Baaghi TV

Blog

  • 
والدین بھی آرام سے دیکھ سکیں، اسی طرح کے مناظر کا انتخاب کرتی ہوں: حنا طارق

    
والدین بھی آرام سے دیکھ سکیں، اسی طرح کے مناظر کا انتخاب کرتی ہوں: حنا طارق

    ‎پاکستانی اداکارہ حنا طارق کا کہنا ہے کہ وہ شوبز میں ہر کام سوچ سمجھ کر کرتی ہیں اور شوٹنگ کے دوران ایسے مناظر کو ترجیح دیتی ہیں جو ان کے والدین بھی اطمینان سے بیٹھ کر دیکھ سکیں۔
    ‎حنا طارق نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی پروگرام میں شرکت کے دوران اپنے کیریئر، کرداروں اور لباس کے انتخاب سے متعلق کھل کر گفتگو کی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایک اداکار کی زندگی صرف شوبز تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کی ایک ذاتی زندگی بھی ہوتی ہے، اور ہر اداکار کو ایک نہ ایک دن شادی بھی کرنی ہوتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت وہ اپنے ہر فیصلے میں احتیاط برتتی ہیں۔
    ‎اداکارہ کا کہنا تھا کہ ایک عورت معاشرے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور تین نسلیں ایک عورت سے وابستہ ہوتی ہیں، اسی لیے وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بھی ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھاتی ہیں۔
    ‎حنا طارق نے کہا کہ وہ اپنے لباس کا انتخاب بھی انتہائی احتیاط سے کرتی ہیں، جبکہ شوٹنگ کے دوران بھی ایسے مناظر کو ترجیح دیتی ہیں جو ان کے اہلِ خانہ، خصوصاً والدین، بلا جھجھک دیکھ سکیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں بہت زیادہ بولڈ مناظر نہیں دکھائے جاتے، تاہم وہ اس معاملے میں خاصی محتاط رہتی ہیں۔ اگر کسی کردار یا منظر سے متعلق انہیں اطمینان نہ ہو تو وہ بلا جھجھک ڈائریکٹر کو انکار کر دیتی ہیں۔

  • 
ناروے کی کراؤن پرنسس کے بیٹے کو زیادتی اور تشدد کے مقدمات میں 4 سال قید

    
ناروے کی کراؤن پرنسس کے بیٹے کو زیادتی اور تشدد کے مقدمات میں 4 سال قید

    ‎ناروے کی ایک عدالت نے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ ماریئس بورگ ہوبی کو متعدد سنگین جرائم میں مجرم قرار دیتے ہوئے چار سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
    ‎اوسلو ڈسٹرکٹ کورٹ نے 128 صفحات پر مشتمل متفقہ فیصلے میں ماریئس بورگ ہوبی کو اپنی سابق گرل فرینڈ نورا ہوکلینڈ کے خلاف جبری زیادتی، طویل عرصے تک جسمانی و نفسیاتی تشدد، بدسلوکی، دھمکیوں، ہراسانی، متعدد ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں اور منشیات سے متعلق جرائم کا مرتکب قرار دیا۔
    ‎عدالت نے ان کے خلاف عائد چار ریپ الزامات میں سے دو میں بری کر دیا۔ 2023 میں لوفوٹین میں پیش آنے والے مبینہ ریپ کیس میں عدالت نے قرار دیا کہ شواہد الزام کو بلا شبہ ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہیں، اگرچہ خاتون کے بیان پر عدالت کو شک نہیں تھا۔ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے اسمارٹ واچ کے پلس ڈیٹا کو بھی فیصلہ کن ثبوت نہیں مانا گیا۔ تاہم خاتون کی رضامندی کے بغیر ویڈیو بنانے کے جرم میں انہیں قصوروار قرار دیا گیا کیونکہ متعلقہ ویڈیو ان کے موبائل فون سے برآمد ہوئی تھی۔
    ‎عدالت نے انہیں 2024 میں اوسلو کے ایک ہوٹل میں پیش آنے والے ایک اور مبینہ ریپ کیس سے بھی بری کر دیا، تاہم دسمبر 2018 میں سکاؤگم میں پیش آنے والے ایک جنسی جرم اور ایسٹر 2024 کے دوران ایک بعد از پارٹی سے متعلق دوسرے جنسی جرم میں مجرم قرار دیا۔
    ‎فیصلے کے مطابق ماریئس بورگ ہوبی مختلف متاثرہ خواتین کو لاکھوں ناروین کرونر ہرجانے کی ادائیگی بھی کریں گے۔ نورا ہوکلینڈ کو 100,000 کرونر، سکاؤگم کیس کی متاثرہ خاتون کو 230,000 کرونر، بعد از پارٹی کیس کی متاثرہ خاتون کو 200,000 کرونر اور فروگنر سے تعلق رکھنے والی خاتون کو 110,000 کرونر ادا کیے جائیں گے۔
    ‎عدالت نے فروگنر خاتون کے حق میں دو سالہ پابندی کا حکم بھی جاری کیا ہے، جس کے تحت ماریئس بورگ ہوبی ان سے کسی بھی قسم کا رابطہ نہیں کر سکیں گے۔
    ‎یہ مقدمہ ناروے میں غیر معمولی توجہ کا مرکز رہا کیونکہ ماریئس بورگ ہوبی، ناروے کی کراؤن پرنسس میٹ میرٹ کے بیٹے ہیں۔

  • امن کا نیا سفیر اور بدلی ہوئی دنیا.تحریر :جان محمد رمضان

    امن کا نیا سفیر اور بدلی ہوئی دنیا.تحریر :جان محمد رمضان

    دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ تباہی لاتی ہیں، لیکن مستقل امن صرف عقل، فہم اور مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہوتا ہے۔ گزشتہ طویل عرصے سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی نے پوری دنیا، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ تیل کی سپلائی کے راستے بند ہو رہے تھے اور عالمی معیشت ڈوب رہی تھی۔ ایسے نازک موڑ پر پاکستان نے دنیا کے سامنے ایک سچے امن ساز کا کردار پیش کیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا حالیہ امن معاہدہ نہ صرف عالمی سیاست کا رخ بدل رہا ہے، بلکہ اس نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا سب سے بڑا ضامن ہے۔
    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خاموش اور کامیاب سفارت کاری کام کرگئی اس پورے امن عمل کے پیچھے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کئی مہینوں کی انتھک محنت اور شاندار حکمت عملی شامل ہے۔ جب دنیا جنگ کے شعلوں میں جل رہی تھی، انہوں نے پسِ پردہ رہ کر تہران، بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کا ایک مضبوط پل بنایا۔ ان کی اس ‘بیک چینل سفارت کاری’ کا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں کٹر دشمن ایک دوسرے کی شرطیں ماننے اور ہتھیار ڈال کر امن کا راستہ اپنانے پر راضی ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی حکومت اور بین الاقوامی مبصرین ان کے اس تاریخی کردار کی کھل کر تعریف کر رہے ہیں۔
    معاہدے کے بڑے نکات اور اثرات پوری دنیا دیکھے گی
    عالمی ذرائع کے مطابق، اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک فوری طور پر تمام فوجی کارروائیاں روک دیں گے۔ امریکہ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور ایرانی بندرگاہوں سے اپنے جنگی جہاز ہٹا لے گا۔ اس کے بدلے میں دنیا بھر کے لیے تیل کی سپلائی کا اہم ترین راستہ، یعنی آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ مزید برآں، امریکہ کی طرف سے روکے گئے ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے بھی مرحلہ وار واپس کیے جائیں گے۔ اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہونے جا رہی ہے، جس کی میزبانی خود پاکستان کرے گا۔

    پاکستان کے لیے فخر کا مقام ھے کہ دنیا کے طاقتور ملک کے ثالث ھم ہیں
    اس کامیابی نے عالمی سطح پر پاکستان کی عزت کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی جنگ کا حصہ بننے کے بجائے دنیا میں امن پھیلانے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس معاہدے سے نہ صرف مسلم امہ کی پریشانیاں کم ہوں گی، بلکہ پاکستان کی اپنی معیشت اور پاک-ایران بارڈر پر تجارت کو بھی بہت بڑا فروغ ملے گا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستانی قیادت کی اس تاریخی کامیابی کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا، کیونکہ انہوں نے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچا کر امن کا نیا راستہ دکھایا ہے۔
    فیلڈمارشل حافظ سید عاصم منیر صاحب نے کر دکھایا کہ پاکستان ہمیشہ زندہ باد تھا ہمیشہ زندہ باد رھے گا ۔

  • ‎غیر قانونی بے دخلی کے مقدمات 60 دن میں نمٹائے جائیں، سپریم کورٹ کی نئی گائیڈ لائنز جاری

    ‎غیر قانونی بے دخلی کے مقدمات 60 دن میں نمٹائے جائیں، سپریم کورٹ کی نئی گائیڈ لائنز جاری

    سپریم کورٹ نے شہریوں کو غیر منقولہ جائیداد سے غیر قانونی طور پر بے دخل کرنے کے مقدمات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے ملک بھر کی عدالتوں کے لیے نئی گائیڈ لائنز مقرر کر دی ہیں۔
    پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا، جس میں غیر قانونی بے دخلی ایکٹ کے تحت مقدمات کو 60 دن کے
    اندر نمٹانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عدالت نے فیصلے کی نقل تمام ہائی کورٹس کو بھیجنے اور اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔
    ‎سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ آئین کا آرٹیکل 10 اے ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل اور قانونی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ فوری اور کم خرچ انصاف آئینی تقاضا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ غیر ضروری تاخیر منصفانہ ٹرائل کے حق کے منافی ہے، اس لیے ٹرائل کورٹس قانون میں مقررہ مدت پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
    ‎عدالت نے ہدایت کی کہ اگر کسی مقدمے میں تاخیر ہو تو اس کی معقول وجوہات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنائی جائیں۔ گواہوں کی عدم دستیابی یا وکیل کی درخواست کو ازخود تاخیر کی معقول وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
    ‎فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عبوری حکم کو چیلنج کیے جانے کی صورت میں بھی ٹرائل جاری رکھا جائے گا، اور حکم امتناعی کے بغیر کارروائی نہیں روکی جائے گی۔
    ‎سپریم کورٹ نے آرٹیکل 24 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کو قانونی کارروائی کے بغیر اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ ایسی پالیسی اور انتظامی اصلاحات اختیار کرے جن سے انصاف کی فراہمی سستی اور تیز تر ہو۔
    ‎فیصلے میں واضح کیا گیا کہ آرٹیکل 187 کے تحت سپریم کورٹ مکمل انصاف کے لیے ضروری احکامات جاری کرنے کا اختیار رکھتی ہے، جبکہ ہائی کورٹس سمیت تمام عدالتی اور انتظامی اداروں پر سپریم کورٹ کی ہدایات پر عملدرآمد آئینی ذمہ داری ہے۔

  • اوکاڑہ،36 فور ایل اللہ دتہ بلوچ آبادی میں بجلی منصوبے کا افتتاح

    اوکاڑہ،36 فور ایل اللہ دتہ بلوچ آبادی میں بجلی منصوبے کا افتتاح

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) 36 فور ایل اللہ دتہ بلوچ آبادی میں بجلی کی سہولیات کی بہتری کے لیے 10 نئے پولز اور 25 کے وی کے ٹرانسفارمر کی تنصیب کا افتتاحی پروگرام منعقد ہوا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی کرنل (ر) مظہر تیمور تھے، جبکہ اس منصوبے کی تکمیل میں حلقہ این اے 136 کے واپڈا کوآرڈینیٹر ملک خالد یعقوب کی خصوصی کاوشیں شامل رہیں۔

    تقریب میں علی اکبر بلوچ، مہر ایاز محمود سیال، چوہدری مزمل، عرفان احمد، سحی خان اور انشاء اللہ کھوکھر سمیت علاقے کی معزز شخصیات اور بڑی تعداد میں مقامی شہریوں نے شرکت کی۔اس موقع پر مقررین نے حلقے کے عوامی مسائل کے حل اور بجلی کی بہتر فراہمی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا۔ علاقہ مکینوں نے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا اور بالخصوص ملک خالد یعقوب کا شکریہ ادا کیا جن کی مسلسل کوششوں سے یہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک خالد یعقوب نے کہا کہ ان کے قائد کی خواہش ہے کہ عوام سے کیے گئے تمام وعدوں کو عملی جامہ پہنایا جائے اور حلقے کی ترقی و خوشحالی کے لیے جاری منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کا یہ سفر آئندہ بھی جاری رہے گا اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔علاقہ مکینوں نے اس منصوبے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے بجلی کی فراہمی میں بہتری آئے گی اور مقامی آبادی کو درپیش مسائل میں خاطر خواہ کمی ہوگی۔
    تقریب کے شرکاء نے حلقہ این اے 136 کے ایم این اے چوہدری ریاض الحق جج کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے علاقے میں ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری ہے۔

  • فرائض میں غفلت اور رشوت ستانی پر سخت ایکشن ہوگا۔ ڈی سی اوکاڑہ

    فرائض میں غفلت اور رشوت ستانی پر سخت ایکشن ہوگا۔ ڈی سی اوکاڑہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کا اراضی ریکارڈ سینٹر کا اچانک دورہ، انہوں نے عوامی سہولت کے پیش نظر پبلک سروس ڈلیوری کے عمل کا جائزہ لیا اور سائلین سے سہولیات بارے دریافت کیا اور درپیش مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہدایات دیں۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام کاؤنٹرز مکمل فعال رکھتے ہوئے سائلین کی درخواستوں پر فوری عمل درآمد کے احکامات دیے اور ڈپٹی کمشنر کی کیو مینجمنٹ سسٹم کی بہتری کے لیے بھی ہدایات دیں۔ انہوں نے کمپیوٹرائزڈ ریونیو ریکارڈ کی بھی چیکنگ کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے کہا کہ اراضی ریکارڈ سینٹر کے افسران اور انچارج عوامی ریلیف کے پیش نظر انتظامات کی نگرانی کریں۔ ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے کہا کہ فرائض میں غفلت اور رشوت ستانی پر سخت ایکشن ہوگا۔ سائلین سے تاخیری حربے ہرگز برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ فلاح عامہ کے پیش نظر حکومت پنجاب کی ہدایات پر من و عن عمل درآمد کرایا جائے گا۔

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کا "اپنی چھت اپنا گھر” سکیم کے دفتر کا بھی تفصیلی دورہ، انہوں نے دفتر میں کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ اور پبلک سروس ڈیلیوری کے عمل کا جائزہ لیا، وزیراعلیٰ پنجاب کے خصوصی پروگرام "اپنی چھت اپنا گھر” سکیم کے تحت ڈی سی آفس میں الاٹمنٹ لیٹرز کی بھی تقسیم کیے گئے۔ ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے کامیاب امیدواروں میں الاٹمنٹ لیٹرز تقسیم کیے۔ الاٹمنٹ لیٹرز کی تقسیم پر کامیاب افراد نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اظہار تشکر کیا۔ ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف حقیقی طور پر عوامی خدمت کی اعلیٰ مثال ہیں۔ سکیم کے تحت غریب اور بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی سے ان کی محرومیاں دور ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ کی بنیاد پر اہل افراد میں الارٹمنٹ لیٹرز تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ اپنی چھت اپنا گھر سکیم کے دفتر میں شفافیت کی بنیاد پر ریکارڈ مرتب کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ درخواست گزاروں کے لیے سروس کے عمل کو سہل اور آسان بنایا جائے۔

  • نوکری نہیں، کاروبار وقت کی ضرورت،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    نوکری نہیں، کاروبار وقت کی ضرورت،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ نوجوانوں کو نوکری کی بجائے کاروبار کی طرف وقت کی ضرورت بن چکا ہے ہمارا نوجوان کاروبار کی طرف توجہ کیوں نہیں دے پا رہا آئیں اس پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہیں
    پاکستان اس وقت بے شمار معاشی، سماجی اور انتظامی مسائل سے دوچار ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ لا قانونیت کرپشن اور اقربا پروری ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی، غربت، صنعتی زوال، قرضوں کا بوجھ اور آبادی میں مسلسل اضافہ ایسے چیلنجز ہیں جو ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ان مسائل کا سب سے زیادہ اثر نوجوان نسل اور آنے والے کل پر ، پڑ رہا ہے، جو پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی تقریباً 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان اگر درست سمت میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو پاکستان ترقی کی نئی منازل طے کر سکتا ہے، لیکن اگر ان کی توانائیاں ضائع ہو گئیں جیسا کہ ہورہیں ہیں تو یہ قومی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

    بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی سرکاری یا نجی ملازمت کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے کسی اچھی سرکاری نوکری میں چلے جائیں۔ ہر سال لاکھوں نوجوان ڈگریاں لے کر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں مگر ملازمتوں کے محدود مواقع ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ نتیجتاً بے روزگاری، مایوسی اور احساس محرومی میں اضافہ ہوتا ہے۔اس کی کی بھی ایک بڑی وجہ سرکاری سطح پر ناقص منصوبہ بندی مستقبل کی ہے

    حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور میں صرف نوکریوں کے ذریعے معاشی استحکام حاصل کرنا ممکن نہیں۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور کامیاب قومیں اپنے نوجوانوں کو کاروبار، جدت، ٹیکنالوجی اور صنعت کی طرف لے جا رہی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کے پیچھے بھی یہی سوچ کارفرما ہے کہ نوجوان ملازمت کے متلاشی نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بنیں۔
    دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری کی، وہ ترقی کی بلند ترین منازل تک پہنچ گئیں۔ جنوبی کوریا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ چند دہائیاں قبل یہ ملک جنگ، غربت اور معاشی تباہی کا شکار تھا، لیکن حکومت نے نوجوانوں کو صنعت، ٹیکنالوجی اور کاروبار کی طرف راغب کیا۔ آج جنوبی کوریا دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور اس کی مصنوعات پوری دنیا میں استعمال ہو رہی ہیں۔
    چین کی مثال اس سے بھی زیادہ متاثر کن ہے۔ ایک وقت تھا جب چین کو ایک پسماندہ زرعی ملک سمجھا جاتا تھا، لیکن کاروبار دوست پالیسیوں، صنعت کاری اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی نے اسے دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت بنا دیا۔ لاکھوں نوجوانوں نے چھوٹے کاروبار شروع کیے جو بعد میں عالمی سطح کی کمپنیوں میں تبدیل ہوگئے۔

    سنگاپور قدرتی وسائل سے تقریباً محروم ایک چھوٹا سا ملک ہے، مگر وہاں تعلیم، کاروبار، میرٹ اور تجارت کو فروغ دے کر ایسی معیشت قائم کی گئی جو آج دنیا کے لیے مثال بن چکی ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش نے گارمنٹس انڈسٹری، چھوٹے کاروباروں اور برآمدات پر توجہ دے کر اپنی معیشت کو مضبوط بنایا۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ قوموں کی ترقی کا راز نوجوانوں کو کاروباری مواقع فراہم کرنے میں پوشیدہ ہے۔

    پاکستان میں بھی کاروبار کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ زراعت، لائیو اسٹاک، ڈیری فارمنگ، بکری پال، پولٹری، شہد کی پیداوار، ای کامرس، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فوڈ پراسیسنگ، مصنوعی ذہانت (AI) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبے نوجوانوں کے لیے روشن امکانات رکھتے ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں رہنے والے نوجوان جدید زرعی طریقوں، ویلیو ایڈیشن، ڈیری فارمنگ اور بکری پال کے شعبوں میں کامیابی حاصل کرکے نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار پیدا کر سکتے ہیں۔
    یہ امر بھی قابل غور ہے کہ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے، لیکن نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس شعبے سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ اگر جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور کاروباری سوچ کو زراعت کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو یہ شعبہ لاکھوں نوجوانوں کے لیے معاشی خوشحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ دنیا بھر میں زرعی کاروبار اربوں ڈالر کی صنعت بن چکا ہے جبکہ پاکستان میں بھی اس میدان میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔مگر بدقسمتی سے زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم چینی ،کپاس۔گندم اور دالیں باہر سے منگواتے ہیں کیونکہ ہم کمیشن کو ترجیح دیتے ناکہ اپنے مستقبل کو۔

    حکومت، تعلیمی اداروں، مالیاتی اداروں اور نجی شعبے کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو صرف ڈگریاں دینے کے بجائے کاروباری تربیت بھی فراہم کریں۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں انٹرپرینیورشپ، مالیاتی نظم و نسق، مارکیٹنگ، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے مضامین کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ بینکوں کو نوجوان کاروباری افراد کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے جبکہ حکومت کو ایسا کاروبار دوست ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں نوجوان بلاخوف و خطر اپنے خوابوں کو عملی شکل دے سکیں۔

    آج کا دور علم، ہنر اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ جو قومیں وقت کے تقاضوں کو سمجھ کر اپنے نوجوانوں کو جدید علوم اور کاروباری مہارتوں سے آراستہ کر رہی ہیں وہی ترقی کر رہی ہیں۔ پاکستان بھی وسائل، صلاحیتوں اور افرادی قوت کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کی توانائیوں کو مثبت سمت دی جائے اور انہیں خود انحصاری کی راہ پر گامزن کیا جائے۔
    پاکستان کا محفوظ اور روشن مستقبل نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے۔ اگر نوجوان ملازمتوں کے انتظار میں وقت ضائع کرنے کے بجائے کاروبار، صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی اور اختراع کے میدان میں آگے بڑھیں تو ملک کی معاشی مشکلات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ جب نوجوان روزگار تلاش کرنے والوں کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے بن جائیں گے تو بے روزگاری، غربت اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل پر قابو پانا آسان ہو جائے گا۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی سوچ کو تبدیل کریں اور نوجوانوں کو یہ پیغام دیں کہ کامیابی صرف نوکری میں نہیں بلکہ کاروبار، محنت، جدت اور خود انحصاری میں بھی ہے۔ جن قوموں کے نوجوان بڑے خواب دیکھتے ہیں، محنت کرتے ہیں اور خطرات مول لینے کا حوصلہ رکھتے ہیں، وہی قومیں دنیا کی قیادت کرتی ہیں۔ اگر پاکستان کے نوجوان بھی اس راستے کا انتخاب کر لیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمایاں مقام حاصل کرے گا،مگر حقیقت اس کے برعکس ہے ہم مسلسل 78 سالوں سے ناکام منصوبہ بندی کے تحت اپنے مستقبل کو تاریکی میں ڈبونے کا کام کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں تاریخ گواہ ہے ۔لیکن آج بھی اگر صحیح منصوبہ بندی کی جائے تو سب کچھ ممکن ہے
    ،،امید کا دامن تھامے رکھیں مگر کب تک ،، آج کا نوجوان ہی کل کا پاکستان ہے۔

  • 
چھانگا مانگا میں تالاب میں ڈوب کر 4 بچے جاں بحق

    
چھانگا مانگا میں تالاب میں ڈوب کر 4 بچے جاں بحق

    ‎چھانگا مانگا کے علاقے ویرسنگھ والا میں افسوسناک حادثے کے دوران چار کمسن بچے تالاب میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔
    ‎ریسکیو 1122 کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور کارروائی کے بعد چاروں بچوں کی لاشیں تالاب سے نکال لیں۔ جاں بحق بچوں کی عمریں 9 سے 11 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
    ‎علاقہ مکینوں کے مطابق بچے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے اپنے ننھیال آئے ہوئے تھے۔ واقعے کے وقت ان کے والدین قریبی جنگل میں لکڑیاں لینے گئے ہوئے تھے۔
    ‎عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک بچہ کھیلتے ہوئے اچانک تالاب میں گر گیا۔ اسے بچانے کی کوشش میں دیگر تین بچے بھی پانی میں اتر گئے، تاہم تالاب کی گہرائی 8 سے 10 فٹ ہونے کے باعث چاروں بچے ڈوب گئے۔
    ‎ریسکیو حکام کے مطابق واقعے کے بعد لاشوں کو ضروری کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ حادثے سے علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی ہے۔

  • ریاست ہمشہ پہلے ماں بن کے ڈیل کرتی ہے بعد میں باپ بنتی ہے۔سکیورٹی ذرائع

    ریاست ہمشہ پہلے ماں بن کے ڈیل کرتی ہے بعد میں باپ بنتی ہے۔سکیورٹی ذرائع

    سکیورٹی ذرائع نےکہا ہےکہ پاکستان امریکا ایران کے معاملے پر ایک ایسے ایشو کو ڈیل کر رہا ہے جو بہت پیچیدہ ہے۔

    اعلیٰ سکیورٹی حکام نے صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا اس میں کردار ثالث کا ہے، فیلڈ مارشل کا اس معاملے میں ایک ہی انٹرسٹ ہے، وہ ہے امن اور استحکام،سکیورٹی ذرائع نے بتایا اگر یہ جنگ نہ رکتی تو اس کے سنگین نتائج ہوتے، ہم ہیڈلائن ڈپلومیسی میں دلچسپی نہیں رکھتے، پاکستان نے ثالثی کے تمام تقاضے پورے کیے ہیں ، دنیا کو آہستہ آہستہ اس کا ادراک ہو رہا ہےکہ پاکستان نےکیا کیا ہے۔عظیم لڑائی وہ ہوتی ہے جہاں آپ بغیر لڑے جنگ جیتیں، ابھی بھی اس معاملے میں بگاڑ پیدا کرنے والے موجود ہیں، اسرائیل کا انٹرنیشنل میڈیا پر اثر و رسوخ ہے، قطر، سعودی عرب، ترکیے، مصر اور یو اے ای کو بھی اس کا کریڈٹ جاتا ہے، ان سب ممالک نے پاکستان کی امن کی خواہش پر لبیک کہا۔ پاکستان کے ایران، سعودی عرب امریکا سب ممالک کے ساتھ الگ الگ تعلقات ہیں، افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کے بھارت کے دورے سے ہمیں فرق نہیں پڑتا، کون کس سے مل رہا ہے اس سے ہمیں فرق نہیں پڑتا، ہم اتنے تنگ نظریےکے ساتھ چیزوں کو نہیں دیکھتے، ہمارے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق 15 جون 2026 تک 32092 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیےگئے، دہشتگردی کی 2170 کارروائیاں ہوئیں، 64 فیصد خیبرپختونخواہ اور 34 فیصد بلوچستان میں ہوئیں، 1861 دہشتگردوں کو ہلاک کیاگیا، 640 پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور شہری شہید ہوئے، 862 دہشتگرد غضب للحق آپریشن افغانستان میں مارےگئے باقی 999 پاکستان میں ہلاک ہوئے۔

    سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کا پہلا نشان حیدر کشمیر سے ہے، ہمارا ایشو دہشتگرد رجیم سے ہے وہاں کی عوام سے نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی نے بھی پیسا لگایا، مقبوضہ کشمیر میں نقل و حرکت اور اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے، سوال کیا کہ کیا وہ وہاں کے مسلمانوں کو خرید سکتے ہیں؟ کیا وہاں سے پاکستان کیلئے لوگوں کے جذبات سامنے نہیں آئے، بھارت مقبوضہ کشمیرکا ملٹری کے ذریعے بھی کچھ نہ کرسکا اس لیے آزاد کشمیر میں آگ لگائی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر میں حقوق کی تحریک سے آغاز کیا گیا، ہماری ڈیفالٹ آپشن ہمیشہ بات چیت ہوتی ہے، اصل کہانی کیا ہے یہ سامنے آنے میں وقت لگا، ہمیں پتا تھا جے اے اے سی کا ایجنڈا کیا ہے، یہ کدھر سے آرہے ہیں، بی وائے سی کو جب دہشتگرد تنظیم کہا گیا تب بھی بہت شور مچا تھا، پھر بی وائے سی بھی کھل کر سامنے آگئی۔آزاد کشمیر حکومت نے لوگوں کو کہا ہے اپنی دکانیں کھولیں لیکن جے اے اے سی نے عوام کو کہا ہے جو دکانیں کھولے گا ہم آگ لگا دیں گے۔ آزاد کشمیر حکومت پولیٹیکل پراسیس فالو کررہی تھی، آزاد کشمیر میں بیٹھ کر ریاست مخالف نعرے لگائے جا رہے ہیں، ریاست پیار محبت سے ڈیل کررہی ہے، ریاست ہمشہ پہلے ماں بن کے ڈیل کرتی ہے بعد میں باپ بنتی ہے۔ ہر لمحے جے اے اے سی مزید کھل کر سامنے آرہی ہے، ان کو آئینی، قانونی طریقے سے ڈیل کیا جائے گا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہمارے اندرونی چیلنجز میں دہشتگردی بھی ہے، اب جنگ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہوچکی ہے، اس تناظر میں بجٹ کم ہے، ملٹری اور سیاسی لیڈر شپ کو بھی اس کا احساس ہے۔ فوج میں 40 فیصد کےقریب جوان کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔

    سیکورٹی ذرائع نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کسی بھی ملاقات کی تردید کردی، بتایا گیا کہ 9 مئی کرنے اور کروانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے، جو روپوش ہیں تو قانون اپنا راستہ لےگا

  • 
پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش، اپوزیشن کا شدید احتجاج، حکومت نے ترقی، ہنر اور سکیورٹی منصوبوں کا اعلان

    
پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش، اپوزیشن کا شدید احتجاج، حکومت نے ترقی، ہنر اور سکیورٹی منصوبوں کا اعلان

    ‎لاہور: پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایک گھنٹہ 40 منٹ کی تاخیر سے اسپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی شریک تھیں۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک، نعت رسول مقبول ﷺ اور قومی ترانے سے کیا گیا۔
    ‎اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور "شرم کرو، حیا کرو، خان کو رہا کرو” اور "جعلی بجٹ نامنظور” کے نعرے لگائے۔ اپوزیشن ارکان بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مطالبے پر مبنی پلے کارڈز اٹھائے ایوان میں داخل ہوئے اور وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران اسپیکر ڈائس اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے سامنے جمع ہو کر مسلسل نعرے بازی کرتے رہے، جس سے ایوان میں ہنگامہ آرائی کا ماحول پیدا ہوگیا۔
    ‎وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر میں ایران۔امریکا امن معاہدے پر پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے قائد نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، معرکۂ حق میں کامیابی کو دنیا تسلیم کر رہی ہے، جبکہ ایران۔امریکا کشیدگی نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کفایت شعاری کی بہترین مثال قائم کی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ترقیاتی منصوبے بلا تعطل جاری رہے، مالی نظم و ضبط کے تحت وزرا کی تنخواہوں میں بھی کمی کی گئی، جبکہ ہر ضلع اور تحصیل ترقی کے سفر میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب نے دفاعی ضروریات کے لیے وفاق کو 546 ارب روپے فراہم کیے۔
    ‎وزیر خزانہ نے کہا کہ 2025 میں شدید بارشوں اور سیلاب سے پنجاب کے 27 اضلاع متاثر ہوئے، تاہم وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر فوری ریلیف آپریشن شروع کیا گیا اور متاثرہ خاندانوں کو خوراک، ادویات، صاف پانی، عارضی رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 2 ارب 30 کروڑ روپے سے جدید تربیتی پروگرام شروع کیے گئے، جن سے اب تک 5 ہزار نوجوان مستفید ہوئے ہیں، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 26 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
    ‎سی ایم اسکلڈ پنجاب پروگرام کے لیے ایک ارب 44 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جس کے ذریعے اب تک 2 ہزار 200 افراد کو بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جا چکے ہیں۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ "اسکلز فار گلوبل نیڈز” پروگرام کے لیے 51 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے تحت 2 لاکھ 40 ہزار افراد کو عالمی معیار کی تربیت دی جائے گی۔ پرواز کارڈ کے ذریعے نوجوانوں کو بین الاقوامی روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، جبکہ تعمیرات، صحت اور آٹوموٹیو سمیت 12 عالمی معیار کے تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں گے۔ حکومت کو توقع ہے کہ اس منصوبے سے سالانہ ترسیلات زر میں 466 ملین ڈالر کا اضافہ ہوگا۔
    ‎فرنٹیئر ٹیک اسکلز اینڈ انوویٹ پنجاب پروگرام کے لیے 12 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت جدید ایل ایم ایس پلیٹ فارم، انکیوبیٹرز، 60 لاکھ افراد کی ٹیکنالوجی تربیت، 15 لاکھ فرنٹیئر ٹیک گریجویٹس کی تیاری اور 1200 اسٹارٹ اپس کی معاونت کی جائے گی، جبکہ خواتین کی کم از کم 40 فیصد شرکت یقینی بنائی جائے گی۔
    ‎ایکسیلیریٹ پنجاب ٹیک اسکلز پروگرام کے لیے 19 ارب 70 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جس کے تحت بوٹ کیمپس، آئی ٹی انٹرن شپ اور میکر اسپیسز سے 70 ہزار 500 سے زائد نوجوان فائدہ اٹھائیں گے۔ بین الاقوامی آئی ٹی سرٹیفکیشنز کے ذریعے نوجوانوں کی متوقع ماہانہ آمدن ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
    ‎وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ لاہور میں 99 کروڑ روپے کی لاگت سے سینٹر آف ایکسیلنس فار ایڈوانسڈ آٹوموٹیو ٹیکنالوجیز قائم کیا جائے گا، جہاں ہر سال 400 افراد کو عالمی معیار کی فنی تربیت فراہم کی جائے گی۔
    ‎سکیورٹی کے شعبے میں انہوں نے کہا کہ اسمارٹ سیف سٹیز پروگرام کے تحت جدید ڈیجیٹل نگرانی کا نظام تحصیل سطح تک توسیع دی جائے گی، جبکہ ریجنل ڈیٹا سینٹرز اور جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز بھی قائم کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے مجموعی طور پر 47 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے تحفظ کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ اسمارٹ سیف سٹیز منصوبے سے پنجاب کے 19 اضلاع اور متعدد تحصیلیں مستفید ہوں گی۔ کچے کے علاقوں میں پولیس نظام مضبوط بنانے کے لیے 2 ارب 20 کروڑ روپے سے نئے پولیس اسٹیشنز، پوسٹس اور پکٹس تعمیر کی جائیں گی، جبکہ 28 اضلاع میں 14 ارب 21 کروڑ روپے کی لاگت سے جدید کرائم سین یونٹس قائم کیے جائیں گے، جہاں بین الاقوامی معیار کے مطابق شواہد اکٹھے اور محفوظ کیے جائیں گے تاکہ تفتیشی نظام مزید مؤثر بنایا جا سکے۔