سکیورٹی ذرائع نےکہا ہےکہ پاکستان امریکا ایران کے معاملے پر ایک ایسے ایشو کو ڈیل کر رہا ہے جو بہت پیچیدہ ہے۔
اعلیٰ سکیورٹی حکام نے صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا اس میں کردار ثالث کا ہے، فیلڈ مارشل کا اس معاملے میں ایک ہی انٹرسٹ ہے، وہ ہے امن اور استحکام،سکیورٹی ذرائع نے بتایا اگر یہ جنگ نہ رکتی تو اس کے سنگین نتائج ہوتے، ہم ہیڈلائن ڈپلومیسی میں دلچسپی نہیں رکھتے، پاکستان نے ثالثی کے تمام تقاضے پورے کیے ہیں ، دنیا کو آہستہ آہستہ اس کا ادراک ہو رہا ہےکہ پاکستان نےکیا کیا ہے۔عظیم لڑائی وہ ہوتی ہے جہاں آپ بغیر لڑے جنگ جیتیں، ابھی بھی اس معاملے میں بگاڑ پیدا کرنے والے موجود ہیں، اسرائیل کا انٹرنیشنل میڈیا پر اثر و رسوخ ہے، قطر، سعودی عرب، ترکیے، مصر اور یو اے ای کو بھی اس کا کریڈٹ جاتا ہے، ان سب ممالک نے پاکستان کی امن کی خواہش پر لبیک کہا۔ پاکستان کے ایران، سعودی عرب امریکا سب ممالک کے ساتھ الگ الگ تعلقات ہیں، افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کے بھارت کے دورے سے ہمیں فرق نہیں پڑتا، کون کس سے مل رہا ہے اس سے ہمیں فرق نہیں پڑتا، ہم اتنے تنگ نظریےکے ساتھ چیزوں کو نہیں دیکھتے، ہمارے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 15 جون 2026 تک 32092 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیےگئے، دہشتگردی کی 2170 کارروائیاں ہوئیں، 64 فیصد خیبرپختونخواہ اور 34 فیصد بلوچستان میں ہوئیں، 1861 دہشتگردوں کو ہلاک کیاگیا، 640 پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور شہری شہید ہوئے، 862 دہشتگرد غضب للحق آپریشن افغانستان میں مارےگئے باقی 999 پاکستان میں ہلاک ہوئے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کا پہلا نشان حیدر کشمیر سے ہے، ہمارا ایشو دہشتگرد رجیم سے ہے وہاں کی عوام سے نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی نے بھی پیسا لگایا، مقبوضہ کشمیر میں نقل و حرکت اور اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے، سوال کیا کہ کیا وہ وہاں کے مسلمانوں کو خرید سکتے ہیں؟ کیا وہاں سے پاکستان کیلئے لوگوں کے جذبات سامنے نہیں آئے، بھارت مقبوضہ کشمیرکا ملٹری کے ذریعے بھی کچھ نہ کرسکا اس لیے آزاد کشمیر میں آگ لگائی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر میں حقوق کی تحریک سے آغاز کیا گیا، ہماری ڈیفالٹ آپشن ہمیشہ بات چیت ہوتی ہے، اصل کہانی کیا ہے یہ سامنے آنے میں وقت لگا، ہمیں پتا تھا جے اے اے سی کا ایجنڈا کیا ہے، یہ کدھر سے آرہے ہیں، بی وائے سی کو جب دہشتگرد تنظیم کہا گیا تب بھی بہت شور مچا تھا، پھر بی وائے سی بھی کھل کر سامنے آگئی۔آزاد کشمیر حکومت نے لوگوں کو کہا ہے اپنی دکانیں کھولیں لیکن جے اے اے سی نے عوام کو کہا ہے جو دکانیں کھولے گا ہم آگ لگا دیں گے۔ آزاد کشمیر حکومت پولیٹیکل پراسیس فالو کررہی تھی، آزاد کشمیر میں بیٹھ کر ریاست مخالف نعرے لگائے جا رہے ہیں، ریاست پیار محبت سے ڈیل کررہی ہے، ریاست ہمشہ پہلے ماں بن کے ڈیل کرتی ہے بعد میں باپ بنتی ہے۔ ہر لمحے جے اے اے سی مزید کھل کر سامنے آرہی ہے، ان کو آئینی، قانونی طریقے سے ڈیل کیا جائے گا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہمارے اندرونی چیلنجز میں دہشتگردی بھی ہے، اب جنگ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہوچکی ہے، اس تناظر میں بجٹ کم ہے، ملٹری اور سیاسی لیڈر شپ کو بھی اس کا احساس ہے۔ فوج میں 40 فیصد کےقریب جوان کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔
سیکورٹی ذرائع نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کسی بھی ملاقات کی تردید کردی، بتایا گیا کہ 9 مئی کرنے اور کروانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے، جو روپوش ہیں تو قانون اپنا راستہ لےگا
