لاہور ہائیکورٹ نے حق مہر میں دی گئی زمین کے تنازع سے متعلق ایک اہم قانونی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ شوہر نکاح نامے میں موجود کسی ابہام یا تکنیکی نکتے کا سہارا لے کر بیوی کے قانونی اور شرعی حقوق سلب نہیں کر سکتا۔ عدالت نے اس معاملے کو خواتین کے حقوق کے تحفظ کے تناظر میں ایک اہم نظیر قرار دیا ہے۔
جسٹس سلطان تنویر احمد نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں سیشن کورٹ کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت حق مہر میں مقرر کی گئی زمین کے بدلے خاتون کو 16 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے کیس دوبارہ سماعت اور نئے فیصلے کے لیے اپیلٹ کورٹ کو واپس بھجوا دیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کے درمیان 2015 میں نکاح ہوا تھا اور نکاح کے وقت خاتون کے حق مہر میں دو ایکڑ زرعی زمین مقرر کی گئی تھی۔ بعد ازاں شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ نکاح نامے کے اندراج کی بنیاد پر زمین منتقل کرنے کے بجائے رقم ادا کی جا سکتی ہے، جس پر خاتون نے عدالت سے رجوع کیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ نکاح نامہ ایک باقاعدہ سول معاہدہ ہے اور اس کی تشریح فریقین کی اصل نیت، مقاصد اور معاہدے کے حقیقی مفہوم کو مدنظر رکھ کر کی جانی چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ محض تکنیکی یا مبہم نکات کی بنیاد پر کسی خاتون کو اس کے جائز حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر کسی وجہ سے حق مہر میں دی گئی زمین کے بدلے رقم ادا کرنا ضروری ہو تو اس کی مالیت موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق طے کی جائے گی، نہ کہ کئی سال پرانی یا من مانی قیمت کے مطابق۔ اس اصول کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ خاتون کو اس کے حق کا مکمل اور منصفانہ معاوضہ مل سکے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے معاملات میں یہ جانچیں کہ نکاح کے وقت خاتون کو اپنے حقوق، ذمہ داریوں اور معاہدے کی تمام شرائط کا مکمل ادراک تھا یا نہیں۔ اگر کسی قسم کا ابہام موجود ہو تو اس کی تشریح انصاف اور مساوات کے اصولوں کے مطابق کی جانی چاہیے۔
قانونی ماہرین کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ مستقبل میں حق مہر سے متعلق مقدمات کے لیے ایک اہم رہنما اصول ثابت ہو سکتا ہے اور خواتین کے مالی و قانونی حقوق کے تحفظ میں مددگار ہوگا۔
Blog
-

حق مہر کی زمین پر شوہر بیوی کے حقوق سلب نہیں کرسکتا، لاہور ہائیکورٹ
-

پیپلز پارٹی اور ق لیگ کا گلگت بلتستان انتخابات میں اتحاد
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ق) نے گلگت بلتستان کے عام انتخابات میں سیاسی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خطے میں سیاسی استحکام، ترقی اور عوامی فلاح کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
مسلم لیگ (ق) کے ترجمان کے مطابق پارٹی سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی تعاون کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں اور خطے میں سیاسی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک صفحے پر ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کے درمیان تعاون کا مقصد عوامی مفادات کا تحفظ اور خطے کی ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ ان کے مطابق انتخابات میں یہ اشتراک دونوں جماعتوں کے کارکنوں اور ووٹرز کے لیے بھی مثبت پیغام ہے۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما ہمایوں خان نے مسلم لیگ (ق) کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سیاسی تعاون سے پیپلز پارٹی کی انتخابی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی سے انتخابی مہم کو تقویت ملے گی اور عوامی حمایت میں اضافہ ہوگا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان انتخابات سے قبل مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد اور انتخابی تعاون کے فیصلے سیاسی منظرنامے پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشترکہ حکمت عملی بعض حلقوں میں انتخابی نتائج پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور مختلف جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھرپور مہم چلا رہی ہیں۔ ایسے میں سیاسی اتحاد اور تعاون کے اعلانات انتخابی ماحول کو مزید دلچسپ بنا رہے ہیں۔ -

ن لیگ کا گلگت بلتستان کو این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دینے کا وعدہ
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان کے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں خطے کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں حصہ دلانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ پارٹی کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے اسکردو میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے اور یہاں کے عوام کو ان وسائل کے ثمرات ملنے چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہونا چاہیے کہ قومی سرمایہ کاری کو کس طرح مؤثر بنایا جائے اور مختلف علاقوں کے وسائل کو عوامی فلاح کے لیے کیسے استعمال کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے سابقہ ادوار میں گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے متعدد اقدامات کیے اور سڑکوں سمیت بنیادی ڈھانچے کے کئی منصوبے شروع کیے تھے۔ ان کے مطابق اگر پارٹی کو دوبارہ عوام کا اعتماد حاصل ہوا تو گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مزید جامع منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں ملک بھر میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام ہوئے اور مستقبل میں بھی پارٹی عوامی خدمت کے اسی سفر کو جاری رکھے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ این ایف سی ایوارڈ میں گلگت بلتستان کا حصہ یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی تاکہ خطے کو مالی وسائل کی منصفانہ فراہمی ممکن ہو سکے۔
انہوں نے علاقے میں توانائی کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں قدرتی وسائل کی کوئی کمی نہیں۔ یہاں چشمے، آبشاریں اور ندی نالے موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود کئی علاقوں میں بجلی کی قلت برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پن بجلی کے منصوبوں، سولر سسٹمز اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دے کر اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلے سوچ سمجھ کر کرنے ہوں گے تاکہ خطے کی ترقی، روزگار کے مواقع اور بنیادی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان انتخابات کے قریب آتے ہی مختلف سیاسی جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے ترقیاتی وعدے اور سیاسی پروگرام پیش کر رہی ہیں، جن میں این ایف سی ایوارڈ اور علاقائی ترقی کے معاملات نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ -

ہائی کورٹ نے ٹریڈ افسران کی تعیناتی روکنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا
اسلام آباد ہائیکورٹ نے انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ افسران کی بیرون ملک تعیناتی روکنے کے حکومتی فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 10 افسران کی درخواستیں منظور کر لی ہیں۔ عدالت نے وزیر اعظم کی منظوری سے دوبارہ اشتہار جاری کرنے کے عمل کو بھی غیر قانونی قرار دیا ہے۔
جسٹس انعام امین منہاس نے 26 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ حکومت اور وزارت تجارت عدالت کو یہ بتانے میں ناکام رہے کہ انٹیلی جنس رپورٹ میں ایسا کیا مواد موجود تھا جس کی بنیاد پر افسران کو "ناٹ سوٹ ایبل” قرار دیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی انتظامی فیصلے کے لیے ٹھوس شواہد اور معقول وجوہات کا ہونا ضروری ہے، بصورت دیگر ایسا فیصلہ من مانی تصور کیا جاتا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سرکاری افسران کے خلاف کسی انٹیلی جنس رپورٹ کو ان کا مؤقف سنے بغیر استعمال کرنا قانونی تقاضوں کے منافی ہے۔ وزارت تجارت کے حکام نے بھی تسلیم کیا کہ انہوں نے رپورٹ کا مکمل جائزہ نہیں لیا اور صرف ایک غیر واضح سفارش کی بنیاد پر سیکیورٹی کلیئرنس روک دی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ عدالت پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کرتی ہے، تاہم اس کیس میں درخواست گزاروں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔ عدالت کے مطابق وزارت تجارت کو متعدد بار ہدایت کی گئی کہ مبینہ رپورٹ کا مواد پیش کیا جائے یا افسران کو وضاحت کا موقع دیا جائے، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔
عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ انٹیلی جنس رپورٹ کو خفیہ قرار دینے سے متعلق کوئی نوٹیفکیشن یا قانونی دستاویز بھی عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئی۔ مزید برآں، درخواست گزاروں کے خلاف کسی قسم کا منفی مواد یا شواہد بھی ریکارڈ پر نہیں لائے گئے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ متعلقہ افسران تمام تحریری امتحانات اور انٹرویوز کامیابی سے مکمل کر کے 28 کامیاب امیدواروں کی میرٹ لسٹ میں شامل ہوئے تھے۔ ان میں سے 18 افسران کو بیرون ملک تعینات کر دیا گیا جبکہ 10 افسران کو الگ کر کے ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا، جو آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مساوی سلوک کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارت تجارت کو ہدایت کی ہے کہ درخواست گزار افسران کو تعیناتی کے خطوط جاری کیے جائیں اور 30 دن کے اندر تمام انتظامی کارروائیاں مکمل کر کے انہیں بیرون ملک پاکستانی تجارتی مشنز میں ذمہ داریاں سنبھالنے کی اجازت دی جائے۔ -

رمشا اقبال کے ثاقب چدھڑ پر سنگین الزامات
اداکارہ مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ثاقب چدھڑ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کی بہن مومنہ اقبال کو دھمکی آمیز پیغامات اور وائس نوٹس موصول ہوئے، جن میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔
رمشا اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ثاقب چدھڑ نے انہیں نکاح نہ کرنے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ دباؤ یا دھمکیوں کے باعث پیچھے ہٹنے والی نہیں ہیں اور اب ثاقب چدھڑ کو اپنے تمام الزامات اور دعوے عدالت یا متعلقہ فورمز پر ثابت کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ثاقب چدھڑ کروڑوں روپے کے مالی دعوے کر رہے ہیں تو وہ ان کے ثبوت پیش کریں۔ رمشا اقبال کے مطابق ان کا خاندان تمام معاملات کو قانونی طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے اور اگر کوئی مالی تنازع موجود ہے تو وہ اسے قانون کے مطابق نمٹانے کے لیے تیار ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ سوشل میڈیا پر ان کے اور مومنہ اقبال کے خلاف منظم اور معاوضہ لے کر چلائی جانے والی مہم شروع کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور متعلقہ افراد کو ان دعوؤں کے شواہد پیش کرنے چاہئیں۔
رمشا اقبال نے کہا کہ ان کے لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے معاملے پر ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ ان کی ہدایات پر غیر جانبدارانہ کارروائی کو یقینی بنایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اب تک میڈیا کے سامنے کوئی ایسی بات نہیں کی جس کے ثبوت ان کے پاس موجود نہ ہوں۔ ان کے مطابق قانونی کارروائی کا سلسلہ جاری ہے اور اس حوالے سے ایک نئی درخواست بھی جلد جمع کروائی جائے گی۔
واضح رہے کہ چند روز قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں شکایت درج کروائی تھی، جس کے بعد یہ معاملہ عوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ فی الحال الزامات اور جوابات کا تبادلہ جاری ہے جبکہ حتمی حقائق کا تعین متعلقہ تحقیقاتی اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ -

آزاد کشمیر حکومت کا ایکشن کمیٹی کو سخت انتباہ
آزاد جموں و کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) پر عوامی مسائل کے نام پر گمراہ کن بیانیہ پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
حکومت کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے ہمیشہ مذاکرات، عوامی ریلیف اور مطالبات پر عمل درآمد کا راستہ اختیار کیا، تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے لچک اور مکالمے کے بجائے دباؤ اور سڑکوں کی سیاست کو ترجیح دی۔
ترجمان کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے پیش کردہ 38 مطالبات میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود احتجاج اور ہڑتالوں پر اصرار عوامی مفاد کے بجائے سیاسی ضد کو ظاہر کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، لیکن سڑکیں بند کرنا، عوامی زندگی کو مفلوج کرنا اور ریاستی نظم و نسق میں رکاوٹ ڈالنا قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
حکومت نے واضح کیا کہ عوامی مطالبات کی آڑ میں کسی بھی گروہ کو اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر کسی قسم کی ہٹ دھرمی کے ذریعے امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آزاد کشمیر کو مسلسل احتجاج، ہڑتالوں اور محاذ آرائی کی سیاست کے بجائے استحکام، مکالمے اور عملی حل کی ضرورت ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اسمبلی اور جمہوری اداروں کے فیصلوں کو سڑکوں پر دباؤ ڈال کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
ترجمان نے کہا کہ 9 جون کو اعلان کردہ ہڑتال یا انتخابی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ عوامی حقوق کا دفاع نہیں بلکہ جمہوری عمل کو متاثر کرنے کی کوشش تصور کی جائے گی۔ عوام کو بندشوں اور دباؤ کی سیاست کے بجائے ووٹ، آئینی عمل اور جمہوری اداروں پر اعتماد کرنا چاہیے۔
حکومت آزاد کشمیر کے مطابق مذاکرات کے دروازے آج بھی کھلے ہیں، تاہم عوامی ایکشن کمیٹی نے مذاکرات کے بجائے تصادم اور محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں امن، استحکام اور قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں 9 جون کو ہڑتال کی کال دے رکھی ہے، جس کے باعث سیاسی اور سماجی حلقوں میں صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ -

تبصرہ کتب،سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی کے سنہرے واقعات
عبدالمالک مجاہد کی کتاب ’’ سیرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی زندگی کے سنہرے واقعات ‘‘ یہ کتاب دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ دارالسلام نے آرٹ پیپرپر ، دیدہ زیب سرورق اور چہار رنگ کے ساتھ شائع کی ہے ۔ 313عنوانات مشتمل یہ کتاب مختصر ہونے کے ساتھ اس قدر جامع ہے کہ سیدنا عثمان کی بیاسی سالہ زندگی کے تمام پہلو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ کتاب میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ، القاب ، ولادت ، حلیہ مبارک ، قبول اسلام ، نکاح، اولاد ، بیٹے ، بہنیں ، ماں جائے بھائی ، ماں جائی بہنیں ، ایام جاہلیت میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ ، تاریخ وانساب پر آپ کا عبور ، اعلیٰ اخلاق ، قریش میں اہمیت ، ہجرت حبشہ ، قرآن کریم کے ساتھ تعلق ، حفظ ِ قرآن کا اہتمام ، کثرت تلاوت ، قرآن کریم کی نشرواشاعت کے لئے خدمات ، سیدنا عثمان اور غزوہ بدر ، مدینہ منورہ کے قائم مقام گورنر کی حیثیت سے خدمات، غزوہ احد میں شرکت ، بیعت رضوان ، حدیبیہ کے میدان میں بیعت ، تین مرتبہ بیعت کرنے کااعزاز ، غزوہ تبوک میں شرکت ، غزوہ تبوک کے لشکر کے لئے بیمثال تعاون ، سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے شادی ، بئر رومہ کی خریداری اور مسلمانوں کے لئے وقف ، مسجد نبوی کی توسیع ، جنت کی بشارت ، خلعت ِ خلافت کی خوشخبری ، اللہ کے رسول کی جدائی کا غم ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں رائے ، شرم وحیا کے پیکر ، عہد صدیقی میں معاشی بحران حل کرنے میں کردار ، عہد عمرفاروق میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمات ، امہات المئومنین کے ساتھ حج کی سعادت ، آپ کی رحمدلی ، انتخاب خلیفہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فراست ، بطور خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ کا انتخاب ، طرز حکومت ، صحابہ کے ہاں مقام ومرتبہ ، خطوط ، حکام بالاکے لئے ہدایات ، مجلس شوریٰ کی تشکیل ، خود کواحتساب کے لئے پیش کیا ، سیدنا عثمان اور قرآن ، اخلا ص اور تقوی ، بے مثال حلم عفو ودرگز ، عالی ظرفی اور فراخ دلی ، تواضع اورعجزوانکسار ، حیاداری ، فخر ومباہات سے اجتناب ، جودوسخا، حرمت خلافت کے لئے جان کی قربانی ، مسلمانوں کے لئے آسانیاں ، حرم کعبہ کی توسیع ، جمعہ کے معمولات ، شکر وسپاس اور قدر شناسی ، عذاب قبر کا خوف ، تواضع ، غلاموں کے لئے وظائف ، لوگوں کی خبر گیری ، اراضی الاٹ کرنے کے لئے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی پالیسی ،آپ کے دور خلافت میں سرکاری چراگاہیں ، بطور خلیفہ آپ کے اخراجات ، پہلا اسلامی بیڑے کی تیاری، بندرگاہ کی شیعبہ سے جدہ منتقلی ،شاہرائوں کے اطراف میں کنوئوں کی کھدائی ، سپاہیوں کی تنخواہوں میں اضافہ ، پولیس کا شعبہ ، فتوحات ، رومیوں کو عبرتناک شکست ، بطور سپہ سالار ، تدوین قرآن ، صوبوں میں ارسال کردہ صحیفوں کی تعداد ، رعیت کی اصلاح کیلئے اقدامات ، اپنے پیاروں کے ساتھ بھی انصاف ، امرا اور گورنروں کے نام خطوط ، کھانے میں سادگی ، عجز انکسار ، قلعوں کی تعمیر ، خلافت عثمانی میں مدینہ منورہ ، آخری خطاب ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دشمن کون تھے ؟ عوام الناس کے نام کھلا خط ، شرپسندوں کی مدینہ آمد ، مخالفین کو قتل کرنے سے انکار ، سبائیوں پر اتمام حجت ، فتنوں پروروں کا مدینہ پر قبضہ ، شرپسندوں سے مذاکرات ، فتنہ کیسے پیدا ہوا ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور محاصرہ کرنے والوں کے مابین مذاکرات ، فتنہ پروروں کے سرغنے کون تھے ؟ باغیوں سے خطاب ، اجل صحابہ سے رابطہ ، مظلوم ِ مدینہ منورہ ، عزیمت کے چالیس دن ، شہادت عثمان رضی اللہ عنہ ، آخری رات نبی ﷺ کی زیارت ، آخری دن قرآن کی تلاوت ، قاتلوں کاآخری حملہ ، جسد خاکی ، نماز جنازہ اور کفن دفن ۔یہ کتاب ان تمام موضوعات کااحاطہ کئے ہوئے ہے ۔ اس کتاب میں قارئین سیدنا عثمان بن عفان کی فضلیت اور منقبت کے حوالے سے دیگر بہت سارے واقعات پڑھیں گے ۔ اس کتاب میں جہاں سیدنا عثمان کے دور کے جرنیلوں کے حالات سے قارئین کو آگاہی ہوگی ، وہاں یہ بھی اندازہ ہوگاکہ ان کے دور میں لاکھوں مربع میل کا رقبہ مسلمانوں کی حکومت میں شامل ہوتا ہے ۔ ان کے تمام کارناموں کی تفصیل اس کتاب میں سمونے کی کوشش کی گئی ہے ۔ تاریخ کی بیشمار کتب میں موجود واقعات اس کتاب میں جمع کردیے گئے ہیں ۔ اس کتاب میں چہار کلر نقشے بھی شامل ہیں ۔اور پوری کوشش کی گئی ہے کہ کتاب میں بیان کردہ تمام واقعات درست اور صحیح ہوں ۔ کتاب 113گرام کے نہایت اعلی پیپر پر شائع کی گئی ۔
کتاب کی قیمت 4000روپے ہے ۔ یہ کتاب درارلسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزدسیکرٹریٹ سٹاپ دستاب ہے ۔ یاکتاب براہ راست حاصل کرنے کیلئے درج ذیل فون نمبر042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔ -

ای سی سی کی اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں ملک بھر میں ترقیاتی، فلاحی، سکیورٹی اور انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی گرانٹس اور فنڈز کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں قومی ترقی، عوامی فلاح اور سکیورٹی سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
ای سی سی نے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) پروگرام کے لیے 7 ارب 2 کروڑ 63 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ پاک بحریہ کے ہنگور پراجیکٹ کے لیے 10 ارب 15 کروڑ روپے مختص کیے گئے تاکہ دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اجلاس میں اسلام آباد پیس ٹاکس کے سکیورٹی انتظامات کے لیے 69 کروڑ 29 لاکھ روپے، جبکہ امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ دھماکے کے متاثرین کی امداد کے لیے 24 کروڑ 10 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی۔ پاکستان کوسٹ گارڈز کے لیے فاسٹ پیٹرول بوٹس اور متعلقہ انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 80 کروڑ روپے بھی منظور کیے گئے۔
دارالحکومت میں سکیورٹی نظام کو جدید بنانے کے لیے اسلام آباد سیف سٹی توسیعی منصوبے کے لیے 1 ارب 88 کروڑ 37 لاکھ روپے مختص کیے گئے، جبکہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی آپریشنل ضروریات کے لیے 15 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی۔
اجلاس میں ریکوڈک منصوبے کے سکیورٹی اخراجات کے لیے 41 کروڑ 39 لاکھ روپے اور پی ٹی وی ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 73 کروڑ 30 لاکھ روپے جاری کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ گلگت بلتستان کے مختلف ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی اخراجات کے لیے بھی اربوں روپے مختص کیے گئے۔
شہری ترقی کے شعبے میں کراچی اور حیدرآباد کے اربن انفراسٹرکچر پیکجز کے لیے 8 ارب 75 کروڑ روپے منظور کیے گئے، جبکہ خیبر پختونخوا کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (SAP) منصوبوں کے لیے 2 ارب 84 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ پاکستان منٹ کی اپ گریڈیشن کے لیے 1 ارب 30 کروڑ روپے کی گرانٹ بھی منظور ہوئی۔
دوسری جانب پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں خواتین کی ترقی اور خودمختاری کے لیے 4 ارب 95 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں کی تجویز پیش کی ہے۔ ان منصوبوں میں ورکنگ ویمن ہاسٹلز، ڈے کیئر سینٹرز، خواتین کے بزنس انکیوبیشن سینٹرز، ڈیجیٹل اسکلز پروگرام "ای لرن، شی ارنز” اور دیہی خواتین کے لیے معاشی خودمختاری کے مختلف پروگرام شامل ہیں۔
حکومت پنجاب کے مطابق خواتین کے لیے روزگار، کاروبار اور جدید مہارتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی گئی ہے، جس سے خواتین کی معاشی شرکت میں اضافہ اور صوبے کی مجموعی ترقی میں بہتری متوقع ہے۔ -

اورنگی ٹاؤن میں بیوی کو قتل کرنے والے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور
کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے 11 میں گھریلو تنازع ایک افسوسناک واقعے میں تبدیل ہو گیا، جہاں ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کو قتل کرنے کے بعد خود پولیس تھانے پہنچ کر جرم کا اعتراف کر لیا۔ واقعے نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی جبکہ مقتولہ کے چار بچے ماں کی شفقت سے محروم ہو گئے۔
پولیس کے مطابق ملزم بیوی کو قتل کرنے کے بعد براہ راست تھانے پہنچا اور واقعے کی اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچی اور خاتون کی لاش کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔ موقع سے مبینہ آلہ قتل، لوہے کی راڈ بھی برآمد کر لی گئی۔
عدالت میں پیشی کے دوران پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم ابتدائی تفتیش میں جرم کا اعتراف کر چکا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق مزید شواہد اکٹھے کرنے، آلہ قتل کی فرانزک جانچ اور ملزم کے ممکنہ کریمنل ریکارڈ کی پڑتال کے لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔ عدالت نے ملزم کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق میاں بیوی کے درمیان گھریلو جھگڑے چل رہے تھے۔ مبینہ طور پر اسی تنازع کے دوران ملزم نے لوہے کی راڈ سے وار کر کے خاتون کو قتل کر دیا۔ ڈیوٹی افسر کے مطابق ملزم نے ذاتی رنجش اور گھریلو اختلافات کی بنیاد پر قتل کا اعتراف بھی کیا ہے۔
مقتولہ چار بچوں کی ماں تھی، جن میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق واقعے کے وقت گھر میں کوئی اور فرد موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے قتل کی واردات بغیر کسی مزاحمت کے انجام دی گئی۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف پہلوؤں سے تفتیش کر رہے ہیں تاکہ واقعے کی مکمل وجوہات اور پس منظر سامنے لایا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد اور فرانزک رپورٹس کی روشنی میں چالان مکمل کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
سماجی حلقوں نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے گھریلو تنازعات کے حل کے لیے مؤثر مشاورت اور آگاہی پروگراموں کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ایسے المناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ -

بلاول بھٹو نے جی بی عوام سے فارم 45 کے تحفظ کی اپیل کر دی
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ووٹ اور انتخابی نتائج کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور اس بار فارم 45 کے حصول اور حفاظت پر خصوصی توجہ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ موجودہ حالات میں ان کے حقوق اور مفادات کی مؤثر نمائندگی کون کر سکتا ہے۔
گلگت میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی رہی ہے اور اس بار کسی کو بھی عوامی مینڈیٹ پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ انتخابات میں عوام کے ووٹ کا احترام نہیں کیا گیا تھا، اس لیے اس مرتبہ ووٹرز کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ خطے کے موجودہ چیلنجز اور قومی حالات میں کون سی سیاسی قوت ان کی بہتر نمائندگی کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے ہمیشہ گلگت بلتستان کے عوام کی آواز بلند کی ہے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی خدمات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے جبکہ بے نظیر بھٹو نے ملکی دفاعی صلاحیتوں میں مزید بہتری لانے کے اقدامات کیے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے دور میں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی بنیاد رکھی گئی، جو توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
علاقائی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ خطہ اس وقت کشیدہ حالات سے گزر رہا ہے اور امن کی کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی اور سیاسی کوششیں کامیاب ہوں گی، جس سے عوام کو بھی ریلیف ملے گا اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔