امریکا اور ایران کے درمیان طے شدہ تکنیکی مذاکرات حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث معطل کر دیے گئے ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیموں کے درمیان مذاکرات 28 اور 29 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے تھے، تاہم تازہ صورتحال کے پیش نظر انہیں مؤخر کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد اعتماد سازی اور مختلف تکنیکی امور پر پیش رفت کے لیے شیڈول کیے گئے تھے۔ ان ملاقاتوں میں متعدد اہم معاملات پر تبادلہ خیال متوقع تھا۔
ذرائع کے مطابق حالیہ فوجی کشیدگی اور ایک دوسرے پر حملوں کے بعد سفارتی ماحول متاثر ہوا، جس کے نتیجے میں مذاکرات کا انعقاد ممکن نہ رہ سکا۔ اگرچہ مذاکرات کی نئی تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات میں بہتری آنے کے بعد نئی تاریخ طے کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران اور امریکا ایک دوسرے پر حالیہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کر چکے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا مزید متاثر ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تکنیکی مذاکرات کی معطلی سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کو عارضی دھچکا پہنچ سکتا ہے، تاہم عالمی برادری اب بھی دونوں ممالک پر مذاکرات کی بحالی اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے زور دے رہی ہے۔
ایران اور امریکا کے تکنیکی مذاکرات حالیہ کشیدگی کے باعث معطل
