Baaghi TV

Blog

  • اسپین کا اسرائیل پر تنقید، چین سے تعاون بڑھانے پر زور

    اسپین کا اسرائیل پر تنقید، چین سے تعاون بڑھانے پر زور

    ‎ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے اسرائیل پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو حکومتیں اس معاملے پر آواز اٹھاتی ہیں انہیں دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا یہ بیان چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد سامنے آیا۔
    ‎تفصیلات کے مطابق پیدرو سانچیز نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران جنگ کے خاتمے کے لیے چین ایک اہم سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے کے لیے بڑی طاقتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ اسپین اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط اور متوازن بنانے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے دونوں ممالک زرعی مصنوعات کی چینی منڈی تک رسائی بڑھانے، ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر بھی کام کر رہے ہیں۔
    ‎ہسپانوی وزیر اعظم کے مطابق یورپ اور اسپین کے مفاد میں ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے تاکہ اقتصادی ترقی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎اس سے قبل بیجنگ میں ہونے والی ملاقات میں صدر شی جن پنگ اور پیدرو سانچیز کے درمیان دوطرفہ تعلقات، عالمی صورتحال اور اقتصادی تعاون پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ بیانات عالمی سیاست میں بدلتے ہوئے رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں یورپی ممالک بھی چین کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • جنگ کے باعث روسی تیل برآمدات میں بڑا اضافہ

    جنگ کے باعث روسی تیل برآمدات میں بڑا اضافہ

    ‎ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے نتیجے میں روس کی خام تیل کی برآمدات اور آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
    ‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس نے فروری میں تقریباً 9.7 ارب ڈالر کمائے تھے، تاہم مارچ میں یہ آمدنی بڑھ کر 19 ارب ڈالر تک جا پہنچی، جو کہ دوگنا سے بھی زیادہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں غیر یقینی صورتحال ہے۔
    ‎عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق مارچ میں روسی خام تیل کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، جہاں یومیہ برآمدات 3 لاکھ 20 ہزار بیرل سے بڑھ کر 71 لاکھ بیرل تک پہنچ گئیں۔ اس دوران نہ صرف خام تیل بلکہ اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کو اوپر دھکیلا، جس کا فائدہ روس کو ہوا۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں نے روس کی آمدنی میں غیر معمولی اضافہ کر دیا۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو روس سمیت دیگر تیل برآمد کرنے والے ممالک کو مزید فائدہ ہو سکتا ہے، جبکہ درآمد کرنے والے ممالک کو مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    ‎یہ صورتحال عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے، جہاں توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مختلف ممالک کی اقتصادی پالیسیوں کو متاثر کر رہا ہے۔

  • ایران کے بعد امریکا کی ترجیح بھی پاکستان بن گیا، ٹرمپ کا مزاکرات کیلئے پاکستان آنے کا اشارہ

    ایران کے بعد امریکا کی ترجیح بھی پاکستان بن گیا، ٹرمپ کا مزاکرات کیلئے پاکستان آنے کا اشارہ

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ آئندہ مذاکرات کے لیے پاکستان کو ترجیحی مقام قرار د یتے ہوئے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہی مؤثر قیادت مذاکرات کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق نیو یارک پوسٹ کے نمائندے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ دو دن میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے اور امریکا مذاکرات کے لیے پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت ایک موزوں اور قابل اعتماد مقام کے طور پر سامنے آیا ہے۔
    ‎ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان کا انتخاب اس لیے بھی کیا جا رہا ہے کیونکہ یہاں کی قیادت مؤثر انداز میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کارکردگی نے امریکا کو دوبارہ پاکستان میں مذاکرات پر غور کرنے پر آمادہ کیا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہونے کا امکان ہے اور وہ خود بھی اس میں شرکت کے لیے پاکستان آ سکتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔
    ‎ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات پاکستان میں ہوتے ہیں تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی اور پاکستان کا عالمی سطح پر کردار مزید مضبوط ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور اگر یہ عمل جاری رہا تو مستقبل میں کسی بڑے معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

  • جنوبی لبنان میں کینیڈین شہری ہلاک، کینیڈا کی تصدیق

    جنوبی لبنان میں کینیڈین شہری ہلاک، کینیڈا کی تصدیق

    ‎کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے جنوبی لبنان میں ایک کینیڈین شہری کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اسرائیل سے فوجی کارروائیاں روکنے کی اپیل بھی کی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق انیتا آنند نے پیر کے روز اپنے بیان میں کہا کہ انہیں جنوبی لبنان میں ایک کینیڈین شہری کی موت کی اطلاع ملی ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ کینیڈین حکام متاثرہ خاندان کو قونصلر معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت محمد حسن حیدر کے نام سے ہوئی ہے، جو 38 سالہ کینیڈین شہری تھا اور اونٹاریو کا رہائشی تھا۔ وہ پانچ بچوں کا باپ تھا۔ رپورٹس کے مطابق وہ ایک ڈرون حملے کے دوران کسی کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا تھا جب وہ اس واقعے کا شکار ہوا۔
    ‎کینیڈین میڈیا اور مسلم تنظیموں کے مطابق محمد حسن حیدر اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہوئے، تاہم کینیڈین حکومت کی جانب سے کسی فریق کو براہ راست ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔
    ‎وزیر خارجہ نے کہا کہ کینیڈا لبنان میں امن اور استحکام کے قیام کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، جس میں ریاستی عملداری کو مضبوط بنانا اور مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا اسرائیل اور لبنان دونوں پر زور دیتا ہے کہ وہ فوری جنگ بندی کریں اور سفارتی راستے کے ذریعے مستقل اور پرامن حل تلاش کریں۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کس طرح عالمی سطح پر اثر انداز ہو رہی ہے اور غیر ملکی شہری بھی اس کا شکار بن رہے ہیں۔

  • ایران کی 5 سالہ پیشکش مسترد، امریکا 20 سالہ معطلی پر بضد

    ایران کی 5 سالہ پیشکش مسترد، امریکا 20 سالہ معطلی پر بضد

    ‎امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی کو 5 سال کے لیے معطل کرنے کی پیشکش کی ہے، تاہم امریکا نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے مدت کو 20 سال تک بڑھانے پر زور دیا ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم موڑ قرار دی جا رہی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان جوہری سرگرمیوں کی معطلی سے متعلق مختلف تجاویز کا تبادلہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایران نے محدود مدت کے لیے افزودگی روکنے کی پیشکش کی، لیکن امریکا نے اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے طویل المدتی معاہدے پر اصرار کیا۔
    ‎نیو یارک ٹائمز کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان اس معاملے پر واضح اختلافات موجود ہیں، جس کے باعث مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ اس صورتحال نے سفارتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
    ‎یاد رہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو شروع ہوا تھا، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی۔ یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے، تاہم کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔
    ‎امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں کچھ مثبت پیشرفت ضرور ہوئی ہے اور امریکا نے اپنی تجاویز واضح طور پر پیش کر دی ہیں۔ ان کے مطابق اب فیصلہ ایران کو کرنا ہے کہ وہ آگے کیسے بڑھنا چاہتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق یورینیم افزودگی کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات ہی مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگر اس مسئلے پر اتفاق رائے ہو جاتا ہے تو معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات نے اگرچہ فوری نتیجہ نہیں دیا، لیکن یہ عمل مستقبل میں کسی بڑے معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

  • تنازعات کا حل صرف سفارت کاری، ایرانی صدر کا مؤقف

    تنازعات کا حل صرف سفارت کاری، ایرانی صدر کا مؤقف

    ‎ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ خطے میں جاری تنازعات کا حل صرف سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے اور طاقت یا دباؤ کے ذریعے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات ہی وہ راستہ ہیں جو دیرپا امن کی ضمانت دے سکتے ہیں۔
    ‎تفصیلات کے مطابق ایرانی صدر نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے گفتگو کے دوران اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات اس لیے کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ امریکا نے نیک نیتی کا مظاہرہ نہیں کیا اور دورانِ مذاکرات زیادہ سے زیادہ مطالبات پر اصرار کرتا رہا۔
    ‎مسعود پزشکیان نے کہا کہ یورپی ممالک، خصوصاً فرانس، اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور امریکا کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر آمادہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفارتی حل کی حمایت کرنی چاہیے۔
    ‎ایرانی صدر نے خبردار کیا کہ دھمکیوں، دباؤ اور فوجی کارروائیوں سے خطے میں مسائل مزید بڑھیں گے اور اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کو متاثر کریں گے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات دراصل امریکا کے لیے بھی نئے مسائل پیدا کریں گے۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ ایران ہمیشہ سے سفارت کاری اور مذاکرات کا حامی رہا ہے اور آئندہ بھی اسی راستے پر چلتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تمام فریق سنجیدگی سے بات چیت کریں تو ایک قابلِ قبول حل نکالا جا سکتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق ایرانی صدر کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور مختلف ممالک سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

  • وزیراعظم کل سعودی ولی عہد سے ملاقات کریں گے، اہم امور زیر غور

    وزیراعظم کل سعودی ولی عہد سے ملاقات کریں گے، اہم امور زیر غور

    ‎وزیراعظم شہباز شریف کل سعودی عرب کے اہم دورے پر روانہ ہوں گے جہاں وہ سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کو خطے کی بدلتی صورتحال اور جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں وزیراعظم کا یہ دوسرا دورہ سعودی عرب ہے، جو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات اور بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اہم دوطرفہ معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔
    ‎ذرائع کے مطابق ملاقات میں اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری کے مواقع اور باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے کی مجموعی صورتحال، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امن کی کوششوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔
    ‎خاص طور پر پاکستان کی ثالثی میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اس ملاقات کا اہم ایجنڈا ہوں گے۔ دونوں رہنما ان مذاکرات کے آئندہ لائحہ عمل اور ممکنہ پیش رفت پر مشاورت کریں گے۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب میں دو روزہ قیام کے بعد ترکیہ روانہ ہوں گے جہاں وہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے۔ اس فورم کے دوران وہ عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے اور پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔
    ‎سفارتی ماہرین کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس دورے سے نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی حیثیت بھی مستحکم ہوگی۔

  • صدر زرداری اور وزیراعظم کی ملاقات، امریکا ایران مذاکرات پر بریفنگ

    صدر زرداری اور وزیراعظم کی ملاقات، امریکا ایران مذاکرات پر بریفنگ

    صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں ملک کی موجودہ سفارتی صورتحال اور خطے میں جاری پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کو پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مملکت کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت اور پاکستان کے بطور ثالث کردار پر اعتماد میں لیا۔ انہوں نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
    ‎صدر آصف علی زرداری نے اس موقع پر پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان آئندہ بھی امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
    ‎ملاقات کے دوران خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، عالمی سطح پر بدلتی ہوئی سفارتی حکمت عملی اور پاکستان کے مؤقف پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاکستان کا بطور ثالث کردار عالمی سطح پر اس کی اہمیت کو اجاگر کر رہا ہے اور اس سے ملک کی سفارتی پوزیشن مضبوط ہو رہی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں نہ صرف اندرونی ہم آہنگی کو مضبوط کرتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو بھی واضح کرتی ہیں۔

  • شی جن پنگ اور یو اے ای ولی عہد کی ملاقات، خطے کے امن پر زور

    شی جن پنگ اور یو اے ای ولی عہد کی ملاقات، خطے کے امن پر زور

    ‎بیجنگ میں چین کے صدر شی جن پنگ سے متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان نے اہم ملاقات کی، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور علاقائی سکیورٹی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کو خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎چینی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے اس موقع پر کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ اور جامع تعاون پر مبنی سکیورٹی نظام کی تشکیل ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا کو "جنگل کے قانون” کی طرف واپس جانے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
    ‎چینی صدر نے کہا کہ خلیجی ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام ضروری ہے۔ ان کے مطابق تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھیں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی اقدامات کو ترجیح دیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں افراد، تنصیبات اور اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ترقی اور سکیورٹی کو ایک ساتھ لے کر چلنا بھی ناگزیر ہے تاکہ پائیدار استحکام حاصل کیا جا سکے۔
    ‎ماہرین کے مطابق چین اور یو اے ای کے درمیان یہ ملاقات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بڑی عالمی اور علاقائی طاقتیں مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے متحرک ہو رہی ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی ملاقاتیں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مشترکہ حل تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

  • امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی جہاز آبنائے ہرمز عبور کر گئے

    امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی جہاز آبنائے ہرمز عبور کر گئے

    میرین ٹریکنگ کمپنی کپلر کے ڈیٹا کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے کم از کم دو جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جس سے اس اہم آبی گزرگاہ کی صورتحال پر نئے سوالات اٹھ گئے ہیں۔
    ‎تفصیلات کے مطابق اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لائبیریا کا پرچم بردار بلک کیریئر ’کرسٹیانا‘ ایرانی بندرگاہ بندر امام خمینی سے مکئی اتارنے کے بعد روانہ ہوا اور پیر کے روز آبنائے ہرمز سے گزر گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی ناکہ بندی نافذ ہوئے دو گھنٹے گزر چکے تھے۔
    ‎اسی طرح کوموروس کا پرچم بردار آئل ٹینکر ’ایلپس‘ بھی جزیرہ لارک کے قریب دیکھا گیا، جو بعد ازاں کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز عبور کر گیا۔ دونوں جہاز ایرانی ساحلی حدود کے قریب رہتے ہوئے اس حساس سمندری راستے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی تجارتی راستے پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اس واقعے نے امریکی ناکہ بندی کی مؤثریت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اسی طرح جہازوں کی آمدورفت جاری رہی تو عالمی توانائی سپلائی پر فوری دباؤ کم ہو سکتا ہے، تاہم خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کے باعث صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی برادری اس اہم آبی گزرگاہ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔