لاہور( )پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعدیہ سلفیہ کے ڈائریکٹر حافظ مسعود اظہر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ممتاز عالم دین، استاد الاساتذہ، شیخ الحدیث والتفسیر مولانا فاروق احمد راشدی کے انتقال کی خبر نے ملک کی دینی، علمی اور تعلیمی فضا کو سوگوار کر دیا ہے۔ ان کی رحلت سے علم و فضل کا ایک ایسا آفتاب غروب ہو گیا ہے جس کی روشنی سے کئی نسلیں مستفید ہوئیں۔ ان کی جدائی کا غم صرف ان کے خاندان اور شاگردوں تک ہی محدود نہیں بلکہ ملک بھر کے علما، طلبہ اور دینی حلقے اس عظیم سانحے پر اشکبار ہیں۔ دل آہوں اور سسکیوں کے ساتھ شیخ الحدیث والتفسیر کو الوداع کہہ رہا ہے، فضا سوگوار ہے اور ہر آنکھ نم ہے ۔
انھوں نے کہا کہ مولانا فاروق احمد راشدی نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، قرآن و سنت کی تعلیم اور نوجوان نسل کی تربیت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ آپ نے مسلسل چونتیس برس تک صحیح بخاری کی تدریس کا عظیم فریضہ انجام دیا اور ہزاروں طلبہ کو علمِ حدیث کی دولت سے مالا مال کیا۔ آج ملک اور بیرونِ ملک میں ان کے ہزاروں شاگرد دینی خدمات انجام دے رہے ہیں، جو درحقیقت ان کے لیے بہترین صدق جاریہ اور ان کی علمی عظمت کا زندہ ثبوت ہیں۔مولانا فاروق احمد راشدی نہ صرف ایک بلند پایہ محدث اور مفسر تھے بلکہ وہ تقوی، اخلاص، عاجزی، بردباری اور حسنِ اخلاق کا عملی نمونہ بھی تھے۔ ان کی شخصیت علم و عمل کا حسین امتزاج تھی۔ ان کی مجلس میں بیٹھنے والا ہر شخص ان کے خلوص، شفقت اور روحانی عظمت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا تھا۔ انہوں نے اپنے کردار، تدریس اور دعوت کے ذریعے بے شمار لوگوں کی زندگیاں بدل دیں اور اپنے شاگردوں کے دلوں میں محبت، ادب اور دین کی خدمت کا جذبہ پیدا کیا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی تمام دینی و علمی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین کا ساتھ نصیب فرمائے اور تمام پسماندگان، شاگردوں، متعلقین اور اہلِ محبت کو یہ عظیم صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔









