اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کے تبادلوں کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں وکلا نے احتجاج کیا ہے، جس کے باعث اس معاملے پر آئینی اور قانونی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے مظاہرے کیے گئے، جبکہ کچھ وکلا نے اس اقدام کو آئینی قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت بھی کی۔
یاد رہے کہ قائم مقام صدر مملکت یوسف رضا گیلانی نے جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ ان تبادلوں کے تحت ججز کو بالترتیب پشاور، لاہور اور سندھ ہائی کورٹ منتقل کیا گیا۔
ان تبادلوں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ بار، لاہور ہائی کورٹ بار اور پشاور بار کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ لاہور میں ہونے والے احتجاج میں سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی، جن میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن بھی شامل تھے۔
لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر بابر مرتضیٰ نے موقف اختیار کیا کہ اس وقت سپریم کورٹ میں 26 اور 27ویں آئینی ترامیم کے خلاف کیس زیر سماعت ہے، ایسے میں ججز کے تبادلے کرنا آئینی طور پر مناسب نہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے عدالتی نظام پر سوالات اٹھ سکتے ہیں اور اسے مؤخر کیا جانا چاہیے تھا۔
دوسری جانب بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت ججز کے تبادلے ممکن ہیں اور یہ ایک قانونی عمل ہے، تاہم اس پر اختلاف رائے موجود ہے۔
Blog
-

ججز تبادلوں پر وکلا سراپا احتجاج، آئینی بحث تیز
-

چین کی بڑی کامیابی، کاربن ڈائی آکسائیڈ سے طیاروں کا ایندھن تیار
چینی سائنسدانوں نے ایک اہم سائنسی پیشرفت حاصل کرتے ہوئے ایسی جدید ٹیکنالوجی تیار کی ہے جس کے ذریعے فضائی آلودگی کا باعث بننے والی گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کو طیاروں کے ایندھن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف ماحول کے تحفظ کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے بلکہ توانائی کے شعبے میں بھی ایک بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔
چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق شنگھائی ایڈوانسڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف دی چائنیز اکیڈمی آف سائنس کے ماہرین نے اس منصوبے پر تحقیق کرتے ہوئے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو براہ راست ہائیڈرو کاربن میں تبدیل کرنے کا مؤثر طریقہ دریافت کیا ہے۔ ہائیڈرو کاربن طیاروں کے ایندھن کا بنیادی جز ہوتا ہے، اس لیے یہ ٹیکنالوجی ہوابازی کے شعبے میں انقلاب لا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پانی کے ساتھ ملا کر ایک کیمیائی عمل کے ذریعے سیال ایندھن میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار سے نہ صرف نقصان دہ گیسوں میں کمی آئے گی بلکہ متبادل ایندھن کی فراہمی بھی ممکن ہو سکے گی۔
تحقیق کے نتائج معروف سائنسی جریدے ACS Catalysis میں شائع کیے گئے ہیں، جہاں اسے ایک بڑی پیشرفت قرار دیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ماضی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو مؤثر طریقے سے ایندھن میں تبدیل کرنا ایک بڑا چیلنج رہا، تاہم اب اس میں نمایاں کامیابی حاصل کر لی گئی ہے۔
ماہرین اس ٹیکنالوجی کو لیبارٹری سے نکال کر صنعتی سطح پر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اگر یہ کامیاب ہو جاتی ہے تو نہ صرف خام تیل پر انحصار کم ہوگا بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور متبادل توانائی کے ذرائع کی تلاش تیز ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں صاف توانائی کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ -

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’آبنائے ٹرمپ‘ قرار دے دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جاری کشیدگی کے دوران ایک اور متنازع قدم اٹھاتے ہوئے آبنائے ہرمز کو اپنے نام سے منسوب کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس اہم بحری گزرگاہ کا نقشہ شیئر کیا اور اسے ’آبنائے ٹرمپ‘ کا نام دیا، جس پر عالمی سطح پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان بظاہر جنگ بندی برقرار ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بیانات اور ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے اس قسم کا بیان دیا ہو۔ اس سے قبل بھی وہ ایک عوامی خطاب میں اسی اصطلاح کا استعمال کر چکے ہیں، جسے ابتدا میں بعض حلقوں نے مذاق یا غیر ارادی جملہ سمجھا، تاہم اب دوبارہ اس کا استعمال کیے جانے سے معاملہ سنجیدہ بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت، خاص طور پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اور اس سے متعلق کسی بھی قسم کا سیاسی یا متنازع بیان عالمی سطح پر اثر ڈال سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی اس پوسٹ کو بعض حلقے سیاسی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اسے غیر سنجیدہ رویہ قرار دے رہے ہیں، جو پہلے ہی کشیدہ صورتحال میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر اہم جغرافیائی مقامات اور تنازعات میں محتاط اور ذمہ دارانہ بیانات کی کتنی ضرورت ہے۔ -

ایران تنازع امریکا پر مہنگا، 25 ارب ڈالر خرچ
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اگرچہ فی الحال عارضی جنگ بندی میں داخل ہو چکی ہے، تاہم اس دو ماہ طویل تنازع نے امریکی معیشت پر بھاری مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس جنگی صورتحال کے باعث امریکا کو اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر کے اخراجات برداشت کرنا پڑے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق یہ تنازع 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شدت اختیار کر گیا تھا، جس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔ اگرچہ اس وقت کھلی جنگ بندی موجود ہے، لیکن دونوں جانب سے سخت بیانات اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔
پینٹاگون کے ایک اعلیٰ مالیاتی عہدیدار نے آرمڈ سروسز کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان اخراجات کا بڑا حصہ ہتھیاروں، گولہ بارود اور جنگی سازوسامان پر خرچ ہوا، جبکہ کچھ رقم مینٹیننس اور آلات کی تبدیلی پر بھی صرف کی گئی۔
ماہرین کے مطابق یہ اخراجات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نے مالی سال 2027 کے لیے تقریباً 1500 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کی درخواست کر رکھی ہے۔ اس تناظر میں موجودہ جنگی اخراجات دفاعی پالیسی اور بجٹ میں اضافے کے جواز کے طور پر بھی دیکھے جا رہے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس حوالے سے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت دفاعی صنعتی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہتی ہے تاکہ اسے جنگی بنیادوں پر چلنے والے نظام میں تبدیل کیا جا سکے۔ -

چین کی بڑی کامیابی، کاربن ڈائی آکسائیڈ سے طیاروں کا ایندھن تیار
چینی سائنسدانوں نے ایک اہم سائنسی پیشرفت حاصل کرتے ہوئے ایسی جدید ٹیکنالوجی تیار کی ہے جس کے ذریعے فضائی آلودگی کا باعث بننے والی گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کو طیاروں کے ایندھن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف ماحول کے تحفظ کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے بلکہ توانائی کے شعبے میں بھی ایک بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔
چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق شنگھائی ایڈوانسڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف دی چائنیز اکیڈمی آف سائنس کے ماہرین نے اس منصوبے پر تحقیق کرتے ہوئے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو براہ راست ہائیڈرو کاربن میں تبدیل کرنے کا مؤثر طریقہ دریافت کیا ہے۔ ہائیڈرو کاربن طیاروں کے ایندھن کا بنیادی جز ہوتا ہے، اس لیے یہ ٹیکنالوجی ہوابازی کے شعبے میں انقلاب لا سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پانی کے ساتھ ملا کر ایک کیمیائی عمل کے ذریعے سیال ایندھن میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار سے نہ صرف نقصان دہ گیسوں میں کمی آئے گی بلکہ متبادل ایندھن کی فراہمی بھی ممکن ہو سکے گی۔تحقیق کے نتائج معروف سائنسی جریدے ACS Catalysis میں شائع کیے گئے ہیں، جہاں اسے ایک بڑی پیشرفت قرار دیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ماضی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو مؤثر طریقے سے ایندھن میں تبدیل کرنا ایک بڑا چیلنج رہا، تاہم اب اس میں نمایاں کامیابی حاصل کر لی گئی ہے۔
ماہرین اس ٹیکنالوجی کو لیبارٹری سے نکال کر صنعتی سطح پر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اگر یہ کامیاب ہو جاتی ہے تو نہ صرف خام تیل پر انحصار کم ہوگا بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
-

یو اے ای کی علیحدگی کے باوجود اوپیک پلس متحد رہے گا،روس
روس نے کہا ہے کہ تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کا اتحاد اوپیک پلس متحد رہے گا-
روسی خبر رساں اداروں کے مطابق روس کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ یو اے ای کے اخراج کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کسی پرائس وار کا امکان نہیں کیونکہ اس وقت مارکیٹ میں پہلے ہی سپلائی کی کمی موجود ہے۔
الیگزینڈر نوواک نے انٹرفیکس خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں قیمتوں کی جنگ کی بات نہیں کی جا سکتی کیونکہ مارکیٹ میں پہلے ہی تیل کی قلت موجود ہے اس وقت صنعت ایک گہرے بحران سے گزر رہی ہے بڑی مقدار میں تیل مارکیٹ تک نہیں پہنچ رہا جبکہ طلب رسد سے کہیں زیادہ ہے، جس کے باعث شدید عدم توازن پیدا ہو گیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی اور لاجسٹک رکاوٹیں ہیں، روس 2016 میں قائم ہونے والے اوپیک پلس اتحاد کا حصہ بنا رہے گا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
واضح رہے کہ منگل کے روز متحدہ عرب امارات نے اوپیک سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا، جسے توانائی کی عالمی منڈی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی بحران شدت اختیار کر چکا ہے-
-

آبنائے ہرمز ایرانی قوم کی مزاحمت، خودمختاری اور قومی وقار کی علامت ہے،ایرانی صدر
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنی سرحدوں اور اسٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا-
خلیج فارس کے قومی دن کے موقع پر ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے یہ طاقتیں خطے میں غیر ضروری مداخلت کرکے امن کو نقصان پہنچا رہی ہیں، ایران دشمن ممالک کو اس آبی راستے میں داخل نہیں ہونے دے گا-
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز صرف ایک تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ایرانی قوم کی مزاحمت، خودمختاری اور قومی وقار کی علامت ہے اس آبی گزرگاہ کی حفاظت ایران کے لیے انتہائی قومی اہمیت کی حامل ہے اور اس سلسلےمیں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائےگی ایران اپنی سرحدوں اور اسٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔
-

اماراتی ٹیلی کام ای اینڈ (اتصالات) کا پی ٹی سی ایل سے باہر نکلنے پر غور
اماراتی ٹیلی کام جائنٹ ای اینڈ (اتصالات) پاکستان کے پی ٹی سی ایل سے باہر نکلنے پر غور کر رہا ہے-
متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کام کمپنی ‘ای اینڈ’ (اتصالات) نے 2005ء میں پی ٹی سی ایل (PTCL) کی نجکاری کے وقت سے جاری بقایا جات ($800 ملین سے زائد) اور جائیدادوں کی منتقلی کے دیرینہ تنازع کے باعث پاکستان سے باہر نکلنے پر غور کیا ہے، تاہم، حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور پی ٹی سی ایل نے حال ہی میں ٹیلی نار پاکستان کا انتظام بھی سنبھال لیا ہے۔
جمعرات کو گردش کرنے والی رپورٹس کے مطابق، اماراتی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ای اینڈ (سابقہ اتصالات) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) میں اپنی سرمایہ کاری اور انتظامی کردار کا جائزہ لے رہی ہے ابتدائی طور پر بیان کیا گیا ہے، جس میں تقسیم، تنظیم نو، یا اخراج کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ پی ٹی سی ایل انتظامیہ نے اشارہ کیا ہے کہ وہ حصص یافتگان کی کسی بھی آنے والی تبدیلی سے لاعلم ہے اور اپنے کاروباری منصوبوں کو آگے بڑھانا جاری رکھے ہوئے ہے، بشمول 5G رول آؤٹ کی تیاری۔
اس پیشرفت نے 2005-2006 کی نجکاری سے متعلق ایک طویل عرصے سے مالیاتی اختلاف کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے اتصالات نے 2005 میں $2.6 بلین میں پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص خریدے تھے، لیکن جائیدادوں کی ملکیت منتقل نہ ہونے پر 800 ملین ڈالر کی بقیہ ادائیگی روک رکھی ہے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اس بقایا رقم کو بڑھ کر 6 ارب ڈالر تک پہنچنے کی اطلاع دی ہے، جبکہ حکومتِ پاکستان اور اتصالات کے حکام دبئی میں اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں اس تمام صورتحال کے باوجود، پی ٹی سی ایل نے 1 جنوری 2026ء کو ٹیلی نار پاکستان (Telenor Pakistan) اور اوریون ٹاورز کے 100% حصص کی خریداری مکمل کر لی ہے۔
واضح رہے کہ ای اینڈ (اتصالات) اور پاکستان کے درمیان یہ تنازعہ تقریباً دو دہائیوں سے جاری ہے،کئی سالوں میں ہونے والی بات چیت نے متنازعہ اثاثوں کی قیمتوں کا تعین اور حوالے کرنے پر توجہ دی ہے، رپورٹس کے مطابق 34 اور 100 سے زائد جائیدادیں ابھی بھی تنازعہ میں ہیں۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور اتصالات کی قیادت کے درمیان جنوری 2026 میں دبئی میں ہونے والی ملاقات سمیت اعلیٰ سطحی مذاکرات نے اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کی، تاہم یہ مسئلہ مکمل تصفیے کے بغیر برقرار ہے کچھ تخمینے، ممکنہ دلچسپی یا ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے، متنازعہ رقم کو نمایاں طور پر زیادہ رکھتے ہیں، حالانکہ دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعلقات کے تحفظ کے لیے رسمی قانونی چارہ جوئی پر بات چیت کی حمایت کی ہے۔
-

آبنائے ہرمز میں نیا باب شروع ہو رہا ہے،ایرانی سپریم لیڈر
ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں نیا باب شروع ہو رہا ہے، امریکا کی ناکامی کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں نئی صورتحال سامنے آ رہی ہے-
ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنےنئے پیغام میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں نیا باب شروع ہو رہا ہے، امریکا کی ناکامی کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں نئی صورتحال سامنے آ رہی ہے، دو ماہ کی کشیدگی اور امریکی منصوبے کی ناکامی کے بعد خطے میں نیا مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ اسٹریٹیجک اثاثہ ہرمز صدیوں سے کئی شیطانی طاقتوں کی لالچ کو ابھارتا رہا ہے، خلیج فارس نہ صرف اقوام کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے بلکہ آبنائے ہرمز اور بحیرۂ عمان کے ذریعے عالمی معیشت کے لیے ایک اہم اور منفرد راستہ بھی فراہم کرتی ہے، ہرمز محض ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ ایک ایسی نعمت ہے جس نے ہماری شناخت اور تہذیب کا حصہ تشکیل دیا ہے۔
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ خلیج فارس مسلم اقوام، بالخصوص اسلامی ایران کے عوام کے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک بے مثال نعمت ہے، اسلامی انقلاب خطے میں “مغرور طاقتوں” کے اثر و رسوخ کے خاتمے کا اہم موڑ تھا، ایران کی خلیج فارس کے ساتھ سب سے طویل ساحلی پٹی ہے، ایرانی قوم نے خطے کی آزادی اور غیر ملکی مداخلت کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔
-

وزیر اعلیٰ پنجاب کا کچہ کے لیے ’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘ پیکیج کا اعلان
ر وزیراعلیٰ نے ’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘ پروگرام شروع کرنے کا اعلان بھی کیا اور ہدایت کی کہ کچہ ایریا کے لوگوں کو 14 ہزار 500 ایکڑ سرکاری اراضی فراہم کی جائے تاکہ وہ زراعت کے ذریعے روزگار حاصل کر سکیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کچہ ایریا کی ترقی، امن و امان اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے 23 ارب روپے کے بڑے پیکیج کا اعلان کر دیا، جس میں انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور سیکیورٹی کے متعدد منصوبے شامل ہیں انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ کچہ کے علاقے میں گزشتہ 5 ماہ کے دوران کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا اور تاریخ میں پہلی بار حکومت کی رٹ مؤثر انداز میں قائم ہوئی ہے۔
اعلان کردہ پیکیج کے تحت 23 ارب روپے کی لاگت سے اسکول، اسپتال، سڑکیں اور پل تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ امن و امان کے قیام کے لیے 7.1 ارب روپے، سوشل انفراسٹرکچر کے لیے 13.9 ارب اور دیگر منصوبوں کے لیے 1.7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کچہ ایریا میں ٹرانسپورٹ سہولیات، کلینک آن ویلز، موبائل وٹرنری اسپتال اور لیبارٹریز فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی اس کے ساتھ ساتھ جدید سولر انرجی سے چلنے والے ڈرونز کے ذریعے 24 گھنٹے نگرانی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جبکہ پولیس گاڑیوں اور چیک پوسٹوں کو بھی سیف سٹی کیمر وں سے منسلک کیا جائے گا۔
تعلیمی شعبے میں 65 سکولوں کی تعمیر و بحالی، 16 نئے اسکولوں اور 2 گرلز کالجز کے قیام کی منظوری دی گئی ہے اس کے علاوہ 6551 طالبات کو اسکول میل ملک پیک، 300 طلبہ کو ہونہار اسکالرشپس اور 300 کو لیپ ٹاپ فراہم کیے جائیں گے انفراسٹرکچر کے حوالے سے 108 کلومیٹر سولنگ اور 144 کلومیٹر سڑکوں پر مشتمل 27 منصوبے مکمل کیے جائیں گے، جبکہ مثالی گاؤں منصوبہ، سیوریج، ڈرینج اور سپورٹس پراجیکٹس بھی شروع کیے جائیں گے، مزید برآں 125 ملین روپے کی لاگت سے اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام بھی شروع کیا جائے گا۔
کچہ ایریا میں نادرا رجسٹریشن کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ شہریوں کو کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور ب فارم کے اجرا میں آسانی ہو،سیکیورٹی اقدامات کے تحت ناجائز اسلحہ کی واپسی کے لیے خصوصی پلان تیار کیا گیا ہے، جس میں اسلحہ جمع کرانے والوں کو اس کی نوعیت کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا اور اس عمل کی ڈیجیٹل نگرانی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے کچہ کی مرکزی سڑکوں کے اطراف لمبی فصلوں کی کاشت پر پابندی بھی عائد کر دی تاکہ سیکیورٹی خدشات کو کم کیا جا سکے مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ کچہ کے عوام کو بھی پنجاب کے دیگر علاقوں کی طرح ترقی اور خوشحالی کا حق حاصل ہے انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ کچہ ایریا کو ایک محفوظ، مثالی اور ترقی یافتہ خطہ بنایا جائے گا جہاں کے لوگ باعزت روزگار حاصل کر سکیں گے۔