Baaghi TV

قومی لباس ہماری پہچان ،تحریر:عمارہ کنول چودھری

کسی بھی قوم کی پہچان اس کی زبان، ثقافت اور لباس سے ہوتی ہے۔ یہی عناصر اس کے تشخص کو زندہ رکھتے اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔ بطور بانیٔ تحریک میرا مقصد یہی ہے کہ ہم اپنی قوم کو اس کی اصل شناخت سے جوڑیں اور زبان و قومی لباس کے فروغ کو اپنی اجتماعی ذمہ داری بنائیں۔
زبان صرف اظہارِ خیال کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب و تاریخ کی امین ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنی زبان سے دور ہوتی ہے تو وہ اپنی جڑوں سے کٹنے لگتی ہے۔ ہماری تحریک اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ قومی زبان کو تعلیم، ابلاغ اور روزمرہ زندگی میں نمایاں مقام دیا جائے تاکہ نوجوان نسل اپنی ثقافت پر فخر محسوس کرے۔ ہمیں چاہیے کہ گھروں، تعلیمی اداروں اور سماجی تقریبات میں اپنی زبان کو ترجیح دیں اور اسے ترقی کے سفر میں ساتھ لے کر چلیں۔

اسی طرح قومی لباس ہماری روایت، سادگی اور اقدار کی علامت ہے۔ بدلتے ہوئے رحجانات کے دور میں اپنی روایتی پوشاک کو نظرانداز کرنا دراصل اپنی پہچان کو کمزور کرنا ہے۔ ہمارا پیغام یہ نہیں کہ ہم جدیدیت سے منہ موڑ لیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنی روایات کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ قومی لباس کو فخر اور وقار کے ساتھ اپنانا ہماری ثقافتی بقا کی ضمانت ہے۔
ہماری تحریک کا عزم ہے کہ تقریبات ،سماجی ذرائع ابلاغ ،ثقافتی میلوں اور آگاہی مہمات کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کیا جائے۔ ہم نوجوانوں کو اس کارِ خیر میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ زبان و ثقافت کا چراغ روشن رہے۔
آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی قوم کی زبان اور قومی لباس کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ جو قوم اپنی پہچان کو سنبھال کر رکھتی ہے، وہی دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ زندہ رہتی ہے۔
تحریک صرف قومی زبان کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ عملی طور پر فروغِ اردو کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جس کے تحت تحریک کے زیر اہتمام تربیتی نشستوں اور کارگاہوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ لکھاریوں کے لیے ایک روزہ تربیتی نشست ( رموزِ اوقاف) دس روزہ ( اصنافِ ادب )تیس روزہ ، شاعرات کے لیے ( علمِ عروض) خواتین اہلِ قلم کے لیے چالیس روزہ (تزئین کارگاہ) اور اس نوعیت کی دیگر سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے تا کہ اردو زبان کو فروغ دیا جائے۔

تحریک میں موجود طالبات کی مدد اور آسانی کے لیے تعلیمی، علمی ،ادبی مواد کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے اور رومن رسم الخط کے متعلق آگاہی دی جاتی ہے کیونکہ قومی زبان دنیا بھر میں ہماری شناخت ہے، اور جو قومیں اپنی زبان کو عزت دیتی ہیں، دُنیا ان کو عِزت دیتی ہے۔

More posts