بیجنگ میں چین کے صدر شی جن پنگ سے متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان نے اہم ملاقات کی، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور علاقائی سکیورٹی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کو خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے اس موقع پر کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ اور جامع تعاون پر مبنی سکیورٹی نظام کی تشکیل ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا کو "جنگل کے قانون” کی طرف واپس جانے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
چینی صدر نے کہا کہ خلیجی ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام ضروری ہے۔ ان کے مطابق تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھیں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی اقدامات کو ترجیح دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں افراد، تنصیبات اور اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ترقی اور سکیورٹی کو ایک ساتھ لے کر چلنا بھی ناگزیر ہے تاکہ پائیدار استحکام حاصل کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق چین اور یو اے ای کے درمیان یہ ملاقات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بڑی عالمی اور علاقائی طاقتیں مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے متحرک ہو رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی ملاقاتیں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مشترکہ حل تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
Blog
-

شی جن پنگ اور یو اے ای ولی عہد کی ملاقات، خطے کے امن پر زور
-

امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی جہاز آبنائے ہرمز عبور کر گئے
میرین ٹریکنگ کمپنی کپلر کے ڈیٹا کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے کم از کم دو جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جس سے اس اہم آبی گزرگاہ کی صورتحال پر نئے سوالات اٹھ گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لائبیریا کا پرچم بردار بلک کیریئر ’کرسٹیانا‘ ایرانی بندرگاہ بندر امام خمینی سے مکئی اتارنے کے بعد روانہ ہوا اور پیر کے روز آبنائے ہرمز سے گزر گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی ناکہ بندی نافذ ہوئے دو گھنٹے گزر چکے تھے۔
اسی طرح کوموروس کا پرچم بردار آئل ٹینکر ’ایلپس‘ بھی جزیرہ لارک کے قریب دیکھا گیا، جو بعد ازاں کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز عبور کر گیا۔ دونوں جہاز ایرانی ساحلی حدود کے قریب رہتے ہوئے اس حساس سمندری راستے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی تجارتی راستے پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اس واقعے نے امریکی ناکہ بندی کی مؤثریت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اسی طرح جہازوں کی آمدورفت جاری رہی تو عالمی توانائی سپلائی پر فوری دباؤ کم ہو سکتا ہے، تاہم خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کے باعث صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی برادری اس اہم آبی گزرگاہ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ -

ایران میں رجیم تبدیلی کو مشن قرار: موساد
اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے کہا ہے کہ ایران میں ان کا مشن اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک وہاں حکومت کی تبدیلی نہیں ہو جاتی۔ ان کے اس بیان نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیوڈ برنیا نے دعویٰ کیا کہ حالیہ ایران جنگ کے دوران موساد نے تہران کے اندر مؤثر کارروائیاں کیں اور اسرائیلی فضائیہ کو درست اور بروقت انٹیلی جنس فراہم کی۔ ان کے مطابق ان معلومات کی بنیاد پر ایسے میزائلوں کو نشانہ بنایا گیا جو اسرائیل کے لیے خطرہ تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مشن کسی مختصر مدت کے لیے نہیں بلکہ طویل المدتی حکمت عملی کے تحت جاری رکھا جائے گا۔ برنیا کے مطابق موساد کی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو جاتے۔
موساد چیف نے واضح کیا کہ ایران میں رجیم کی تبدیلی ان کا ہدف ہے اور وہ کسی بھی ایسے خطرے کے سامنے خاموش نہیں رہیں گے جو اسرائیل کے لیے وجودی خطرہ بن سکتا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ذمہ داری اس وقت ختم ہوگی جب ایران میں موجودہ حکومت تبدیل ہو جائے گی۔
ماہرین کے مطابق اس بیان سے خطے میں تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے اور ایران اسرائیل کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسے بیانات سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں، جو پہلے ہی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ -

ایران نے مذاکرات کیلئے پاکستان کو ترجیحی مقام قرار دے دیا
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود سفارتی سطح پر پیش رفت جاری ہے اور اطلاعات ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا اگلا مرحلہ جلد اسلام آباد میں منعقد ہو سکتا ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں امن کی کوششوں کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم امریکا کی جانب سے حتمی مؤقف ابھی واضح نہیں ہے۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کا دوسرا دور ہوتا ہے تو پاکستان ہی ترجیحی مقام ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے وفود رواں ہفتے دوبارہ اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں تاکہ جاری امن مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس حوالے سے پاکستان میں ایرانی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے بھی اس امکان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور اسی ہفتے یا آئندہ ہفتے کے آغاز میں متوقع ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق پاکستان پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کر چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اہم مذاکرات جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کا بطور ثالث کردار عالمی سطح پر اہمیت اختیار کر چکا ہے اور اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کے باوجود مذاکرات کا جاری رہنا ایک مثبت اشارہ ہے اور اس سے کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ -

امریکا ایران مذاکرات کی امید، تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور فی بیرل قیمت 100 ڈالر سے نیچے آ گئی ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی منڈی میں ایک دن کی عارضی تیزی کے بعد آج دوبارہ مندی کا رجحان غالب رہا۔ عالمی سطح پر سپلائی اور طلب کی صورتحال میں بہتری کی توقعات نے قیمتوں کو نیچے لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
لندن برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.52 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی قیمت 97 ڈالر 86 سینٹ فی بیرل تک آ گئی۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمتوں میں بھی 2.28 فیصد کمی ہوئی اور یہ 96 ڈالر 85 سینٹ فی بیرل پر آ گیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق اب مذاکرات کے نئے دور کی امیدوں نے عالمی منڈی میں اعتماد بحال کیا ہے، جس کے باعث توانائی کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات کم ہوئے ہیں اور قیمتوں میں کمی آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ مذاکرات کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان ایٹمی سرگرمیوں کے حوالے سے تجاویز کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایران نے یورینیم افزودگی کو محدود مدت کے لیے روکنے کی پیشکش کی ہے جبکہ امریکا اس مدت کو مزید بڑھانے کا خواہاں ہے۔ اگرچہ ابھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات موجود ہیں، تاہم براہ راست بات چیت کے تسلسل نے ایک ممکنہ معاہدے کی امید پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ میں بھی استحکام آ سکتا ہے۔ -

نیپا فلائی اوور متاثر، کے فور منصوبے کے دوران پل کا حصہ بیٹھ گیا
کراچی کے مصروف علاقے یونیورسٹی روڈ پر واقع نیپا فلائی اوور کو کے فور منصوبے کے تحت جاری کھدائی کے دوران شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث پل کا ایک بڑا حصہ بیٹھ گیا ہے اور سڑک پر خطرناک گڑھا بن گیا ہے۔ اس واقعے نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کے فور واٹر سپلائی منصوبے کے لیے پائپ لائن بچھانے کے دوران بھاری مشینری کے استعمال اور مسلسل کھدائی کی وجہ سے فلائی اوور کی بنیادیں متاثر ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق نیپا سے حسن اسکوائر جانے والے ٹریک پر پل کا ایک حصہ تقریباً 6 سے 7 فٹ تک نیچے دھنس گیا، جس سے ٹریفک کے لیے شدید خطرہ پیدا ہو گیا۔
انتظامیہ نے کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچنے کے لیے فوری طور پر متاثرہ حصے کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا ہے۔ تاہم اس بندش کے باعث یونیورسٹی روڈ پر شدید ٹریفک جام دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے طلبہ، ملازمین اور عام شہریوں کو روزمرہ کے معمولات میں مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی شہریوں نے اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی ناقص منصوبہ بندی شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریڈ لائن بی آر ٹی اور کے فور منصوبے ایک مسئلہ بن چکے ہیں، جن کی وجہ سے نہ صرف ٹریفک مسائل بڑھ رہے ہیں بلکہ انفراسٹرکچر بھی متاثر ہو رہا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر پل کی مرمت کا آغاز کرے اور متاثرہ مقام پر روشنی اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی حادثے سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب متعلقہ حکام کے مطابق یونیورسٹی روڈ پر کے فور منصوبے کے تحت تقریباً 2.7 کلومیٹر طویل پانی کی لائنیں بچھائی جا رہی ہیں، تاہم فلائی اوور کی مکمل مرمت کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی ٹائم لائن نہیں دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اس طرح کے واقعات مزید خطرناک صورتحال اختیار کر سکتے ہیں۔ -

امریکا ،ایران مذاکرات کا نیا دور،اسلام آباد میں کوئی تیاری نہیں،پیغامات کا تبادلہ جاری
اسلام آباد: پاکستانی حکام نے منگل کے روز کہا ہے کہ اس ہفتے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے لیے ابھی تک کوئی باضابطہ تیاری شروع نہیں کی گئی، تاہم ایرانی سفارتی ذرائع کے مطابق پہلے دور کے مذاکرات کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ہفتے ہفتہ کے روز براہِ راست مذاکرات ہوئے تھے، جو جنگ بندی کے اعلان کے چند روز بعد منعقد کیے گئے۔ ان مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوئے تھے۔ یہ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کا رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے متعدد ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ابھی کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی، تاہم دونوں ممالک کے وفود نے جمعہ سے اتوار تک کے دن ممکنہ ملاقات کے لیے خالی رکھے ہیں، جبکہ پاکستان دونوں فریقین سے آئندہ مذاکرات کے وقت کے تعین پر رابطے میں ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ اور وزارت اطلاعات نے اس ہفتے نئے مذاکرات کے امکان سے متعلق سوالات کا باضابطہ جواب نہیں دیا، تاہم اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا "مذاکرات کے آئندہ ادوار کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر ہو سکتے ہیں، لیکن فی الحال کچھ بھی باضابطہ نہیں۔”ایک اور ایرانی ذریعے کے مطابق گزشتہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان اسلام آباد کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ایرانی سفارت خانے کے پریس سیکشن نے بھی تحریری سوالات کے جواب میں کہا کہ انہیں اس وقت تک کسی نئے مذاکرات کے بارے میں کوئی سرکاری اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
دوسری جانب پاکستانی حکام نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اس وقت ایسی کوئی غیر معمولی سیکیورٹی یا انتظامی سرگرمیاں نظر نہیں آ رہیں جو کسی بڑے سفارتی اجلاس کی نشاندہی کریں۔ایک پاکستانی اہلکار، جو گزشتہ مذاکرات کے سیکیورٹی انتظامات سے واقف تھے، نے کہا "کیا آپ کو کہیں تیاری نظر آ رہی ہے؟ اس وقت سب کچھ صرف سوشل میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں۔”دفتر خارجہ کے ایک دوسرے اہلکار نے بھی تصدیق کی کہ کسی نئے مذاکرات کے مقام یا تاریخ کی ابھی تک توثیق نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اگر تاریخ اور مقام طے پا جاتے تو انتظامات کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو باقاعدہ اطلاع دی جاتی۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کے دوران اسلام آباد میں مقامی تعطیلات کا اعلان کیا گیا تھا، شہر کو عملاً لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھا، اہم علاقوں میں نقل و حرکت محدود تھی اور فوج، رینجرز اور پولیس کی بڑی نفری تعینات کی گئی تھی۔میڈیا نمائندگان کے لیے خصوصی میڈیا سینٹر بھی قائم کیا گیا تھا، جہاں ملکی و غیر ملکی صحافیوں کو حکومتی سیکیورٹی میں مقامِ مذاکرات تک لے جایا گیا، جبکہ اہم شاہراہیں بند رکھی گئی تھیں۔حکام کے مطابق اگر اس جمعے تک نئے مذاکرات متوقع ہوتے تو اس نوعیت کے اقدامات پہلے سے نظر آنا شروع ہو جاتے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر نیا دور طے پاتا بھی ہے تو یا تو اس میں مزید وقت لگ سکتا ہے یا پھر اچانک مختصر نوٹس پر انعقاد ممکن ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات 20 گھنٹے سے زائد جاری رہے، مگر کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے۔اہم اختلافی نکات میں ایران کا جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول شامل تھا، جو عالمی تیل تجارت کا نہایت اہم راستہ ہے۔ ایران نے حالیہ کشیدگی کے دوران اس راستے پر مؤثر پابندیاں عائد کی تھیں جبکہ امریکا اسے دوبارہ کھلوانے کے لیے پُرعزم ہے۔امریکا نے ایران کی یورینیم افزودگی محدود یا مکمل طور پر روکنے کی تجاویز پیش کیں، جبکہ ایران نے اپنے جوہری حقوق تسلیم کرنے، پابندیاں ختم کرنے اور منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔اس کے علاوہ گزشتہ منگل کو اعلان کردہ دو ہفتے کی جنگ بندی کے دائرہ کار پر بھی اختلاف سامنے آیا۔ ایران چاہتا تھا کہ جنگ بندی میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں بھی شامل ہوں، مگر امریکا نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا، جس سے وسیع تر امن معاہدے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو گئیں
-

بجلی کی لوڈشیڈنگ،نظام زندگی مفلوج،حکمران ہوش کے ناخن لیں، ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی
مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر میں بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، جس نے شہریوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے،حکمرانوں کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں،لوڈشیڈنگ نےنظام زندگی مفلوج کر دیا،حکومت ہوش کے ناخن لے اور عوام کو اس عذاب سے نجات دلائے
ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ ابھی گرمی کا آغاز ہی ہوا ہے لیکن لوڈشیڈنگ کا دورانیہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، لاہور سمیت بڑے شہروں میں بغیر کسی شیڈول کے آٹھ آٹھ گھنٹے بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے، اگر یہی حالات برقرار رہے تو شدید گرمی میں عوام کو بجلی کے بغیر زندگی گزارنا پڑے گی،درحقیقت حکمرانوں کی ترجیحات عوامی مسائل نہیں بلکہ کچھ اور ہیں، اگر وہ عوام کے خیر خواہ ہوتے تو اس قدر لوڈشیڈنگ نہ ہوتی، ایک طرف سمارٹ لاک ڈاؤن کے باعث غریب طبقہ پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، جبکہ دوسری طرف بجلی کی طویل بندش سے کاروبار اور روزمرہ زندگی مزید متاثر ہو رہی ہے، حکومت فوری طور پر لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرے اور بجلی کے بلوں میں شامل اضافی ٹیکسز بھی ختم کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف ملے،
-

وزیرِ خزانہ کی سعودی فنڈ برائے ترقی کے سربراہ سے ملاقات
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے اسپرنگ اجلاسوں کے موقع پر واشنگٹن ڈی سی میں سعودی فنڈ برائے ترقی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلطان بن عبدالرحمان المرشد سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جاری تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور دوطرفہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیافریقین نے ترقیاتی منصوبوں، سرمایہ کاری اور مالی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی روابط کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی روانگی سے قبل سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ سے اپنی حالیہ ملاقات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ یہ ملاقات نہایت مفید رہی، جو دونوں ممالک کے مضبوط دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔
ملاقات کے دوران فریقین نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے عالمی توانائی کے تحفظ پر اثرات اور ممکنہ معاشی مضمرات پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیرِ خزانہ نے تنازع کے جلد حل کے لیے امید کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب ورلڈ بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے موسم بہار اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکا روانہ ہو گئے تھے، وہ 13 سے 18 اپریل تک واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے ان اہم اجلاسوں میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
-

اٹلی کا اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا اعلان
اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اعلان کیا ہے کہ اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ اپنا دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں فوجی سازوسامان کے تبادلے اور ٹیکنالوجی تحقیق شامل تھی۔
اطالوی خبر رساں ادارے اے این اے ایس اے کے مطابق وزیراعظم جورجیا میلونی نے شہر ویرونا میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خودکار تجدید کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
بین الاقوامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جارجیا میلونی نے امن مذاکرات کو آگے بڑھانے اور کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیاانہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا نہایت اہم ہے، جو نہ صرف ایندھن بلکہ کھاد کی فراہمی کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے-
توانائی پالیسی کے حوالے سے روسی گیس پر عائد پابندیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھنا ایک مؤثر ہتھیار ہے گزشتہ برسوں میں روس پر ڈالا گیا اقتصادی دباؤ امن کے قیام کے لیے ہمارا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، اور امید ظاہر کی کہ 2027 کے اوائل تک اس حوالے سے پیش رفت ہوگی۔
وزیراعظم میلونی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پوپ سے متعلق حالیہ بیانات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں ناقابل قبول قرار دیاانہوں نے پوپ لیو سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے معاشرے میں خود کو مطمئن محسوس نہیں کریں گی جہاں مذہبی رہنما سیاسی ہدایات کے تابع ہوں۔
امریکا کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایک اسٹریٹجک اتحادی ہے، تاہم اتحادی ہونے کے باوجود اختلاف رائے کا اظہار کرنا بھی ضروری ہوتا ہے جب آپ دوست اور اتحادی ہوں، خصوصاً اسٹریٹجک سطح پر، تو آپ میں یہ حوصلہ بھی ہونا چاہیے کہ جہاں اختلاف ہو وہاں اسے بیا ن کیا جا سکے۔