امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کے خلاف تمام فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کے تنازع کے حل کے لیے آج قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اہم مذاکرات ہوں گے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق دونوں فریقوں نے فی الحال تمام عسکری کارروائیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مذاکرات کے ذریعے اختلافات کو حل کیا جا سکے، دونوں جانب سے ’کائنیٹک ایکٹیویٹی‘ یعنی فضائی حملوں اور دیگر فوجی کارروائیوں کو روکنے پر اتفاق کیا گیا ہے امریکی عہدیدار کے مطابق فی الحال دونوں ممالک کشیدگی میں اضافہ نہیں کریں گے اور تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزر سکیں گے-
حالیہ دنوں میں دونوں جانب سے نئے حملوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ دوبارہ شروع کرنے اور ’کام مکمل کرنے‘ کے بیان نے کشیدگی میں اضافہ کر دیا تھا،امریکی حکام کے مطابق تازہ کشیدگی کی بنیادی وجہ جنگ بندی سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی مختلف تشریحات تھیں، خصوصاً آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق شرائط پر اختلاف سامنے آیا معاہدے کے تحت ایران نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کرنے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ اس کے بدلے امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کر دی تھی۔
اتوار کی صبح ایران نے کویت اور بحرین میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے کچھ ہی دیر بعد کی گئی تھی جس میں انہوں نے سوشل میڈیا پر ایران کو کھلی دھمکی دی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ”ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب ہم مزید نرمی نہ دکھا سکیں اور ہمیں اس کام کو فوجی طاقت سے مکمل کرنا پڑے گا جو ہم نے کامیابی سے شروع کیا تھا اگر ایسا ہوا تو ایران کا نام و نشان مٹ جائے گا۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے بجائے دوسرے راستے سے نکلنے کی کوشش کرنے والے دو بحری جہازوں پر ڈرون حملوں کے بعد سامنے آیا تھا۔ ان ڈرون حملوں کے جواب میں امریکا نے ایران کے کئی شہروں پر بمباری کی تھی۔
اس دھمکی کے فوراً بعد کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر حملے شروع ہو گئے۔ ان حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے ایرانی فوج نے کہا کہ امریکا نے پہلے حملے کرکے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تھی اور ان کے اس اقدام سے تمام سفارتی بات چیت مکمل طور پر رک سکتی ہےایرانی فوج نے یہ بھی وارننگ دی تھی کہ خطے میں موجود امریکی اڈوں کو آنے والے دنوں میں جہنم بنا دیا جائے گا۔
ان حملوں کے بعد کویت کی فوج نے بتایا کہ انہوں نے دو بیلسٹک میزائلوں کو ہوا میں ہی تباہ کر دیا جس سے کوئی نقصان نہیں ہوا، جبکہ بحرین میں ایک ایرانی میزائل گرنے سے رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا مگر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم اس دوران قطر کی حکومت نے بتایا کہ علاقے میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے دوران ایک بحری جہاز پر میزائل کا ٹکڑا لگنے سے ان کا ایک شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔