Baaghi TV

Blog

  • ایلون مسک کھرب پتی حیثیت سے محروم، دولت میں بڑی کمی

    ایلون مسک کھرب پتی حیثیت سے محروم، دولت میں بڑی کمی

    ‎نیویارک: دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف شخصیت ایلون مسک اپنی کھرب پتی (ٹریلین ایئر) حیثیت سے محروم ہو گئے ہیں۔ اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے حصص میں نمایاں کمی کے باعث ان کی مجموعی دولت میں بڑا نقصان ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    ‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صرف دو ہفتے قبل اسپیس ایکس کے حصص کی کامیاب لسٹنگ کے بعد ایلون مسک دنیا کے پہلے کھرب پتی بن گئے تھے، تاہم مارکیٹ میں حالیہ گراوٹ نے ان کی دولت کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔
    ‎بلوم برگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق ایلون مسک کی مجموعی دولت 1.11 ٹریلین ڈالر سے کم ہو کر 957 ارب ڈالر رہ گئی ہے، جس کے بعد وہ کھرب پتی شخصیات کی فہرست سے باہر ہو گئے ہیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے شیئرز میں تیزی سے آنے والی کمی کے ساتھ دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص بھی دباؤ کا شکار رہے، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔
    ‎ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت سے وابستہ منصوبوں کے طویل مدتی منافع کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات اور سرمایہ کاری کے اخراجات میں اضافے نے ٹیکنالوجی سیکٹر میں فروخت کا رجحان بڑھایا، جس کے اثرات ایلون مسک کی دولت پر بھی پڑے۔
    ‎اگرچہ ایلون مسک کی دولت میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم وہ اب بھی دنیا کے امیر ترین شخص ہیں اور ان کی مجموعی دولت اپنے قریب ترین حریفوں سے کہیں زیادہ ہے۔

  • سرگودھا میں بچی سے زیادتی کی تصدیق، موت شہ رگ کٹنے سے ہوئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ

    سرگودھا میں بچی سے زیادتی کی تصدیق، موت شہ رگ کٹنے سے ہوئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ

    سرگودھا میں 7 سالہ منتہا زہرہ کے قتل کیس میں ہولناک انکشافات: پوسٹ مارٹم میں زیادتی کی تصدیق، لواحقین کا تفتیش پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
    سرگودھا میں اغوا کے بعد بے دردی سے قتل کی جانے والی 7 سالہ معصوم بچی منتہا زہرہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے جس میں بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق کے ساتھ ساتھ یہ لرزہ خیز انکشاف ہوا ہے کہ اس کی موت شہ رگ کٹنے سے ہوئی، جبکہ اس کے چہرے اور ماتھے کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور جسم پر تشدد کے 7 نشانات پائے گئے۔
    یہ معصوم بچی کریانہ کی دکان پر سامان خریدنے گئی تھی جہاں اسے اس درندگی کا نشانہ بنایا گیا، اور اگرچہ واقعے کا مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکا ہے (جس کی لاش لینے سے اس کے اپنے گھر والوں نے انکار کر دیا اور اہل علاقہ نے اسے آبائی قبرستان میں دفن بھی نہیں ہونے دیا)، تاہم مقتولہ کے اہلِ خانہ نے موجودہ پولیس تفتیش پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
    لواحقین کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی کی مدد سے بچی کی لاش تیسری منزل سے ملی اور واقعے کے وقت دکان میں 5 افراد موجود تھے جن تمام سے تفتیش ہونی چاہیے، اسی سلسلے میں انہوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ وہ واقعے کا نوٹس لے کر خاندان کو مکمل اور شفاف انصاف فراہم کریں۔

  • بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خبروں پر بیرسٹر گوہر کی وضاحت

    بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خبروں پر بیرسٹر گوہر کی وضاحت

    ‎اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ان سے منسوب حالیہ خبروں پر وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے نہ کوئی پیغام وصول کیا ہے اور نہ ہی کوئی بیان جاری کیا ہے۔
    ‎بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی یا بشریٰ بی بی کی جانب سے بیرسٹر سیف سے ملاقات کی خواہش کے حوالے سے انہیں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں ہونے والی کسی بھی رابطہ کاری یا ملاقات سے وہ لاعلم ہیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی یا بشریٰ بی بی کی طرف سے اس حوالے سے انہیں کوئی ہدایت یا پیغام نہیں ملا، اس لیے زیر گردش اطلاعات کو ان سے منسوب کرنا درست نہیں۔
    ‎دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے 2018 کے عام انتخابات کی تحقیقات کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صرف 2018 ہی نہیں بلکہ 2014 اور 2024 کے انتخابات کی بھی غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کرائی جائیں۔
    ‎پی ٹی آئی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پارٹی ہر قسم کی شفاف تحقیقات کے لیے تیار ہے تاکہ تمام انتخابی عمل کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے اور حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں۔

  • پابندی کے باوجود آسٹریلیا میں ہر 5 میں سے 4 بچے سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، تحقیق

    پابندی کے باوجود آسٹریلیا میں ہر 5 میں سے 4 بچے سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، تحقیق

    ‎سڈنی: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال کی پابندی کے باوجود 80 فیصد سے زائد بچے اب بھی مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہیں۔
    ‎تحقیق کے مطابق آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے دسمبر 2025 میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی نافذ کی تھی۔ اس قانون کے تحت ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام، ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، یوٹیوب اور اسنیپ چیٹ سمیت متعدد پلیٹ فارمز پر کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس بنانے یا استعمال کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
    ‎تاہم نیو کیسل یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس قانون پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ تحقیق میں 12 سے 17 سال کی عمر کے 408 بچوں اور نوجوانوں کا جائزہ لیا گیا، جس سے ظاہر ہوا کہ پابندی کے باوجود کم عمر افراد کی بڑی تعداد بدستور سوشل میڈیا استعمال کر رہی ہے۔
    محققین کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے شواہد نہیں ملے جن سے ثابت ہو کہ حکومتی پابندی کے بعد 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال میں نمایاں کمی آئی access ہو۔
    تحقیق میں مزید کہا گیا کہ یہ نتائج اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ کئی دیگر ممالک بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے آسٹریلیا کے ماڈل پر غور کر رہے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق صرف پابندی لگانا بچوں کو نقصان دہ آن لائن مواد سے بچانے کے لیے کافی نہیں، بلکہ مؤثر نگرانی، والدین کی رہنمائی، ڈیجیٹل تعلیم اور مضبوط حفاظتی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔
    ‎یہ تحقیق پابندی نافذ ہونے کے بعد ابتدائی تین ماہ کے دوران اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے بعد جاری کی گئی۔

  • باجوڑ میں مبینہ زہریلا کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق، 7 افراد کی حالت تشویشناک

    باجوڑ میں مبینہ زہریلا کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق، 7 افراد کی حالت تشویشناک

    ‎باجوڑ: خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کی تحصیل اتمان خیل کے علاقے بندگوئی قذافی میں مبینہ طور پر زہریلا کھانا کھانے سے دو کمسن بچے جاں بحق جبکہ ایک ہی خاندان کے متعدد افراد شدید متاثر ہو گئے۔
    ‎مقامی ذرائع کے مطابق متاثرہ افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد مزید علاج کے لیے پشاور منتقل کیا گیا، جہاں والدین سمیت سات افراد مختلف اسپتالوں میں تشویشناک حالت میں زیر علاج ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 12 سالہ علیشا اور 5 سالہ پاکیزہ شامل ہیں۔ افسوسناک واقعے کے بعد علاقے اور متاثرہ خاندان میں سوگ کی فضا چھا گئی ہے۔
    ‎ابتدائی اطلاعات کے مطابق شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سالن میں چھپکلی گرنے کے باعث کھانا آلودہ ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں یہ سانحہ پیش آیا۔ تاہم متعلقہ ڈاکٹروں اور حکام کی جانب سے ابھی تک کوئی حتمی طبی یا فرانزک رپورٹ جاری نہیں کی گئی، اس لیے واقعے کی اصل وجہ کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور طبی معائنے کی حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جائے گا۔

  • ‎پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی شعبے میں 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    ‎پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی شعبے میں 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    ‎استنبول: پاکستان اور ترکیہ نے توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تین اہم مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کر دیے۔ یہ معاہدے استنبول میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی مشاورتی ملاقات کے دوران طے پائے۔
    ‎ان مفاہمتی یادداشتوں کا مقصد توانائی کے شعبے میں ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا، جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا اور دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان عملی اور تکنیکی روابط کو مزید مستحکم بنانا ہے۔
    ‎معاہدوں کے تحت پاور سسٹم آپریشنز، بجلی کی ترسیل کی منصوبہ بندی، بجلی کی تقسیم کے نظام کے انتظام اور ڈیجیٹلائزیشن کے شعبوں میں باہمی تعاون بڑھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے ادارے اپنے تجربات، تکنیکی مہارت اور آپریشنل معلومات کا تبادلہ بھی کریں گے۔
    ‎مفاہمتی یادداشتوں کے ذریعے مشترکہ تکنیکی منصوبوں، ماہرین کے تبادلے اور جدید توانائی نظام کی ترقی کے لیے نئی راہیں ہموار ہوں گی، جس سے دونوں ممالک کے توانائی کے شعبے کو مزید مؤثر اور جدید بنانے میں مدد ملے گی۔
    ‎وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اس موقع پر کہا کہ توانائی کے اداروں کے درمیان مضبوط شراکت داری دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بجلی کی مارکیٹ میں اصلاحات اور جدید انتظامی نظام کے حوالے سے ترکیہ کے تجربات سے بھرپور استفادہ کرے گا۔
    ‎اویس لغاری نے مزید کہا کہ اس تعاون کے نتیجے میں توانائی کے شعبے میں کارکردگی، عوام کو خدمات کی فراہمی اور ادارہ جاتی گورننس میں نمایاں بہتری آئے گی، جو دونوں ممالک کے لیے باہمی فائدے کا باعث بنے گی۔

  • تاریخ کے 5 طاقتور ترین زلزلے، جنہوں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

    تاریخ کے 5 طاقتور ترین زلزلے، جنہوں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

    ‎دنیا کی تاریخ میں آنے والے طاقتور ترین زلزلوں نے نہ صرف بڑے پیمانے پر تباہی مچائی بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بھی متاثر کیں۔ شدت کے اعتبار سے اب تک ریکارڈ کیے گئے پانچ سب سے بڑے زلزلوں میں سرفہرست 1960 کا چلی کا والڈیویا زلزلہ ہے، جس کی شدت 9.5 ریکارڈ کی گئی تھی اور اسے تاریخ کا طاقتور ترین زلزلہ قرار دیا جاتا ہے۔
    ‎دوسرے نمبر پر 1964 میں امریکی ریاست الاسکا کے علاقے پرنس ولیم ساؤنڈ میں آنے والا 9.2 شدت کا زلزلہ ہے، جو شمالی امریکا کی تاریخ کا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔ اس کے نتیجے میں شدید زمینی دراڑیں پڑیں اور تباہ کن سونامی نے ساحلی علاقوں کو بری طرح متاثر کیا۔
    ‎تیسرے نمبر پر 2004 میں انڈونیشیا کے جزیرہ سماٹرا کے قریب آنے والا 9.1 شدت کا سمندری زلزلہ ہے، جس نے باکسنگ ڈے سونامی کو جنم دیا۔ اس آفت کے نتیجے میں 14 ممالک متاثر ہوئے اور 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، جسے جدید تاریخ کی مہلک ترین قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔
    ‎چوتھے نمبر پر 2011 میں جاپان کے توہوکو علاقے میں آنے والا 9.0 شدت کا زلزلہ ہے، جس کے بعد آنے والی سونامی نے مشرقی جاپان میں وسیع تباہی مچائی اور فوکوشیما دائیچی جوہری پاور پلانٹ میں بھی سنگین حادثہ پیش آیا۔
    ‎پانچویں نمبر پر 1952 میں روس کے جزیرہ نما کامچاٹکا میں آنے والا 9.0 شدت کا زلزلہ ہے۔ اس زلزلے نے تقریباً 15 میٹر بلند سونامی لہریں پیدا کیں، جن سے بحرالکاہل کے مختلف ساحلی علاقوں، خصوصاً ہوائی میں بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا، تاہم اس واقعے میں براہ راست انسانی ہلاکتیں ریکارڈ نہیں ہوئیں۔
    ‎اگرچہ شدت کے اعتبار سے یہ زلزلے تاریخ کے سب سے بڑے تھے، لیکن انسانی جانوں کے نقصان کے لحاظ سے 1556 میں چین کے صوبہ شانشی میں آنے والا زلزلہ سب سے تباہ کن سمجھا جاتا ہے، جس میں 8 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  • وینزویلا زلزلہ: یوکرین کا اظہارِ یکجہتی، سوئٹزرلینڈ 80 رکنی امدادی ٹیم بھیجے گا

    وینزویلا زلزلہ: یوکرین کا اظہارِ یکجہتی، سوئٹزرلینڈ 80 رکنی امدادی ٹیم بھیجے گا

    کاراکاس: وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں کے بعد عالمی برادری کی جانب سے امداد اور اظہارِ یکجہتی کا سلسلہ جاری ہے۔ یوکرین نے متاثرہ عوام سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے، جبکہ سوئٹزرلینڈ نے 80 رکنی امدادی ٹیم اور بھاری ریسکیو سامان بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
    یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ انہوں نے امدادی کارروائیوں میں مصروف ریسکیو اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو امید ہے کہ متاثرہ علاقے جلد اس سانحے سے بحال ہو جائیں گے۔
    دوسری جانب سوئس حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ سوئس ریسکیو چین کے تحت 80 ماہر ریسکیو اہلکار، 8 تربیت یافتہ ریسکیو کتے اور 18 ٹن امدادی و ریسکیو سامان فوری طور پر وینزویلا روانہ کرے گی تاکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور امدادی سرگرمیوں میں مدد فراہم کی جا سکے۔
    وینزویلا میں چند سیکنڈ کے وقفے سے آنے والے دو طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جہاں اب تک 167 افراد کی ہلاکت اور 971 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ امریکی جیولوجیکل سروے نے ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کرنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق زلزلوں کی شدت بالترتیب 7.1 اور 7.5 ریکارڈ کی گئی، جن کے جھٹکے نہ صرف وینزویلا بلکہ پڑوسی ممالک کولمبیا اور برازیل کے بعض علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔
    ‎دارالحکومت کاراکاس اور ساحلی شہر لا گوئیرا سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جہاں متعدد رہائشی اور تجارتی عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ کئی مقامات سے زندہ افراد کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
    ‎وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے بتایا کہ آفٹر شاکس کے خدشے کے باعث ہزاروں شہری گھروں سے نکل کر کھلے مقامات اور سڑکوں پر موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دارالحکومت کاراکاس اور لا گوئیرا میں بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ مائی کیٹیا کا مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی نقصان کے باعث عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
    ‎حکام کے مطابق زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو تیز کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
    ‎دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے زلزلے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وینزویلا کے عوام اور حکومت سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

  • کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن کا انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی  کا دورہ

    کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن کا انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا دورہ

    ڈیرہ غازی خان باغی ٹی وی رپورٹر ( شاہد خان ) کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن اشفاق احمد چوہدری نے انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا اور محرم الحرام کے سلسلے میں ہسپتال میں کیے گئے خصوصی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر اے ایم ایس ڈاکٹر ارسلان احمد شاہ، ڈی ایم ایس ڈاکٹر ایمن واحد اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔
    کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کا معائنہ کیا، زیر علاج مریضوں کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ انہوں نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور ایمرجنسی سروسز کا جائزہ لیا۔ کمشنر نے مریضوں کے لواحقین سے بھی ملاقات کی اور علاج معالجے کے معیار اور ہسپتال میں دستیاب سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
    دورے کے دوران کمشنر نے ڈاکٹرز، نرسنگ سٹاف اور دیگر ملازمین کی حاضری چیک کی اور ہدایت کی کہ ڈیوٹی روسٹر کے مطابق تمام عملے کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہسپتال میں صفائی ستھرائی، ادویات کے ذخائر، طبی آلات کی فعالیت اور ایمرجنسی رسپانس سسٹم سمیت مختلف انتظامی امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔
    اس موقع پر کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے ہدایت کی کہ نویں اور دسویں محرم الحرام کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام طبی اور انسانی وسائل مکمل طور پر فعال رکھے جائیں تاکہ عزاداران اور عوام کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
    ہسپتال انتظامیہ نے کمشنر کو محرم الحرام کے لیے کیے گئے خصوصی انتظامات، ایمرجنسی پلان، اضافی عملے کی تعیناتی اور ادویات کی دستیابی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کمشنر نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ کو عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کی ہدایت کی۔

  • کشتواڑ،پولیس نے بھارتی فوج کے افسران و  اہلکاروں پر مقدمہ درج کر لیا

    کشتواڑ،پولیس نے بھارتی فوج کے افسران و اہلکاروں پر مقدمہ درج کر لیا

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں پولیس اور بھارتی فوج کے درمیان ایک غیرمعمولی تنازع سامنے آیا ہے، جہاں جموں و کشمیر پولیس نے مبینہ طور پر پولیس اسٹیشن میں زبردستی داخل ہونے، اہلکاروں پر تشدد کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں بھارتی فوج کے سات اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    ضلع کشتواڑ کے علاقے اتھولی میں ایک غیرمعمولی واقعہ پیش آیا ہے جہاں جموں و کشمیر پولیس نے مبینہ طور پر پولیس اسٹیشن پر حملے، اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں بھارتی فوج کے سات اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ مقدمے میں ایک کمانڈنگ آفیسر، ایک میجر، ایک نائب صوبیدار سمیت دیگر فوجی اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 30 سے 40 نامعلوم فوجی اہلکاروں کو بھی ملزم قرار دیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق ایف آئی آر نمبر 17/2026، 24 جون کو پولیس اسٹیشن اتھولی میں درج کی گئی۔ مقدمے میں بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) کی 17 مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں جن میں اقدامِ قتل، سرکاری ملازمین پر حملہ، غیر قانونی داخلہ، سرکاری امور میں مداخلت اور دیگر سنگین الزامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ’’پریوینشن آف ڈیمیج ٹو پبلک پراپرٹی ایکٹ‘‘ کی دفعہ 3(1) بھی عائد کی گئی ہے۔پولیس کی شکایت کے مطابق واقعہ دوپہر 12 بجے سے ایک بجے کے درمیان پیش آیا۔ اس وقت پولیس اسٹیشن اتھولی کے ایس ایچ او ایک سرکاری تقریب میں شرکت کے لیے پڈر کے بلاک ڈیولپمنٹ آفس میں موجود تھے، جہاں ضلع کمشنر تقریب کی صدارت کر رہے تھے۔ اسی دوران انہیں اطلاع ملی کہ پولیس اسٹیشن کے اندر ایک سنگین واقعہ رونما ہوا ہے، جس پر وہ فوری طور پر واپس روانہ ہوئے۔

    ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 17 راشٹریہ رائفلز سے تعلق رکھنے والے تقریباً 30 سے 40 فوجی اہلکار اپنے کمانڈنگ آفیسر کی ہدایات پر پولیس اسٹیشن پہنچے۔ پولیس کا الزام ہے کہ فوجی اہلکار لاٹھیوں، لوہے کی سلاخوں، اسلحے اور گولہ بارود سے لیس تھے اور انہوں نے مرکزی دروازے اور چار دیواری عبور کرکے زبردستی پولیس اسٹیشن میں داخلہ حاصل کیا۔پولیس کے مطابق یہ کارروائی پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کی گئی اور اس کا مقصد ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو نشانہ بنانا تھا۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ پولیس اسٹیشن کے اندر موجود اہلکاروں پر حملہ کیا گیا اور سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ایف آئی آر کے مطابق جب ایس ایچ او موقع پر واپس پہنچے تو ایک میجر کی قیادت میں موجود فوجی اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان پر بھی حملہ کیا اور ان کی وردی پھاڑ دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سب ڈویژنل پولیس آفیسر وجے کمار بھگت سمیت متعدد اہلکاروں کو بھی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔پولیس کے مطابق اسپیشل پولیس آفیسر سریش کمار کو رائفل کے بٹ سے گردن پر وار کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ دیگر اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔واقعے کے وقت کشتواڑ کے اسسٹنٹ ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر اور ان کے ذاتی سکیورٹی اہلکار بھی پولیس اسٹیشن میں موجود تھے۔ پولیس کا الزام ہے کہ انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

    شکایت میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ARTO، SHO اور SDPO کی سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ پولیس اسٹیشن کے مرکزی دروازے کو بھی توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا۔

    دوسری جانب بھارتی فوج نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتھولی پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کا معاملہ ادارہ جاتی طریقہ کار کے تحت زیر غور ہے۔ فوجی حکام کے مطابق بھارتی فوج قانونی کارروائی اور تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گی اور مشترکہ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔فوج کا کہنا ہے کہ چونکہ تحقیقات ابھی جاری ہیں، اس لیے اس مرحلے پر مزید تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

    اہم بات یہ ہے کہ پولیس کی تفصیلی شکایت کے باوجود تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فوج اور پولیس کے درمیان کشیدگی یا تصادم کی اصل وجہ کیا تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید شواہد اور بیانات سامنے آنے کے بعد ہی واقعے کی مکمل حقیقت واضح ہو سکے گی۔