برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ ویپنگ انسانی جسم میں ہزاروں جینز کی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں کینسر، دل کی بیماریوں اور پھیپھڑوں کے امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
تحقیق کاروں کے مطابق ای سیگریٹ کا مستقل استعمال جسم میں ایسے حیاتیاتی عمل کو متحرک کرتا ہے جو جینز کے کام کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں۔ ان تبدیلیوں کا تعلق متعدد سنگین بیماریوں سے جوڑا جا رہا ہے، جن میں کینسر، دل کے امراض اور نظامِ تنفس کے مسائل شامل ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ نتائج سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ صرف ویپنگ کی مقدار ہی اہم نہیں بلکہ استعمال کیے جانے والے ای سیگریٹ کی قسم اور اس میں شامل ذائقے بھی جینز پر مختلف اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف برانڈز اور فلیورز جسم میں الگ الگ نوعیت کی تبدیلیوں سے منسلک پائے گئے ہیں۔
تحقیق میں ویپنگ استعمال کرنے والوں کے ساتھ ساتھ روایتی سگریٹ نوش افراد کا بھی جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق پھلوں کے ذائقوں والے ای سیگریٹس تقریباً 31 فیصد متاثرہ جینز میں تبدیلیوں سے منسلک پائے گئے۔ اسی طرح متعدد ذائقوں کے امتزاج والے ویپنگ مصنوعات 64.3 فیصد جینیاتی تبدیلیوں سے تعلق رکھتی تھیں۔
تحقیق کے مطابق میٹھے ذائقوں کا تعلق 2.9 فیصد جبکہ پودینہ یا مینتھول فلیورز کا تعلق 0.9 فیصد جینیاتی تبدیلیوں سے دیکھا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اعداد و شمار مزید تحقیق کے متقاضی ہیں، تاہم نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مختلف فلیورز کے صحت پر اثرات ایک جیسے نہیں ہوتے۔
سائنسدانوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ویپنگ ایک نسبتاً نئی ایجاد ہے، اس لیے اس کے طویل المدتی اثرات ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوئے۔ تاہم موجودہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ای سیگریٹس میں موجود بعض کیمیکل ایسے حیاتیاتی عوامل کو متحرک کر سکتے ہیں جو جینز کی سرگرمیوں کو متاثر کرتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو مکمل طور پر محفوظ متبادل سمجھنا درست نہیں ہوگا اور اس کے ممکنہ صحت کے خطرات پر مزید تحقیق اور عوامی آگاہی کی ضرورت ہے۔
ویپنگ جینز میں خطرناک تبدیلیوں کا سبب بن سکتی ہے، تحقیق
