Baaghi TV

Blog

  • سسر سے ناجائز تعلقات،بہو اور سسر نے ملکر خاتون کی جان لے لی

    سسر سے ناجائز تعلقات،بہو اور سسر نے ملکر خاتون کی جان لے لی

    بھارت کی ریاست جھارکھنڈ کے ضلع گریڈیہ کے بھراکٹا تھانہ علاقے میں ایک 55 سالہ خاتون کے قتل نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی۔ پولیس نے مقتولہ کلسی دیوی کے قتل کے الزام میں ان کے شوہر دولت ساو اور چھوٹی بہو پریتی کماری کو گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا ہے۔

    پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ دولت ساو اور ان کی چھوٹی بہو کے درمیان مبینہ ناجائز تعلقات تھے، جن کی مقتولہ مسلسل مخالفت کرتی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسی تنازع کے باعث دونوں ملزمان نے مبینہ طور پر کلسی دیوی کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔تفتیشی حکام کے مطابق واقعہ جمعہ کی رات پیش آیا، جب مبینہ طور پر تیز دھار آلے سے کلسی دیوی کا گلا کاٹ کر انہیں قتل کیا گیا۔ الزام ہے کہ واردات کے بعد لاش کو گھر کے ایک کمرے میں بند کر دیا گیا جبکہ دروازے پر باہر سے تالا لٹکا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ خاتون گھر پر موجود نہیں ہیں۔پولیس کے مطابق جب پڑوسیوں نے کلسی دیوی کے بارے میں دریافت کیا تو پریتی کماری نے انہیں بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کے گھر گئی ہیں۔ تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمان نے لاش کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کی، تاہم اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔

    اتوار کی صبح دولت ساو خود گاؤں کے سربراہ کے پاس پہنچا اور دعویٰ کیا کہ کسی نامعلوم شخص نے اس کی بیوی کو قتل کر دیا ہے۔ اطلاع ملنے پر بھراکٹا تھانے کے انچارج اوم پرکاش پانڈے پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جس کمرے میں لاش موجود تھی، اس کے دروازے پر تالا صرف دکھاوے کے لیے لگایا گیا تھا۔ کمرہ کھولنے پر اندر سے شدید بدبو آ رہی تھی، جس سے شبہ ہوا کہ قتل کئی گھنٹے قبل کیا جا چکا تھا۔پولیس نے لاش قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر دولت ساو اور پریتی کماری کو حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں مقتولہ کی بڑی بہو ہیمنتی دیوی کی تحریری شکایت پر قتل کا مقدمہ درج کرکے دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا۔

    مقامی افراد کے مطابق دولت ساو اور پریتی کماری کے درمیان مبینہ تعلقات کا معاملہ تقریباً دو سال قبل بھی گاؤں میں زیر بحث آیا تھا۔ گاؤں والوں کا دعویٰ ہے کہ اس وقت پریتی کماری نے اپنے سسر پر سنگین الزامات عائد کیے تھے، جن میں نشہ آور چیز پلا کر جنسی استحصال کرنے کا الزام بھی شامل تھا۔ اس معاملے پر گاؤں میں پنچایت منعقد ہوئی تھی، جہاں مبینہ طور پر دولت ساو نے معافی مانگی، جبکہ پریتی کا شوہر، جو روزگار کے سلسلے میں حیدرآباد میں رہتا ہے، اپنی اہلیہ کو اپنے ساتھ لے گیا تھا۔مقامی افراد کے مطابق چند ماہ بعد پریتی کماری دوبارہ گاؤں واپس آ گئی اور اس کے بعد دونوں کے درمیان مبینہ تعلقات دوبارہ قائم رہے، جن کی کلسی دیوی مخالفت کرتی تھیں۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ یہی خاندانی تنازع بالآخر قتل کی وجہ بنا۔

    بھراکٹا تھانے کے انچارج اوم پرکاش پانڈے کے مطابق جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد، گواہوں کے بیانات اور دورانِ تفتیش سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر دونوں ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر فرانزک شواہد کا بھی انتظار کیا جا رہا ہے۔پولیس نے واضح کیا ہے کہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور عدالت میں جرم ثابت ہونے تک تمام ملزمان قانون کی نظر میں بے گناہ تصور کیے جائیں گے۔

  • سوشل میڈیا کی دوستی،بیوہ خاتون کو نوکری دلانے کا جھانسہ،کروائی گئی جسم فروشی

    سوشل میڈیا کی دوستی،بیوہ خاتون کو نوکری دلانے کا جھانسہ،کروائی گئی جسم فروشی

    بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع اناؤ میں سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی دوستی ایک بیوہ خاتون کے لیے خوفناک سانحہ بن گئی۔

    متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ انسٹاگرام پر دوستی کے بعد اسے نوکری دلانے کا جھانسہ دے کر نوئیڈا منتقل کیا گیا، جہاں اس سے جبری شادی کرائی گئی، جسم فروشی پر مجبور کیا گیا اور کئی ماہ تک ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ عدالت کے حکم پر پولیس نے پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔متاثرہ خاتون کے مطابق سال 2025 میں اس کی انسٹاگرام پر ضلع کاس گنج کی رہائشی شیوکماری نامی خاتون سے دوستی ہوئی۔ بات چیت کے دوران شیوکماری نے اس کی مالی مشکلات اور بیوہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نوئیڈا میں اچھی ملازمت دلانے کی پیشکش کی۔ اپنے چار سالہ بیٹے کے بہتر مستقبل کی امید میں متاثرہ 10 اکتوبر 2025 کو اناؤ کے گڈانکھیڑا بائی پاس پہنچی، جہاں شیوکماری کے بیٹے اتل اور اس کے ساتھی سچن بھاٹی اسے گاڑی میں بٹھا کر نوئیڈا لے گئے۔خاتون کا الزام ہے کہ نوئیڈا پہنچنے کے بعد اسے ایک مکان میں قید کر دیا گیا اور گھریلو کام کاج پر مجبور کیا گیا۔ صرف چار روز بعد، 14 اکتوبر کو، شیوکماری، اس کے بیٹے اتل، بیٹی، بہنوئی اور سچن بھاٹی نے مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دے کر عدالت میں اس کی اتل کے ساتھ جبری شادی کرا دی۔

    شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ شادی کے بعد ملزمان نے اسے دوسرے مردوں کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا۔ انکار کی صورت میں اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور مسلسل ذہنی و جسمانی اذیت دی جاتی رہی۔متاثرہ کے مطابق اس دوران وہ حاملہ ہوگئی اور ایک بچی کو جنم دیا، تاہم بچی کی پیدائش کے بعد بھی مبینہ ظلم کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس کے کھانے میں نشہ آور ادویات ملا دی جاتی تھیں اور بے ہوشی کی حالت میں مختلف افراد کو بلا کر اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی جاتی تھی، جبکہ مزاحمت پر اسے شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔خاتون نے بتایا کہ ایک موقع پر ملزم کا موبائل فون ہاتھ لگنے پر اس نے خفیہ طور پر پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد اس کا بھائی نوئیڈا پہنچا اور اسے وہاں سے واپس گھر لے آیا۔اس نے بگا پور کوتوالی پولیس اور ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ کو تحریری شکایت بھی دی، لیکن طویل عرصے تک کوئی کارروائی نہ ہونے پر اس نے انصاف کے لیے سول جج کی فاسٹ ٹریک کورٹ سے رجوع کیا۔

    عدالت کے حکم پر بگا پور کوتوالی پولیس نے شیوکماری، اس کے بیٹے اتل، بیٹی، بہنوئی اور سچن بھاٹی کے خلاف جبری شادی، مبینہ اجتماعی زیادتی، انسانی اسمگلنگ، تشدد اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔اسٹیشن ہاؤس آفیسر اروند کمار کے مطابق عدالت کی ہدایت پر ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور تمام نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں .

  • بلوچستان کے اضلاع سبی اور کوہلو میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے اضلاع سبی اور کوہلو میں زلزلے کے جھٹکے

    کوئٹہ: بلوچستان کے اضلاع سبی اور کوہلو میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد افراد احتیاطاً گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ضلع سبی میں زلزلے کی شدت 4.2 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی گہرائی 42 کلومیٹر تھی۔ حکام کے مطابق زلزلے کا مرکز سبی شہر سے 57 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع تھا۔دوسری جانب ضلع کوہلو میں زلزلے کی شدت 5.0 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اس زلزلے کی گہرائی 18 کلومیٹر تھی، جبکہ اس کا مرکز کوہلو شہر سے 65 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع تھا۔زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے کے بعد مختلف علاقوں میں لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے کھلے مقامات کی جانب نکل آئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

  • وینزویلا،زلزلے سے ہلاکتیں 235 ہو گئیں،امدادی کاروائیاں جاری

    وینزویلا،زلزلے سے ہلاکتیں 235 ہو گئیں،امدادی کاروائیاں جاری

    سیاسی اور معاشی بحران کے شکار جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں آنے والے دو شدید زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 235 تک پہنچ گئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد اب بھی لاپتا یا ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ امدادی ٹیمیں متاثرین کو بچانے کے لیے "گولڈن آور” کے دوران مسلسل کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق دوسرا زلزلہ گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے میں وینزویلا میں آنے والا سب سے طاقتور زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دارالحکومت کاراکاس، ساحلی ریاست لا گوائرا اور قریبی علاقوں میں متعدد رہائشی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں، جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔حکام کے مطابق متعدد عمارتوں کے ملبے میں اب بھی لوگوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ ریسکیو اہلکار بھاری مشینری اور خصوصی آلات کی مدد سے متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشن کر رہے ہیں، تاہم خراب انفراسٹرکچر اور وسائل کی کمی امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں لوگ اپنے پیاروں کی تلاش میں خود ملبہ ہٹا رہے ہیں کیونکہ سرکاری امداد ہر مقام تک نہیں پہنچ سکی۔

    زلزلے کے بعد امریکی محکمہ خزانہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وینزویلا پر عائد بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کا اعلان کیا ہے۔اعلامیے کے مطابق 26 جون سے 23 اکتوبر تک زلزلہ متاثرین کی امداد سے متعلق مالی لین دین کی اجازت دی گئی ہے تاکہ امدادی ادارے، غیر سرکاری تنظیمیں اور مالیاتی ادارے متاثرین تک فوری مدد پہنچا سکیں۔

    مقامی ماہرین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی امدادی کارروائیاں انتہائی سست ہیں۔ معاشی ماہر جارج جریساتی کے مطابق عوام کو یقین نہیں کہ ریاست ان کی مؤثر مدد کر سکے گی کیونکہ ملک میں حکومتی اداروں کی صلاحیت پہلے ہی شدید متاثر ہو چکی ہے۔دوسری جانب مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کا زیادہ تر انحصار رضاکاروں، چرچز، مقامی تنظیموں اور شہریوں پر ہے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قدرتی آفت قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت شفاف اور مؤثر انداز میں امدادی کارروائیاں انجام دینے میں کامیاب رہی تو عوام کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے، تاہم بدانتظامی یا امداد کی غیرمنصفانہ تقسیم عوامی غم و غصے میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔

    زلزلے کے دوران سائمن بولیوار انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجود ایک مسافر طیارہ شدید جھٹکوں کی زد میں آگیا، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق مسافر خوف کے عالم میں اپنی نشستوں کو مضبوطی سے پکڑے رہے جبکہ طیارہ رن وے پر ہلتا رہا۔ زلزلے سے ہوائی اڈے کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد اسے عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔

    زلزلے کے بعد عالمی سطح پر امدادی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔امریکا نے ریسکیو ٹیمیں، طبی امداد اور 150 ملین ڈالر کی انسانی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ شہری علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی تعیناتی کو مربوط بنا رہی ہے۔اس کے علاوہ کولمبیا، میکسیکو، اسپین، فرانس، چلی، ایل سلواڈور، پاناما، کیوبا، ڈومینیکن ریپبلک، جاپان، چین اور ایران سمیت متعدد ممالک نے امدادی ٹیمیں، ڈاکٹرز، ریسکیو اہلکار، ادویات اور ضروری سامان وینزویلا بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

    زلزلے کے بعد مسلسل آفٹر شاکس کے خوف سے ہزاروں شہری رات سڑکوں، پارکوں اور کھلے میدانوں میں گزارنے پر مجبور ہیں۔متاثرہ علاقوں میں بجلی، مواصلاتی نظام اور بنیادی سہولیات بری طرح متاثر ہوئی ہیں جبکہ امدادی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ملبے تلے دبے افراد کو جلد نہ نکالا گیا تو ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق وینزویلا کو فوری انسانی امداد، طبی سہولیات، عارضی رہائش اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے عالمی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔

  • برطانیہ میں شدید گرمی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

    برطانیہ میں شدید گرمی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

    لندن: برطانیہ میں جاری غیر معمولی ہیٹ ویو نے گزشتہ کئی دہائیوں کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں، جہاں جون کے مہینے کا نیا بلند ترین درجہ حرارت 36.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مسلسل دوسرے روز جون کے درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ قائم ہونے کے بعد حکام نے صحت، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی خدمات کے لیے ہنگامی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔

    شدید گرمی کے باعث ملک بھر میں اسپتالوں، ایمبولینس سروسز، اسکولوں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور پانی کی فراہمی کا نظام شدید دباؤ میں آ گیا ہے، جبکہ متعدد علاقوں میں ریڈ ہیٹ الرٹ برقرار رکھا گیا ہے۔سرکاری اداروں کے مطابق لندن ایمبولینس سروس نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ہی روز 642 جان لیوا ہنگامی کالز موصول ہونے کا ریکارڈ بنایا، جس کی بڑی وجہ شدید گرمی قرار دی گئی۔یونیورسٹی ہاسپٹل ساؤتھمپٹن میں متعدد آپریشنز اور آؤٹ پیشنٹ اپائنٹمنٹس ملتوی کر دی گئی ہیں، جبکہ نورفوک اینڈ نوروچ یونیورسٹی ہاسپٹل میں ایم آر آئی مشینوں کے متاثر ہونے سے سینکڑوں مریضوں کی اپائنٹمنٹس منسوخ کرنا پڑیں۔

    دوسری جانب ڈربی شائر کے علاقے ٹنٹ وسل مور میں لگنے والی جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے فائرفائٹرز گزشتہ 24 گھنٹوں سے زائد عرصے سے مصروف ہیں۔ تقریباً 500 مربع میٹر رقبہ آگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جبکہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے پانی بھی گرایا جا رہا ہے۔ فائر اینڈ ریسکیو حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ خشک موسم کے باعث معمولی چنگاری بھی بڑے جنگلاتی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

    شدید گرمی کے پیش نظر کینٹ میں پانی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ہوز پائپ بین نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ متعدد اسکول اور نرسریاں بند کر دی گئی ہیں۔ ریلوے کمپنیوں نے شہریوں کو غیر ضروری سفر، خصوصاً ساحلی علاقوں کی جانب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ شدید گرمی کے باعث ٹرانسپورٹ نظام بھی متاثر ہو رہا ہے۔برطانوی محکمہ موسمیات نے لندن، جنوب مشرقی اور مشرقی انگلینڈ سمیت متعدد علاقوں کے لیے ریڈ ہیٹ وارننگ میں توسیع کرتے ہوئے اسے جمعہ کی رات تک برقرار رکھا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مسلسل تین روز تک ریڈ ہیٹ وارننگ جاری کی گئی ہے، جبکہ دیگر کئی علاقوں میں ایمبر اور یلو ہیٹ الرٹس نافذ ہیں۔

    ادھر یورپ بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ نیدرلینڈز میں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے پر ملکی تاریخ کا پہلا کوڈ ریڈ ہیٹ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ فرانس میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران گرمی کے دوران نہاتے ہوئے کم از کم 40 افراد ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں، جس کے بعد پیرس میں عوامی مقامات پر دوپہر کے بعد شراب نوشی پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ماہرین موسمیات اور اقوام متحدہ کے موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ شدید گرمی موسمیاتی تبدیلیوں کا واضح نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے، جبکہ گرین ہاؤس گیسوں کے مسلسل اخراج نے ایسے شدید موسمی واقعات کی شدت اور تعداد میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

  • بلاول کے بلدیاتی الیکشن کے مطالبے سے ن لیگ خوفزدہ ہے۔ وقار مہدی

    بلاول کے بلدیاتی الیکشن کے مطالبے سے ن لیگ خوفزدہ ہے۔ وقار مہدی

    پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری سینیٹر وقار مہدی نےمسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے ٹویٹ پر ردعمل میں کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زداری کے بلدیاتی الیکشن کے مطالبے سے ن لیگ خوفزدہ ہے۔

    سینیٹر وقار مہدی کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے اپنے دور حکومت میں دو بار بلدیاتی الیکشن کرواچکی ہے۔2027 میں انشاءاللہ تیسری بار سندھ میں بلدیاتی الیکشن منعقد ہوں گے۔پیپلزپارٹی کے سندھ میں بلدیاتی قانون اور نظام کا اگر مخالفین معائنہ کرلیں تو وہ شرمندگی سے بچ جائیں گے۔پیپلزپارٹی نے تو پنجاب اور اسلام آباد بلدیاتی الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔۔ آپ تو رونے لگے۔ ڈریں نہیں بلدیاتی الیکشن کرائیں جو عوام میں مقبول ہوگا وہ کامیاب ہوگا۔سندھ میں بلدیاتی نظام بہترین و موثر انداز سے ڈلیور کر رہا ہے جس کی عوامی پزیرائی ہے۔ آپ پیپلزپارٹی سے بہتر بلدیاتی قانون لے آئیں اگر ہم سے بہتر ہوا تو عوام خود تعریف کریں گے۔

  • زندگی میں تبدیلی ضروری،مختصر لباس پہننا چھوڑ دیا ہے،سامعہ حجاب

    زندگی میں تبدیلی ضروری،مختصر لباس پہننا چھوڑ دیا ہے،سامعہ حجاب

    سامعہ حجاب نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی شخص کو اپنی غلطیوں کی اصلاح کا دوسرا موقع نہیں ملتا، جبکہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہمیشہ توبہ اور بہتری کی راہ اختیار کرنے کا موقع عطا فرماتا ہے۔

    پاکستانی سوشل میڈیا انفلوئنسر سامعہ حجاب، جو ماضی میں اپنے مبینہ اغوا کی کوشش کے دعوے کے باعث خبروں میں رہی تھیں، ایک بار پھر اپنے حالیہ بیان کی وجہ سے توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ مبینہ اغوا کے واقعے کے بعد یہ معاملہ عدالت سے باہر طے پا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے بیرونِ ملک سفر شروع کیا اور مختلف تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرتی رہیں۔اس دوران ان کے لباس، طرزِ زندگی اور سوشل میڈیا سرگرمیوں پر صارفین کی جانب سے مختلف آراء سامنے آتی رہیں۔ بعض سوشل میڈیا صارفین نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مبینہ اغوا کے واقعے کو ہمدردی اور شہرت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

    اب سامعہ حجاب نے انسٹاگرام پر اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خود کو بدلنا چاہتی ہیں، لیکن انہیں سوشل میڈیا پر ہونے والی شدید تنقید اور ٹرولنگ کا خوف بھی لاحق ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ اللّٰہ کی خوشنودی کے لیے اپنی زندگی میں تبدیلی لانا ضروری ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے مختصر اور نمایاں لباس پہننا ترک کر دیا ہے اور حجاب اختیار کرنے کی بھی کوشش کی ہے، تاہم انہیں خدشہ ہے کہ اس فیصلے پر بھی سوشل میڈیا صارفین انہیں تنقید کا نشانہ بنائیں گے۔

    سامعہ حجاب نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ان کے نزدیک سوشل میڈیا کسی کو دوسرا موقع نہیں دیتا، جبکہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہمیشہ توبہ، اصلاح اور نئی شروعات کا موقع عطا فرماتا ہے۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے، جہاں بعض صارفین نے ان کے فیصلے کو سراہا ہے جبکہ بعض نے مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔

  • پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، دہشتگردی کا منصوبہ ناکام

    پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، دہشتگردی کا منصوبہ ناکام

    پنجگور: سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں خفیہ اطلاع پر مبنی کامیاب کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ، دھماکا خیز مواد اور مواصلاتی آلات برآمد کر لیے گئے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی میں اہلکاروں نے ایک مشکوک گاڑی کو روک کر اس کی تلاشی لی، جس کے دوران چار راکٹ فیوز، متعدد دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) اور دہشتگردانہ سرگرمیوں میں رابطے اور منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہونے والا مواصلاتی سامان برآمد ہوا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق برآمد ہونے والا دھماکا خیز مواد اور دیگر سامان علاقے میں تخریبی کارروائی کے لیے استعمال کیا جانا تھا، جس کا مقصد امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا اور شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا تھا۔ تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے اس مذموم منصوبے کو ناکام بنا دیا اور ایک ممکنہ بڑے سانحے سے بچا لیا۔

    کارروائی کے فوراً بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا، جبکہ واقعے میں ملوث دیگر عناصر اور سہولت کاروں کی تلاش بھی جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے ذریعے اس نیٹ ورک کی نشاندہی کی جا رہی ہے جو اس منصوبے کے پیچھے کارفرما تھا، تاکہ اس کے تمام ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔سیکیورٹی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی اور دہشتگرد عناصر کے خلاف بلاامتیاز اقدامات کیے جائیں گے۔حکام کے مطابق پنجگور میں کی جانے والی یہ کامیاب کارروائی دہشتگردی کے خلاف جاری مہم میں ایک اہم پیش رفت ہے، جو سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت، باہمی رابطے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ان کی مؤثر حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔

  • عمان کے قریب کارگو جہاز پر حملے کے بعد عالمی منڈی میں‌تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

    عمان کے قریب کارگو جہاز پر حملے کے بعد عالمی منڈی میں‌تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

    عمان کے جنوب مشرقی ساحلی علاقے میں ایک کارگو جہاز پر نامعلوم پروجیکٹائل حملے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بھی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔

    برطانوی میری ٹائم ایجنسی کے مطابق عمان کے ساحل سے تقریباً ساڑھے سات ناٹیکل میل کے فاصلے پر موجود ایک کارگو جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کے اگلے حصے کو نقصان پہنچا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں،واقعے کے فوری بعد عالمی تیل مارکیٹ میں بے چینی دیکھی گئی اور خام تیل کی قیمتوں میں دو فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 1.52 ڈالر یا 2.1 فیصد اضافے کے بعد 75.26 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 1.58 ڈالر یا 2.3 فیصد اضافے کے ساتھ 71.92 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

    خبر رساں اداروں کے مطابق اس سے ایک روز قبل خام تیل کی قیمتیں 27 فروری کے بعد اپنی کم ترین سطح پر بند ہوئی تھیں، تاہم عمان کے قریب پیش آنے والے اس حملے نے مارکیٹ کا رجحان یکسر تبدیل کر دیا۔رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد اہم عالمی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کے انخلا اور نقل و حرکت سے متعلق بعض اقدامات عارضی طور پر روک دیے گئے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں۔

  • بنوں،سی پیک سرکلر روڈ پر نجی ایمبولینس پر فائرنگ، 4 افراد جاں بحق

    بنوں،سی پیک سرکلر روڈ پر نجی ایمبولینس پر فائرنگ، 4 افراد جاں بحق

    بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سی پیک سرکلر روڈ پر نامعلوم مسلح افراد کی نجی ایمبولینس پر اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق واقعہ غوری والا کے علاقے میں پیش آیا، جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے سی پیک روڈ سے گزرنے والی نجی ایمبولینس کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایمبولینس میں موجود چار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ جاں بحق افراد کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال بنوں منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ مقتولین کی شناخت کا عمل جاری ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق واقعہ دہشت گردی معلوم ہوتا ہے، تاہم تفتیش مختلف پہلوؤں سے جاری ہے تاکہ حملے کی نوعیت اور اس کے پس پردہ عناصر کا تعین کیا جا سکے۔

    حکام کے مطابق ایمبولینس کو نشانہ بنانا انتہائی سنگین اور قابل مذمت فعل ہے، کیونکہ ایمبولینس ایک انسانی خدمت انجام دینے والی گاڑی ہوتی ہے جو مریضوں، زخمیوں اور میتوں کی منتقلی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ ایسے حملے نہ صرف انسانی جانوں بلکہ بنیادی انسانی اور اخلاقی اقدار پر بھی حملہ تصور کیے جاتے ہیں۔واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث عناصر کی گرفتاری اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ریاستی ادارے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔