Baaghi TV

Blog

  • کراچی رینجرز کیمپ حملے میں پکڑے گئے افغان دہشتگرد کے سنسنی خیز انکشافات

    کراچی رینجرز کیمپ حملے میں پکڑے گئے افغان دہشتگرد کے سنسنی خیز انکشافات

    کراچی میں ہفتے کو پاکستان رینجرز کیمپ پر بزدلانہ حملے میں ملوث دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کے پس پردہ افغان طالبان رجیم کے شواہد سامنے آ گئے ، حملے میں گرفتار ہونے والے افغان دہشتگرد نے تفتیش کے دوران انتہائی ہوشربا اور سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔

    حملے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے دہشتگرد نے اپنا نام عثمان علی بتایا اورکہا کہ وہ افغانستان کے علاقے جلال آباد سے آیا،میرے ساتھ 3اور ساتھی بھی تھے جن کانام عبدالہادی ، جانان اور عمر فاروق تھا حملے میں ملوث دیگر تین دہشتگرد عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق اس کے قریبی ساتھی تھے، جن میں سے اس کے ساتھ آنے والے دہشتگرد جانان نے رینجرز کیمپ پر بم پھینکا تھا اور عبدالہادی موقع پر ہی مارا جا چکا تھا، سب لوگ اس کارروائی سے ٹھیک 7 دن پہلے پاکستان داخل ہوئے تھے۔

    عثمان کے مطابق مارا جانے والا عبدالہادی اصل میں باجوڑ کا رہائشی تھا، اور پاکستان پہنچنے کے بعد ان سب کو ایک زیرِ تعمیر عمارت میں چھپا کر رکھا گیا تھا، جبکہ حملے میں استعمال ہونے والا سارا اسلحہ اور بارود عبدالہادی خود وزیرستان سے لے کر آیا تھا،دوسری طرف جانے کیلئے جب میں بھاگ رہاتھا تو مجھے گولی لگی اور میں وہیں گرگیا میراتعلق جماعت الاحرار سے ہے جس کے افغانستان میں کمانڈر کا نام احرار مولوی ہے،ہم سب کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی،مجھے صرف جیکٹ دی گئی تھی خودکش ہم خود تیارکرلیتے ہیں، افغا نستان میں خود کش جیکٹ اور دیگر ٹریننگ عمر قاری نے دی تھی ،کراچی آنے سے پہلے ہمارے لیےافغانستان سے سب انتظامات ہو گئے تھے،عبدالہادی یہاں سب جانتا تھا،پہلے بھی یہاں آیا تھا۔

    واضح رہے کہ ہفتے کی رات کراچی کے علاقے صفورہ میں یونیورسٹی روڈ پر موسمیات چورنگی کے قریب واقع پاکستان رینجرز سندھ کے کیمپ پر جماعت الاحرار کے دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا۔ دہشتگردوں نے دھماکہ کر کے کیمپ کے اندر گھسنے کی کوشش کی، لیکن وہاں تعینات رینجرز کے جوانوں نے بنا وقت ضائع کیے انتہائی پھرتی سے جوابی کارروائی کر کے ان کا یہ ارادہ مٹی میں ملا دیا،اس شدید مقابلے میں وطنِ عزیز کے تین رینجرز اہلکار شہید اور چار جوان زخمی ہوئے، جبکہ تین حملہ آور مارے گئے اور عثمان کو زخمی حالت میں زندہ پکڑ لیا گیا تھا۔

    کراچی حملے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر ایک بڑا اور کامیاب انٹیلی جینس آپریشن کیا، جس میں فتنہ الخوارج کے 29 کارندے مارے گئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اس جوابی کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے باجوڑ کے علاقے میں 28 جون کو آپریشن کیا، جس میں دہشتگردوں کا بڑا خارجی کمانڈر خان فروش عرف زابل اپنے تین ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا، پاکستانی فورسز نے سرحد پار افغان صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں بھی آپریشن کیا، جہاں مزید 25 دہشتگرد مارے گئے اور ان کے ٹھکانوں میں چھپایا گیا بھاری اسلحہ و گولہ بارود پوری طرح تباہ کر دیا گیا ان تمام دہشتگردوں کا تعلق اسی جماعت الاحرار سے تھا جو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہی تھی۔

  • قبرستان میں آگ لگانے سے متعدد قبروں کو نقصان،نوٹس کی اپیل

    قبرستان میں آگ لگانے سے متعدد قبروں کو نقصان،نوٹس کی اپیل

    قصور
    راؤ خانوالہ کے قبرستان میں مبینہ نشئیوں کے ڈیرے، آگ لگنے سے متعدد قبروں کی بے حرمتی، شہریوں میں شدید غم و غصہ

    قصور کے نواحی قصبے راؤ خانوالہ میں واقع قبرستان مبینہ طور پر نشئی افراد کی آماجگاہ بن گیا ہے، جہاں متعدد بار آگ لگنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ مقامی افراد کے ایک بار پھر قبرستان میں آگ لگا دی گئی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا

    اہلیانِ علاقہ کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے باعث متعدد قبروں کو نقصان پہنچا اور ان کی بے حرمتی ہوئی، جس پر اہلِ علاقہ میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے
    شہریوں کا کہنا ہے کہ قبرستان میں نشئی افراد کے ڈیرے قائم ہیں، جن کی سرگرمیوں کے باعث ایسے افسوسناک واقعات بار بار رونما ہو رہے ہیں

    مقامی رہائشیوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ قبرستان میں مبینہ نشئی افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات کیے جائیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے

    اہلیانِ علاقہ نے ڈپٹی کمشنر قصور سے فوری نوٹس لینے، ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرنے اور قبرستان کے تقدس کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے

  • یورپ میں شدید گرمی نے شہریوں کو جھلسا دیا،1300 سے زائد اموات

    یورپ میں شدید گرمی نے شہریوں کو جھلسا دیا،1300 سے زائد اموات

    عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ 21 جون سے یورپ میں جاری ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے باعث 1,300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق شدید گرمی ایک خاموش قاتل ہے، جبکہ یورپ کے گھروں، دفاتر اور اسکولوں کا بنیادی ڈھانچہ اس قدر بلند درجہ حرارت کے لیے تیار نہیں،فرانس میں صرف گزشتہ بدھ سے اب تک متوقع تعداد کے مقابلے میں قریباً 1,000 اضافی اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جبکہ جرمنی، چیک ریپبلک، ہنگری اور پولینڈ سمیت کئی ممالک شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں،اتوار کے روز یورپ کے کچھ حصوں میں درجہ حرارت 40 ° C (104 ° F) تک پہنچ گیا، جب کہ طوفان دیگر علاقوں میں بہہ گئے، زیادہ تر اموات بوڑھے لوگوں کی تھیں-

    پبلک ہیلتھ فرانس نے بتایا کہ بدھ سے اب تک فرانس میں متوقع تعداد کے مقابلے میں تقریباً ایک ہزار زائد اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ادارے کے مطابق 24 جون سے اموات میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    فرانسیسی اخبار کے مطابق شدید گرمی کی لہر کے دوران 18 جون سے اب تک فرانس میں دریاؤں، نہروں اور سوئمنگ پولز میں نہانے کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 74 ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب جرمنی کے مشرقی شہر لیپزگ میں شدید گرمی کے باعث ٹرام سروس متاثر ہوگئی ہے اور پیر کی صبح تک بند رہے گی شدید گرمی سے سڑکوں کا اسفالٹ پگھل گیا جبکہ ٹرام کی پٹریاں اور جوائنٹس بھی کئی مقامات پر متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث ٹرینوں کی آمد و رفت غیر محفوظ قرار دی گئی ہے۔

    ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے اور رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے مؤثر حفاظتی منصوبے نافذ کریں،یورپ شدید گرمی میں پگھل رہا ہے ریکارڈ توڑ درجہ حرارت اور لاکھوں افراد اس سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں،یہ صرف ایک اور موسم گرما نہیں ہے، یہ ایک انتباہ ہے آب و ہوا پہلے سے زیادہ تیزی سے بدل رہی ہے۔

  • آپریشن غضب للحق  کے تحت کارروائیاں:جماعت الاحرار کے اہم کمانڈر سمیت 29 دہشتگرد ہلاک

    آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں:جماعت الاحرار کے اہم کمانڈر سمیت 29 دہشتگرد ہلاک

    پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں حالیہ دہشتگرد حملوں کے بعد پاک افغان سرحد کے ساتھ بڑے پیمانے پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہوئے جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 29 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پاکستان رینجرز (سندھ) کے کراچی کیمپ پر حالیہ دہشتگرد حملوں کے بعد سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد کے ساتھ انٹیلی جنس کی بنیاد پر منظم زمینی آپریشن کیا، جس کے بعد سرحدی علاقے میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا، ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر 29 خوارج ہلاک ہوئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 28 جون 2026 کو سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پاک افغان سرحد کے قریب دہشتگردوں کے ایک گروہ کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی، مؤثر اور پیشہ ورانہ کارروائی کے نتیجے میں انتہائی مطلوب کمانڈر خان فروش عرف زبال، جو بھارتی حمایت یافتہ جماعت الاحرار سے تعلق رکھتا تھا، اپنے 3 ساتھیوں سمیت مارا گیا، جبکہ متعدد دیگر دہشتگرد زخمی ہوئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن ’غضب للحق‘ کے تسلسل میں مستند انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر 28 اور 29 جون کی درمیانی شب پاک افغان سرحدی علاقے میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج کے دہشتگرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو بھی انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں قائم دہشتگردوں کے 3 مراکز کو کامیاب کارروائیوں میں تباہ کر دیا گیا، جہاں 25 دہشتگرد مارے گئے، ان مراکز میں موجود بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے کوششیں کی ہیں، تاہم ملک اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، کیونکہ عوام کی سلامتی ریاست کی اولین ترجیح ہے، وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسدادِ دہشتگردی مہم پوری شدت سے جاری رہے گی، تاکہ بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔

  • ‎چکوال میں ڈیم میں ڈوب کر دو نوجوان جاں بحق

    ‎چکوال میں ڈیم میں ڈوب کر دو نوجوان جاں بحق

    ‎چکوال کے نواحی گاؤں تھنیل فتح میں ایک افسوسناک حادثے کے نتیجے میں دو نوجوان ڈیم میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے، جس سے علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی۔
    ‎ریسکیو 1122 کے مطابق واقعہ ایک نجی فارم ہاؤس کے اندر قائم تقریباً 20 فٹ گہرے ڈیم میں پیش آیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق 24 سالہ فہیم رضا فارم ہاؤس کے قریب کام کر رہے تھے کہ اچانک ان کا پاؤں پھسل گیا اور وہ ڈیم میں جا گرے۔ پانی گہرا ہونے کے باعث وہ خود کو سنبھال نہ سکے اور ڈوبنے لگے۔
    ‎اپنے ساتھی کو مشکل میں دیکھ کر 27 سالہ قیصر عباس نے انہیں بچانے کی کوشش کی اور بغیر کسی تاخیر کے ڈیم میں چھلانگ لگا دی۔ تاہم انہیں تیراکی نہیں آتی تھی، جس کے باعث وہ بھی گہرے پانی میں پھنس گئے اور دونوں نوجوان ڈوب گئے۔
    ‎واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ کافی کوششوں کے بعد دونوں نوجوانوں کی لاشیں پانی سے نکال کر قریبی اسپتال منتقل کر دی گئیں، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
    ‎حادثے کی خبر سنتے ہی اہل خانہ اور عزیز و اقارب اسپتال پہنچ گئے، جہاں کہرام مچ گیا۔ علاقے کے رہائشیوں نے بھی اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
    ‎ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ حادثہ پاؤں پھسلنے اور تیراکی نہ جاننے کے باعث پیش آیا۔ متعلقہ حکام نے واقعے کی مزید جانچ شروع کر دی ہے جبکہ شہریوں کو گہرے پانی کے ذخائر کے قریب انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • 
آئرلینڈ نے بھارت کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں وائٹ واش کر دیا

    
آئرلینڈ نے بھارت کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں وائٹ واش کر دیا

    آئرلینڈ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو دو میچوں پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز میں 2-0 سے شکست دے کر تاریخی کامیابی اپنے نام کر لی۔ میزبان ٹیم نے دوسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد بھارت کو صرف ایک رن سے شکست دے کر سیریز میں وائٹ واش مکمل کیا۔
    ‎155 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بھارتی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 153 رنز ہی بنا سکی اور فتح سے محض ایک رن دور رہ گئی۔ بھارت کی جانب سے تلک ورما نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچری اسکور کی، جبکہ ہرشت رانا نے بھی 20 رنز بنا کر ٹیم کو کامیابی دلانے کی کوشش کی، تاہم وہ ٹیم کو ہدف تک نہ پہنچا سکے۔
    ‎آئرلینڈ کی جانب سے میٹ ہولارڈ اور جے مونڈرا نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین، تین وکٹیں حاصل کیں اور بھارتی بیٹنگ لائن کو دباؤ میں رکھا۔ دونوں باؤلرز کی مؤثر کارکردگی نے میچ کا پانسہ میزبان ٹیم کے حق میں پلٹ دیا۔
    ‎اس سے قبل آئرلینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 154 رنز بنائے۔ ہیری ٹیکٹر نے ذمہ دارانہ اننگز کھیلتے ہوئے 53 رنز اسکور کیے، جبکہ بین کالیٹز نے 37 رنز کی اہم اننگز کھیل کر ٹیم کا مجموعہ بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
    ‎بھارتی ٹیم آخری اوور تک مقابلے میں موجود رہی، لیکن آئرلینڈ کے باؤلرز نے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے کامیابی اپنے نام کر لی۔ اس فتح کے ساتھ آئرلینڈ نے پہلی بار بھارت کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں وائٹ واش کرتے ہوئے ایک یادگار سنگ میل عبور کیا۔
    ‎یہ کامیابی آئرش کرکٹ کے لیے ایک اہم لمحہ قرار دی جا رہی ہے، جبکہ بھارتی ٹیم کو غیر ملکی سرزمین پر ایک اور مایوس کن سیریز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

  • ‎فیصل آباد: پولیس مقابلے میں مبینہ شوٹر غلام محی الدین ہلاک

    ‎فیصل آباد: پولیس مقابلے میں مبینہ شوٹر غلام محی الدین ہلاک

    ‎فیصل آباد میں گلبرگ تھانے کی حدود میں پولیس مقابلے کے دوران مبینہ شوٹر غلام محی الدین ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم چند روز قبل پیش آنے والے ہوائی فائرنگ کے ایک واقعے میں مطلوب تھا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی تھی۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی جا رہی تھی، اسی دوران مبینہ طور پر مقابلہ ہوا جس میں غلام محی الدین ہلاک ہو گیا۔ کارروائی کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔
    ‎حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزم کی لاش قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دی گئی ہے، جہاں پوسٹ مارٹم سمیت دیگر ضروری مراحل مکمل کیے جائیں گے۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ غلام محی الدین کے خلاف عوامی مقام پر فائرنگ اور امن و امان خراب کرنے کے الزامات کے تحت مقدمات درج تھے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد اس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے بھی مارے گئے تھے۔
    ‎واقعے کے بعد پولیس نے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ پولیس مقابلے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔ حکام کے مطابق اگر اس مقدمے میں مزید افراد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

  • 
ایران اور امریکا کے تکنیکی مذاکرات حالیہ کشیدگی کے باعث معطل

    
ایران اور امریکا کے تکنیکی مذاکرات حالیہ کشیدگی کے باعث معطل

    ‎امریکا اور ایران کے درمیان طے شدہ تکنیکی مذاکرات حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث معطل کر دیے گئے ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیموں کے درمیان مذاکرات 28 اور 29 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے تھے، تاہم تازہ صورتحال کے پیش نظر انہیں مؤخر کر دیا گیا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد اعتماد سازی اور مختلف تکنیکی امور پر پیش رفت کے لیے شیڈول کیے گئے تھے۔ ان ملاقاتوں میں متعدد اہم معاملات پر تبادلہ خیال متوقع تھا۔
    ‎ذرائع کے مطابق حالیہ فوجی کشیدگی اور ایک دوسرے پر حملوں کے بعد سفارتی ماحول متاثر ہوا، جس کے نتیجے میں مذاکرات کا انعقاد ممکن نہ رہ سکا۔ اگرچہ مذاکرات کی نئی تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات میں بہتری آنے کے بعد نئی تاریخ طے کی جا سکتی ہے۔
    ‎دوسری جانب ایران اور امریکا ایک دوسرے پر حالیہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کر چکے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا مزید متاثر ہوئی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق تکنیکی مذاکرات کی معطلی سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کو عارضی دھچکا پہنچ سکتا ہے، تاہم عالمی برادری اب بھی دونوں ممالک پر مذاکرات کی بحالی اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے زور دے رہی ہے۔

  • 
مجتبیٰ خامنہ ای کا امریکا اور اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم

    
مجتبیٰ خامنہ ای کا امریکا اور اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم

    ‎ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عدلیہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کے حوالے سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال سے ایران پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں ملک اور عوام کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے تمام قانونی ذرائع بروئے کار لائے جائیں۔
    ‎مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ عدلیہ صرف انفرادی مقدمات تک محدود نہیں بلکہ عوامی حقوق کے تحفظ، انصاف کی فراہمی، قانونی آزادیوں، بدعنوانی کے خاتمے، قوانین کے نفاذ اور قومی مفادات کے دفاع کی بھی ذمہ دار ہے۔ ان کے مطابق اگر عدالتی ادارے ان ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں انجام دیں تو عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ جون 2025 اور فروری 2026 میں ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد، زخمیوں اور ملک کو پہنچنے والے نقصانات کی بنیاد پر سیکڑوں بلکہ ہزاروں قانونی مقدمات دائر کیے جا سکتے ہیں۔
    ‎ایرانی سپریم لیڈر نے میناب اور لامرد میں بچوں کی ہلاکتوں، طبی مراکز، عوامی خدمات کی تنصیبات اور شہری علاقوں پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں سنگین جنگی جرائم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نومولود بچوں سے لے کر بزرگ شہریوں تک کی ہلاکتیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
    ‎انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ بعض امریکی اور اسرائیلی رہنماؤں کے بیانات، جن میں ان کارروائیوں کا اعتراف یا ان پر فخر کا اظہار کیا گیا، ایران کے مؤقف کو قانونی طور پر مضبوط بنانے میں اہم شواہد ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے شواہد مستقبل میں بین الاقوامی عدالتوں میں قانونی کارروائی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
    ‎مجتبیٰ خامنہ ای نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اس نوعیت کی قانونی کارروائیاں نہ صرف متاثرین کے حقوق کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں گی بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر کردار ادا کریں گی۔
    ‎واضح رہے کہ یہ تمام بیانات ایرانی حکام کے مؤقف پر مبنی ہیں، جبکہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اس حوالے سے الگ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے۔

  • 
سرفراز بگٹی اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات، بلوچستان میں امن اور سیاسی استحکام پر گفتگو

    
سرفراز بگٹی اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات، بلوچستان میں امن اور سیاسی استحکام پر گفتگو

    ‎وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، بلوچستان میں امن و امان اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎ملاقات کے دوران بلوچستان میں امن و امان کی موجودہ صورتحال اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جاری حکومتی اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے مولانا فضل الرحمان کو صوبائی حکومت کی جانب سے امن، استحکام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔
    ‎میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان حکومت دہشت گردی اور بدامنی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطے اور مؤثر ہم آہنگی کے تحت کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
    ‎ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ملکی استحکام، سیاسی ہم آہنگی اور بلوچستان میں امن و ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ قومی مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کے درمیان رابطے اور تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    ‎ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، قومی معاملات اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم موضوعات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے قومی یکجہتی، امن اور ترقی کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔