Baaghi TV

وہ لوگ جنھیں محلوں میں کوئی نہیں جانتا وہ کہہ رہےہم ایوانوں میں بیٹھیں گے،پلوشہ خان

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پارٹی کو ملنے والی بھرپور عوامی پذیرائی سے سیاسی مخالفین بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی وزراء مختلف منصوبوں کے اعلانات کے ذریعے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ پنجاب پولیس کی گلگت بلتستان میں موجودگی بھی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ ہر الیکشن چوری نہیں کیا جا سکتا، گلگت بلتستان کو شناخت پاکستان پیپلز پارٹی نے دی اور ان شاء اللہ آئندہ انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی کامیاب ہوگی۔

یہ بات سینیٹر پلوشہ خان، سینیٹر شہادت اعوان اور رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے پیپلز سیکرٹریٹ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں انتہائی اہم انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما وہاں پہنچ رہے ہیں، تاہم یہ حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کو شناخت اور سیاسی حقوق پاکستان پیپلز پارٹی نے دیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام مہنگی بجلی سے تنگ آ کر خود سولر پینلز لگا رہے ہیں جبکہ حکمران عوام پر معاشی بوجھ بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل اربوں روپے کے فنڈز اور ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات دراصل پری پول رگنگ کے مترادف ہیں۔ الیکشن کمیشن کو گلگت بلتستان میں ترقیاتی فنڈز کے اعلانات، انتخابی فہرستوں میں مبینہ ردوبدل، افسران کے تبادلوں اور سرکاری مشینری کے استعمال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی ماحول میں ووٹرز پر اثر انداز ہونے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور الیکشن کمیشن کو ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے۔

سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ جو جماعتیں ماضی میں اقتدار میں رہیں، انہیں جواب دینا چاہیے کہ انہوں نے گلگت بلتستان کے لیے کیا ترقیاتی کام کیے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی جبکہ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی بار ایف سی آر جیسے فرسودہ نظام کا خاتمہ کیا۔ خواتین کے حقوق، نوجوانوں کی نمائندگی اور جمہوری اداروں کے قیام میں بھی پیپلز پارٹی کا کردار نمایاں ہے۔انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم آرڈیننس کے ذریعے نہیں ہوتیں بلکہ قومی اتفاق رائے سے کی جاتی ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے بھی تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور حقائق کو مدنظر رکھیں۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ مہنگائی میں اضافے کے تناسب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا جائے۔

رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان میں متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ آصفہ بھٹو زرداری کو گلگت بلتستان میں غیر معمولی عوامی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، جس سے مخالفین پریشان ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کروائے جا رہے جبکہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات پیپلز پارٹی کے دور میں منعقد ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سیلاب متاثرین کو گھر فراہم کر رہی ہے اور ہمیشہ "روٹی، کپڑا اور مکان” کے منشور پر عمل پیرا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی عوام کے گھر بنانے پر یقین رکھتی ہے، گرانے پر نہیں۔رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ڈیموں اور دیگر اہم منصوبوں کی بنیاد پاکستان پیپلز پارٹی نے رکھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ گلگت بلتستان میں پنجاب پولیس کیوں بھیجی گئی اور کتنے وفاقی و صوبائی وزراء انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام جمہوری قوتوں کا ساتھ دیں گے اور آئندہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔

More posts