افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ مختلف بین الاقوامی اداروں اور میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت کے تحت شہری آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں افغان شہری عدم تحفظ اور خوف کا شکار ہیں۔
افغان اخبار ہشت صبح کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان حکام نے مختلف الزامات کے تحت سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض افراد کو داڑھی منڈوانے، موسیقی سننے اور دیگر سماجی سرگرمیوں کے الزامات پر گرفتار کیا گیا۔ ان دعوؤں کی طالبان حکومت کی جانب سے آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کی گئی۔
دوسری جانب، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل سے وابستہ افغانستان کے محقق زمن سلطانی کے مطابق موجودہ حالات میں افغانستان واپس جانے والے مہاجرین کو مختلف خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، اس لیے ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت بیرون ملک موجود بعض افغان سفارت خانوں پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر اپنی حیثیت مضبوط بنا سکے۔ تاہم اس حوالے سے بھی مختلف ممالک کی پالیسیوں اور مؤقف میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والی نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے بھی افغانستان میں خواتین اور انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
یورپی یونین کے خصوصی نمائندوں اور دیگر عالمی اداروں نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق، خواتین کی تعلیم، آزادی اظہار اور شہری آزادیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ عالمی برادری مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہے کہ افغان عوام کی فلاح اور بنیادی حقوق کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔
واضح رہے کہ افغانستان کی صورتحال سے متعلق مختلف فریقین کے بیانات اور دعوے سامنے آتے رہتے ہیں، جن میں سے بعض کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ اس لیے اس معاملے پر مختلف مؤقف موجود ہیں۔
Blog
-

افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی تشویش میں اضافہ
-

وینزویلا کے زلزلوں میں 9 ہسپانوی شہری جاں بحق، اسپین نے امدادی سرگرمیاں تیز کر دیں
وینزویلا میں آنے والے تباہ کن زلزلوں میں ہلاک ہونے والے ہسپانوی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 9 ہو گئی ہے۔ اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ ان کی حکومت متاثرہ شہریوں کی ہر ممکن مدد جاری رکھے گی۔
وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اپنے بیان میں کہا کہ اسپین وینزویلا کی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گا اور زلزلے سے متاثرہ ہسپانوی شہریوں کو قونصلر خدمات اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
دوسری جانب وینزویلا کے حکام کے مطابق گزشتہ روز زلزلوں میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 1,430 تک پہنچ چکی تھی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آج برطانیہ کے وقت کے مطابق دوپہر کے بعد ہلاکتوں اور متاثرین سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کیے جائیں گے، کیونکہ امدادی کارروائیاں اب بھی مختلف علاقوں میں جاری ہیں۔
اسپین نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے اپنی ایمرجنسی ملٹری یونٹ (یو ایم ای) کے درجنوں فوجیوں اور فائر فائٹرز کو بھی وینزویلا روانہ کیا ہے۔ یہ خصوصی یونٹ قدرتی آفات کے دوران امدادی اور ریسکیو کارروائیوں میں مہارت رکھتی ہے اور متاثرہ علاقوں میں مقامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
ادھر بین الاقوامی امدادی ادارے بھی متاثرہ علاقوں میں خوراک، طبی سہولیات اور عارضی رہائش فراہم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ ہزاروں افراد اب بھی لاپتا ہیں اور ملبہ ہٹانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ -

ایران پر حملوں پر ٹرمپ قانونی تنازع کا شکار، کانگریس کی قرارداد کی خلاف ورزی کا الزام
امریکا کی جانب سے ایران پر حالیہ فضائی حملوں کے بعد نہ صرف تہران کی جانب سے جوابی کارروائیاں سامنے آئی ہیں بلکہ واشنگٹن میں بھی اس معاملے پر شدید سیاسی اور قانونی بحث شروع ہو گئی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس رو کھنہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کانگریس کی منظور کردہ جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس نے گزشتہ ہفتے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں صدر کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکیں یا مزید کسی بھی عسکری اقدام سے قبل کانگریس سے باقاعدہ منظوری حاصل کریں۔
اس کے باوجود امریکی سینٹرل کمانڈ نے ہفتے کے روز ایران کے فوجی اہداف پر حملے کیے۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز کو نشانہ بنانے کے ایرانی اقدام کے جواب میں کی گئی۔
ان حملوں کے بعد ایران نے اتوار کے روز بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل دوسرے ہفتے بھی جوابی حملوں کے تبادلے نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور 15 جون کو ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر اسرائیل نے بھی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہیں، حالانکہ جمعہ کے روز ایک فریم ورک معاہدہ طے پایا تھا اور مفاہمتی یادداشت میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔
ڈیموکریٹک رکن کانگریس رو کھنہ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی حالیہ فوجی کارروائی کانگریس کی واضح ہدایات کے منافی ہے اور اس معاملے پر عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی آئینی ماہرین کے مطابق صدر کے جنگی اختیارات اور کانگریس کے اختیارات کے درمیان قانونی حدود پر فیصلہ عدالتوں اور آئندہ سیاسی پیش رفت سے واضح ہو سکتا ہے۔ -

وینزویلا میں زلزلوں کی تباہی، ہلاکتیں 1,430 تک پہنچ گئیں، 50 ہزار افراد لاپتا
وینزویلا میں آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1,430 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق زلزلوں کے تین روز گزرنے کے باوجود تقریباً 50 ہزار افراد اب بھی لاپتا ہیں، جس کے باعث متاثرہ علاقوں میں بے چینی اور تشویش برقرار ہے۔
ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔ امدادی کارروائیوں کے دوران ایک 11 سالہ بچے کو زندہ نکال لیا گیا، جس کے بعد موقع پر موجود امدادی کارکن جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور آبدیدہ ہو گیا۔ امدادی اہلکار کا کہنا تھا کہ سب لوگ مل کر محبت اور انسانیت کے جذبے کے تحت کام کر رہے ہیں کیونکہ انسانی جان سب سے زیادہ قیمتی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق زلزلوں سے ملک بھر میں تقریباً 1,500 عمارتیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ ادارے نے اس صورتحال کو قومی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ شمالی وینزویلا کی کم از کم سات ریاستیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 3,100 سے زائد خاندان اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں، جبکہ اب تک 430 سے زیادہ آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی دو نمایاں جھٹکے محسوس کیے گئے جن میں آج صبح 4.5 شدت کا زلزلہ شامل تھا، جس سے متاثرہ علاقوں میں خوف کی فضا مزید گہری ہو گئی۔
دوسری جانب برطانیہ کی رائل ایئر فورس کا پہلا امدادی طیارہ دارالحکومت کاراکاس کے قریب پہنچ چکا ہے، جبکہ یورپی یونین نے وینزویلا کے لیے 50 لاکھ یورو کی ہنگامی امداد اور سیٹلائٹ معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مؤثر بنایا جا سکے۔
ادھر پوپ لیو نے بھی زلزلہ متاثرین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے لیے دعا، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور امدادی کارروائیوں میں مصروف اہلکاروں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں عالمی برادری کو متاثرہ عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ -

امریکی ریاست کینٹکی میں شدید سیلاب، 4 افراد ہلاک، ایمرجنسی نافذ
امریکا کی ریاست کینٹکی میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ مختلف علاقوں میں پل بہہ گئے، سڑکیں زیر آب آ گئیں اور سیکڑوں گھروں میں پانی داخل ہو گیا، جبکہ اب تک کم از کم 4 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ریسکیو ٹیموں نے متعدد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے، جبکہ مزید بارشوں کی پیش گوئی کے باعث صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
کینٹکی کے گورنر اینڈی بیشیئر کے مطابق ایک شخص جیکسن کاؤنٹی میں جان کی بازی ہار گیا، جبکہ میڈیسن کاؤنٹی میں تین افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں ایک مرد اور ایک خاتون بھی شامل ہیں، جو اپنے زیر آب آنے والے گھر میں ڈوب گئے۔
گورنر اینڈی بیشیئر نے ریاست میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خاص طور پر رات کے وقت سڑکوں پر نکلنے سے حتی الامکان بچیں۔ انہوں نے کہا کہ اندھیرا ہونے کے بعد حالات مزید خطرناک ہو سکتے ہیں، اس لیے عوام اپنی حفاظت کو اولین ترجیح دیں۔
حکام کے مطابق ایک موٹر سوار بھی فلیش فلڈ کے تیز ریلے میں بہہ جانے کے باعث ہلاک ہوا۔ امدادی ادارے مسلسل متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو نکالنے اور امدادی سامان پہنچانے میں مصروف ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مزید شدید بارشوں کا سلسلہ اتوار کے روز کینٹکی سے مشرق کی جانب بڑھتے ہوئے ریاست ٹینیسی کے مختلف علاقوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ انتظامیہ نے نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو محتاط رہنے اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ -

فرانس میں اسکائی ڈائیونگ طیارہ گر کر تباہ، 11 افراد ہلاک
فرانس کے شمال مشرقی علاقے ٹومبلین میں اتوار کے روز ایک تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں پائلٹ سمیت تمام 11 افراد ہلاک ہو گئے۔ مقامی انتظامیہ نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ طیارے میں سوار کوئی بھی شخص زندہ نہ بچ سکا۔
حکام کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا Pilatus PC-6/B2-H4 Turbo Porter طیارہ ایک اسکائی ڈائیونگ اسکول کی ملکیت تھا۔ طیارے میں ایک پائلٹ، پانچ زیر تربیت طلبہ اور پانچ انسٹرکٹرز سوار تھے، جو اسکائی ڈائیونگ کی تربیت کے سلسلے میں پرواز کر رہے تھے۔
یہ حادثہ ٹومبلین ایئرپورٹ کے قریب پیش آیا، جو فرانس کے شہر نینسی کے نزدیک واقع ہے۔ طیارہ گرنے کے فوراً بعد ریسکیو، فائر بریگیڈ اور پولیس کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔
پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ سے بچنے کے لیے حادثے کے مقام سے دور رہیں اور غیر ضروری طور پر اس علاقے کا رخ نہ کریں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارہ گرنے کی وجوہات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں۔ فرانسیسی حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ماہرین جائے حادثہ سے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں تاکہ حادثے کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔
حادثے کے بعد مقامی انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا ہے، جبکہ ایوی ایشن حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے گی۔ -

کراچی میں شہید رینجرز اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا، دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ
کراچی میں دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے پاکستان رینجرز (سندھ) کے جوانوں کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔ حکام کے مطابق شہداء نے دہشت گردوں کے حملے کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور حملے کو ناکام بنایا۔
سرکاری بیان کے مطابق حملے کی ذمہ داری بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والی کالعدم تنظیم جماعت الاحرار پر عائد کی گئی ہے۔
نماز جنازہ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ، ڈی جی رینجرز، شہداء کے اہل خانہ، اعلیٰ سول و عسکری حکام اور دیگر شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور لواحقین سے اظہار تعزیت اور ہمدردی کیا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی کا یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس میں ملوث عناصر کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا جہاں بھی ہوں تعاقب کریں گی اور انہیں انجام تک پہنچایا جائے گا۔
گورنر سندھ نے اپنے بیان میں دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام ادارے متحد ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل کا بھرپور مقابلہ کرے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ رینجرز کے بہادر جوانوں نے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم ناکام بناتے ہوئے عظیم قربانی دی، پوری قوم ان کی بہادری کو سلام پیش کرتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت اور سیکیورٹی فورسز مل کر کام جاری رکھیں گے۔
نماز جنازہ کے بعد شہداء کے جسد خاکی ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دیے گئے، جہاں انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔ بعد ازاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گورنر سندھ کے ہمراہ دہشت گرد حملے کی جائے وقوعہ کا بھی دورہ کیا اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔ -

اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کا رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے حالیہ علاقائی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ کاجا کالاس نے اسلام آباد میں مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط تک پہنچنے میں پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کو سراہا، تاہم انہوں نے حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان رابطے اور بات چیت کے ذرائع ہر صورت کھلے رہنے چاہئیں۔
اس موقع پر اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کو مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے، اعتماد سازی اور جامع امن کے قیام کے لیے مختلف سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔
نائب وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام فریق جنگ بندی کے معاہدے کی مکمل پاسداری کریں تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کی صورتحال پر مسلسل رابطہ برقرار رکھا جائے گا اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے سفارتی تعاون جاری رکھا جائے گا۔ -

لبنان پر اسرائیلی حملے روکنا امریکا کی ذمہ داری ہے، عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت لبنان پر اسرائیلی حملے روکنا امریکا کی ذمہ داری ہے، تاہم واشنگٹن اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔
بغداد میں عراقی وزیر خارجہ فواد حسین کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ معاہدے کے مطابق امریکا پر لازم ہے کہ وہ اسرائیل کو لبنان میں فوجی کارروائیوں سے باز رکھے، لیکن اب تک اس حوالے سے مؤثر اقدامات سامنے نہیں آئے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی بحالی کی ذمہ داری صرف ایران کی ہے اور اس معاملے میں کسی بھی دوسرے فریق کی مداخلت صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے تمام متعلقہ ممالک کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے پورا خطہ متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی امن اور سلامتی کے لیے تمام ممالک کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جا سکے۔
اس موقع پر عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے کہا کہ عراق نہ تو خلیجی ممالک تک جنگ کے پھیلاؤ کی حمایت کرتا ہے اور نہ ہی ایران کے خلاف کسی جارحیت کی تائید کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے تمام فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
فواد حسین نے آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنے اور ہر قسم کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی ایشیا میں پائیدار سیکیورٹی اور استحکام کے لیے ایران سمیت تمام علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کشیدگی سے بچا جا سکے۔ -

بی بی سی اردو کی رپورٹنگ پر تنقید، دہشت گردوں کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاحات پر سوالات
بی بی سی اردو کی رپورٹنگ کے انداز پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے گئے ہیں، جہاں ناقدین نے دہشت گردی سے متعلق خبروں میں استعمال ہونے والی اصطلاحات اور زبان پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
تنقید میں کہا گیا ہے کہ یہ سوال اہم ہے کہ بی بی سی اردو دہشت گرد گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے واضح طور پر انہیں "دہشت گرد” قرار دینے کے بجائے "شدت پسند” اور "عسکریت پسند” جیسی اصطلاحات کیوں استعمال کرتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ رپورٹنگ کے دوران دہشت گردوں کے لیے بار بار احترام پر مبنی الفاظ جیسے "انہوں” اور "ان” کا استعمال بھی قابلِ غور ہے، جس سے ادارے کی اداراتی پالیسی اور خبر نویسی کے انداز پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
ناقدین کے مطابق بی بی سی نے پاک فوج کے جوانوں کیلئے شہید کی بجائے ہلاک کا لفظ استعمال کیا جوکہ پاک فوج کے احترام کے خلاف بات ہے۔
ناقدین کے مطابق دہشت گردی جیسے حساس موضوع پر میڈیا کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ حقائق کو واضح، درست اور یکساں انداز میں پیش کرے۔ ان کا مؤقف ہے کہ غیر جانبداری کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایسے معاملات میں وضاحت اور درست اصطلاحات کو نظر انداز کر دیا جائے۔
بیان میں اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ ایسے ادارے سے وابستہ پاکستانی صحافیوں کی موجودگی کے باوجود بعض اداراتی فیصلے ایسے سوالات کو جنم دیتے ہیں جو رپورٹنگ کے معیار اور ادارتی پالیسی پر بحث کو مزید تقویت دیتے ہیں۔
یہ مؤقف سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے، جہاں بعض صارفین واضح اصطلاحات کے استعمال کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ دیگر صحافتی غیر جانبداری کے اصولوں پر زور دے رہے ہیں۔