امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی ایک تفصیلی رپورٹ نے جاپانی فن “شیباری” یا “رسی پلے” کو ایک بار پھر عالمی بحث کا موضوع بنا دیا ہے، جہاں بعض جوڑے اسے تعلقات میں اعتماد، قربت اور بہتر رابطے کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ عمل کمزور رشتوں کی خامیوں کو بھی بے نقاب کر سکتا ہے۔
شیباری، جس کا مطلب جاپانی زبان میں “باندھنا” یا “گرہ لگانا” ہے، دراصل رسیوں کے ذریعے جسم کو مخصوص انداز میں باندھنے کا ایک قدیم فن ہے۔ ماضی میں اسے محض ایک جنسی رجحان یا درد و تسلط سے وابستہ سرگرمی سمجھا جاتا تھا، مگر اب اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف جسمانی نہیں بلکہ جذباتی رابطے کا بھی ایک منفرد ذریعہ بن چکا ہے۔شیباری اکیڈمی کی بانی سارا لانڈا نے کہا کہ شیباری دراصل “بغیر الفاظ کے گفتگو” ہے۔ ان کے مطابق اس عمل میں شریک افراد ایک دوسرے کے سانس لینے کے انداز، جسمانی تناؤ، حرکات اور چہرے کے تاثرات کو محسوس کرتے ہیں، جس سے گہری قربت پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید دور میں لوگ جذباتی تنہائی کا زیادہ شکار ہیں اور اسی وجہ سے ایسے تجربات کی طرف مائل ہو رہے ہیں جو اعتماد، حدود کے تعین اور باہمی رابطے کو مضبوط کریں۔ ان کے مطابق شیباری مکمل توجہ، اعتماد اور حساس رابطے کا نام ہے۔
رپورٹ میں شامل ایک جوڑے رچرڈ اور کیٹ نے بتایا کہ ابتدا میں وہ شیباری کو محض درد اور اطاعت سے جڑی سرگرمی سمجھتے تھے، لیکن بعد میں انہیں احساس ہوا کہ یہ ان کے تعلق کو زیادہ متوازن اور مضبوط بنانے کا ذریعہ بن گیا۔رچرڈ کے مطابق، “ہم اب ایک دوسرے کو صرف دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں۔ اگر تکلیف ہو تو فوراً بتاتے ہیں، اگر مدد چاہیے ہو تو مانگ لیتے ہیں۔”کیٹ نے کہا کہ شیباری نے ان کے تعلق کی نوعیت بدل دی اور رشتے میں برابری کا احساس پیدا کیا۔
اسی طرح ایک اور جوڑے نے بتایا کہ انہوں نے تعلق کے ابتدائی دنوں میں شیباری آزمایا تھا۔ ان کے مطابق ابتدا میں یہ محض ایک “دلچسپ تجربہ” لگا، مگر بعد میں اس نے انہیں ایک دوسرے کے جذبات اور کمزوریوں کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دی۔یاسمین کا کہنا تھا کہ شیباری نے انہیں اپنی ضروریات واضح انداز میں بیان کرنا سکھایا۔ “جب آپ مکمل طور پر دوسرے شخص پر اعتماد کرتے ہیں تو آپ کو اپنی آواز استعمال کرنا پڑتی ہے، اور یہی چیز تعلق کو مضبوط بناتی ہے۔”
ماہرین کے مطابق شیباری جیسے تجربات صرف اسی وقت مثبت ثابت ہوتے ہیں جب دونوں افراد کے درمیان واضح رضامندی، مکمل اعتماد اور کھلی گفتگو موجود ہو۔ اگر تعلق پہلے سے تناؤ یا غلط فہمیوں کا شکار ہو تو یہ سرگرمی اختلافات کو مزید نمایاں بھی کر سکتی ہے۔سارہ لانڈا نے خبردار کیا کہ شیباری کسی جادوئی حل کی طرح نہیں، بلکہ یہ رشتے میں پہلے سے موجود حقیقت کو زیادہ واضح کر دیتا ہے۔ اگر جوڑے کے درمیان اعتماد اور رابطہ مضبوط ہو تو یہ قربت بڑھا سکتا ہے، لیکن اگر مسائل موجود ہوں تو وہ بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں “جذباتی قربت” دنیا بھر میں سب سے زیادہ تلاش کیے جانے والے تعلقاتی موضوعات میں شامل رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی تعلق کے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔









