وفاقی حکومت نے دارالحکومت اسلام آباد کے انتظامی نظام میں بڑی تبدیلی لانے اور الگ قانون ساز اسمبلی قائم کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے قائم خصوصی کمیٹی نے اپنی سفارشات وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کر دی ہیں، جن پر منظوری کے بعد باقاعدہ قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خصوصی کمیٹی میں وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا ثنا اللہ، طارق فضل چوہدری اور مصدق ملک شامل تھے۔ کمیٹی نے اسلام آباد کے انتظامی اور ترقیاتی معاملات کو زیادہ مؤثر انداز میں چلانے کے لیے ایک نیا حکومتی ڈھانچہ تجویز کیا ہے۔
تجاویز کے مطابق اسلام آباد کے لیے ایک علیحدہ قانون ساز اسمبلی قائم کی جائے گی، جس کے ارکان کی تعداد 20 سے 30 کے درمیان ہوگی۔ اسمبلی کے اراکین براہ راست عوامی ووٹوں سے منتخب ہوں گے اور دارالحکومت سے متعلق قانون سازی اور عوامی مسائل کے حل کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔
رپورٹ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ اسلام آباد کا ایک الگ چیف ایگزیکٹو مقرر کیا جائے جو مقامی انتظامی امور کی نگرانی کرے گا۔ اس کے علاوہ اسمبلی کا اپنا علیحدہ سیکریٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا تاکہ قانون سازی اور انتظامی معاملات کو مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سمیت دارالحکومت کے ترقیاتی اور انتظامی معاملات بھی نئی اسمبلی کے دائرہ اختیار میں لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی سطح پر فیصلہ سازی کو مضبوط بنانا اور شہری مسائل کے حل کو تیز تر بنانا ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی آبادی میں مسلسل اضافہ اور شہری ضروریات میں وسعت کے باعث ایک جدید اور بااختیار مقامی حکومتی نظام کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ نئی اسمبلی کے قیام سے شہریوں کو براہ راست نمائندگی ملے گی اور مقامی ترقیاتی منصوبوں پر بہتر نگرانی ممکن ہو سکے گی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد اس معاملے پر پارلیمنٹ میں باقاعدہ قانون سازی کی جائے گی۔ اگر تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو اسلام آباد کے انتظامی اور سیاسی ڈھانچے میں یہ ایک تاریخی تبدیلی ثابت ہوگی، جس کے اثرات دارالحکومت کی گورننس اور عوامی خدمات پر مرتب ہوں گے۔
اسلام آباد کے لیے الگ اسمبلی بنانے کی تجویز
