اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت فنانس بل 2026 کا شق وار جائزہ جاری رکھتے ہوئے ٹیکس اصلاحات، صنعتی شعبے کے مسائل، ڈیجیٹل معیشت، محصولات میں اضافے اور دستاویز بندی سے متعلق متعدد اہم تجاویز پر غور کیا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال، سینیٹر عبدالقادر، سینیٹر طلحہ محمود، سینیٹر شازیب درانی، سینیٹر انوشہ رحمان احمد خان، سینیٹر فیصل واوڈا، سینیٹر سید فیصل علی سبزواری، سینیٹر دلاور خان سمیت پاکستان اسٹیل ملز، ٹیلی کام، بڑی صنعتوں اور آٹو سیکٹر کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران اسٹیل، مینوفیکچرنگ اور آٹو سیکٹر کے نمائندوں نے صنعت کو درپیش چیلنجز، بجلی کے بڑھتے اخراجات، ریفنڈز اور ٹیکس نظام سے متعلق مسائل پر کمیٹی کو آگاہ کیا۔ ایف بی آر نے بتایا کہ ماہانہ تقریباً 55 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے جا رہے ہیں جبکہ صنعتی شعبے کی نگرانی اور دستاویز بندی کے لیے جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔کمیٹی نے سپر ٹیکس اور دیگر ٹیکس اصلاحات پر بھی غور کیا۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ ٹیکس استثنیٰ کی حد 50 کروڑ روپے سے بڑھا کر ایک ارب روپے کرنے سے قومی خزانے کو تقریباً 250 ارب روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔
اہم پیش رفت میں کمیٹی نے ٹیکس سال 2026 سے لائف انشورنس پالیسیوں کے منافع والے حصے پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز منظور کر لی، تاہم اصل سرمایہ، وفات یا معذوری کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم اور سات سال بعد میچور ہونے والی پالیسیوں کو ٹیکس استثنیٰ حاصل رہے گا۔ کمیٹی نے وراثتی جائیداد کی تقسیم اور والدین کے انتقال کے بعد جائیداد کے تصفیے پر سیلز ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھنے کی بھی منظوری دی۔ڈیجیٹل معیشت سے متعلق بحث میں کمیٹی نے سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی تجویز منظور کر لی۔ مجوزہ نظام کے تحت سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی جبکہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔اجلاس میں معیشت کی دستاویز بندی اور ٹیکس نیٹ کے دائرہ کار میں اضافے پر بھی زور دیا گیا۔ ایف بی آر نے بتایا کہ تقریباً 8 ہزار 697 ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے بینک اکاؤنٹس میں لگ بھگ 750 ارب روپے کے ڈپازٹس موجود ہیں لیکن انہوں نے انکم ٹیکس ادا نہیں کیا۔کمیٹی نے فنانس بل 2026 پر غور آئندہ اجلاسوں میں بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دینے سے قبل مختلف شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز سے مزید مشاورت پر زور دیا۔
