تعلق ظاہر ہوتا ہے، نہ کہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ کم عمری میں جنسی تعلقات براہِ راست بڑھاپے میں خراب صحت کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے ان نتائج کو دیگر سماجی، نفسیاتی اور طبی عوامل کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

  • حمل کے دوران غیر معمولی اور جسمانی طور پر سخت کام لیا گیا،امریکی ریئلٹی ٹی وی اسٹارپر مقدمہ

    حمل کے دوران غیر معمولی اور جسمانی طور پر سخت کام لیا گیا،امریکی ریئلٹی ٹی وی اسٹارپر مقدمہ

    لاس اینجلس: معروف امریکی ریئلٹی ٹی وی اسٹار اور کاروباری شخصیت کائلی جینر ایک نئے قانونی تنازع کا سامنا کر رہی ہیں، جہاں ان کی سابق نجی شیف نے الزام عائد کیا ہے کہ حمل کے دوران غیر معمولی اور جسمانی طور پر سخت کام لینے کے باعث ان کا اسقاط حمل ہوگیا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق شیف نے لاس اینجلس سپیریئر کورٹ میں دائر مقدمے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں 2024 کے آخر میں ملازمت پر رکھا گیا تھا۔ انہوں نے دسمبر 2024 میں اپنے سپروائزرز کو آگاہ کر دیا تھا کہ وہ تین ماہ کی حاملہ ہیں اور ان کا حمل خطرناک نوعیت کا ہے، اس لیے انہیں کام کے دوران خصوصی سہولیات اور احتیاط کی ضرورت ہوگی۔مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس اطلاع کے باوجود انہیں ہفتے میں پانچ دن مسلسل 11 سے 12 گھنٹے کام کروایا جاتا رہا اور آرام یا مناسب سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ شکایت کے مطابق نئے سال کی شام انہیں بھاری خوراک اور سامان بغیر کسی مدد کے ایک جگہ سے دوسری جگہ اور ڈھلوان راستے پر منتقل کرنے کا حکم دیا گیا، جس کے باعث ان کی طبیعت بگڑ گئی، سانس لینے میں دشواری ہوئی اور انہیں چکر آنے لگے۔ صورتحال اس قدر خراب ہوئی کہ موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں پانی اور ابتدائی امداد فراہم کی۔

    درخواست گزار نے مزید الزام لگایا کہ یکم فروری 2025 کے قریب، جب وہ پانچ ماہ کی حاملہ تھیں، انہیں کائلی جینر کے بچے کی سالگرہ کی تقریب کے لیے پام اسپرنگز میں تعینات کیا گیا، جہاں تقریب کے بڑے انتظامات کے باوجود اضافی عملہ فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق جب انہوں نے کام کے بوجھ میں کمی اور مدد کی درخواست کی تو اسے نظر انداز کر دیا گیا۔مقدمے کے متن کے مطابق تقریب کے دوران شدید جسمانی تھکن اور دباؤ کے باعث وہ جذباتی طور پر ٹوٹ گئیں۔ اگلی صبح انہیں شدید خون بہنے کی شکایت ہوئی اور وہ خود گاڑی چلا کر اسپتال پہنچیں، جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچے کی دل کی دھڑکن بند ہو چکی ہے اور اسقاط حمل ہو گیا ہے۔
    شیف کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس افسوسناک واقعے سے اپنے سپروائزرز کو آگاہ کیا، مگر ہمدردی کے بجائے ان پر تقریب کے بعد کچن اور ریفریجریٹر کو بے ترتیبی سے چھوڑنے کا الزام لگا دیا گیا۔ مقدمے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ چند روز بعد انہیں دوبارہ شدید خون بہنے کا سامنا کرنا پڑا، وہ اپنے گھر کے باتھ روم میں بے ہوش ہوگئیں اور بعد ازاں شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں مبتلا ہو گئیں۔درخواست گزار نے مزید الزام لگایا کہ ایک سپروائزر نے انہیں کہا، "بس کریں، آپ کائلی کو پریشان کر رہی ہیں، وہ بھی افسردہ ہو رہی ہیں۔”

    سابق شیف نے مقدمے میں حمل کی بنیاد پر امتیازی سلوک، ہراسانی، مناسب طبی سہولیات فراہم نہ کرنے، غیر قانونی برطرفی، اجرت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی اور انہیں آزاد کنٹریکٹر ظاہر کرنے جیسے الزامات عائد کرتے ہوئے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں تمام کام کے اوقات کی مکمل ادائیگی نہیں کی گئی۔درخواست کے مطابق انہوں نے بعد ازاں متعلقہ مینجمنٹ کمپنی کو بھی تحریری شکایت ارسال کی، تاہم مسئلہ حل نہ ہونے پر عدالت سے رجوع کیا۔ مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مئی 2025 میں انہیں قانونی کارروائی سے دستبردار ہونے کے بدلے تصفیے کی پیشکش کی گئی تھی۔

    دوسری جانب کائلی جینر یا ان کے نمائندوں کی جانب سے ان الزامات پر تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یاد رہے کہ یہ دو ماہ سے بھی کم عرصے میں کائلی جینر کے خلاف دائر ہونے والا تیسرا مقدمہ ہے،

  • برطانوی پاپ گلوکارہ دعا لیپا نے ہنی مون کی یادگار تصاویر کیں سوشل میڈیا پر شیئر

    برطانوی پاپ گلوکارہ دعا لیپا نے ہنی مون کی یادگار تصاویر کیں سوشل میڈیا پر شیئر

    روم: عالمی شہرت یافتہ برطانوی پاپ گلوکارہ دعا لیپا نے اپنے شوہر اور اداکار کالم ٹرنر کے ساتھ اٹلی میں جاری ہنی مون کی یادگار جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کر کے مداحوں کی توجہ حاصل کر لی۔

    30 سالہ گلوکارہ نے انسٹاگرام پر تصاویر کا ایک مجموعہ شیئر کیا، جس میں وہ اٹلی کے خوبصورت ساحلی علاقوں میں تعطیلات سے لطف اندوز ہوتی نظر آئیں۔ تصاویر میں دعا لیپا دھوپ سے لطف اندوز ہونے، مختلف سیاحتی مقامات کی سیر کرنے، سمندر کے کنارے وقت گزارنے اور پُرتعیش ماحول میں آرام کرتے ہوئے دکھائی دیں۔شیئر کی گئی تصاویر میں ایک تصویر میں کالم ٹرنر بھی موجود ہیں، جہاں دونوں ایک ریسٹورنٹ میں ساتھ کھانا کھاتے نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ دعا لیپا نے سنگِ مرمر سے بنے ایک شاندار باتھ روم میں آرام، فلم دیکھنے اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کی جھلکیاں بھی مداحوں کے ساتھ شیئر کیں۔

    گلوکارہ نے تصاویر کے ساتھ مختصر کیپشن میں صرف "Roadtripping” لکھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جوڑا اٹلی کے مختلف علاقوں کی سیر کر رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دعا لیپا اور کالم ٹرنر نے رواں ماہ اٹلی کے تاریخی شہر تاؤرمینا میں شاندار تقریب کے دوران شادی کی تھی، جس میں شوبز، موسیقی اور فلمی دنیا کی متعدد معروف شخصیات نے شرکت کی۔شادی کے بعد دونوں نے تاؤرمینا کے معروف سان ڈومینیکو پیلس ہوٹل میں قیام کیا، جہاں سے انہوں نے اپنے ہنی مون کا آغاز کیا۔ شادی کی تقریب میں مہمانوں کے لیے خصوصی اطالوی عشائیے کا اہتمام کیا گیا، جبکہ معروف گلوکار ایلٹن جان نے اپنے مشہور گیت "Your Song” کی خصوصی پرفارمنس پیش کر کے تقریب کو یادگار بنا دیا۔تقریب کے اختتام پر آتش بازی کا شاندار مظاہرہ بھی کیا گیا، جبکہ مہمانوں میں مارک رونسن، گریس گمر، جو الوِن، چارلی ایکس سی ایکس، جارج ڈینیئل اور ٹرائے سیوان سمیت کئی معروف شخصیات شامل تھیں۔

    یاد رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس شاندار اطالوی تقریب سے قبل دعا لیپا اور کالم ٹرنر نے مئی میں لندن کے ایک ٹاؤن ہال میں سول تقریب کے ذریعے قانونی طور پر شادی کی تھی۔

  • امریکہ کی سیکنڈ لیڈی اوشا وینس”امیدسے”میٹرنٹی لباس پر تبصرہ کرنے پر نیویارک ٹائمز کو دیا جواب

    امریکہ کی سیکنڈ لیڈی اوشا وینس”امیدسے”میٹرنٹی لباس پر تبصرہ کرنے پر نیویارک ٹائمز کو دیا جواب

    واشنگٹن: امریکہ کی سیکنڈ لیڈی اوشا وینس نے اپنے میٹرنٹی لباس پر تبصرہ کرنے والے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں جواب دیتے ہوئے اپنے صرف 8.75 ڈالر مالیت کے لباس کی رسید بھی شیئر کر دی۔

    اوشا وینس، جو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ اپنے چوتھے بچے کی منتظر ہیں، حال ہی میں اس وقت خبروں کی زینت بن گئیں جب نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ان کے حاملہ ہونے اور ان کے لباس کے سیاسی پہلوؤں پر تبصرہ کیا گیا۔رپورٹ میں فیشن نقاد وینیسا فریڈمین نے لکھا کہ اوشا وینس نے اپنے پوڈکاسٹ "Storytime with the Second Lady” میں ایک ایسا مرجانی رنگ کا اسٹریچ ایبل لباس پہنا تھا جو ان کے حاملہ ہونے کو نمایاں کرتا تھا۔ مضمون میں یہ بھی کہا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ سے وابستہ نمایاں خواتین کی بیک وقت حمل کی خبریں اور ان کا عوامی انداز ایک خاص سیاسی پیغام کی عکاسی کرتا ہے۔

    اس پر ردعمل دیتے ہوئے اوشا وینس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اب جبکہ ان کے 8.75 ڈالر کے اولڈ نیوی کے میٹرنٹی لباس کی بھی سیاسی اہمیت دریافت کر لی گئی ہے، وہ بے صبری سے اس دن کی منتظر ہیں جب نیویارک ٹائمز ان کی ایلاسٹک کمر والی پتلون اور کمپریشن جرابوں پر بھی تجزیہ کرے گا۔انہوں نے اپنی پوسٹ کے ساتھ اولڈ نیوی کی ویب سائٹ کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا جس میں لباس کی قیمت واضح طور پر 8.75 ڈالر درج تھی۔ اوشا وینس نے مزید کہا کہ اس دوران لوگ ان کے سادہ حمل کے ملبوسات سے لطف اندوز ہوں اور اپنے بچوں کے ساتھ ان کے پوڈکاسٹ میں کہانیاں بھی سنیں۔

    سوشل میڈیا پر ان کی پوسٹ کو صارفین کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔ متعدد افراد نے ان کے سادہ طرزِ زندگی اور مزاحیہ جواب کو سراہتے ہوئے انہیں بہترین رول ماڈل قرار دیا، جبکہ بعض نے کہا کہ انہوں نے معمولی قیمت کے لباس کو بھی پُروقار انداز میں پیش کیا۔

    واضح رہے کہ اوشا وینس امریکی تاریخ میں تقریباً ڈیڑھ صدی بعد پہلی ایسی سیکنڈ لیڈی ہیں جو نائب صدر کی اہلیہ ہونے کے دوران حاملہ ہیں۔ اس سے قبل 1870ء میں نائب صدر شوئلر کولفیکس کی اہلیہ ایلن کولفیکس حمل کے دوران سیکنڈ لیڈی رہی تھیں۔

  • معروف والی بال کھلاڑی  ساحل کے قریب مردہ پائی گئیں، موت کی تحقیقات جاری

    معروف والی بال کھلاڑی ساحل کے قریب مردہ پائی گئیں، موت کی تحقیقات جاری

    سان ڈیاگو: امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں گزشتہ ہفتے مقبول ساحل کے قریب سمندر سے ملنے والی خاتون کی لاش کی شناخت معروف والی بال کھلاڑی اور سرفنگ کی شوقین سمر نیش کے طور پر کر لی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ان کی عمر 34 سال تھی جبکہ موت کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    سان ڈیاگو کاؤنٹی میڈیکل ایگزامینر کے مطابق 18 جون کو اوشن بیچ پیئر کے قریب سمندر میں ایک خاتون کو پانی پر تیرتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد لائف گارڈز نے انہیں باہر نکالا، تاہم وہ موقع پر ہی دم توڑ چکی تھیں۔ حکام نے بتایا کہ موت کی نوعیت اور اصل وجہ کا تعین تاحال نہیں ہو سکا۔سمر نیش نے سان ڈیاگو اسٹیٹ یونیورسٹی اور فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی کی جانب سے والی بال کھیلی اور بعد ازاں کوچنگ کے شعبے سے وابستہ ہو گئیں۔ انہوں نے امریکا کی معروف جامعات فلوریڈا اسٹیٹ اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے والی بال پروگرامز میں بھی کوچنگ کی ذمہ داریاں انجام دیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ آخری بار 2022-23 کے سیزن میں اسٹینفورڈ سے منسلک تھیں۔

    سمر نیش کی والدہ نے ایک مقامی اشاعت سے گفتگو میں بتایا کہ ان کی بیٹی نہ صرف ایک باصلاحیت ایتھلیٹ تھیں بلکہ سرفنگ کا بھی بے حد شوق رکھتی تھیں اور سان ڈیاگو کے مختلف ساحلوں پر باقاعدگی سے سرفنگ کرتی تھیں۔سان ڈیاگو اسٹیٹ یونیورسٹی کی سابق ہیڈ کوچ ڈیئٹرے کولنز نے انسٹاگرام پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ سمر نیش ایک غیر معمولی کھلاڑی تھیں، تاہم ان کی اصل پہچان ان کی شفیق طبیعت، مہربان دل اور دوسروں کی مدد کرنے والا جذبہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ سمر کی وفات والی بال برادری کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

    واضح رہے کہ سدرن کیلیفورنیا میں رواں ماہ حکام نے بلند سمندری لہروں اور خطرناک سرف کے حوالے سے متعدد انتباہات بھی جاری کیے تھے، تاہم اس مرحلے پر یہ واضح نہیں کہ سمر نیش کی موت کا ان حالات سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔