ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عدلیہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کے حوالے سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال سے ایران پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں ملک اور عوام کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے تمام قانونی ذرائع بروئے کار لائے جائیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ عدلیہ صرف انفرادی مقدمات تک محدود نہیں بلکہ عوامی حقوق کے تحفظ، انصاف کی فراہمی، قانونی آزادیوں، بدعنوانی کے خاتمے، قوانین کے نفاذ اور قومی مفادات کے دفاع کی بھی ذمہ دار ہے۔ ان کے مطابق اگر عدالتی ادارے ان ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں انجام دیں تو عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جون 2025 اور فروری 2026 میں ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد، زخمیوں اور ملک کو پہنچنے والے نقصانات کی بنیاد پر سیکڑوں بلکہ ہزاروں قانونی مقدمات دائر کیے جا سکتے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر نے میناب اور لامرد میں بچوں کی ہلاکتوں، طبی مراکز، عوامی خدمات کی تنصیبات اور شہری علاقوں پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں سنگین جنگی جرائم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نومولود بچوں سے لے کر بزرگ شہریوں تک کی ہلاکتیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ بعض امریکی اور اسرائیلی رہنماؤں کے بیانات، جن میں ان کارروائیوں کا اعتراف یا ان پر فخر کا اظہار کیا گیا، ایران کے مؤقف کو قانونی طور پر مضبوط بنانے میں اہم شواہد ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے شواہد مستقبل میں بین الاقوامی عدالتوں میں قانونی کارروائی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اس نوعیت کی قانونی کارروائیاں نہ صرف متاثرین کے حقوق کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں گی بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر کردار ادا کریں گی۔
واضح رہے کہ یہ تمام بیانات ایرانی حکام کے مؤقف پر مبنی ہیں، جبکہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اس حوالے سے الگ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا امریکا اور اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم
