سپریم کورٹ نے شہریوں کو غیر منقولہ جائیداد سے غیر قانونی طور پر بے دخل کرنے کے مقدمات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے ملک بھر کی عدالتوں کے لیے نئی گائیڈ لائنز مقرر کر دی ہیں۔
پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا، جس میں غیر قانونی بے دخلی ایکٹ کے تحت مقدمات کو 60 دن کے
اندر نمٹانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عدالت نے فیصلے کی نقل تمام ہائی کورٹس کو بھیجنے اور اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ آئین کا آرٹیکل 10 اے ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل اور قانونی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ فوری اور کم خرچ انصاف آئینی تقاضا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ غیر ضروری تاخیر منصفانہ ٹرائل کے حق کے منافی ہے، اس لیے ٹرائل کورٹس قانون میں مقررہ مدت پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
عدالت نے ہدایت کی کہ اگر کسی مقدمے میں تاخیر ہو تو اس کی معقول وجوہات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنائی جائیں۔ گواہوں کی عدم دستیابی یا وکیل کی درخواست کو ازخود تاخیر کی معقول وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عبوری حکم کو چیلنج کیے جانے کی صورت میں بھی ٹرائل جاری رکھا جائے گا، اور حکم امتناعی کے بغیر کارروائی نہیں روکی جائے گی۔
سپریم کورٹ نے آرٹیکل 24 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کو قانونی کارروائی کے بغیر اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ ایسی پالیسی اور انتظامی اصلاحات اختیار کرے جن سے انصاف کی فراہمی سستی اور تیز تر ہو۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ آرٹیکل 187 کے تحت سپریم کورٹ مکمل انصاف کے لیے ضروری احکامات جاری کرنے کا اختیار رکھتی ہے، جبکہ ہائی کورٹس سمیت تمام عدالتی اور انتظامی اداروں پر سپریم کورٹ کی ہدایات پر عملدرآمد آئینی ذمہ داری ہے۔
غیر قانونی بے دخلی کے مقدمات 60 دن میں نمٹائے جائیں، سپریم کورٹ کی نئی گائیڈ لائنز جاری
