ایرانی حکومت کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ایران کو ہونے والے نقصانات کا ابتدائی تخمینہ 270 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اعداد و شمار حتمی نہیں اور اصل نقصان اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ حالیہ حملوں کے باعث ملک کے مختلف شعبوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس میں انفراسٹرکچر، توانائی اور دیگر اہم تنصیبات شامل ہیں۔ ان کے مطابق نقصانات کی مکمل تفصیلات کا جائزہ ابھی جاری ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ان نقصانات کے ازالے کا معاملہ ایران کی مذاکراتی ٹیم کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں بھی بات چیت کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس معاملے کو سنجیدگی سے اٹھا رہا ہے تاکہ مستقبل میں اس کا مناسب حل نکالا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ تخمینہ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ حالیہ کشیدگی کے دوران ہونے والے بڑے معاشی نقصانات میں شمار ہوگا، جس کے اثرات ایران کی معیشت پر طویل مدت تک پڑ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نقصانات کے ازالے کا مطالبہ آئندہ مذاکرات میں ایک اہم نکتہ بن سکتا ہے، جس سے امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
Blog
-

حملوں سے 270 ارب ڈالر کا نقصان: ایران
-

چین کا امریکا کو جواب، ایران کو فوجی مدد کا الزام مسترد
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکا کی جانب سے ایران کو فوجی مدد فراہم کرنے کے الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ بیجنگ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس قسم کے دعوؤں کو من گھڑت سمجھتا ہے اور اپنی پالیسیوں پر قائم ہے۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ چین ہمیشہ اسلحہ برآمدات کے حوالے سے انتہائی محتاط اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتا ہے اور تمام فیصلے اپنے قومی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پر لگائے گئے الزامات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
چینی حکام نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ان الزامات کو جواز بنا کر چین پر ٹیرف میں اضافہ کیا تو بیجنگ اس کا بھرپور جواب دے گا۔ ترجمان کے مطابق چین اپنے اقتصادی اور تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین عالمی سطح پر امن اور استحکام کا حامی ہے اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرتا ہے جو کشیدگی میں اضافہ کرے۔ ان کے مطابق اسلحہ کی برآمدات پر چین سخت کنٹرول رکھتا ہے تاکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہ ہو۔
ماہرین کے مطابق چین اور امریکا کے درمیان اس نوعیت کے بیانات دونوں بڑی طاقتوں کے تعلقات میں مزید تناؤ کا سبب بن سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال پہلے ہی حساس ہے۔ -

ایران نے فٹبال ٹیم کی کپتان کے منجمند اثاثے بحال کر دیے
ایران کی عدلیہ نے ویمن فٹبال ٹیم کی کپتان زہرا غنبری کے ضبط شدہ اثاثے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو حالیہ مہینوں میں سامنے آنے والے تنازع کے بعد ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ زہرا غنبری کے رویے میں تبدیلی اور ان کی بے گناہی کے اعلان کے بعد کیا گیا۔ عدالتی حکام کے مطابق ان کے خلاف عائد پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں اور ان کے اثاثے واپس کر دیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق زہرا غنبری اُن چھ کھلاڑیوں میں شامل تھیں جنہوں نے رواں سال مارچ میں آسٹریلیا میں ہونے والے ایشین کپ کے دوران سیاسی پناہ لینے کی درخواست دی تھی۔ تاہم بعد ازاں انہوں نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ ایران واپس آنے کا فیصلہ کیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور جنگی صورتحال کے آغاز کے بعد بعض کھلاڑیوں کو ’غدار‘ قرار دے کر ان کے اثاثے منجمد کیے گئے تھے، جن میں زہرا غنبری بھی شامل تھیں۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایشین کپ کے دوران ایرانی ٹیم کے قومی ترانہ نہ پڑھنے کے عمل کو بعض حلقوں نے حکومت کے خلاف احتجاج سے تعبیر کیا تھا، جس کے بعد کھلاڑیوں کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں جب ٹیم نے ترانہ پڑھا تو اس پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
ماہرین کے مطابق زہرا غنبری کے اثاثوں کی بحالی اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران میں کھیل اور سیاست کے درمیان تعلقات پیچیدہ ہیں، اور ایسے معاملات میں کھلاڑی اکثر دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ -

کویت میں امریکی طیارے کی ویڈیو لگانے پر صحافی گرفتار
کویت میں امریکی لڑاکا طیارے کے حادثے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے صحافی کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جس پر صحافتی آزادی کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کویتی صحافی احمد شہاب کو حکام نے گرفتار کر لیا ہے۔ انہوں نے تقریباً 6 ہفتے قبل کویت سٹی میں پیش آنے والے ایک واقعے کی ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں امریکی فورس کا تباہ ہونے والا لڑاکا طیارہ دکھایا گیا تھا۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافی پر جھوٹی خبر پھیلانے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
تنظیم کے مطابق یہ الزامات مبہم اور وسیع نوعیت کے ہیں، جنہیں اکثر آزادانہ کام کرنے والے صحافیوں کو دبانے یا خاموش کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف اظہارِ رائے کی آزادی متاثر ہوتی ہے بلکہ میڈیا کے کردار پر بھی اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔ -

ٹینس لیجنڈ بیورن بورگ کا پاکستان دورہ، نمائشی میچ متوقع
ٹینس کی دنیا کے معروف نام اور 70 کی دہائی کے لیجنڈ بیورن بورگ اگلے ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے، جسے ملکی کھیلوں کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سوئیڈن سے تعلق رکھنے والے بیورن بورگ ایک ہفتے کے دورے پر 4 مئی کو پاکستان پہنچیں گے۔ وہ اسلام آباد میں ہونے والی آئی ٹی ایف فیوچر سیریز کے موقع پر شرکت کریں گے، جہاں عالمی سطح کے کھلاڑی بھی ایکشن میں ہوں گے۔
بیورن بورگ اپنے شاندار کیریئر کے باعث ٹینس کی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے 6 مرتبہ فرنچ اوپن اور 5 مرتبہ ومبلڈن کا ٹائٹل جیتا، جبکہ مجموعی طور پر 66 ٹائٹلز اپنے نام کیے، جو ان کی عظمت کا واضح ثبوت ہیں۔
اس دورے کی ایک خاص بات یہ بھی ہوگی کہ ان کے بیٹے لیو بورگ بھی اسلام آباد میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں شرکت کریں گے، جس سے ایونٹ کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔
ذرائع کے مطابق بیورن بورگ اپنے دورہ پاکستان کے دوران قومی ٹینس اسٹار اعصام الحق کے ساتھ ایک نمائشی میچ بھی کھیل سکتے ہیں، جو شائقین کے لیے ایک یادگار موقع ہوگا۔ -

میرےقلم کی دھنک ،تحریر: ماریہ خان
ایک طاقت، ایک مضبوط بنیاد، ایک رشتہ جو ہمارا قلم کے ساتھ ہے، ایک ایسی آواز جس کی طاقت کو آج تک دبایا نہیں جا سکا، وہ ہے قلم۔ قلم کی آواز میں ایسی طاقت ہے، جس کا شور سماعتوں تک اپنی گونج سے راستے بناتا ہوا خود پہنچ جاتا ہے۔ یہ وہ واحد راستہ ہے، جس کی مدد سے کوئی بھی فرد جو صرف قلم پکڑنا جانتا ہو، وہ اپنے جذبات کو کاغذ پر اتار دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ،یہ بات اہم نہیں کہ جذبات منفی ہیں یا مثبت، ایک کالم نگار جب قلم اٹھاتا ہے تو معاشرے میں چھپی برائی کو بنا کسی ڈر، خوف اور مصلحت کے تنقید برائے اصلاح کی شکل میں قرطاس پر اتار دیتا ہے، ایک شاعر قلم اٹھاتا ہے تو زمانے کی دھوپ چھاؤں، محب کے ملن اور وصل، محبت و عداوت کو اپنے اشعار میں پرونے لگتا ہے، ایک افسانہ نگار، کہانی کار سمیت کوئی بھی لکھاری جب قلم تک رسائی لیتا ہے تو اپنے جذبوں اور ارد گرد کے حالات کو کہانیوں، افسانوں میں بہت خوبصورتی سے ڈھالنے کی طاقت رکھتا ہے، اگر دیکھا جائے تو لکھا تو ایک ہی قلم سے جاتا ہے یا یوں کہئے کہ جیسے ایک گاڑی ہے اور ڈرائیور اسے اپنے حساب اور ضرورت سے چلاتا ہے، اسی طرح قلم کی بھی یہی کیفیت ہے، اس کے بھی کئی رنگ ہیں، جیسے قوس قزاح کے سات رنگ بارش کے بعد قوس و قزاح آسمان پر اپنے خوبصورت رنگ بکھیرتی نظر آتی ہے، اسی طرح قلم کے بھی الگ الگ رنگ یا انہیں قلم کی دھنک کہہ سکتے ہیں۔
بے شمار مصنف تو ایسے بھی گزرے ہیں اور آج بھی موجود ہیں،جن کا دوست اور کل اثاثہ صرف قلم رہا۔ قلم کی دھنک ایک سمندر کی مانند ہے، اس کی دنیا بہت وسیع ہے، قلم سے زندگیاں سنورتی دیکھیں، مگر یہی قلم جب کسی جاہل کے ہاتھ آتا ہے تو وہ انسانیت کے تقاضوں کو خاک میں ملانے میں لمحہ بھر نہیں لگاتا، ایسے بے شمار قلم کاروں کو لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے دیکھا۔ یہ ان لوگوں کی بد قسمتی ہے، جو قلم کی طاقت اور اس کے فیض سے محروم ہیں۔ ان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے، جو جان بوجھ کر محروم رہنا چاہتا ہے، قلم صرف یہ نہیں کہ ایک فرد واحد نے قلم اٹھایا اور اپنا حال کاغذ کی نذر کر دیا، قلم کا مقصد تو انسانیت کی اصلاح ہے، قوم کی بیداری ہے، لوگوں کے سوئے ہوئے ناقص ذہنوں کی آبیاری ہے، جو درسگاہوں سے اپنی نسلوں کو دور رکھتے ہیں، ان کے ذہنوں میں نفرتوں کے بیج بوتے چلے آ رہے ہیں اور یہ کام نسل در نسل چل رہا ہے، اسے روکنا تو درکنار ہے، مگر ایک کوشش ضرور کی جاسکتی ہے، قلم کار ہر قدم صرف ایک کوشش کا محتاج ہے۔ ہماری ترقی، ہماری آسائشیں، ہماری نوجواں نسل کے خواب کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت میں قلم کے سات رنگوں میں سے کسی نہ کسی رنگ سے جا کے جڑتے ہیں۔ اس دھنک رنگ میں ایسی طاقت ہے کہ اگر کوئی فرد اس کا صحیح استعمال جانتا ہے تو وہ ایک پورے خطے کی سوچ بدلنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ہماری زندگیاں قلم اور قلم کی آواز کے گرد گردش کرتی ہیں اور اگر کوئی اس حقیقت کو جھٹلاتا ہے تو یہ اس کی گمراہی اور ناسمجھی ہے، کیونکہ قلم کا کارواں تو ایک سیلاب کی مانند اپنے راستے بناتا چلتا جا رہا ہے اور اس کارواں میں مسافر شامل ہوتے جا رہے ہیں، جب مختلف ہاتھ اس تک رسائی حاصل کرتے ہیں تو وہی ایک قلم اور اس کی سیاہی مختلف رنگوں، سوچوں، ثقافتوں کی گہرائیوں میں رنگ جاتی ہے۔ قلم کے فروغ کے لئے ادبی بیٹھک کا اہتمام مدارس سے ہی شروع کیا جائے، تاکہ ہماری نسلوں میں تحریک اور شوق بچپن اور بلوغت میں ہی بنیاد پکڑ لے، کیوں کہ مضبوط بنیادیں ہی خوبصورت عمارتوں کا بوجھ سنبھال سکتی ہیں۔
-

امریکا کی ثالثی میں اسرائیل لبنان مذاکرات شروع
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی صدارت میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان اہم مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں بعد ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکا کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات میں اسرائیل اور لبنان کے سفیر اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ یہ تقریباً 40 برسوں میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی حکام کے درمیان پہلا باضابطہ رابطہ ہے، جس نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
مذاکرات میں جنگ بندی کو یقینی بنانے، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور ایک وسیع تر امن معاہدے کے امکانات کا جائزہ لینے جیسے اہم نکات زیر غور ہیں۔ تاہم دونوں فریق ان معاملات کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں، جس کے باعث کسی مشترکہ نتیجے تک پہنچنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان مذاکرات کو ایک تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فوری طور پر تمام مسائل کا حل ممکن نہیں، تاہم یہ عمل دونوں ممالک کے درمیان پیش رفت کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
دوسری جانب لبنان نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی وسیع مذاکرات سے پہلے مکمل جنگ بندی ضروری ہے۔ لبنان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان سے مکمل انخلا کرے، جسے وہ امن کے قیام کے لیے بنیادی شرط قرار دے رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتے ہیں، تاہم فریقین کے درمیان موجود اختلافات اس عمل کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ -

لباسوں پر نظر رکھے ہوئے گدھ،تحریر:اعجازالحق عثمانی
سن اسی کی دہائی میں پاکستان عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز تھا،دنیا بھر کے صحافی اسلام آباد میں موجود رہتے تھے۔ آج برسوں بعد ایک مرتبہ پھر اسلام آباد عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہے۔ اسی کی دہائی میں پاکستان کا منفی چہرہ سامنے آرہا تھا، مگر بطور پاکستانی خوش آئند بات یہ ہے کہ آج دنیا بھر میں ہمیں مثبت اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ دنیا بھر کا میڈیا پاکستان کی سفارتی کوششوں کا سراہا رہا ہے۔اور پاکستان پورے خطے میں ایک مضبوط سفارت کار کے طور پر سامنے آرہا ہے۔
بلاشبہ حالیہ آباد ٹاکس نے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سفارتی نقشے پر نمایاں مقام دلا دیا۔گزشتہ ہفتے دنیا بھر کے صحافی، تجزیہ نگار اور سفارت کار پاکستان کی طرف متوجہ تھے۔ بین الاقوامی میڈیا پاکستان کی سفارتی پختگی اور خطے میں اس کے کردار کو سراہ رہا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب بطور قوم ہمیں اپنے ملک پر فخر کرنا چاہیے تھا۔ مگر ہمارے ہاں سوشل میڈیا کے ایک بڑے طبقے نے اس تاریخی موقع پر جو کام اپنے ذمے لیا، وہ یہ تھا کہ ایک سینئر صحافی غریدہ فاروقی کے لباس کی تصویریں شیئر کی جائیں، ان کا مذاق اڑایا جائے اور انہیں ذلیل کیا جائے۔ اس موقع پر بھی امن کےلیے کوشاں پاکستان کے ایک طبقے نے ثابت کر دیا کہ چاہے یہاں امن کےلیے مذاکرات ہوں یا دنیا کے لیے فیصلے مگر ان کا ذہن ابھی بھی کسی عورت کی قمیض کی لمبائی سے آگے نہیں بڑھا۔
یہ کوئی نئی بیماری نہیں ہے، نہ ہی یہ کسی ایک واقعے تک محدود ہے۔ پاکستان میں عورت کو کمزور کرنے کا سب سے آسان اور آزمودہ ہتھیار ہمیشہ اس کا کردار، اس کا جسم اور اس کا لباس رہا ہے۔ یہ ہتھیار سیاست میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے، میڈیا میں بھی اور سوشل میڈیا کے میدان میں بھی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اس ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ انہوں نے ایک مردانہ دنیا میں اپنا راستہ خود بنایا، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی اور اسلامی دنیا میں پہلی منتخب خاتون وزیراعظم بنیں۔ مگر ان کی کردار کشی کرنے کے لیے ہیلی کاپٹروں سے پمفلٹ گرائے گئے ۔
ثمینہ پاشا کے معاملے میں جب طلعت حسین جیسے سینئر صحافی اور شیر افضل مروت جیسے سیاست دان بیٹھ کر ان کے جسم پر تبصرے کرتے ہیں تو یہ محض بدتمیزی نہیں ہوتی، یہ ایک منظم رویے کا حصہ ہوتا ہے۔ اسے نفسیات کی زبان میں Dehumanization کہا جاتا ہے، یعنی کسی انسان کو اس کی صلاحیتوں اور کردار سے ہٹا کر محض ایک جسم تک محدود کر دینا۔ جب آپ کسی پیشہ ور عورت کی گفتگو، اس کے دلائل اور اس کی محنت کو نظرانداز کر کے اس کے وزن، رنگ یا لباس پر آ جاتے ہیں تو آپ یہ بتاتے دیتے ہیں کہ ہم ذہنی مریضوں کے لیے اصل اہمیت اس کی ذہانت نہیں، بلکہ ظاہری ہیئت ہے۔ یہ وہ زہر ہے جو خاموشی سے معاشرے کی رگوں میں اترا گیا ہے۔
بشری بی بی کے حوالے سے جو کردار کشی کی گئی، اس کی نوعیت اور بھی زیادہ گھناؤنی تھی کیونکہ اس میں نہ صرف ذاتی زندگی کو نشانہ بنایا گیا بلکہ مذہبی حوالوں کو بھی استعمال کیا گیا۔ ایک عورت خود کو اس وقت سب سے زیادہ کمزور سمجھتی ہے۔جب اس پر مذہبی یا اسکے کردار پرالزام لگایا جائے۔ خاص طور پر اس معاشرے میں جہاں ہم رہتے ہیں۔ وہاں عزت کا تصور فقط عورت سے جوڑا گیا ہے۔ مریم نواز کے بارے میں بھی یہی ہتھیار آزمایا گیا۔ ان کی سیاست سے اختلاف کرنا بالکل جائز ہے، ان کی پالیسیوں پر تنقید ایک ہر پاکستانی ہے جمہوری حق ہے۔مگر کردار کشی اور تنقید میں فرق ہوتا ہے۔ جب تنقید کسی عورت کی ذاتی زندگی، اس کے لباس یا اس کے جسم پر آ جائے تو وہ تنقید نہیں رہتی، وہ ہراسانی بن جاتی ہے۔
نفسیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ عورتوں کو ان کی ظاہری ہیئت کی بنیاد پر جج کرنا ایک مخصوص ایک بیمار ذہنی کیفیت کی علامت ہے جسے Objectification Theory کہا جاتا ہے۔جب کوئی معاشرہ عورت کو انسان کے بجائے ایک شے سمجھنے لگتا ہے تو وہ اس کی صلاحیتوں کو نظرانداز کر کے اس کے جسم کو جانچنے لگتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف اس عورت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے ذہنی ارتقاء کو روک دیتا ہے۔ وہ معاشرے جہاں عورتوں کو ان کی اہلیت سے زیادہ ان کی ظاہری ہیئت سے پہچانا جاتا ہے، وہ معاشرے آگے نہیں بڑھ سکتے کیونکہ وہ اپنی نصف آبادی کی صلاحیتوں کو ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔
غریدہ فاروقی ہوں، ثمینہ پاشا ہوں، بشری بی بی ہوں، مریم نواز ہوں یا بے نظیر بھٹو یا کوئی اور عورت جسے صرف لباس اور جسمانی ہیت پر جج کیا جائے، ہمیشہ قابل مذمت ہے۔پاکستان آج عالمی سطح پر اپنا مقام بنا رہا ہے۔ اسلام آباد ٹاکس نے دنیا کو دکھایا کہ اس ملک کے پاس سفارتی بصیرت ہے، ذمہ داری کا احساس ہے اور خطے میں امن کی خواہش ہے۔ مگر جب تک ہمارے اندر بیٹھا وہ گدھ موجود ہے جو کامیاب عورت کو دیکھ کر اس کے لباس پر ٹوٹ پڑتا ہے، ہماری یہ عالمی و اخلاقی ساکھ ادھوری رہے گی۔
-

گوجرخان مسائل کی آماجگاہ، سسکتی عوام اور تماشائی نمائندے،تحریر : قمر شہزاد مغل
آج گوجرخان کی گلیوں میں گھومتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ شہر جو کبھی اپنی زندہ دلی کے لیے جانا جاتا تھا، آج مسائل کی گرد میں اٹا ہوا ایک ایسا لاوارث علاقہ معلوم ہوتا ہے جہاں سفید پوش طبقہ اپنی بنیادی ضرورتوں کے لیے روزانہ ایڑھیاں رگڑنے پر مجبور ہے۔ گوجرخان کے باسیوں کے لیے بجلی اور گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ ایک ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔ واپڈا اور گیس آفس کے افسران کی کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ گھنٹوں بجلی غائب رہنا معمول بن چکا ہے، جس نے کاروبارِ زندگی مفلوج کر دیا ہے۔ رہی سہی کسر گیس کی نایابی نے پوری کر دی ہے مائیں بہنیں ٹھنڈے چولہوں کے سامنے بیٹھی دہائیاں دے رہی ہیں، مگر سلنڈر مافیا کی چاندی ہے۔ بل تو ہزاروں میں آتے ہیں مگر سہولیات کے نام پر صرف ذلت اور رسوائی شہریوں کا مقدر بن چکی ہے۔ پینے کے صاف پانی کی قلت نے شہر کو ایک نئے انسانی المیے سے دوچار کر دیا ہے۔ پانی کی سپلائی کا نظام درہم برہم ہے۔ فلٹریشن پلانٹس صرف نمائشی رہ گئے ہیں، اور غریب آدمی مہنگے داموں پانی خریدنے کی سکت نہیں رکھتا۔ کیا اس جدید دور میں بھی گوجرخان کے شہریوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ ایک بوند صاف پانی مانگتے ہیں؟افسوس تو اس بات کا ہے کہ جن نمائندوں کو ہم نے اپنا درد بانٹنے کے لیے ووٹ دیا، ان کی سیاست اب صرف جنازوں، ولیموں اور شادیوں میں حاضری لگوانے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی کے ولیمے پر مسکرا کر مل لینا یا کسی کے جنازے میں صفِ اول میں کھڑا ہو جانا ہی عوامی خدمت ہے۔ جناب، ان متاثرین سے پوچھیں جن کے گھر میں گیس نہیں کہ روٹی پکا سکیں، ان کے لیے آپ کی ان رسمی حاضریوں کی کیا اہمیت ہے؟ عوامی مسائل پر فوکس تو جیسے ان کے منشور سے ہی خارج ہو چکا ہے۔خوشامدی ٹولہ اور مصلحت پسند فلاسفر
شہر میں مصاحبوں، مالشیوں اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالنے والوں کی ایک ایسی فوج تیار ہو چکی ہے جس نے حقائق اور نمائندوں کے درمیان دیوار کھڑی کر رکھی ہے۔ حیرت تو ان نام نہاد سماجی تنظیموں اور دانشوروں پر ہے جن کے پاس ہر مسلے پر فلسفہ تو موجود ہے، مگر جب حق کی بات کرنے یا عوام کے لیے سڑک پر نکلنے کا وقت آتا ہے تو مصلحت کی چادر اوڑھ کر کونوں میں دبک جاتے ہیں۔ نجانے یہ لوگ سچ بولنے سے کیوں خوف کھاتے ہیں؟ کیا تعلقات نبھانا عوامی حقوق سے زیادہ مقدم ہے؟ واپڈا ہو، گیس آفس، بلدیہ ہو یا پولیس اسٹیشن غریب آدمی کے لیے یہاں صرف تذلیل لکھی ہے۔ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں عوام کو ناکوں چنے چبوانا روز کا معمول ہے۔ اور بات کریں سرکاری ہسپتال کی، تو وہاں علاج کے بجائے کھجل خواری مقدر بن چکی ہے، جہاں پوچھنے والا کوئی نہیں۔ گوجرخان کا یہ حال دیکھ کر علامہ اقبال کا وہ شعر یاد آتا ہے کہ ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے، انجامِ گلستاں کیا ہوگا۔ جب تک اس شہر کے باسی اپنے شعور کو بیدار نہیں کریں گے، جب تک ہم تعلقات پالنے کے بجائے حقوق مانگنے کو ترجیح نہیں دیں گے، یہ خوشامدی ٹولہ اسی طرح بھنگڑے ڈالتا رہے گا اور ہمارا شہر اسی طرح سسکتا رہے گا۔ -

کراچی میں بڑی کارروائی، ایرانی ریال اسمگلنگ ناکام
کراچی پولیس نے موچکو کے علاقے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایرانی کرنسی کی اسمگلنگ کی ایک بڑی کوشش ناکام بنا دی ہے۔ حکام کے مطابق کارروائی کے دوران اربوں مالیت کے ایرانی ریال برآمد کیے گئے اور ایک منظم نیٹ ورک کو گرفتار کر لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق بلوچستان سے دو گاڑیوں کے ذریعے کراچی پہنچنے والے اسمگلنگ نیٹ ورک کے 9 ارکان کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد انتہائی مطلوب تھے اور کافی عرصے سے اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث تھے۔
کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 29 ارب 69 کروڑ سے زائد ایرانی ریال برآمد کیے گئے، جو 236 بنڈلز کی صورت میں چھپائے گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ رقم غیر قانونی طور پر منتقل کی جا رہی تھی، جسے بروقت کارروائی کے ذریعے ضبط کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ نیٹ ورک منظم طریقے سے کرنسی کی اسمگلنگ میں ملوث تھا اور مختلف راستوں کے ذریعے بڑی مقدار میں رقم منتقل کرتا تھا۔ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں اور روابط کا بھی پتہ چلایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں اور ایسے عناصر کے خلاف سخت اقدامات جاری رہیں گے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔
یہ کارروائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مالی جرائم کے خلاف سرگرم ہیں اور ملک کی معیشت کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔