Baaghi TV

Blog

  • کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کا اسلام آباد پولیس کے اہلکار پر وحشیانہ تشدد

    کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کا اسلام آباد پولیس کے اہلکار پر وحشیانہ تشدد

    کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نےحساس معلومات لینے کی آڑ میں اسلام آباد پولیس کے اہلکار پر وحشیانہ تشدد کیا ہے

    راولاکوٹ کی جنڈالہ چیک پوسٹ کے قریب اسلام آباد پولیس کے کانسٹیبل ہمایوں خورشید پر کالعدم کمیٹی کے مسلح شرپسندوں نے قاتلانہ حملہ کردیا۔زخمی کانسٹیبل ہمایوں خورشید کا کہنا ہے کہ؛ چھٹی سے واپس آ رہا تھا کہ کالعدم کمیٹی کےناکہ لگاۓ 50 سے زائد شرپسندوں نے روک کرشدید تشدد کا نشانہ بناڈالا،شرپسندوں نے وردی پہنا کرریاستی اداروں اور افسران کے خلاف تقریر کرانے کی کوشش کی، کانسٹیبل ہمایوں خورشید اس وقت سی ایم ایچ راولا کوٹ میں شدید زخمی حالات میں زیرعلاج ہے۔

  • پاکستان نیول اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ، وزیراعظم نے نمایاں کیڈٹس میں اعزازات تقسیم کیے

    پاکستان نیول اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ، وزیراعظم نے نمایاں کیڈٹس میں اعزازات تقسیم کیے

    پاکستان نیول اکیڈمی کراچی میں 125ویں مڈشپ مین اور 33ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ پریڈ منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے مڈشپ مین اور آفیسر کیڈٹس میں اعزازات تقسیم کیے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی اکیڈمی آمد پر چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے ان کا استقبال کیا، جس کے بعد وزیراعظم نے پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معائنہ کیا اور سلامی لی،تقریب میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، گورنر سندھ اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے بھی شرکت کی،اس سال پاس آؤٹ ہونے والے افسران میں پاکستان کے علاوہ برادر اور دوست ممالک بحرین، عراق اور جبوتی کے مڈشپ مین بھی شامل تھے، جو پاکستان نیوی کی پیشہ ورانہ تربیت پر عالمی اعتماد کا مظہر ہیں،تقریب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کورسز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس اور مڈشپ مین میں مختلف اعزازات تقسیم کیے۔

    مڈشپ مین عمر مختار کو بہترین مجموعی کارکردگی پر اعزازی شمشیر (Sword of Honour) سے نوازا گیا، جبکہ مڈشپ مین ہادی عباس خان نے اکیڈمی ڈرک کا اعزاز اپنے نام کیا،اسی طرح آفیسر کیڈٹ الویرہ حمزہ کو کمانڈنٹ گولڈ میڈل جبکہ آفیسر کیڈٹ حافظ محمد احمد منور کو چیف آف ڈیفنس فورسز گولڈ میڈل سے نوازا گیا،تقریب کے اختتام پر وزیراعظم نے نو منتخب افسران کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ملکی بحری دفاع میں ان کے کردار کو اہم قرار دیا

  • درجہ حرارت بڑھ گیا، بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا الرٹ جاری

    درجہ حرارت بڑھ گیا، بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا الرٹ جاری

    پشاور: صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبرپختونخوا نے بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ) کے خطرے کے پیشِ نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو پیشگی حفاظتی اقدامات کی ہدایت کر دی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ دنوں میں درجہ حرارت میں اضافے اور شدید گرمی کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے اور اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔جاری کردہ الرٹ کے مطابق اپر اور لوئر چترال، سوات، اپر دیر، کوہستان اور مانسہرہ کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حساس علاقوں میں مسلسل نگرانی یقینی بنائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل رکھیں۔پی ڈی ایم اے نے متعلقہ اضلاع کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے ریسکیو اداروں، بھاری مشینری اور ہنگامی عملے کو ہر وقت تیار رکھنے کا بھی حکم دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے کی صورت میں فوری امدادی کارروائیاں شروع کی جا سکیں۔اتھارٹی نے عوام، خصوصاً بالائی علاقوں کے رہائشیوں اور سیاحوں کو بھی محتاط رہنے، موسم اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔

  • چلاس: تھور ویلی میں کلاؤڈ برسٹ، خوفناک سیلابی ریلوں سے بڑے پیمانے پر تباہی

    چلاس: تھور ویلی میں کلاؤڈ برسٹ، خوفناک سیلابی ریلوں سے بڑے پیمانے پر تباہی

    چلاس: گلگت بلتستان کے ضلع چلاس کی تھور ویلی میں اچانک ہونے والے کلاؤڈ برسٹ کے بعد آنے والے شدید سیلابی ریلوں نے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں مکانات، باغات، فصلیں، رابطہ پل، گاڑیاں اور قیمتی سامان سیلابی پانی میں بہہ گئے۔

    پولیس حکام کے مطابق کلاؤڈ برسٹ کے فوراً بعد آنے والے سیلابی ریلوں نے اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو شدید نقصان پہنچایا۔ متاثرہ علاقوں میں متعدد رہائشی مکانات، زرعی اراضی، باغات، تیار فصلیں اور بنیادی انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا۔سیلابی پانی واپڈا کالونی میں بھی داخل ہوگیا، جس سے کالونی اور اس سے ملحقہ سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ تھور میک کے مقام پر واقع ایک مسجد بھی سیلابی ریلے کی زد میں آ گئی۔ادھر تھور شیتن کے علاقے میں وسیع پیمانے پر زرعی زمینیں اور کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ مقامی افراد کے مال مویشی، نقدی اور دیگر قیمتی سامان بھی سیلاب کی نذر ہو گئے، جس سے متاثرین کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

    پولیس کے مطابق کلاؤڈ برسٹ کے فوراً بعد ریسکیو اور بحالی کی کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں۔ امدادی ٹیموں کی کوششوں سے متاثرہ تھور کے دو اہم مقامات پر رابطہ سڑکیں بحال کر کے ٹریفک کی آمدورفت جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہے، جبکہ دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

  • مندر آئی نئی نویلی دلہن بندروں کو پھل کھلانے کے دوران کھائی میں گر کر جاں‌بحق

    مندر آئی نئی نویلی دلہن بندروں کو پھل کھلانے کے دوران کھائی میں گر کر جاں‌بحق

    بھارت کی ریاست تامل ناڈو میں ایک افسوسناک حادثے میں بندروں کو پھل کھلانے کے دوران خوفزدہ ہو کر توازن کھو دینے والی نئی نویلی دلہن گہری کھائی میں گر کر جان کی بازی ہار گئی۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت 24 سالہ انیتا کے نام سے ہوئی ہے، جس کی شادی گزشتہ ماہ ہی 29 سالہ سریش سے ہوئی تھی۔ سریش بیرون ملک ملازمت کرتا ہے اور حال ہی میں وطن واپس آیا تھا۔رپورٹس کے مطابق شادی کے بعد جوڑا مقامی مندر میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے گیا، جہاں پوجا مکمل کرنے کے بعد دونوں قریبی پہاڑی کی چوٹی پر موجود بندروں کو پھل کھلانے لگے۔اسی دوران اچانک بڑی تعداد میں بندر ان کے قریب جمع ہوگئے، جس سے انیتا شدید خوفزدہ ہوگئی۔ گھبراہٹ کے باعث اس کا توازن بگڑ گیا اور وہ پہاڑی سے نیچے گہری کھائی میں جا گری۔مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کی، تاہم خاتون کو بچایا نہ جا سکا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انیتا موقع پر ہی دم توڑ گئی۔

  • لاہور،قاری کا تشدد،12 سالہ بچے کی موت

    لاہور،قاری کا تشدد،12 سالہ بچے کی موت

    لاہور کے علاقے برکی میں ایک مدرسے میں زیرِ تعلیم 12 سالہ طالب علم کے مبینہ تشدد کے نتیجے میں جاں بحق ہونے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد اہلِ خانہ نے ملزم قاری غلام رسول کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی ہے، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی تیز کر دی ہے۔

    پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچے کی شناخت علی حیدر کے نام سے ہوئی ہے، جو ضلع بہاولنگر کا رہائشی تھا اور دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور کے ایک مدرسے میں مقیم تھا۔ پولیس نے بتایا کہ بچے کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دی گئی ہے، جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ چند روز قبل مدرسے کے قاری غلام رسول نے علی حیدر کو مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے باعث اس کے جسم پر متعدد سنگین چوٹیں آئیں اور ہاتھوں اور ٹانگوں سمیت جسم کے مختلف حصوں میں فریکچر ہوئے۔ورثا کے مطابق جب بچے کی حالت تشویشناک ہو گئی تو ملزم نے مبینہ طور پر علاج کرانے کے بجائے اسے بس کے ذریعے گھر روانہ کر دیا اور والد کو اطلاع دی کہ بچہ واپس بھیج دیا گیا ہے۔اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ جب علی حیدر گھر پہنچا تو وہ شدید زخمی اور ناقابلِ بیان تکلیف میں تھا۔ اسے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال بہاولنگر منتقل کیا گیا، جہاں وہ دو روز تک زیرِ علاج رہا۔ اہلِ خانہ کے مطابق مجموعی طور پر آٹھ روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد علی حیدر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

    واقعے کے بعد بچے کے والد نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور ذمہ دار ملزم کو قانون کے مطابق سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو ایسے افسوسناک واقعات دوبارہ بھی پیش آ سکتے ہیں۔دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ نامزد ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • رنگ برنگے انڈرگارمنٹس پہننے سے روکا جاتا تھا ،اداکارہ کا انکشاف

    رنگ برنگے انڈرگارمنٹس پہننے سے روکا جاتا تھا ،اداکارہ کا انکشاف

    اداکارہ کنیکا مہیشوری نے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق کئی ایسے انکشافات کیے ہیں جنہوں نے مداحوں کو حیران کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ معاشرتی دباؤ اور "لوگ کیا کہیں گے” کے خوف نے ان کی زندگی کے کئی اہم فیصلوں پر گہرا اثر ڈالا، حتیٰ کہ کم عمری میں شادی اور جلد ماں بننے کا فیصلہ بھی اسی دباؤ کا نتیجہ تھا۔

    بھارتی ٹی وی انڈسٹری کی معروف اداکارہ کنیکا مہیشوری، جنہوں نے سپر ہٹ ڈرامہ "دیا اور باتی ہم” میں میناکشی راٹھی کا کردار ادا کرکے شہرت حاصل کی، ان دنوں اپنے نئے شو "سحر ہونے کو ہے” میں منفی کردار کے باعث خبروں میں ہیں۔ تاہم اس بار ان کی اداکاری نہیں بلکہ ان کی نجی زندگی سے متعلق اعترافات توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ایک حالیہ انٹرویو میں کنیکا نے بتایا کہ بچپن سے ہی انہیں لباس کے انتخاب پر سخت پابندیوں کا سامنا رہا۔ ان کے مطابق انہیں رنگ برنگے انڈرگارمنٹس پہننے سے بھی روکا جاتا تھا کیونکہ گھر والوں کو خدشہ تھا کہ اگر ان کا رنگ لباس سے نمایاں ہوا تو لوگ کیا کہیں گے۔اداکارہ نے کہا کہ انہیں اکثر یہ سننے کو ملتا تھا کہ سیاہ یا سرخ رنگ کے زیرِ جامہ نہ پہنو کیونکہ اگر وہ کپڑوں سے جھلک گئے تو لوگ غلط رائے قائم کریں گے۔ ان کے بقول معاشرے نے خواتین کے لباس اور ذاتی پسند کو بھی تنقید کا موضوع بنا رکھا ہے۔

    کنیکا مہیشوری نے اپنی شادی کے حوالے سے بھی چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہت کم عمر میں صرف اس خوف سے شادی کر لی کہ اگر تاخیر ہوئی تو لوگ باتیں بنائیں گے۔ شادی کے بعد بھی یہی دباؤ برقرار رہا اور انہیں جلد بچہ پیدا کرنے کے لیے مختلف انداز میں قائل کیا گیا۔اداکارہ کے مطابق ان کے شوہر اپنے دوستوں کی مثال دیتے تھے جن کے ہاں بچے ہو چکے تھے، جبکہ ان کی ساس کا کہنا تھا کہ گھر میں بچے کی آمد سے میاں بیوی کے درمیان محبت بڑھتی ہے اور اختلافات کم ہو جاتے ہیں۔ کنیکا نے اعتراف کیا کہ وہ اس سماجی دباؤ کے آگے جھک گئیں اور جلد ماں بننے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ اگرچہ یہ فیصلہ مکمل طور پر ان کی اپنی خواہش پر مبنی نہیں تھا، لیکن آج وہ اپنے بیٹے سے بے حد محبت کرتی ہیں۔ کنیکا نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ بچے کی پیدائش کے صرف بارہ دن بعد دوبارہ شوٹنگ پر واپس پہنچ گئی تھیں، جسے وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک مشکل مرحلہ قرار دیتی ہیں۔

    کنیکا مہیشوری کے یہ انکشافات سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں، جہاں کئی صارفین نے ان کی بے باکی کو سراہا، جبکہ بعض نے معاشرتی دباؤ کے باعث خواتین کو درپیش مسائل پر سنجیدہ بحث کی ضرورت پر زور دیا۔

  • محبت پر یقین آج بھی پہلے کی طرح مضبوط ہے،طلاق کے دو سال بعد اداکارہ کا بیان

    محبت پر یقین آج بھی پہلے کی طرح مضبوط ہے،طلاق کے دو سال بعد اداکارہ کا بیان

    ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ ایشا دیول نے شوہر بھرت تختانی سے طلاق کے تقریباً دو سال بعد اپنی ذاتی زندگی سے متعلق کھل کر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ علیحدگی کے بعد اگر کسی چیز کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے تو وہ محبت اور رومانس ہے، تاہم اس کے باوجود ان کا محبت پر یقین آج بھی پہلے کی طرح مضبوط ہے۔

    ایشا دیول نے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ 2024 میں 12 سالہ ازدواجی زندگی کے خاتمے کے باوجود ان کے اور سابق شوہر بھرت تختانی کے درمیان خوشگوار تعلقات برقرار ہیں۔ دونوں اپنی دو بیٹیوں کی مشترکہ پرورش کر رہے ہیں اور بچوں کی بھلائی کو ہمیشہ اولین ترجیح دیتے ہیں۔اداکارہ نے کہا کہ وہ فطری طور پر ایک رومانوی شخصیت کی مالک ہیں، اس لیے زندگی میں محبت اور رومانس کی کمی ضرور محسوس کرتی ہیں، لیکن کسی رشتے کے ختم ہونے سے ان کا محبت، اعتماد اور تعلقات پر یقین کبھی متزلزل نہیں ہوا۔

    اپنی ماضی کی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے ایشا دیول نے انکشاف کیا کہ شادی سے پہلے بھی ان کے بوائے فرینڈز رہے اور مختلف مواقع پر بریک اپس کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر ان تجربات نے بھی محبت پر ان کے اعتماد کو کمزور نہیں کیا۔ ان کے بقول، "میرے پہلے بھی بوائے فرینڈز تھے، پہلے بھی بریک اپ ہوئے، لیکن ان میں سے کوئی بھی چیز محبت پر میرے یقین کو ہلا نہیں سکی۔”انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے والدین، معروف اداکار دھرمندر اور ہیما مالنی، کی مضبوط محبت کو دیکھتے ہوئے بڑی ہوئی ہیں، اسی لیے ان کا ماننا ہے کہ حقیقی محبت ہمیشہ موجود رہتی ہے۔

    طلاق سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ایشا دیول نے کہا کہ یہ ان کی نجی زندگی کا انتہائی ذاتی معاملہ تھا اور وہ کبھی بھی اپنی ذاتی زندگی کو عوامی بحث کا موضوع نہیں بنانا چاہتی تھیں۔ ان کے مطابق چونکہ اس معاملے میں ان کی بیٹیاں بھی شامل تھیں، اس لیے ہر فیصلہ نہایت سوچ سمجھ کر کیا گیا۔

    واضح رہے کہ ایشا دیول اور بھارت تختانی نے 2012 میں شادی کی تھی، تاہم تقریباً 12 برس بعد دونوں نے باہمی رضامندی سے علیحدگی اختیار کر لی۔ ان کی طلاق اس وقت بالی ووڈ کی نمایاں خبروں میں شامل رہی، تاہم دونوں نے ہمیشہ باوقار انداز میں اپنی نجی زندگی کو میڈیا کی توجہ سے دور رکھنے کی کوشش کی۔

  • اداکارہ دیشا پٹانی پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا

    اداکارہ دیشا پٹانی پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا

    ممبئی: بالی ووڈ کی معروف اداکارہ دیشا پٹانی، جانوروں سے بے پناہ محبت رکھنے والی اداکارہ نے ایک ہی دن اپنے دو انتہائی عزیز پالتو جانوروں، کتے بیلا اور بلی جیسمین کو کھو دیا، جس کے بعد ان کے گھر میں سوگ کی فضا چھا گئی۔

    دیشا پٹانی سوشل میڈیا پر اکثر اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتی رہی ہیں اور متعدد انٹرویوز میں انہیں اپنی زندگی کا اہم حصہ قرار دے چکی ہیں۔ ان کے مطابق بیلا اور جیسمین نہ صرف ان کے بہترین ساتھی تھے بلکہ مصروف فلمی شیڈول کے بعد ان کی تھکن اور ذہنی دباؤ دور کرنے کا بھی ذریعہ بنتے تھے۔اداکارہ نے اس افسوسناک خبر سے اپنے مداحوں کو انسٹاگرام پر آگاہ کیا، جہاں انہوں نے دونوں پالتو جانوروں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے جذباتی پیغامات لکھے۔ بیلا کے نام اپنے پیغام میں دیشا نے کہا کہ اس نے ان کی زندگی کو خوبصورت اور رنگین بنایا، انہیں بے لوث محبت کا حقیقی مطلب سکھایا اور وہ ہمیشہ ان کی یادوں میں زندہ رہے گی۔

    اپنی بلی جیسمین کے لیے بھی دیشا نے محبت بھرے الفاظ لکھتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی سب سے پیاری "شہزادی” تھی اور اس کی ماں بننا ان کی زندگی کے خوبصورت ترین تجربات میں سے ایک تھا۔ انہوں نے لکھا کہ جیسمین ہمیشہ ان کے دل میں زندہ رہے گی۔دونوں پالتو جانوروں کی ایک ہی دن موت کی خبر نے مداحوں اور شوبز شخصیات کو بھی افسردہ کر دیا۔ سوشل میڈیا پر دیشا پٹانی کی پوسٹ پر ہزاروں مداحوں نے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اداکارہ کو صبر کی دعا دی۔

    دیشا پٹانی جانوروں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے بھی سرگرم رہتی ہیں اور کئی مواقع پر بے سہارا جانوروں کی دیکھ بھال اور ان کی حفاظت کے لیے آواز بلند کر چکی ہیں۔ قریبی ذرائع کے مطابق اپنے دونوں محبوب پالتو جانوروں کے اچانک انتقال کے بعد اداکارہ شدید غم میں ہیں اور انہیں اس صدمے سے نکلنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

  • بچوں سے زیادتی ، سخت سزائیں کافی نہیں، آگاہی اور تعلیم بھی ضروری ہے، خاقان شاہنواز

    بچوں سے زیادتی ، سخت سزائیں کافی نہیں، آگاہی اور تعلیم بھی ضروری ہے، خاقان شاہنواز

    لاہور: پاکستانی اداکار اور سوشل میڈیا انفلوئنسر خاقان شاہنواز نے حالیہ منتہا کیس اور بچوں کے ساتھ پیش آنے والے دیگر زیادتی کے واقعات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے سنگین جرائم کی روک تھام کے لیے صرف سخت سزائیں کافی نہیں بلکہ معاشرتی شعور، آگاہی اور تعلیم پر بھی توجہ دینا ہوگی۔

    انسٹاگرام پر جاری کی گئی اپنی ویڈیو میں خاقان شاہنواز نے کہا کہ حالیہ منتہا کیس میں حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا، تاہم اس کے باوجود کمسن بچوں کے ساتھ اسی نوعیت کے مزید واقعات سامنے آئے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا صرف سخت سزائیں ایسے جرائم کی مؤثر روک تھام کے لیے کافی ہیں۔انہوں نے کہا کہ توجہ صرف مجرموں کو سزا دینے تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ ان عوامل پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے جو ایسے جرائم کو جنم دیتے ہیں۔اداکار کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں جنسی آگاہی، عوامی شعور اور بچوں کے تحفظ جیسے اہم موضوعات پر کھل کر بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے، حالانکہ ان حساس معاملات پر مؤثر آگاہی مہمات ایسے واقعات کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

    خاقان شاہنواز نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ معاشرے میں فوری ردِعمل اور وقتی اقدامات کو تو سراہا جاتا ہے، لیکن دیرپا اور مؤثر حل تلاش کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کم نظر آتی ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے جامع حکمتِ عملی اختیار کی جائے، جس میں والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں اور متعلقہ اداروں کا فعال کردار شامل ہو۔ ان کے مطابق اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بچوں کی عمر کے مطابق مناسب آگاہی اور حفاظتی تعلیم فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اپنے پیغام کے اختتام پر خاقان شاہنواز نے کہا کہ جب تک معاشرہ تعلیم، آگاہی اور اجتماعی ذمہ داری کے ذریعے حقیقی تبدیلی کی جانب پیش رفت نہیں کرے گا، اس وقت تک بچوں کے ساتھ پیش آنے والے ایسے افسوس ناک واقعات کی مؤثر روک تھام ممکن نہیں ہو سکے گی۔