ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو استعمال کیا گیا تو تہران انہیں جائز عسکری اہداف تصور کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے خطے کے مختلف ممالک کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے واضح پیغام دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ حملے میں استعمال ہونے والے امریکی فوجی اڈے ایرانی ردعمل کی زد میں آ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جوہری طاقت کے مقابلے میں طویل عرصے تک ثابت قدم رہنا ایرانی قوم کے عزم اور طاقت کا مظہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ حالات نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ ایرانی قوم دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود اپنے مفادات کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
عباس عراقچی نے خطے کے ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی ایسے اقدام کو سنجیدگی سے لے گا جو اس کی سلامتی کے خلاف استعمال ہو سکتا ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقائی ممالک کو ایسے فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے جو خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔
تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر اور تعمیری تعلقات کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق تہران خطے میں استحکام، تعاون اور باہمی احترام کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران ریاض کے ساتھ پائیدار اور مثبت تعلقات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر روابط نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے بھی اہم ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عباس عراقچی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال پر عالمی توجہ مرکوز ہے اور مختلف ممالک کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
Blog
-

ایران کا امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا انتباہ
-

بیول میں مبینہ پنچایتی انصاف کی بھینٹ چڑھ کر نوجوان جاں بحق
سفاکیت کی انتہا گوجرخان میں 30 سالہ زبیر پر وحشیانہ تشدد، نازک اعضاء کو نشانہ بنایا گیا، راولپنڈی ہسپتال میں دم توڑ گیا
زیادتی کا الزام جھوٹا ہے، میرے بیٹے کو بے دردی سے مارا گیا زبیر کے والد کا چیف جسٹس اور آئی جی پنجاب سے انصاف کا مطالبہ
گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان کے علاقے بیول میں قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے سفاک ملزمان نے اپنی عدالت لگا لی، جس کے نتیجے میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بننے والا 30 سالہ نوجوان زبیر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راولپنڈی کے ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ تفصیلات کے مطابق، ملزمان نے زبیر نامی نوجوان کو ایک ڈیرے پر لے جا کر محبوس کیا اور ایک بچے کے ساتھ مبینہ زیادتی کا الزام لگا کر اسے ڈنڈوں اور دیگر آلات سے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ملزمان نے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نوجوان کے نازک اعضاء پر بھی ضربات لگائیں۔ تشویشناک حالت میں نوجوان کو راولپنڈی منتقل کیا گیا تھا، جہاں کئی گھنٹے موت و زندگی کی کشمکش میں رہنے کے بعد وہ زندگی کی بازی ہار گیا۔ دوسری جانب، مقتول زبیر کے والد نے اپنے بیٹے پر لگائے گئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ لواحقین نے قاضیاں پولیس پر بھی سنگین الزامات عائد کیے ہیں کہ پولیس نے اس حساس معاملے میں داد رسی کے بجائے ناروا سلوک اختیار کیا۔ مقتول کے خاندان نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث سفاک ملزمان کو فوری گرفتار کر کے نشانِ عبرت بنایا جائے اور پولیس کی غفلت کی بھی تحقیقات کی جائیں۔ علاقے میں اس ہولناک واقعے کے بعد سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ -

نوجوان کے اکاؤنٹ میں اچانک 21 ارب ڈالر آ گئے
ترکیہ کے مشرقی صوبے وان میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک نوجوان کے بینک اکاؤنٹ میں اچانک 21 ارب ڈالر سے زائد رقم ظاہر ہونے پر نہ صرف وہ خود حیران رہ گیا بلکہ بینکاری حکام بھی فوری حرکت میں آ گئے۔ واقعے نے سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا میں بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق 32 سالہ احمد جہانگیر تاکالو، جو آذربائیجان کا شہری ہے، روزمرہ خریداری کے دوران اس وقت پریشان ہو گیا جب اس کا بینک کارڈ اچانک کام کرنا بند کر گیا۔ مسئلے کی وجہ جاننے کے لیے وہ فوری طور پر متعلقہ بینک کی شاخ پہنچا۔
بینک حکام نے جب اس کے اکاؤنٹ کی تفصیلات چیک کیں تو ایک غیر معمولی انکشاف سامنے آیا۔ ریکارڈ کے مطابق اس کے اکاؤنٹ میں 999 ارب، 999 ملین، 999 ہزار، 999 ترک لیرے اور 99 قروش کی خطیر رقم موجود تھی، جس کی مالیت تقریباً 21 ارب امریکی ڈالر بنتی ہے۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم 60 کھرب روپے سے بھی زیادہ بنتی ہے۔
یہ غیر معمولی بیلنس دیکھ کر احمد جہانگیر خود بھی حیران رہ گیا۔ اس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسے اس بات کا کوئی علم نہیں کہ اس کے اکاؤنٹ میں اتنی بڑی رقم کیسے منتقل ہوئی۔ اس کے مطابق اس نے کبھی ایسی کوئی مالی لین دین نہیں کی جو اس رقم سے منسلک ہو۔
واقعے کے بعد بینک انتظامیہ نے احتیاطی اقدام کے طور پر متعلقہ اکاؤنٹس کو فوری طور پر منجمد کر دیا تاکہ کسی بھی ممکنہ غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ ساتھ ہی مالیاتی اداروں اور متعلقہ حکام نے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ابتدائی طور پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ بینکنگ سسٹم میں کسی تکنیکی خرابی، ڈیٹا انٹری کی غلطی یا سافٹ ویئر کے مسئلے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد ہی اصل وجہ سامنے آ سکے گی۔
ماہرین کے مطابق جدید بینکاری نظام میں بعض اوقات تکنیکی خرابیوں کے باعث اکاؤنٹس میں غیر حقیقی بیلنس ظاہر ہو سکتا ہے، تاہم ایسے معاملات فوری طور پر درست کر لیے جاتے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر بینکنگ سسٹمز میں ڈیجیٹل نگرانی اور حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے۔ -

اسلام آباد کے لیے الگ اسمبلی بنانے کی تجویز
وفاقی حکومت نے دارالحکومت اسلام آباد کے انتظامی نظام میں بڑی تبدیلی لانے اور الگ قانون ساز اسمبلی قائم کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے قائم خصوصی کمیٹی نے اپنی سفارشات وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کر دی ہیں، جن پر منظوری کے بعد باقاعدہ قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خصوصی کمیٹی میں وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا ثنا اللہ، طارق فضل چوہدری اور مصدق ملک شامل تھے۔ کمیٹی نے اسلام آباد کے انتظامی اور ترقیاتی معاملات کو زیادہ مؤثر انداز میں چلانے کے لیے ایک نیا حکومتی ڈھانچہ تجویز کیا ہے۔
تجاویز کے مطابق اسلام آباد کے لیے ایک علیحدہ قانون ساز اسمبلی قائم کی جائے گی، جس کے ارکان کی تعداد 20 سے 30 کے درمیان ہوگی۔ اسمبلی کے اراکین براہ راست عوامی ووٹوں سے منتخب ہوں گے اور دارالحکومت سے متعلق قانون سازی اور عوامی مسائل کے حل کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔
رپورٹ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ اسلام آباد کا ایک الگ چیف ایگزیکٹو مقرر کیا جائے جو مقامی انتظامی امور کی نگرانی کرے گا۔ اس کے علاوہ اسمبلی کا اپنا علیحدہ سیکریٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا تاکہ قانون سازی اور انتظامی معاملات کو مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سمیت دارالحکومت کے ترقیاتی اور انتظامی معاملات بھی نئی اسمبلی کے دائرہ اختیار میں لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی سطح پر فیصلہ سازی کو مضبوط بنانا اور شہری مسائل کے حل کو تیز تر بنانا ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی آبادی میں مسلسل اضافہ اور شہری ضروریات میں وسعت کے باعث ایک جدید اور بااختیار مقامی حکومتی نظام کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ نئی اسمبلی کے قیام سے شہریوں کو براہ راست نمائندگی ملے گی اور مقامی ترقیاتی منصوبوں پر بہتر نگرانی ممکن ہو سکے گی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد اس معاملے پر پارلیمنٹ میں باقاعدہ قانون سازی کی جائے گی۔ اگر تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو اسلام آباد کے انتظامی اور سیاسی ڈھانچے میں یہ ایک تاریخی تبدیلی ثابت ہوگی، جس کے اثرات دارالحکومت کی گورننس اور عوامی خدمات پر مرتب ہوں گے۔ -

پاکستان کو 5 سال میں 123 ارب ڈالر درکار ہوں گے
پاکستان کی معیشت کے حوالے سے سامنے آنے والی تازہ دستاویزات نے آئندہ برسوں کے مالی چیلنجز کی نشاندہی کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اگلے پانچ سال کے دوران پاکستان کو اپنی بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً 123 ارب ڈالر درکار ہوں گے، جس کے باعث بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پر انحصار ختم ہونے کے امکانات محدود دکھائی دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کا موجودہ 7 ارب ڈالر کا آئی ایم ایف پروگرام اگلے سال ستمبر یا اکتوبر میں مکمل ہونے جا رہا ہے۔ تاہم قرضوں کی واپسی، جاری مالی ضروریات اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کے باعث مستقبل میں پاکستان کو دوبارہ آئی ایم ایف یا دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے۔
دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026-27 میں پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات کا تخمینہ 21.2 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس کے بعد مالی سال 2027-28 میں یہ ضروریات بڑھ کر 29 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جو حالیہ برسوں کی بلند ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔
مالی سال 2028-29 کے دوران بیرونی مالی ضروریات تقریباً 23 ارب 59 کروڑ ڈالر رہنے کا امکان ہے، جبکہ 2029-30 میں یہ ضرورت 22 ارب ڈالر تک محدود رہ سکتی ہے۔ اس کے باوجود 2030-31 میں بیرونی فنانسنگ کی ضروریات دوبارہ بڑھ کر 26 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 3.6 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق اگر برآمدات، ترسیلات زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو طویل المدتی بنیادوں پر آئی ایم ایف کے پروگراموں سے نکلنے کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ، صنعتی ترقی، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق صرف قرضوں کے ذریعے معیشت کو سہارا دینا مستقل حل نہیں ہو سکتا۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر حکومت معاشی اصلاحات کے عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھتی ہے اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بناتی ہے تو آنے والے برسوں میں بیرونی مالی انحصار میں کمی لانا ممکن ہو سکتا ہے۔ -
بہاولپور میں کرنٹ لگنے سے 4 افراد جاں بحق
بہاولپور کے علاقے یزمان میں ایک افسوسناک حادثے کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہو گئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق یہ واقعہ سیوریج ڈسپوزل موٹر سے کرنٹ لگنے کے باعث پیش آیا، جس نے ایک ہی خاندان سمیت کئی افراد کی جان لے لی۔
تفصیلات کے مطابق حادثہ یزمان تحصیل کے ایک دیہی علاقے میں پیش آیا، جہاں سیوریج نظام سے متعلق ایک ٹربائن روم میں موٹر کو چلانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ اسی دوران اچانک بجلی کا شدید کرنٹ پھیل گیا جس کی زد میں آ کر چار افراد جان کی بازی ہار گئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک شخص کو کرنٹ لگنے کے بعد دیگر افراد اسے بچانے کے لیے آگے بڑھے، تاہم وہ بھی بجلی کے جھٹکے کی زد میں آ گئے، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور مقامی انتظامیہ موقع پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارکنوں نے لاشوں کو تحویل میں لے کر ضروری کارروائی کے بعد قریبی اسپتال منتقل کر دیا۔ حادثے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی اور اہل خانہ غم سے نڈھال ہو گئے۔
مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور یہ معلوم کیا جائے کہ موٹر اور بجلی کے نظام میں حفاظتی انتظامات کیوں موجود نہیں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
ماہرین کے مطابق بجلی سے چلنے والی مشینری اور موٹروں کے استعمال کے دوران حفاظتی اصولوں پر عمل نہ کرنے سے ایسے جان لیوا حادثات پیش آ سکتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ بجلی کے نظام کی باقاعدہ جانچ اور حفاظتی تربیت کو یقینی بنایا جائے۔
انتظامیہ کی جانب سے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ اہل خانہ اور مقامی آبادی متاثرین کے لیے انصاف اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کر رہی ہے۔ -

اڈیالہ جیل کا سزا یافتہ قیدی ہسپتال سے فرار
راولپنڈی: اڈیالہ جیل سے علاج کے لیے بینظیر بھٹو اسپتال منتقل کیا گیا ایک سزا یافتہ قیدی اسپتال سے فرار ہوگیا، جس کے بعد پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق فرار ہونے والا قیدی جمیل منشیات کے مقدمے میں گرفتار اور عدالت سے سزا یافتہ تھا۔ اسے علاج کی غرض سے اڈیالہ جیل سے بینظیر بھٹو اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں سے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔پولیس نے واقعے کا مقدمہ تھانہ وارث خان میں درج کر لیا ہے۔ مقدمے میں ڈیوٹی پر تعینات اے ایس آئی عمران احمد اور کانسٹیبل قمر علی کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔مقدمے کے متن کے مطابق قیدی جمیل کو اس کا بیٹا عدنان اور ایک نامعلوم شخص وہیل چیئر پر وارڈ سے باہر لے گئے، جہاں سے اسے ایک گاڑی میں بٹھا کر فرار کروا دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے مجرم کو منشیات اسمگلنگ کا جرم ثابت ہونے پر عدالت نے 9 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
-

خیبرپختونخوا میں 56 ارب روپے کے 41 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کرنے کے لیے 56 ارب روپے سے زائد لاگت کے 41 اہم منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے 21ویں اجلاس میں مختلف شعبوں سے متعلق منصوبوں کی منظوری دی گئی، جن کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور صوبے کی معاشی و سماجی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
اجلاس میں صحت، تعلیم، توانائی، مواصلات، آبپاشی، کھیلوں اور ڈیجیٹل گورننس سمیت متعدد شعبوں کے منصوبے شامل تھے۔ حکام کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی خصوصی ہدایت پر بنوں، ہزارہ، ملاکنڈ اور مردان ڈویژنز میں رابطہ سڑکوں کی تعمیر اور بحالی کے منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ ان منصوبوں کے تحت نئی بلیک ٹاپ سڑکیں تعمیر کی جائیں گی جبکہ مختصر راستوں اور متبادل شاہراہوں کی تعمیر سے ٹریفک کے دباؤ میں کمی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔
صحت کے شعبے میں ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں مدر اینڈ چائلڈ اسپتال اور سوات کے علاقے کبل میں پیڈز اسپتال کے قیام کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ ضم شدہ اضلاع میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے 100 ماہر ڈاکٹروں اور طبی عملے کی تعیناتی کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ محکمہ صحت میں نگرانی کے مؤثر نظام کے لیے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ قائم کیا جائے گا۔
سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے وسطی اور جنوبی اضلاع میں فلڈ پروٹیکشن منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔ کوہاٹ میں سماری پایان ڈیم کی تعمیر، کرم اور اورکزئی کے مختلف علاقوں میں سڑکوں کی کشادگی اور بحالی جبکہ جنوبی وزیرستان میں اہم شاہراہوں کی بہتری کے منصوبے بھی منظور کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں بینک آف خیبر کے تعاون سے سولر ہوم سسٹم منصوبے کے پہلے اور دوسرے مرحلے کی منظوری دی گئی، جس سے دور دراز علاقوں میں بجلی کی فراہمی میں بہتری آنے کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ جنوبی وزیرستان اور کرم میں پن بجلی کے منصوبے بھی منظور کیے گئے ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں سوات میں زرعی یونیورسٹی کے قیام کی منظوری دی گئی جبکہ کھیلوں کے فروغ کے لیے حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس اور قیوم اسٹیڈیم کے فٹبال گراؤنڈ کی اپ گریڈیشن کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ مزید برآں بے روزگار وٹرنری گریجویٹس کو موٹر سائیکلوں کی فراہمی، خیبرپختونخوا ڈیجیٹل گورننس منصوبہ، ملاکنڈ میں جبن درگئی عوامی پارک اور جانی خیل ٹی ایس ڈی وزیر کے لیے مربوط ترقیاتی پیکج کی منظوری بھی اجلاس میں دی گئی۔ -

گلگت بلتستان انتخابات، آصفہ بھٹو کی عوام سے 7 جون کو ووٹ ڈالنے کی اپیل
خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے انتخابات کے حوالے سے اپنے ویڈیو پیغام میں عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ 7 جون کو گھروں سے نکلیں اور پاکستان پیپلزپارٹی کے انتخابی نشان "تیر” پر مہر لگائیں۔
آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی عوام کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی ہر مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی عوام کا ساتھ نبھاتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک تحریک، ایک سوچ اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کے عوام سے کیے گئے وعدوں کا تسلسل ہے۔آصفہ بھٹو زرداری نے ووٹرز پر زور دیا کہ وہ انتخابات میں بھرپور حصہ لیں اور ترقی، جمہوریت اور عوامی حقوق کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی کا ساتھ دیں۔
-

آزاد کشمیر، سیاحوں کے داخلے پر 15 جون تک پابندی عائد
مظفرآباد: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 جون کو دی گئی احتجاجی کال کے پیشِ نظر حکومتِ آزاد کشمیر نے سیاحوں کے داخلے پر 15 جون تک پابندی عائد کر دی ہے۔
آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ ایڈوائزری جاری کر دی گئی ہے، جس میں سیاحوں اور مسافروں کو 5 جون سے 20 جون تک آزاد کشمیر کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔حکومتی ایڈوائزری کے مطابق احتجاجی سرگرمیوں اور ممکنہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث سیاحت اور دیگر مقاصد کے لیے آزاد کشمیر آنے والے افراد احتیاط برتیں اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں،
حکومت نے آزاد کشمیر میں موجود سیاحوں اور مسافروں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ کل شام تک علاقے سے نکل جائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ دشواری یا ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عوامی تحفظ، امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں و سیاحوں کی سہولت کے پیشِ نظر کیے گئے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں اور صورتحال معمول پر آنے تک غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔