Baaghi TV

Blog

  • ‎پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی شعبے میں 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    ‎پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی شعبے میں 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    ‎استنبول: پاکستان اور ترکیہ نے توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تین اہم مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کر دیے۔ یہ معاہدے استنبول میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی مشاورتی ملاقات کے دوران طے پائے۔
    ‎ان مفاہمتی یادداشتوں کا مقصد توانائی کے شعبے میں ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا، جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا اور دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان عملی اور تکنیکی روابط کو مزید مستحکم بنانا ہے۔
    ‎معاہدوں کے تحت پاور سسٹم آپریشنز، بجلی کی ترسیل کی منصوبہ بندی، بجلی کی تقسیم کے نظام کے انتظام اور ڈیجیٹلائزیشن کے شعبوں میں باہمی تعاون بڑھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے ادارے اپنے تجربات، تکنیکی مہارت اور آپریشنل معلومات کا تبادلہ بھی کریں گے۔
    ‎مفاہمتی یادداشتوں کے ذریعے مشترکہ تکنیکی منصوبوں، ماہرین کے تبادلے اور جدید توانائی نظام کی ترقی کے لیے نئی راہیں ہموار ہوں گی، جس سے دونوں ممالک کے توانائی کے شعبے کو مزید مؤثر اور جدید بنانے میں مدد ملے گی۔
    ‎وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اس موقع پر کہا کہ توانائی کے اداروں کے درمیان مضبوط شراکت داری دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بجلی کی مارکیٹ میں اصلاحات اور جدید انتظامی نظام کے حوالے سے ترکیہ کے تجربات سے بھرپور استفادہ کرے گا۔
    ‎اویس لغاری نے مزید کہا کہ اس تعاون کے نتیجے میں توانائی کے شعبے میں کارکردگی، عوام کو خدمات کی فراہمی اور ادارہ جاتی گورننس میں نمایاں بہتری آئے گی، جو دونوں ممالک کے لیے باہمی فائدے کا باعث بنے گی۔

  • تاریخ کے 5 طاقتور ترین زلزلے، جنہوں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

    تاریخ کے 5 طاقتور ترین زلزلے، جنہوں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

    ‎دنیا کی تاریخ میں آنے والے طاقتور ترین زلزلوں نے نہ صرف بڑے پیمانے پر تباہی مچائی بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بھی متاثر کیں۔ شدت کے اعتبار سے اب تک ریکارڈ کیے گئے پانچ سب سے بڑے زلزلوں میں سرفہرست 1960 کا چلی کا والڈیویا زلزلہ ہے، جس کی شدت 9.5 ریکارڈ کی گئی تھی اور اسے تاریخ کا طاقتور ترین زلزلہ قرار دیا جاتا ہے۔
    ‎دوسرے نمبر پر 1964 میں امریکی ریاست الاسکا کے علاقے پرنس ولیم ساؤنڈ میں آنے والا 9.2 شدت کا زلزلہ ہے، جو شمالی امریکا کی تاریخ کا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔ اس کے نتیجے میں شدید زمینی دراڑیں پڑیں اور تباہ کن سونامی نے ساحلی علاقوں کو بری طرح متاثر کیا۔
    ‎تیسرے نمبر پر 2004 میں انڈونیشیا کے جزیرہ سماٹرا کے قریب آنے والا 9.1 شدت کا سمندری زلزلہ ہے، جس نے باکسنگ ڈے سونامی کو جنم دیا۔ اس آفت کے نتیجے میں 14 ممالک متاثر ہوئے اور 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، جسے جدید تاریخ کی مہلک ترین قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔
    ‎چوتھے نمبر پر 2011 میں جاپان کے توہوکو علاقے میں آنے والا 9.0 شدت کا زلزلہ ہے، جس کے بعد آنے والی سونامی نے مشرقی جاپان میں وسیع تباہی مچائی اور فوکوشیما دائیچی جوہری پاور پلانٹ میں بھی سنگین حادثہ پیش آیا۔
    ‎پانچویں نمبر پر 1952 میں روس کے جزیرہ نما کامچاٹکا میں آنے والا 9.0 شدت کا زلزلہ ہے۔ اس زلزلے نے تقریباً 15 میٹر بلند سونامی لہریں پیدا کیں، جن سے بحرالکاہل کے مختلف ساحلی علاقوں، خصوصاً ہوائی میں بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا، تاہم اس واقعے میں براہ راست انسانی ہلاکتیں ریکارڈ نہیں ہوئیں۔
    ‎اگرچہ شدت کے اعتبار سے یہ زلزلے تاریخ کے سب سے بڑے تھے، لیکن انسانی جانوں کے نقصان کے لحاظ سے 1556 میں چین کے صوبہ شانشی میں آنے والا زلزلہ سب سے تباہ کن سمجھا جاتا ہے، جس میں 8 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  • وینزویلا زلزلہ: یوکرین کا اظہارِ یکجہتی، سوئٹزرلینڈ 80 رکنی امدادی ٹیم بھیجے گا

    وینزویلا زلزلہ: یوکرین کا اظہارِ یکجہتی، سوئٹزرلینڈ 80 رکنی امدادی ٹیم بھیجے گا

    کاراکاس: وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں کے بعد عالمی برادری کی جانب سے امداد اور اظہارِ یکجہتی کا سلسلہ جاری ہے۔ یوکرین نے متاثرہ عوام سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے، جبکہ سوئٹزرلینڈ نے 80 رکنی امدادی ٹیم اور بھاری ریسکیو سامان بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
    یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ انہوں نے امدادی کارروائیوں میں مصروف ریسکیو اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو امید ہے کہ متاثرہ علاقے جلد اس سانحے سے بحال ہو جائیں گے۔
    دوسری جانب سوئس حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ سوئس ریسکیو چین کے تحت 80 ماہر ریسکیو اہلکار، 8 تربیت یافتہ ریسکیو کتے اور 18 ٹن امدادی و ریسکیو سامان فوری طور پر وینزویلا روانہ کرے گی تاکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور امدادی سرگرمیوں میں مدد فراہم کی جا سکے۔
    وینزویلا میں چند سیکنڈ کے وقفے سے آنے والے دو طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جہاں اب تک 167 افراد کی ہلاکت اور 971 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ امریکی جیولوجیکل سروے نے ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کرنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق زلزلوں کی شدت بالترتیب 7.1 اور 7.5 ریکارڈ کی گئی، جن کے جھٹکے نہ صرف وینزویلا بلکہ پڑوسی ممالک کولمبیا اور برازیل کے بعض علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔
    ‎دارالحکومت کاراکاس اور ساحلی شہر لا گوئیرا سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جہاں متعدد رہائشی اور تجارتی عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ کئی مقامات سے زندہ افراد کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
    ‎وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے بتایا کہ آفٹر شاکس کے خدشے کے باعث ہزاروں شہری گھروں سے نکل کر کھلے مقامات اور سڑکوں پر موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دارالحکومت کاراکاس اور لا گوئیرا میں بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ مائی کیٹیا کا مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی نقصان کے باعث عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
    ‎حکام کے مطابق زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو تیز کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
    ‎دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے زلزلے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وینزویلا کے عوام اور حکومت سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

  • کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن کا انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی  کا دورہ

    کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن کا انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا دورہ

    ڈیرہ غازی خان باغی ٹی وی رپورٹر ( شاہد خان ) کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن اشفاق احمد چوہدری نے انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا اور محرم الحرام کے سلسلے میں ہسپتال میں کیے گئے خصوصی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر اے ایم ایس ڈاکٹر ارسلان احمد شاہ، ڈی ایم ایس ڈاکٹر ایمن واحد اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔
    کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کا معائنہ کیا، زیر علاج مریضوں کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ انہوں نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور ایمرجنسی سروسز کا جائزہ لیا۔ کمشنر نے مریضوں کے لواحقین سے بھی ملاقات کی اور علاج معالجے کے معیار اور ہسپتال میں دستیاب سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
    دورے کے دوران کمشنر نے ڈاکٹرز، نرسنگ سٹاف اور دیگر ملازمین کی حاضری چیک کی اور ہدایت کی کہ ڈیوٹی روسٹر کے مطابق تمام عملے کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہسپتال میں صفائی ستھرائی، ادویات کے ذخائر، طبی آلات کی فعالیت اور ایمرجنسی رسپانس سسٹم سمیت مختلف انتظامی امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔
    اس موقع پر کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے ہدایت کی کہ نویں اور دسویں محرم الحرام کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام طبی اور انسانی وسائل مکمل طور پر فعال رکھے جائیں تاکہ عزاداران اور عوام کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
    ہسپتال انتظامیہ نے کمشنر کو محرم الحرام کے لیے کیے گئے خصوصی انتظامات، ایمرجنسی پلان، اضافی عملے کی تعیناتی اور ادویات کی دستیابی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کمشنر نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ کو عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کی ہدایت کی۔

  • کشتواڑ،پولیس نے بھارتی فوج کے افسران و  اہلکاروں پر مقدمہ درج کر لیا

    کشتواڑ،پولیس نے بھارتی فوج کے افسران و اہلکاروں پر مقدمہ درج کر لیا

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں پولیس اور بھارتی فوج کے درمیان ایک غیرمعمولی تنازع سامنے آیا ہے، جہاں جموں و کشمیر پولیس نے مبینہ طور پر پولیس اسٹیشن میں زبردستی داخل ہونے، اہلکاروں پر تشدد کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں بھارتی فوج کے سات اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    ضلع کشتواڑ کے علاقے اتھولی میں ایک غیرمعمولی واقعہ پیش آیا ہے جہاں جموں و کشمیر پولیس نے مبینہ طور پر پولیس اسٹیشن پر حملے، اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں بھارتی فوج کے سات اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ مقدمے میں ایک کمانڈنگ آفیسر، ایک میجر، ایک نائب صوبیدار سمیت دیگر فوجی اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 30 سے 40 نامعلوم فوجی اہلکاروں کو بھی ملزم قرار دیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق ایف آئی آر نمبر 17/2026، 24 جون کو پولیس اسٹیشن اتھولی میں درج کی گئی۔ مقدمے میں بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) کی 17 مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں جن میں اقدامِ قتل، سرکاری ملازمین پر حملہ، غیر قانونی داخلہ، سرکاری امور میں مداخلت اور دیگر سنگین الزامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ’’پریوینشن آف ڈیمیج ٹو پبلک پراپرٹی ایکٹ‘‘ کی دفعہ 3(1) بھی عائد کی گئی ہے۔پولیس کی شکایت کے مطابق واقعہ دوپہر 12 بجے سے ایک بجے کے درمیان پیش آیا۔ اس وقت پولیس اسٹیشن اتھولی کے ایس ایچ او ایک سرکاری تقریب میں شرکت کے لیے پڈر کے بلاک ڈیولپمنٹ آفس میں موجود تھے، جہاں ضلع کمشنر تقریب کی صدارت کر رہے تھے۔ اسی دوران انہیں اطلاع ملی کہ پولیس اسٹیشن کے اندر ایک سنگین واقعہ رونما ہوا ہے، جس پر وہ فوری طور پر واپس روانہ ہوئے۔

    ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 17 راشٹریہ رائفلز سے تعلق رکھنے والے تقریباً 30 سے 40 فوجی اہلکار اپنے کمانڈنگ آفیسر کی ہدایات پر پولیس اسٹیشن پہنچے۔ پولیس کا الزام ہے کہ فوجی اہلکار لاٹھیوں، لوہے کی سلاخوں، اسلحے اور گولہ بارود سے لیس تھے اور انہوں نے مرکزی دروازے اور چار دیواری عبور کرکے زبردستی پولیس اسٹیشن میں داخلہ حاصل کیا۔پولیس کے مطابق یہ کارروائی پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کی گئی اور اس کا مقصد ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو نشانہ بنانا تھا۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ پولیس اسٹیشن کے اندر موجود اہلکاروں پر حملہ کیا گیا اور سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ایف آئی آر کے مطابق جب ایس ایچ او موقع پر واپس پہنچے تو ایک میجر کی قیادت میں موجود فوجی اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان پر بھی حملہ کیا اور ان کی وردی پھاڑ دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سب ڈویژنل پولیس آفیسر وجے کمار بھگت سمیت متعدد اہلکاروں کو بھی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔پولیس کے مطابق اسپیشل پولیس آفیسر سریش کمار کو رائفل کے بٹ سے گردن پر وار کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ دیگر اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔واقعے کے وقت کشتواڑ کے اسسٹنٹ ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر اور ان کے ذاتی سکیورٹی اہلکار بھی پولیس اسٹیشن میں موجود تھے۔ پولیس کا الزام ہے کہ انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

    شکایت میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ARTO، SHO اور SDPO کی سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ پولیس اسٹیشن کے مرکزی دروازے کو بھی توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا۔

    دوسری جانب بھارتی فوج نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتھولی پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کا معاملہ ادارہ جاتی طریقہ کار کے تحت زیر غور ہے۔ فوجی حکام کے مطابق بھارتی فوج قانونی کارروائی اور تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گی اور مشترکہ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔فوج کا کہنا ہے کہ چونکہ تحقیقات ابھی جاری ہیں، اس لیے اس مرحلے پر مزید تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

    اہم بات یہ ہے کہ پولیس کی تفصیلی شکایت کے باوجود تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فوج اور پولیس کے درمیان کشیدگی یا تصادم کی اصل وجہ کیا تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید شواہد اور بیانات سامنے آنے کے بعد ہی واقعے کی مکمل حقیقت واضح ہو سکے گی۔

  • عاشورہ 10 محرم الحرام: اوکاڑہ پولیس کے فول پروف سیکیورٹی انتظامات مکمل

    عاشورہ 10 محرم الحرام: اوکاڑہ پولیس کے فول پروف سیکیورٹی انتظامات مکمل

    44 جلوس اور 18 مجالس کی سیکیورٹی کے لیے 2400 سے زائد پولیس افسران و اہلکار تعینات، ڈرون، سیف سٹی اور سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی کی جائے گی

    اوکاڑہ : (نامہ نگار ملک ظفر ) ضلع اوکاڑہ میں 10 محرم الحرام (عاشورہ) کے موقع پر امن و امان کے قیام، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ اور عزاداران کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اوکاڑہ پولیس نے جامع اور فول پروف سیکیورٹی پلان مرتب کر لیا ہے۔ ڈی پی او اوکاڑہ ڈاکٹر اسد اعجاز ملہی کے مطابق ضلع بھر میں عاشورہ کے روز 18 مجالس اور 44 جلوس برآمد ہوں گے جن کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
    ڈی پی او اوکاڑہ نے بتایا کہ ضلع میں برآمد ہونے والے 44 جلوسوں میں 24 لائسنسی جبکہ 20 روایتی جلوس شامل ہیں۔ سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے 9 جلوسوں کو کیٹیگری اے، 19 کو کیٹیگری بی اور 16 جلوسوں کو کیٹیگری سی میں رکھا گیا ہے۔ اسی طرح منعقد ہونے والی 18 مجالس میں سے 2 مجالس کیٹیگری اے، 6 مجالس کیٹیگری بی اور 10 مجالس کیٹیگری سی میں شامل ہیں۔
    ڈاکٹر اسد اعجاز ملہی کے مطابق عاشورہ محرم الحرام کے موقع پر 2400 سے زائد پولیس افسران و اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔ سیکیورٹی پلان کے تحت ایک ایس پی، 7 ڈی ایس پیز، 26 انسپکٹرز، 101 سب انسپکٹرز، 186 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز، 64 ہیڈ کانسٹیبلز، 106 لیڈی پولیس اہلکاروں اور 1945 کانسٹیبلز کو مختلف ڈیوٹی پوائنٹس پر تعینات کیا گیا ہے۔
    انہوں نے بتایا کہ مجالس اور جلوسوں کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ڈرون کیمروں، سیف سٹی کیمروں، سی سی ٹی وی نیٹ ورک اور سرویلنس وینز کے ذریعے مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
    ڈی پی او اوکاڑہ نے مزید بتایا کہ انتظامی اور سیکیورٹی امور کو مؤثر بنانے کے لیے ضلع کو 5 سیکٹرز اور 21 سب سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے جبکہ ڈیوٹی کی نگرانی کے لیے 8 خصوصی ویجیلنس ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ روف ٹاپ ڈیوٹی کے علاوہ سادہ لباس میں پولیس اہلکار بھی جلوسوں اور مجالس کے روٹس پر تعینات رہیں گے تاکہ مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔
    سیکیورٹی انتظامات کے تحت مجالس اور جلوسوں کے راستوں کو خاردار تاروں اور قناتوں کے ذریعے محفوظ بنایا جائے گا جبکہ عزاداران کی سہولت اور شہریوں کی مشکلات میں کمی کے لیے خصوصی ٹریفک پلان جاری کر کے متبادل راستوں کا تعین بھی کر لیا گیا ہے۔
    ڈی پی او اوکاڑہ ڈاکٹر اسد اعجاز ملہی نے کہا کہ ضلعی کنٹرول روم کو ڈی ایس پی لیگل کی زیر نگرانی فعال کر دیا گیا ہے۔ شہری کسی بھی ہنگامی صورتحال، مشکوک سرگرمی یا مشتبہ فرد کے بارے میں اطلاع دینے کے لیے 044-7132244، 044-9200093 یا پکار 15 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
    انہوں نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز، اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ مواد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
    آخر میں ڈی پی او اوکاڑہ نے شہریوں، علمائے کرام، منتظمین مجالس و جلوس اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ پرامن معاشرے کے قیام، مذہبی رواداری اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ عاشورہ محرم الحرام کے تمام پروگرامز پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوں۔

  • ایرانی ریال کی خریداری میں دوبارہ تیزی، ماہر نے سرمایہ کاروں کو اہم مشورہ دے دیا

    ایرانی ریال کی خریداری میں دوبارہ تیزی، ماہر نے سرمایہ کاروں کو اہم مشورہ دے دیا

    ‎کراچی: ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے اور ایران پر عائد امریکی پابندیوں میں ممکنہ نرمی کے بعد ایرانی ریال کی قدر میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ پاکستانی اوپن مارکیٹ میں بھی ریال کی خریداری میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
    ‎ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کار مستقبل میں ایرانی ریال کی قدر میں مزید اضافے کی توقع پر خریداری کر رہے ہیں، تاہم اس سرمایہ کاری میں منافع کے ساتھ خطرات بھی موجود ہیں۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ 2016 میں جب امریکا نے صدر باراک اوباما کے دور میں ایران پر عائد بعض پابندیاں نرم کی تھیں تو ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت 10 سے 12 ہزار پاکستانی روپے تھی، جو بعد میں بڑھ کر تقریباً 60 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ تاہم 2018 میں دوبارہ پابندیاں عائد ہونے کے بعد ریال کی قدر میں نمایاں کمی آ گئی۔
    ‎ملک بوستان کے مطابق حالیہ صورتحال میں بھی اسی نوعیت کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی پیش رفت سے قبل ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت تقریباً 2 ہزار روپے تک گر گئی تھی، جبکہ معاہدے کے بعد یہ بڑھ کر تقریباً 4 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اگر پابندیاں مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ کامیاب رہتا ہے تو ایرانی ریال کی قدر مستقبل میں مزید بڑھ سکتی ہے۔ تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے یا دوبارہ کشیدگی پیدا ہوئی تو ریال کی قیمت دوبارہ گرنے کا بھی امکان موجود ہے۔
    ‎ملک بوستان نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا کہ وہ طویل المدتی کے بجائے مختصر مدت کی سرمایہ کاری کریں۔ ان کے مطابق اگر ریال کی قیمت 6 سے 8 ہزار روپے تک پہنچ جائے تو منافع حاصل کرکے فروخت کرنا زیادہ مناسب ہوگا، جبکہ بہت زیادہ سرمایہ کاری سے گریز کیا جائے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی بحالی، سستی توانائی کی فراہمی، تجارت میں اضافے اور پاکستانی افرادی قوت کے لیے نئی معاشی مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

  • قصور یوم عاشورہ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات مکمل

    قصور یوم عاشورہ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات مکمل

    قصور ( طارق نوید سندھو سے ) پولیس نےیوم عاشورہ کے موقع پر 24 جلوس اور 20 مجالس کیلئے فول پروف سکیورٹی پلان تشکیل دے دیا

    یوم عاشورہ پر 2500 کے قریب پولیس افسران اور اہلکار سکیورٹی کے فرائض منصبی سر انجام دیں گے۔01 ایس پی، 09 ڈی ایس پی، 31 انسپکٹر، 328 اپر سپارڈینٹس، 177 ہیڈکا نسٹیبل، 1400 کانسٹیبل و لیڈی سٹاف شامل ہیں،ریزرو پنجاب کانسٹیبلری، ایلیٹ فورس، دفتری و کلیریکل سٹاف، وولنٹیئرز، سول ڈیفنس کے اہلکار بھی ڈیوٹی سرانجام دیں گے،تین لیئر ڈیوٹی کو یقینی بنایا جائے گا، ضلع بھر کے داخلی اور خارجی راستوں پرسخت چیکنگ کی جائے گی۔ترجمان قصور پولیس کے مطابق شہر کے مرکزی جلوس کی سیف سٹی کیمروں جبکہ دیگر جلوسوں کی 320 سی سی ٹی ویی کیمروں سے نگرانی کی جائے گی۔مجالس اور جلوسوں کے دوران چھتوں پر مسلح پولیس اہلکار ڈیوٹیاں سرانجام دیں گے۔جلوس کے راستے میں آنے والے تمام چھوٹے بڑے راستوں اور گلیوں کو خاردار تاریں اور قناعتیں لگا کربند کیا جائیگا۔جلوس شروع ہونے سے قبل جلوس کے روٹ کی اسپیشل چیکنگ کی جائے گی اور جلوس کے روٹ کوبم ڈسپوزل سکواڈکلیئر کرےگی۔مجلس اور جلوس میں شامل ہونے والے عزاداروں کو واک تھرو گیٹ اور میٹل ڈیٹیکٹر سے چیک کیا جائے گا۔شہری اپنے اردگرد مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھیں، کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں 15 پر کال کریں.قصور پولیس یوم عاشورہ پر اپنے پیشہ ورانہ فرائض بھر پور ذمہ داری اور جذبہ حب الوطنی سے سرانجام دے گی

  • بل گیٹس کا بڑا اعتراف، جیفری ایپسٹن مجھے بلیک میل کرنا چاہتا تھا

    بل گیٹس کا بڑا اعتراف، جیفری ایپسٹن مجھے بلیک میل کرنا چاہتا تھا

    ‎واشنگٹن: مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے اہم انکشافات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹن انہیں ان کے ماضی کے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
    ‎غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی کانگریس کی کمیٹی نے بند کمرے میں دیے گئے بل گیٹس کے بیان کا متن جاری کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ جیفری ایپسٹن ان کے ماضی کے غیر ازدواجی تعلقات سے متعلق معلومات کو استعمال کرتے ہوئے انہیں دباؤ میں لانا چاہتا تھا۔ بل گیٹس کے مطابق ایپسٹن کے تیار کردہ ای میل مسودوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انہیں دھمکانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
    ‎بل گیٹس نے اعتراف کیا کہ ماضی میں ان کے تین خواتین کے ساتھ تعلقات رہے، جبکہ جیفری ایپسٹن کو ان میں سے دو تعلقات کے بارے میں معلومات حاصل تھیں۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ ان کا ایپسٹن کے مجرمانہ سرگرمیوں سے کسی قسم کا تعلق نہیں تھا۔ بل گیٹس کے مطابق چار برس کے دوران ان کی ایپسٹن سے تقریباً 12 سے 14 ملاقاتیں اور دو ویڈیو کالز ہوئیں، جن کا مقصد زیادہ تر فلاحی منصوبوں اور ممکنہ عطیہ دہندگان کے حوالے سے بات چیت تھا۔
    ‎بل گیٹس نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ اس وقت جیفری ایپسٹن کے مجرمانہ ماضی سے لاعلم تھے اور بعد میں انہیں احساس ہوا کہ اس سے ملاقات کرنا ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
    ‎واضح رہے کہ امریکی کانگریس کی کمیٹی اس وقت جیفری ایپسٹن کے بااثر عالمی شخصیات سے روابط اور ممکنہ نیٹ ورک کی تحقیقات کر رہی ہے، جس کے دوران متعدد اہم شخصیات کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔

  • امریکا اور ایران کے تکنیکی مذاکرات 30 جون سے دوبارہ شروع ہوں گے، مارکو روبیو

    امریکا اور ایران کے تکنیکی مذاکرات 30 جون سے دوبارہ شروع ہوں گے، مارکو روبیو

    ‎منامہ: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق تکنیکی مذاکرات کا اگلا دور 30 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگا، جہاں دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں مذاکرات کو آگے بڑھائیں گی۔
    ‎بحرین میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے وزرائے خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایک ایسا پائیدار اور حقیقی امن چاہتا ہے جو نہ صرف خطے بلکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی اور خوشحالی کو بھی یقینی بنائے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اتحادی ممالک کے مفادات کو مکمل طور پر مدنظر رکھا جائے اور کوئی ایسا فیصلہ نہ کیا جائے جو ان کی سلامتی یا مفادات کے خلاف ہو۔
    ‎امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب بنانا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔
    ‎مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا یہ مؤقف قبول نہیں کرے گا کہ اس اہم عالمی آبی گزرگاہ پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری ہو۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اور اس میں آزادانہ جہاز رانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
    ‎امریکی وزیر خارجہ کے بیان کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری بھی ان مذاکرات کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔