رمضان المبارک کے بے شمار فضائل و مناقب ہیں، ہزاروں فضیلتیں اور کئی بڑی بڑی عبادتیں اس سے منسلک ہیں، اس کے اعزازات میں سرکش شیاطین و مردود جنات کا جکڑ دیا جانا، ہولناک جہنم کے دروازوں کا بند ہونا اور نعمتوں سے بھرپور جنت کے ابواب کا کھل جانا بھی شامل ہے۔ اس ماہ مقدس میں گناہوں کی قلت اور نیکیوں کی کثرت ہوجاتی ہے، پھر نیکیوں کے اجر میں دس گنا سے سات سو گنا اور سات سو سے آگے جتنا اللہ چاہے اضافہ کرتا ہے۔ ہر دن اور رات میں کثیر تعداد میں لوگوں کو جہنم سے آزادیاں ملتی ہیں، جنت کے پروانے ملتے ہیں اور ان سب سے بڑھ کر رضائے الہی کا حصول ہوتا ہے ۔
ان تمام کبار اعزازات کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک کا ایک جداگانہ اعزاز یہ ہے کہ اس میں قرآن مجید و فرقان حمید ایسی لاریب کتاب کا نزول ہوا ہے ۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ رمضان کا اعزاز قرآن ہے اور قرآن کا اعزاز رمضان ہے۔ قرآن معجزہ ہے اور یہ معجزہ رمضان المبارک ایسے بابرکت اور پر رحمت مہینے اور مہینے کی بھی سب سے مقدس اور فضائل کے لحاظ سے سب سے افضل رات "لیلۃ القدر” جس کی عبادت کا ثواب ہزار مہینوں سے زیادہ ہے، میں رونما ہوا ۔اس کا خصوصی تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی سورۃ البقرۃ میں بھی کیا ہے ۔”ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں۔”

اس آیت سے معلوم ہوا کہ ماہ رمضان کا قرآن مجید کے ساتھ خاص تعلق ہے، اسی وجہ سے صاحب القرآن والشریعہ جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں قرآن کی تلاوت بکثرت کیا کرتے تھے، بلکہ فرشتوں کے سردار جبریل امین سے مل کر قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے۔صحیح بخاری میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر کے سب سے زیادہ کام رمضان المبارک میں کیا کرتے تھے، اور رمضان المبارک کی ہر رات آپ کو جبریل امین ملتے تھے، اور جب بھی جبریل امین آپ کو ملتے آپ انہیں قرآن سناتے تھے۔”
قرآن اور رمضان کا تعلق صرف دنیا میں ہی نہیں یوم آخرت میں بھی ہوگا ۔روزہ اور قرآن مجید دونوں مل کر بندوں کی سفارشیں کریں گے ۔مسند احمد میں روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "روزہ اور قرآن دونوں بندے کے حق میں بروز قیامت شفاعت کریں گے ۔روزہ کہے گا! اے میرے رب! میں نے اس بندے کو کھانے پینے اور جائز ضروریات سے روکے رکھا ۔اے میرے رب اس کو بخش دے ۔پھر قرآن کہے گا! اے میرے رب! میں نے اسے رات کو سونے اور آرام سے روکے رکھا ۔اے میرے رب اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما اور اسے بخش دے ۔اللہ تعالیٰ دونوں کی شفاعت قبول کرتے ہوئے بندے کو بخش دیں گے اور بندہ جنت میں چلا جائے گا ۔”مذکورہ حدیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ رمضان المبارک میں قائم الیل و صائم النھار شخص یوم قیامت روزے اور قرآن کے ذریعے باآسانی خلاصی پا جائے گا ۔
آج کے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ قرآن سے دور ہوتے جارہے ہیں، اس کا اس طرح سے حق ادا نہیں کر رہے جس طرح کہ کرنا چاہیے ۔اکثریت اس معاملے میں خاصی کمزور اور سست دکھائی دیتی ہے ۔جب کہ اسلاف کا معاملہ رمضان المبارک میں قرآن کے حوالے سے خاصا مضبوط بھی تھا اور مربوط بھی۔وہ قرآن کی تلاوت کو پوری باقاعدگی ،دلجمعی اور خوش الحانی سے کیا کرتے تھے ۔ذیل میں کچھ حوالے درج کیے جا رہے ہیں جس سے ہمیں اندازہ ہوگا کہ اسلاف رمضان میں قرآن مجید کی تلاوت کے لیے کس کس انداز میں کوشاں تھے اور اس کے بغیر رمضان کی عبادات کو نامکمل سمجھتے تھے ۔
جلیل القدر صحابی سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ رمضان میں تین دنوں میں قرآن ختم کرتے تھے ۔ [سنن سعید بن منصور 150] تابعی امام علقمہؒ پانچ دنوں میں قرآن مجید مکمل کرتے تھے۔[ابن ابی شیبہ 8667]
تابعی امام قتادہؒ عام دنوں میں سات ایام میں قرآن ختم کرتے تھے،جب رمضان آتا تو تین راتوں میں پورا قرآن پڑھ لیتے اور جب آخری عشرے میں داخل ہوتے تو ہر شب پورے قرآن کی قراَت کرتے۔ [حلیۃ الاولیاء]
امام ابراہیم نخعیؒ رمضان میں تین دنوں میں قرآن ختم کر لیتے تھے لیکن آخری عشرے میں دو راتوں میں مکمل کرتے تھے۔ [مصنف عبدارزاق 5955]
تابعی امام اسود بن یزیدؒ رمضان میں دو راتوں میں مکمل قرآن کی تلاوت فرماتےاور مغرب و عشاء کے مابین آرام کرتے تھے، جب کہ عام دنوں میں وہ چھ دنوں میں ایک قرآن ختم کرتے تھے ۔ [ابن ابی شیبہ 8667]
امام زہریؒ فرماتے تھے رمضان قراَت قرآن اور کھانا کھلانے کا مہینا ہے۔
امام مالکؒ رمضان کے آتے ہی طلباء کو پڑھانا بلکہ حدیث کی مجلس ہی چھوڑ دیتے تھے اور صرف قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے تھے اور فرماتے تھے یہ مہینا تو قرآن کا مہینا ہے ،اس میں تو ہم بس قرآن کی طرف ہی رجوع کریں گے ۔امام سفیان ثوریؒ رمضان میں تمام عبادات چھوڑ کر صرف قراَت قرآن میں مشغول رہتے ۔ امام احمد ابن حنبلؒ تمام کتابیں بند کر دیتے اور فرماتے کہ یہ قرآن کا مہینا ہے ۔ امام وکیع بن جراحؒ ہر شب میں مکمل قرآن اور مزید دس پاروں کی تلاوت کرتے۔
تین دن سے کم میں ختم قرآن کی ممانعت کے حوالے سے امام ابن رجب حنبلیؒ نے یہ توجیہ کی ہے کہ یہ ممانعت عام دنوں کے دائمی معمول کے متعلق ہے لیکن زمان و مکان کی فضیلت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس سے کم میں بھی قرآن مکمل کیا جا سکتا ہے-امام احمد ، امام اسحاق اور دیگر متعدد ائمہ کا یہی موقف تھا اور اسی پر ان کا عمل بھی تھا ۔ [لطائف المعارف 183]
قارئین کرام! مذکورہ آیات و احادیث اور عمل ائمہ و تابعین سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رمضان کا مہینا فی الحقیقت کا قرآن کا مہینا ہے ۔جو لوگ قرآن کے بنا ہی رمضان کو گزارتے ہیں وہ صحیح معنوں میں حق رمضان نہیں ادا کرتے ۔رمضان کی رحمتوں اور برکتوں سے تبھی مستفید ہوسکتے ہیں جب اس میں قرآن کی تلاوت کا ایک بڑا حصہ شامل ہو ۔کوشش کریں کہ رمضان میں کم از کم ایک قرآن مجید لازمی ختم کیا جائے ۔
Blog
-

رمضان، ماہ قرآن ۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن
-

رائس کلب کا ماہانہ اجلاس، داتا دربار دھماکہ کی مذمت
گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی ) را ئس کلب کا ماہانہ اجلاس گزشتہ روز مقامی ریسٹورنٹ میں منعقد ہوا ،اجلاس کی صدرات صدر سید سہیل شا ہ نے کی ، اجلاس میں ممبران کی کثیر تعداد شر یک تھی ،اس موقع پر رائس کلب کے سیکر ٹر ی امجد مجید بٹ نے اجلا س میں ایجنڈہ اور کلب کی ماہانہ رپورٹ پیش کی ، اجلاس میں سانحہ داتا دربار دھماکہ کی مذ مت کی گئی اور دھماکہ میں شہید ہو نے والے افراد کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی ، اجلا س کے دوران چاولو ں کی ایکسپورٹ کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا، صدر رائس کلب سید سہیل شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گجرات رائس کلب گجرات کے رائس ملرز کی باہمی کوششوں سے قائم ہونے والا شاندار اور قابل ستائش ادارہ ہے ،جس نے چاولوں کے بزنس سے وابستہ تمام شخصیات کو اپنے ساتھ منسلک کر کے انہیں ایک زبردست پلٹ فارم مہیا کر دیا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر ممتاز رائس ملر نواز بٹ (گجرات فلور ملز)کی جانب سے ممبران کے اعزاز میں افطار ڈنر دیا گیا ۔
-

گجرات پولیس ان ایکشن، خاتون سے ڈیڑھ کو چرس برآمد
(گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی ) ڈی پی اوسید علی محسن کی قیادت میں گجرات پولیس کی ضلع بھر میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں جاری
صدر لالہ موسیٰ پولیس نے دوران کارروائی ٹھیکریاں کی رہائشی بدنام زمانہ منشیات فروش صغریٰ کی بیٹی کومل کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے ڈیڑھ کلو گرام چرس اور 1500روپے وٹک برآمد کرلی
تفصیلات کے مطابق ڈی پی او سید علی محسن کی زیر قیادت گجرات پولیس کی ضلع بھر میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔جس میں ڈی ایس پی لالہ موسیٰ سرکل ریاض الحق کی زیر نگرانی ایس ایچ او تھانہ صدرلالہ موسیٰ انسپکٹرطارق شفیع نے پولیس ٹیم کے ہمراہ کریک ڈاؤن کرکے ٹھیکریاں کی رہائشی بدنام زمانہ منشیات فروش صغریٰ کی بیٹی کومل دختر خضر حیات کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے اس کے قبضہ سے 1560گرام چرس اور رقم وٹک 1500روپے برآمد کرکے مقدمہ درج کرلیا۔اس کے علاوہ جی ٹی روڈ علی چک کے قریب ملزم ذیشان ولد مظہر اقبال سکنہ وہند کو غیر قانونی کھل عام پٹرول و ڈیزل فروخت کرتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ملزم کے قبضہ سے کھلا پٹرول و ڈیزل قبضہ پولیس میں لے کر مقدمہ درج کرلیا گیا۔ -
رمضان بازاروں میں سستی چینی کی خریداری کے سلسلے میں صارفین کی مشکلات کو دور کیا جائے
فیصل آباد: ڈپٹی کمشنر سردار سیف اللہ ڈوگر نے کہا ہے کہ رمضان بازاروں میں سستی چینی کی خریداری کے سلسلے میں صارفین کی مشکلات کو دور کیا جارہا ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ ضلع فیصل آباد کے لئے سستی چینی کے کوٹہ سے زیادہ سے زیادہ صارفین مستفید ہوں۔ انہوں نے یہ بات مختلف رمضان بازاروں کے معائنہ کے دوران سستی چینی کی خریداری سے متعلق صارفین کی شکایت سنتے ہوئے کہی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ رمضان بازاروں میں چینی کی سپلائی بلاتعطل جاری ہے جسکا عام مارکیٹ کی نسبت فی کلو گرام ریٹ کم ہونے کی وجہ سے خریداروں کا رش زیادہ ہے جس کے باعث لوگوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ کریں گے۔ انہوں نے مختلف سٹالز پر پھلوں‘ سبزیوں‘ دالوں اور دیگر اشیاء کا معیار چیک کیا اور نگران افسران کو ہدایت کی کہ صارفین کو غیر معیاری اشیاء کی فروخت کی شکایت نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے سستے آٹے کے معیار اور تھیلے کے وزن کی جانچ پڑتال بھی کی اور کہا کہ غیر معیاری آٹا ہونے کی ہونے کی صورت میں فلور ملز کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے سیکورٹی اور صفائی ستھرائی کے امور پر نظر رکھنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ رمضان بازاروں میں خریداری کے لئے صاف ستھرے اور خوشگوار ماحول کا تاثر ابھرنا چاہئے۔ انہوں نے رمضان بازار سرسید ٹاؤن میں اشیاء کی سپلائی اور دیگر انتظامی معاملات کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ مارکیٹ کمیٹی کی فیئر پرائس شاپ پر صبح بروقت فروخت کا آغاز ہو جانا چاہئے۔انہوں نے ضلع کے تمام رمضان بازاروں کو طوفان و بادوباراں سے محفوظ بنانے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ آندھی یا بارش کی صورت میں رمضان بازاروں میں خرید و فروخت کے امور متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔
-
کھانے پینے کی اشیاء مہنگے داموں فرخت کرنے کی پاداش میں 11 گرانفروشوں کو جرمانہ
فیصل آباد، ڈپٹی کمشنر سردار سیف اللہ ڈوگر کی ہدایت پر ایڈمن آفیسر/سپیشل پرائس کنٹرول مجسٹریٹ ریاض حسین انجم نے کھانے پینے کی اشیاء مہنگے داموں فرخت کرنے کی پاداش میں 11گرانفروشوں کو 19ہزارروپے کے جرمانے کئے۔پرائس کنٹرول مجسٹریٹ نے ملت روڈ،گلستان کالونی،نشاط آباد،شیخوپورہ روڈ اور دیگر علاقوں میں گوشت،دودھ،پھل اورسبزیوں کی زائد قیمت وصول کرنے والے دکانداروں کو موقع پر ہی مختلف مالیت کے جرمانے کئے.
-
مانسہرہ :
ڈرئیور گرفتار ملاوٹ شدہ مال منگوانے والے تاجروں کی دکانیں ظفر روڈ پر سیل
تفصیلات کے مطابق اسٹنٹ فوڈ کنٹرولر اور اسسٹنٹ کمشنر کو اطلاع ملی تھی کہ ملاوٹ شدہ بیسن سے بھرا ٹرک مانسہرہ میں داخل ہو رہا ہے جس پر اسسٹنٹ کمشنر علی شیر خان اور اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر شوکت سلطان نے مشترکہ کاروائی کرتے ہوئے شیل پمپ کے پاس ٹرک نمبر جی ایل ٹی بی 681 کو روکا جس میں ملاوٹ شدہ بیسن بھرا ہوا تھا جسے فوری طور پر قبضے میں لے لیا گیا جبکہ ٹرک ڈرائیور یاسر محمود کو بھی گرفتار کرلیا ہے ملاوٹ شدہ بیسن برآمد ہونے کے بعدجب ٹرک ڈرائیور سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے ظفر روڈ کے بعض تاجروں کا نام بتایاجس پر اسسٹنٹ کمشنر علی شیر خان اور اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر شوکت سلطان نے جن ڈیلروں نے یہ بیسن منگوایا تھا ان کی دکانوں کو ظفر روڈ پر چھاپا مار کر سیل کردیا اور دکان مالکان کو گرفتار کرلیا ہےجن کے خلاف فوڈ ایکٹ کے تحت مزید کارروائی جاری ہے جبکہ اسسٹنٹ کمشنر علی شیر خان اور اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ مانسہرہ میں رمضان میں ناجائز منافع خوروں اور ملاوٹ شدہ اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا اور کسی کو بھی ملاوٹ شدہ مال فروخت کی اجازت نہیں دی جائے گی -

غریبوں کی داد رسی صرف حکومتی فریضہ نہیں
پھلروان ( نمائندہ با غی ٹی وی ) رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ھی خلق خدا کے لئے آسانیاں بانٹنے کا سلسلہ شروع ھو چکا ھے غربا اور حق داروں میں راشن کی تقسیم کا عمل جاری ھے غریبوں کی داد رسی صرف حکومت کا کام نہیں اسی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے خدمت انسانیت کے جذبے سے سرشار اوورسیز پاکستانی ثاقب افتخار ہر سال کی طرح اس سال بھی بیرون ملک سے پھولوں کے شہر پھلروان پہنچے ہیں انہوں نے اپنی والدہ کے نام پر بلقیس ویلفئیر ٹرسٹ بنا رکھا جس میں ہر سال کی طرح اس سال بھی سینکڑوں گھرانوں میں رمضان المبارک کا سامان تقسیم کیا گیا اس موقع پر بلقیس ویلفیئر ٹرسٹ کے سی ای او راجہ ثاقب افتخار کا کہنا تھا کہ میں اوور سیز پاکستانی ہوں اور بیرون ممالک میں اپنے دوست احباب کی مدد سے رمضان المبارک میں 7 سے زاہد گاؤں میں ہزاروں گھروں میں ہر سال رمضانُ المبارک کا راشن تقسیم کررہا ہوں اور میری باقی اوورسیز بھائیوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ بھی اپنے اپنے گاوں میں جتنا توفیقِ ہو رمضان المبارک میں غربا میں راشن تقسیم کیا کریں تاکہ اس بابرکت مہینے میں عام انسانوں کی طرح غربا بھی سحری افطاری کا انعقاد کر سکیں اسی سلسلے میں نجی ویلفئیر ٹرسٹ کے جانب سے پہلے مرحلہ میں سرگودھا ، پھلروان ،بھلوال ،47 چک، ہجن ,چکوال جبکہ دوسرے مرحلہ میں راولپنڈی اسلام آباد جبکہ آخری مرحلے میں پشاور اور چکوال کے گاؤں میں ہزاروں غربا میں راشن تقسیم کیا گیا۔
-

سبسڈی یا لوٹ مار جانیے اس خبر میں
سرگودہا (سپیشل رپورٹر) ضلع بھر میں حکومت کی جانب سے لگائے گئے رمضان بازاروں میں سبسڈی کے نام پر عوام سے فراڈ کا سلسلہ جاری ہے رمضان بازاروں میں مختلف قسم کے سٹال موجود ہیں جس میں مختلف اشیاء خوردو نوش صرف بازار سے ایک یا دو روپے سستی ہیں تفصیلات کے مطابق سرگودہا ،ساہیوال ،سلانوالی ،شاہ پور ،بھیرہ اور بھلوال میں حکومت کی جانب سے سستا رمضان بازار لگائے گئے ہیں جن کا مقصد عوام کو دیگر بازاروں سے اشیاء خوردونوش سستی فراھم کرنا ہے لیکن حقیقت بالکل اس کے برعکس نظر آرہی ہے حکومت نے ان بازاروں میں مارکیٹ کمیٹی کے سٹال سے عوام کو براہ راست سبسڈی دینے کا عمل شروع کیا جس کے لئے مارکیٹ کمیٹیوں کو بجٹ فراھم کیا گیا مگر ان سٹالوں پر حکومتی سبسڈی سرے سے نظر نہیں آرہی ھمارے ذرائع کے مطابق مختلف مارکیٹ کمیٹیوں میں بیٹھے اہلکاروں نے مختلف مافیا کے ساتھ ملکر مختلف جگہ پر پڑی ناقص دالوں ،چنوں ،اور بیسن سمیت دیگر اشیاء خوردونوش کو خریدا اور اسے اپنے اپنے علاقوں کے بازاروں میں فروخت کرنا شروع کردیا اور ظاہر کیا گیا کہ ھم اشیاء پر سبسڈی دے رہے ہیں جبکہ وہ اشیائے خوردونوش ناقص اور مضر صحت ہیں جن اشیاء کو بازاروں میں فروخت ہی نہیں کیا جاسکتا وہ اشیائے خوردونوش مارکیٹ کمیٹی کے اسٹالوں پر موجود ہیں بھلوال کے سستا بازار کا جب ھمارے نمائندے نے دودہ کیا تو وہاں مارکیٹ کمیٹی کے سٹال پر ناقص چنے اور بیسن کو پایا جبکہ دیگر ریٹ بھی بازار سے زیادہ فرق نہ رکھتے تھے جب اس سلسلے میں مارکیٹ کمیٹی کے زمہ داران سے رابطہ کیا گیا تو وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکے ان کاکہناتھاکہ ھم اپنی خریداری کے مطابق جو سبسڈی دے سکتے تھے دے رہے حالانکہ سٹال کے ریٹ اشیا خوردونوش کی کوالٹی کچھ اور کہانی بیان کررہی تھی وزیراعلی پنجاب کا دعویٰ تھا کہ اس سال سابقہ ادوار سے زیادہ سبسڈی اور بہتر رمضان بازار لگائے جارہے ہیں حالانکہ سرگودہا میں اس دعوے کا حقیقت سے بالکل تعلق نظر نہیں آ رہا ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی افسران حکومت کے دعوے کو حقیقی ثابت کرنے کے لئے اشیائے خوردونوش کی کوالٹی کو یقینی بنائیں اور پنجاب فوڈ اتھارٹی تمام رمضان بازاروں میں لگے سٹالوں کا خود دورہ کرکے ناقص اشیائے خوردونوش کے سیمپل حاصل کرے تاکہ سستا رمضان بازار کے نام پر عوام کو زہر فروخت کرنے والوں کا محاسبہ ہوسکے دوسری سبسڈی کے ریٹ کسی مذاق سے کم نہیں عوام جب بیس روپیہ کرایہ خرچ کرکے سستا بازار پہنچتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ مذاق ہوگیا کیونکہ وہ بغیر کرایہ ادا کئے اپنے علاقے کی دوکان سے معیاری اور بہتر خریداری کرسکتے تھے اس لئے وزیر اعلی پنجاب کی گڈ گورننس پہلے ہی رمضان بازار میں ناکام ہوتی نظر آرہی ہے جس کا سبب مارکیٹ کمیٹیوں میں بیٹھے کرپٹ افسران بن رہے ہیں اس لئے ایسے افسران اور اہلکاران کی لسٹیں مرتب کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے جو مارکیٹ کمیٹی سٹالوں پر ناقص مضر صحت اور مہنگی اشیائے خوردونوش فروخت کرنے کے زمہ داران ہیں
-

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ۔۔۔ اسامہ چوہدری
آج پیپر دے کر کمرہ سے باہر آیا تو چلچلاتی ہوئی دھوپ محسوس ہوئی۔ سوچا باہر کسی فوڈ کارنر پہ بیٹھتا ہوں جب تک باقی دوست بھی باہر آجائیں گے۔سکول گیٹ سے باہر نکلا تو گیٹ کی ایک طرف معصوم سا بچہ کسی کالج کے فلائرز تقسیم کررہا تھا اسے دیکھتے ہی اچانک دل میں رحم سا آگیا۔ اس کے پاس گیا، اس سے پوچھا کہ آپ یہ کیوں تقسیم کررہے ہو تو اس نے جواب دیا کہ مجھے کسی انکل نے دیے ہیں جب میں یہ سارے تقسیم کرکے گھر جاوں گا تو مجھے سو روپیہ ملے گا ۔مجھے اس شخص پر بہت غصہ آیا کہ پھول جیسے بچے کو سو روپے کے لالچ میں تپتی دھوپ اور آگ جیسی لو میں کھڑا کیا ہوا ہے۔
خیر باقی دوست پیپر دے کر باہر آئے تو میں نے ان کو اس بچے کے بارے بتایا اور کہا کہ ہم یا تو اس شخص سے ملیں جس نے اس اس کام پر لگایا ہے یا اسکے گھر جا کر اس کے حالات معلوم کریں کیا معلوم کہ اس کے گھر آج کی افطاری کے پیسے بھی نہ ہوں۔
ہم نے منصوبہ بنایا کہ اس بچے کے سکول کا خرچہ ہم اپنے ذمے لیں گے ۔اس کے گھر پہنچے تو وہاں پر ایک درد ناک کہانی تھی ۔گھر کے مرکزی دروازے کا ایک حصہ ٹوٹا ہوا اور گھر حسرت و یاس کی تصویر نظر آرہا تھا۔
اس کی امی کو بلایا گیا اور اپنا تعارف کروایا ،اور کہا کہ ہم آپکی ہر ممکن مدد کے لئے تیار ہیں تو اس نے کہا بیٹا ہم تو باقیوں کی نسبت بہتر زندگی گزار رہے ہیں ،یہ بچہ سکول بھی پڑھتا ہے مگر سیکنڈ ٹائم کوئی نہ کوئی کام کرلیتا ہے، میرا اس سے بڑا بیٹا بھی ایک دکان پر کام کرتا ہے جس سے ہمارے گھر کا خرچ تو چل ہی جاتا ہے مگر میری ایک دوست ہے جس کے میاں فوت ہوچکے اور ان کا کمانے والا کوئی نہیں ہے اگر آپ ان کی مدد کرسکتے ہیں تو کیجیے ۔میں آپکا رابطہ ان سے کروا دوں گی ۔
اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایسے لوگ بھی دنیا میں ہیں جو خود انتہائی کسمپرسی کی زندگی کے باوجود دوسروں کا خیال رکھنے والے ہیں۔
اور دوسری طرف وہ بے حس کالج والے جو ایک معصوم بچے کو جس کی ابھی کھیلنے کودنے کی عمر ہے جس کے ہاتھ میں اپنی کتابیں کاپیاں ہونی چاہئے تھی وہ دوسروں کے لئے ایک کالج کے فلائرز تقسیم کررہا تھا۔
-

کراچی کے نجی ہسپتال میں بچی کی ہلاکت کا ایک اور واقعہ
کراچی کے نجی ہسپتال میں بچی کی ہلاکت کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقے کےڈی اے چورنگی پراسپتال میں مبینہ غلط انجکشن لگنے سے نومولود بچی جاں بحق ہو گئی، ورثاء کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات2 بجے بچی کی پیدائش ہوئی ،صبح11بجے انجکشن لگایا گیا،انجکشن لگنے کے5منٹ بعد بچی دم توڑ گئی،انجکشن لگانے والی نرس اور دیگرعملہ اسپتال سےغائب ہیں،ورثاء نے الزام عائد کیا ہے کہ انتظامیہ نے بچی کے ورثا کو اسپتال سے باہر نکال دیا