جمعیت علمائے اسلام (ف) نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کے خلاف وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے قانون کی بعض شقوں کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا ہے۔ جماعت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قانون میں 18 سال سے کم عمر ہر فرد کو بچہ قرار دینا اسلامی فقہ سے مطابقت نہیں رکھتا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنا اسلامی اصولوں اور روایتی فقہی تشریحات کے مطابق نہیں ہے۔ جے یو آئی (ف) کے مطابق قانون میں شامل بعض لازمی سزائیں عدالتوں کے صوابدیدی اختیارات کو بھی محدود کرتی ہیں، جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
جماعت نے واضح کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کے خلاف نہیں، بلکہ اس بات کی حامی ہے کہ قانون سازی قرآن و سنت کے مطابق ہونی چاہیے۔ درخواست میں عدالت سے متنازع شقوں کا جائزہ لینے اور غیر معمولی حالات میں عدالتی استثنا کا طریقہ کار متعارف کرانے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ اپریل 2026 میں پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بلدیات نے پنجاب چائلڈ میرج آرڈیننس 2026 کی منظوری دی تھی، جس کے تحت صوبے بھر میں 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی پر مکمل پابندی عائد کی گئی۔ اس قانون کے مطابق نکاح کے وقت دلہا اور دلہن دونوں کی عمر کم از کم 18 سال ہونا ضروری قرار دی گئی ہے۔
اس سے قبل مئی 2025 میں صدر آصف علی زرداری نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل پر دستخط کر کے اسے قانون کا درجہ دیا تھا۔ یہ بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہونے کے بعد نافذ العمل ہوا۔ قومی اسمبلی میں یہ بل شرمیلا فاروقی جبکہ سینیٹ میں شیری رحمان کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔
قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی کرانے والے نکاح خواں کو ایک سال تک قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اسی طرح 18 سال سے زائد عمر کا مرد اگر کم عمر لڑکی سے شادی کرے تو اسے تین سال تک سخت قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مزید برآں، کسی نابالغ کو زبردستی شادی پر مجبور کرنے کی صورت میں سات سال تک قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ اب اس قانون کے مختلف پہلوؤں پر وفاقی شرعی عدالت میں قانونی بحث ہونے کا امکان ہے۔
جے یو آئی نے چائلڈ میرج قانون کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا
