Baaghi TV

Blog

  • کرینہ کپور کا بہن کے بچوں کے حق میں فیصلہ آنے پر ردِعمل

    کرینہ کپور کا بہن کے بچوں کے حق میں فیصلہ آنے پر ردِعمل

    بھارتی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ کرینہ کپور نے اپنی بہن کرشمہ کپور کے بچوں کو مرحوم تاجر سنجے کپور کی وراثت سے متعلق جاری تنازع میں عبوری ریلیف ملنے پر اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق دہلی ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد، کرینہ کپور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک اسٹوری شیئر کی، جس میں انہوں نے لکھا “اور روشنی آگئی۔ انصاف اور سچائی ہمیشہ غالب رہتی ہے… چڑھدی کلا۔”

    اگرچہ اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں براہِ راست کیس یا عدالتی فیصلے کا ذکر نہیں کیا، تاہم مبصرین کے مطابق یہ پیغام واضح طور پر ان کی بھانجی اور بھانجے کی حمایت میں دیا گیا ہے، جو اس وقت وراثتی تنازع میں فریق ہیں۔
    یاد رہے کہ سنجے کپور کے انتقال کے بعد ان کی جائیداد سے متعلق خاندانی تنازع شدت اختیار کر گیا تھا، جس میں مختلف فریقین کی جانب سے قانونی دعوے دائر کیے گئے۔ عدالت کی جانب سے حالیہ عبوری حکم کو اس کیس میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔شوبز حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کرینہ کپور کے اس بیان کو خاندان کے ساتھ یکجہتی اور انصاف کی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • دہلی ہائی کورٹ کا سنجے کپور کے اثاثوں کو محفوظ کرنے کا حکم

    دہلی ہائی کورٹ کا سنجے کپور کے اثاثوں کو محفوظ کرنے کا حکم

    دہلی ہائیکورٹ نے معروف تاجرسنجے کپور کی تقریباً 30 ہزار کروڑ روپے مالیت کی جائیداد کے معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے تمام اثاثوں کو محفوظ رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔

    یہ حکم سنجے کپور کی تیسری اہلیہ پریا سچدیوا کپور اور انکی دوسری شادی سے ہونے والے بچوں کیان اور سمیرا کپور اور کے درمیان شدید خاندانی تنازع کے پس منظر میں جاری کیا گیا ہے۔بچوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ پریا کپور نے سنجے کپور کی وصیت میں جعلسازی کی اور عدالت میں جمع کروائی گئی اثاثوں کی فہرست نامکمل ہے۔ الزام ہے کہ اس فہرست میں مہنگے پولو گھوڑے، قیمتی گھڑیاں (جیسے رولیکس) اور دیگر بیش قیمت اشیاء شامل نہیں کی گئیں۔مزید برآں، بچوں کا کہنا ہے کہ کئی غیر منقولہ جائیدادیں اور قیمتی فن پارے بھی چھپائے گئے ہیں، جو دراصل کپور خاندان کے بڑے اثاثوں کا حصہ ہیں۔

    عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ سنجے کپور کے اثاثے “محفوظ رکھنا ضروری ہے اور انہیں فروخت یا ضائع نہیں کیا جا سکتا”۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے پریا کپور کو اثاثے فروخت کرنے سے روک دیا اور ان کے بینک اکاؤنٹس کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی۔عدالت نے مزید کہا کہ وصیت سے متعلق شکوک و شبہات دور کرنے کی ذمہ داری پریا کپور پر عائد ہوتی ہے۔ اگر بعد میں وصیت جعلی ثابت ہوئی تو کارروائی نہ کرنا “ناانصافی” ہوگا۔

    یہ معاملہ صرف بیوی اور بچوں تک محدود نہیں بلکہ سنجے کپور کی والدہ رانی کپور اور بہن بھی اس تنازع کا حصہ ہیں، جس کے دوران سخت بیانات اور الزامات سامنے آ چکے ہیں۔گزشتہ سال نومبر میں بچوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں “امیر اولیور ٹوئسٹ” قرار دیا گیا تھا، جو مزید دولت چاہتے ہیں۔

    53 سالہ سنجے کپور گزشتہ سال 12 جون کو لندن میں پولو کھیلتے ہوئے انتقال کر گئے تھے۔ ابتدائی طور پر موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی، تاہم بعد میں برطانوی طبی حکام نے تصدیق کی کہ ان کی موت قدرتی وجوہات دل کی بیماری کے باعث ہوئی۔یہ کیس اب ایک بڑے قانونی اور خاندانی تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس پر آئندہ سماعتوں میں مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔

  • خاتون بینکر کی مرد ملازم کے ساتھ زیادتی،اپنی قمیض خود اتاری اور پھر…مقدمہ درج

    خاتون بینکر کی مرد ملازم کے ساتھ زیادتی،اپنی قمیض خود اتاری اور پھر…مقدمہ درج

    جے پی مورگن چیز کی لیوریجڈ فنانس ڈویژن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر لورنا ہجدینی کے خلاف ایک جونیئر مرد ملازم نے جنسی استحصال، نسلی ہراسانی اور پیشہ ورانہ دباؤ کے الزامات عائد کر دیے ہیں۔ یہ مقدمہ 27 اپریل کو دائر کیا گیا۔

    مقدمے میں متاثرہ شخص، جسے “جان ڈو” کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے، نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ واقعات 2024 کے موسمِ بہار میں اس وقت شروع ہوئے جب وہ اور ملزمہ ایک ساتھ کام کرنے لگے۔ شکایت کے مطابق خاتون عہدیدار نے نہ صرف نامناسب جسمانی حرکات کیں بلکہ نسلی جملے بھی کہے اور مبینہ طور پر کیریئر تباہ کرنے کی دھمکیاں دیں۔مقدمے کے مطابق، شادی شدہ بینکر کو "براؤن بوائے انڈین” کہہ کر پکارا جاتا تھا، اور ہجدینی پر الزام ہے کہ انہوں نے اسے نشہ آور دوا دی اور جب اس نے "بغیر رضامندی اور تضحیک آمیز جنسی اعمال” سے انکار کیا تو اس کے کیریئر کو تباہ کرنے کی دھمکی دی۔

    مقدمے میں متاثرہ شخص نے بیان دیا کہ یہ بدسلوکی 2024 کے موسمِ بہار میں شروع ہوئی جب دونوں نے ایک ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ ایک واقعے میں، جیسا کہ ڈیلی میل نے رپورٹ کیا، ہجدینی نے اپنا قلم جان بوجھ کر فرش پر گرا دیا جو ڈو کی میز کے قریب تھا۔ جب وہ اسے اٹھانے کے لیے جھکیں تو انہوں نے متاثرہ شخص کی ٹانگ کو چھوا اور پنڈلی کو دبایا، اور کہا "اوہ، تم نے کالج میں باسکٹ بال کھیلی ہے؟ مجھے باسکٹ بال کھلاڑی بہت پسند ہیں۔”اس کے بعد معاملات مزید سنگین ہو گئے۔ ہجدینی نے ڈو کو مشروبات کے لیے مدعو کیا اور انکار پر مبینہ طور پر دھمکی دی "اگر تم نے جلد میرے ساتھ تعلق قائم نہ کیا تو میں تمہیں برباد کر دوں گی، یاد رکھو، تم میرے کنٹرول میں ہو۔”

    مقدمے میں مزید کہا گیا کہ ستمبر 2024 میں بھی ہجدینی نے ڈو کو جنسی تعلق قائم نہ کرنے پر دھمکیاں دیں اور اس کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو بھی نشانہ بنایا۔انہوں نے مبینہ طور پر کہا "میں تمہیں قیمت چکانے پر مجبور کر دوں گی۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر تم میرے ساتھ نہیں ہوگے تو تمہاری پوزیشن محفوظ رہے گی؟ کیا تمہیں لگتا ہے کہ انتظامیہ کسی براؤن بوائے انڈین کو لیڈرشپ میں دیکھنا چاہتی ہے؟ اگر تم نے آج رات میری بات نہ مانی تو میں تمہاری ترقی روک دوں گی۔”مقدمے کے مطابق، خوف کے باعث ڈو نے بالآخر ہجدینی کے دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، تاہم اس کے ابتدائی احتجاج کو ساتھ والے کمرے میں موجود ایک گواہ نے سن لیا تھا۔

    بعد ازاں ہجدینی نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ انہوں نے ڈو کو Rohypnol (جسے عام طور پر "روفیز” کہا جاتا ہے) اور ایک ایسی دوا دی جو جسمانی کارکردگی بڑھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے، تاکہ وہ زبردستی کیے گئے جنسی عمل میں شریک ہو سکے۔ایک اور واقعے میں، ہجدینی مبینہ طور پر متاثرہ شخص کے اپارٹمنٹ پہنچیں اور نامناسب حرکات شروع کر دیں۔ انہوں نے اپنی قمیص اتاری، خود کو چھونا شروع کیا اور ڈو کی بیوی کے بارے میں نسلی توہین آمیز جملے کہے۔کہا کہ میں شرط لگاتی ہوں کہ تمہاری چھوٹی ایشیائی، مچھلی کا سر، بیوی کے پاس یہ توپیں نہیں ہیں۔”اس نے زبردستی ڈو کی پتلون اتار دی اور اس کی مرضی کے خلاف اس پر جنسی عمل کیا،متاثرہ شخص رونے لگا، لیکن ہجدینی نے اسے ڈانٹا۔

    مئی 2025 میں، ڈو نے باضابطہ شکایت درج کروائی جس میں نسلی و صنفی امتیاز، ہراسانی اور شدید جنسی استحصال کا ذکر کیا گیا۔ تاہم بینک نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات میں ان دعوؤں کی تائید کے لیے کوئی ثبوت نہیں ملا۔بینک کے ترجمان کے مطابق "تحقیقات کے بعد ہمیں ان الزامات میں کوئی حقیقت نظر نہیں آئی۔ متعدد ملازمین نے تعاون کیا، لیکن شکایت کنندہ نے خود تحقیقات میں حصہ لینے سے انکار کیا اور ایسے شواہد فراہم نہیں کیے جو اس کے دعووں کی بنیاد بن سکیں۔”ڈو کے وکیل، ڈینیئل جے کائزر نے کہا کہ ان کے مؤکل کو ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر شدید نقصان پہنچا ہے اور وہ انصاف کے حصول کے لیے قانونی جنگ جاری رکھیں گے۔

    دوسری جانب، لورنا ہجدینی تاحال اپنے عہدے پر برقرار ہیں، جبکہ کیس کی مزید سماعت عدالت میں جاری ہے۔ لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق، لورنا ہاجدینی گزشتہ تقریباً 15 برس سے جے پی مورگن چیز سے وابستہ ہیں اور انہوں نے فنانس اور شماریات میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

  • لندن میں حملے کے بعد یہودی کمیونٹی میں غم و غصہ

    لندن میں حملے کے بعد یہودی کمیونٹی میں غم و غصہ

    لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں حالیہ چاقو حملے کے بعد برطانیہ میں یہودی کمیونٹی نے غیرمعمولی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم اس کے ساتھ شدید غم و غصہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق کمیونٹی کے بعض افراد نے حکومت، خصوصاً وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر پر سخت تنقید کی ہے۔

    حکام نے ملک میں دہشتگردی کے خطرے کی سطح کو “سبسٹینشل” سے بڑھا کر “سیویئر” کر دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ آئندہ مہینوں میں حملے کا امکان زیادہ ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ صرف ایک واقعے کی بنیاد پر نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے مجموعی خطرات کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔انسداد دہشتگردی پولیس کے سربراہ نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطرات شدت پسند گروہوں اور انفرادی عناصر کی جانب سے بڑھ رہے ہیں، جن میں دائیں بازو اور اسلامسٹ دونوں شامل ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق یہودی کمیونٹی نے ایک طرف غیرمعمولی حوصلے کا مظاہرہ کیا، جبکہ دوسری جانب حکومت کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ متعدد افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے صرف بیانات دیے جا رہے ہیں، عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ایک متاثرہ شخص نے اسپتال سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ زمینی حقائق کو نظر انداز نہ کریں اور فوری عملی اقدامات کریں۔واقعے کے بعد لندن میں مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔ ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر مظاہرین نے حکومت سے یہود دشمنی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب گولڈرز گرین میں 100 سے زائد مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین نے یکجہتی واک میں شرکت کی، جس کا مقصد یہودی کمیونٹی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی تھا۔

    اسی دوران شمالی لندن کے علاقے اسٹیمفورڈ ہل میں ایک مکان میں آگ لگنے کا واقعہ بھی پیش آیا، تاہم فائر بریگیڈ کے مطابق ابتدائی طور پر یہ واقعہ مشکوک نہیں لگتا۔ پولیس نے کہا ہے کہ وہ تمام پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔

    برطانوی حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ یہود دشمنی کے خلاف واضح اور فوری اقدامات کرے۔ مختلف تنظیموں کا کہنا ہے کہ اب محض بیانات کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

  • خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ کا "مسلم ریسکیو مشن” کے قیام کا اعلان

    خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ کا "مسلم ریسکیو مشن” کے قیام کا اعلان

    چیئرمین شعبہ خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ چوہدری شفیق الرحمان وڑائچ کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا،اجلاس میں شعبہ ریسکیو کو قومی سطح پر مزید منظم و فعال بنانے کیلئے "مسلم ریسکیو مشن” کے قیام کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا، ماہر ریسکیو و ٹرینر ابرار وحید مسلم ریسکیو مشن کے انچارج مقررکر دیئے گئے

    خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ کے اجلاس میں ملک بھر سے ضلعی ذمہ داران نے شرکت کی، اجلاس میں مسلم ریسکیو مشن کے تحت ملک بھر میں ریسکیو یونٹس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ واٹر، فائر، روڈ سمیت دیگر ریسکیو یونٹس قائم کئے جائیں گے ،چئرمین خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ چوہدری شفیق الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم نوجوانوں کو جدید ریسکیو تربیت فراہم کریں گے، ہر ضلع میں تربیت یافتہ ایمرجنسی رسپانس ٹیم تشکیل دیں گے،ملک بھر میں عوام کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کی عملی تربیت دیں گے،مسلم ریسکیو مشن کے تحت کمیونٹی لیول پر سیفٹی اور ریسکیو تربیت دی جائے گی،مسلم ریسکیو مشن کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا قدرتی آفات اور حادثات میں شعبہ خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار فوری رسپانس یقینی بنائیں گے.

  • 
ملک بھر میں نئے گیس کنکشنز پر دوبارہ پابندی عائد

    
ملک بھر میں نئے گیس کنکشنز پر دوبارہ پابندی عائد

    ملک بھر میں گیس کے نئے کنکشنز کی فراہمی پر ایک بار پھر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کا اطلاق گھریلو اور کمرشل دونوں صارفین پر ہوگا۔ وزارتِ پیٹرولیم کے ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ بڑھتے ہوئے مالی دباؤ اور مہنگی درآمدی گیس کے باعث کیا گیا ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں نئے کنکشنز آر ایل این جی پر فراہم کیے جا رہے تھے، جو عام گیس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی ہے۔ اس کے نتیجے میں صارفین کو گیس کے بل چار گنا تک زیادہ ادا کرنا پڑ رہے تھے، جس سے عوامی سطح پر بھی شکایات میں اضافہ ہوا۔
    ‎یاد رہے کہ حکومت نے چند ماہ قبل ہی نئے گیس کنکشنز پر عائد پابندی ختم کی تھی، تاہم اب دوبارہ پابندی عائد کیے جانے سے شہریوں اور کاروباری حلقوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق نئے کنکشن کے حصول کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا تھا۔ ڈیمانڈ نوٹس کی فیس 6500 روپے سے بڑھا کر 23500 روپے کر دی گئی تھی، جبکہ ترجیحی بنیادوں پر کنکشن لینے والے صارفین سے مزید 25000 روپے اضافی وصول کیے جا رہے تھے۔ اس طرح ایک نئے آر ایل این جی کنکشن کے لیے مجموعی لاگت تقریباً 50 ہزار روپے تک پہنچ گئی تھی۔

  • حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا

    حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا

    ‎وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت پیٹرول اور ڈیزل دونوں مہنگے کر دیے گئے ہیں۔ اس فیصلے سے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 51 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔ اس سے قبل پیٹرول 393 روپے 35 پیسے فی لیٹر دستیاب تھا۔
    ‎اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ پہلے ڈیزل کی قیمت 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر تھی۔
    ‎حکومت کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا، جس کے بعد صارفین کو بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں زیادہ اضافے کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ، زراعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • 
واٹس ایپ گروپ ایڈمنز کیلئے سخت وارننگ، شیئرنگ پر قانونی خطرہ

    
واٹس ایپ گروپ ایڈمنز کیلئے سخت وارننگ، شیئرنگ پر قانونی خطرہ

    ‎متحدہ عرب امارات میں واٹس ایپ استعمال کرنے والے افراد، خصوصاً گروپ ایڈمنز کو خبردار کیا گیا ہے کہ گروپس میں شیئر کیا جانے والا مواد ان کے لیے قانونی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس پر ہونے والی گفتگو کو مکمل طور پر نجی تصور کرنا ایک بڑی غلط فہمی ہے، کیونکہ قانون کے تحت ایسے پیغامات کو باقاعدہ اشاعت سمجھا جا سکتا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی پیغام کو آگے بھیجنا یا شیئر کرنا بھی سائبر کرائم قوانین کے تحت جرم بن سکتا ہے، خاص طور پر اگر وہ مواد گمراہ کن، توہین آمیز یا کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والا ہو۔ اس کے علاوہ بغیر اجازت کسی کی ذاتی گفتگو یا اسکرین شاٹس شیئر کرنا بھی سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
    ‎قانونی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اکثر صارفین یہ سمجھتے ہیں کہ پرائیویٹ گروپس محفوظ ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں حکام ان پیغامات کو بھی قانونی طور پر ذمہ دارانہ اشاعت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک سادہ سا فارورڈ بھی کسی فرد کو قانونی گرفت میں لا سکتا ہے۔
    ‎اماراتی سائبر کرائم قانون کے تحت نہ صرف وہ شخص ذمہ دار ہو سکتا ہے جو مواد تخلیق کرے بلکہ وہ افراد بھی برابر کے ذمہ دار سمجھے جا سکتے ہیں جو اسے آگے پھیلاتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی گروپ ایڈمن غیر قانونی مواد کو جاننے کے باوجود گروپ میں رہنے دیتا ہے تو وہ بھی قانونی کارروائی کی زد میں آ سکتا ہے۔
    ‎قانون کے مطابق ایسے جرائم پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں، جو ڈھائی لاکھ درہم سے لے کر پانچ لاکھ درہم یا اس سے زائد تک ہو سکتے ہیں، جبکہ سنگین صورتوں میں قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

  • 
حزب اللہ کا ڈرون حملہ، اسرائیلی فوج کے 12 اہلکار زخمی

    
حزب اللہ کا ڈرون حملہ، اسرائیلی فوج کے 12 اہلکار زخمی

    ‎اسرائیلی فوج کے مطابق شمالی اسرائیل میں شومیرہ کے قریب ایک فوجی پوزیشن پر حزب اللہ کے ڈرون حملے کے نتیجے میں 12 اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔ فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان کی جانب سے داغا گیا ڈرون ایک فوجی کارگو گاڑی سے ٹکرا گیا، جس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور قریب موجود گولہ بارود پھٹنے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔
    ‎ذرائع کے مطابق متاثرہ گاڑی M548 ماڈل کی تھی جسے اسرائیلی فوج میں ’الفا‘ کہا جاتا ہے اور یہ توپ خانے کے لیے گولہ بارود کی ترسیل میں استعمال ہوتی ہے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی اور زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔
    ‎اسرائیلی فوج نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا حملے میں استعمال ہونے والا ڈرون فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کے ڈرونز الیکٹرانک جیمنگ سے محفوظ رہتے ہیں، جس کے باعث انہیں روکنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتوں میں حزب اللہ نے جنوبی لبنان کے علاقوں سے اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے اسی نوعیت کے جدید ڈرونز کا استعمال بڑھا دیا ہے۔ اس سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

  • 
ایران معاہدہ جوہری پروگرام ترک کرنے سے مشروط، ٹرمپ

    
ایران معاہدہ جوہری پروگرام ترک کرنے سے مشروط، ٹرمپ

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو مکمل طور پر ترک کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اپنی قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ایران کو اس حوالے سے واضح یقین دہانی کرانا ہوگی۔
    ‎ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ٹیلی فون کے ذریعے بات چیت جاری ہے۔ ان کے مطابق یہ رابطے اس بات کا اشارہ ہیں کہ سفارتی راستہ اب بھی کھلا ہے، تاہم کسی پیش رفت کے لیے ایران کو اپنے مؤقف میں نرمی لانا ہوگی۔
    ‎امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ کو بند کرنا ایران پر دباؤ بڑھانے کا ایک مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے۔ ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر تشویش کو بڑھا دیا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔
    ‎ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کو حقیقت تسلیم کرتے ہوئے اپنی پوزیشن پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کے لیے بہتر یہی ہوگا کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
    ‎دوسری جانب ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ رہی ہے اور ممکنہ تنازع کے خدشات دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے بیانات خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔