ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایران نے اسرائیل کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں میں تین مختلف اقسام کے بیلسٹک میزائل استعمال کیے، جن میں خیبر شکن اور حاج قاسم میزائلوں کے جدید ورژن بھی شامل تھے۔ ان میزائلوں کے استعمال نے خطے میں فوجی ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیتوں سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دفاعی ماہرین کی جانب سے کیے گئے تکنیکی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ خیبر شکن اور حاج قاسم میزائل بنیادی ساخت، ظاہری ڈیزائن اور بعض تکنیکی خصوصیات میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں، تاہم ان کے آپریشنل طریقہ کار اور ہدف تک پہنچنے کی حکمت عملی میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق خیبر شکن میزائل کو انتہائی بلندی پر پرواز کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ میزائل بلند فضائی راستہ اختیار کرتے ہوئے تیز رفتار سے اپنے ہدف کی جانب بڑھتا ہے اور جدید فضائی دفاعی نظاموں کو چکمہ دینے یا انہیں غیر مؤثر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب حاج قاسم میزائل نسبتاً کم بلندی پر سفر کرتا ہے، جس کے باعث اسے ریڈار پر شناخت کرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم بلندی پر پرواز کی وجہ سے یہ میزائل دشمن کے نگرانی کے نظام سے بچنے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ درستگی کے اعتبار سے حاج قاسم میزائل کو زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر ایران نے اس کا ایک جدید ورژن ’’قاسم بصیر‘‘ بھی تیار کیا ہے، جس میں ہدف شناسی کی جدید ٹیکنالوجی شامل کی گئی ہے۔
قاسم بصیر میزائل میں وارہیڈ کے ساتھ جدید آپٹیکل ٹریکنگ سسٹم نصب کیا گیا ہے، جو دورانِ پرواز ہدف کی مسلسل نگرانی اور انتہائی درست نشاندہی کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی مدد سے میزائل کی ہدف پر لگنے کی شرح اور آپریشنل مؤثریت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جدید میزائل ٹیکنالوجی کی یہ پیش رفت خطے میں اسٹریٹجک توازن اور دفاعی حکمت عملیوں پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایسے ہتھیاروں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ایران نے اسرائیل کے خلاف جدید بیلسٹک میزائل استعمال کیے
