مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اگر گلگت بلتستان کی ترقی پر بھرپور توجہ دی جائے تو یہ دنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی خطوں میں شامل ہو سکتا ہے اور سوئٹزرلینڈ جیسی ترقی کی مثال بن سکتا ہے۔ انہوں نے اسکردو میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خطے کی اہمیت اور عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومتوں نے گلگت بلتستان میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا، جن کا مقصد علاقے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، سیاحت کے فروغ اور عوامی سہولیات میں اضافہ تھا۔ ان کے مطابق خطے میں مزید سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی کے ذریعے معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے آزادی کی جدوجہد اور پاکستان کے ساتھ الحاق میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے بقول یہاں کے لوگوں کی قربانیاں تاریخ کا ایک روشن باب ہیں اور پاکستان ان خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔
ن لیگی رہنما نے اپنے خطاب میں کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے اپنی جانوں اور قربانیوں کے ذریعے اس خطے کو پاکستان کا حصہ بنانے میں کردار ادا کیا، اسی لیے پوری قوم ان کی احسان مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے عوام نے ہمیشہ وطن سے محبت اور وفاداری کا مظاہرہ کیا ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے یہ بھی کہا کہ اگر مسلم لیگ ن کی حکومتوں کا تسلسل برقرار رہتا تو ملک کی ترقی کی رفتار مزید تیز ہوتی۔ ان کے مطابق سیاسی عدم استحکام اور حکومتوں کی تبدیلیوں نے ترقیاتی عمل کو متاثر کیا، جس کا اثر ملک کی مجموعی ترقی پر پڑا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے قدرتی حسن، بلند پہاڑوں، جھیلوں اور سیاحتی مقامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ عالمی سطح پر سیاحت کا بڑا مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مناسب منصوبہ بندی، جدید انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے ذریعے یہاں لاکھوں سیاحوں کو متوجہ کیا جا سکتا ہے۔
Blog
-

گلگت بلتستان پر توجہ دی جائے تو یہ سوئٹزرلینڈ بن سکتا ہے، سعد رفیق
-

حسن پائیکر اور جینک ایوغر کی برطانیہ میں داخلے کی اجازت منسوخ
برطانیہ کی وزارت داخلہ نے معروف آن لائن سیاسی مبصرین حسن پائیکر اور جینک ایوغر کی برطانیہ میں داخلے کی اجازت منسوخ کر دی ہے، جس کے باعث دونوں شخصیات لندن میں ہونے والی ایس ایکس ایس ڈبلیو کانفرنس میں شرکت نہیں کر سکیں گی۔
حسن پائیکر، جو ٹوئچ پر 30 لاکھ سے زائد فالوورز رکھنے والے معروف اسٹریمر ہیں، کانفرنس میں "امریکی بائیں بازو نے انٹرنیٹ کی زبان کیسے سیکھی” کے موضوع پر ایک پینل میں شرکت کرنے والے تھے۔ دوسری جانب ان کے چچا جینک ایوغر، جو آن لائن نیوز پروگرام "دی ینگ ٹرکس” کے میزبان ہیں، "ٹیکنو فیوڈل ازم آ چکا ہے، اصل حکمران کون ہیں؟” کے عنوان سے خطاب کرنے والے تھے۔
دونوں شخصیات 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیلی پالیسیوں کے ناقدین کے طور پر نمایاں رہی ہیں۔ انہوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر غزہ میں ہونے والی انسانی صورتحال پر مسلسل اظہارِ خیال کیا اور جنگ کے خلاف مؤقف اختیار کیا۔
برطانوی وزارت داخلہ کے نمائندوں نے تصدیق کی کہ حسن پائیکر اور جینک ایوغر کی الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ETA) منسوخ کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ ان کی برطانیہ میں موجودگی "عوامی مفاد کے لیے موزوں نہیں” سمجھی گئی۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ کسی فرد کی سفری اجازت منسوخ کرنے کا فیصلہ ممکنہ خطرات کے جائزے کے بعد کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد برطانوی معاشرے کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
دوسری جانب جینک ایوغر نے اس فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسے "دباؤ اور پابندی” قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں برطانیہ میں داخلے سے روک دیا گیا، حالانکہ وہ لندن اور آکسفورڈ میں مختلف تقریبات سے خطاب کرنے والے تھے۔
یہ فیصلہ آزادی اظہار، سیاسی آراء اور سفری پابندیوں کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس معاملے پر آنے والے دنوں میں مزید ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جبکہ انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے حامی حلقے بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ -

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، انڈیکس 3300 پوائنٹس سے زائد گر گیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہفتے کے پہلے کاروباری روز شدید مندی دیکھنے میں آئی، جہاں سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت کے دباؤ کے باعث مارکیٹ نمایاں خسارے کے ساتھ بند ہوئی۔ کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 3362 پوائنٹس کی کمی کے بعد 170600 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
مارکیٹ میں دن بھر منفی رجحان غالب رہا اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے حصص کی فروخت کو ترجیح دی، جس کے باعث مارکیٹ پر دباؤ بڑھتا چلا گیا۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ مندی کی بڑی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے، جس نے عالمی مالیاتی منڈیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھی متاثر کیا ہے۔ خطے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی دیکھی گئی۔
تجزیہ کار شہریار بٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے سرمایہ کاروں کو امید تھی کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کی پیش رفت سامنے آئے گی، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی تھی۔ تاہم ایسا نہ ہونے کے باعث عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے بعد سرمایہ کاروں نے ممکنہ معاشی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط حکمت عملی اختیار کی۔ پاکستان چونکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملکی معیشت، درآمدی بل اور مہنگائی پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔
معاشی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی اور تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں تو اس کے اثرات پاکستان کی مالیاتی منڈیوں اور سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے سرمایہ کار بین الاقوامی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں عالمی سیاسی حالات، تیل کی قیمتوں اور اقتصادی اشاریوں کی سمت پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی کارکردگی پر اہم اثر ڈال سکتی ہے۔ -
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں میں تعطل کی خبروں کے بعد سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی اور تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر چلی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں 6.96 ڈالر فی بیرل اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت 94.32 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ عالمی توانائی منڈی میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
اسی طرح برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ برینٹ خام تیل 6.24 ڈالر مہنگا ہونے کے بعد 97.36 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا، جو عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں تیزی کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کے تبادلے اور ممکنہ سفارتی پیش رفت میں تعطل کی اطلاعات نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کے باعث منڈیوں میں خریداری کا رجحان بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں تیزی آئی۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا سفارتی کوششوں میں پیش رفت نہیں ہوتی تو تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔ اس صورتحال کے اثرات عالمی معیشت، مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔
پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ایک بڑا معاشی چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے درآمدی اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیاء کی قیمتوں پر دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ -

مئی میں مہنگائی 23 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
پاکستان میں مہنگائی ایک بار پھر تیزی سے بڑھنے لگی ہے، جہاں مئی 2026 کے دوران افراطِ زر کی شرح گزشتہ 23 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ادارہ شماریات کی جانب سے جاری ماہانہ رپورٹ کے مطابق اشیائے ضروریہ اور دیگر اخراجات میں اضافے کے باعث عوام کو مزید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اپریل 2026 کے مقابلے میں مئی 2026 کے دوران مہنگائی کی ماہانہ شرح میں 0.52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا رجحان دوبارہ تیز ہو رہا ہے۔
ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح بڑھ کر 11.66 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ مئی 2025 میں یہی شرح 3.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس نمایاں فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک سال کے دوران قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی 2025 سے مئی 2026 تک اوسط مہنگائی کی شرح 6.69 فیصد رہی۔ اس کے علاوہ اپریل 2026 میں سالانہ افراطِ زر کی شرح 10.89 فیصد تھی، جو مئی میں مزید بڑھ کر 11.66 فیصد ہو گئی۔
شہری اور دیہی علاقوں کے اعداد و شمار بھی مہنگائی میں اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ ماہ دیہی علاقوں میں ماہانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح میں 0.30 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ شہری علاقوں میں یہ اضافہ 0.68 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو نسبتاً زیادہ ہے۔
سالانہ بنیاد پر دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 11.48 فیصد رہی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 11.79 فیصد تک پہنچ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں رہائش، ٹرانسپورٹ، توانائی اور خوراک کے بڑھتے ہوئے اخراجات مہنگائی میں اضافے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق مہنگائی کی موجودہ صورتحال حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب نئے مالی سال کا بجٹ پیش کیے جانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ عوام کی توقع ہے کہ آئندہ بجٹ میں مہنگائی کے اثرات کم کرنے اور کم و متوسط آمدنی والے طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ -

پنجاب کا آئندہ بجٹ ٹیکس فری ہونے کا امکان
پنجاب حکومت کے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق صوبائی بجٹ کو عوام دوست اور ٹیکس فری رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نئے ٹیکس عائد کرنے کے بجائے موجودہ محصولات کے نظام کو مؤثر بنا کر آمدن میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب کی مجموعی ٹیکس وصولیاں آئندہ مالی سال میں تقریباً 712 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ان محصولات میں سب سے بڑا حصہ جی ایس ٹی آن سروسز کا ہوگا، جس سے 320 ارب روپے آمدن حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
بجٹ تخمینوں کے مطابق ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 128 ارب روپے وصول ہونے کا امکان ہے، جبکہ اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس سے 90 ارب روپے حاصل کیے جانے کا ہدف مقرر کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سیلز ٹیکس سے 82 ارب روپے اور موٹر وہیکل ٹیکس سے 47 ارب روپے آمدن متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی سے متعلق ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں سے 35.2 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے، جبکہ لینڈ ریونیو کی مد میں 1.7 ارب روپے آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ اور مقامی حکومتوں کے منصوبوں کے لیے 550 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
آئندہ بجٹ میں کسانوں، طلبہ اور مزدور طبقے کے لیے جاری فلاحی پروگراموں کو برقرار رکھنے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق کسانوں کو ٹریکٹرز، سولر ٹیوب ویلز، معیاری بیج، کھاد اور زرعی قرضوں پر سبسڈی فراہم کرنے کی تجاویز شامل کی جا رہی ہیں تاکہ زرعی شعبے کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
تعلیمی شعبے میں بھی متعدد منصوبوں کو جاری رکھنے کا امکان ہے۔ ہونہار اسکالرشپ پروگرام اور طلبہ کے لیے الیکٹرک بائیک اسکیم کو برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے نوجوانوں کو تعلیم اور سفری سہولتوں میں مدد ملے گی۔
ذرائع محکمہ خزانہ کے مطابق جنوبی پنجاب کی ترقی کے لیے مختص فنڈز کی موجودہ پالیسی برقرار رکھنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس پالیسی کے تحت صوبائی ترقیاتی بجٹ کا کم از کم 35 فیصد حصہ جنوبی پنجاب کے منصوبوں کے لیے مختص کیا جائے گا تاکہ پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ -

تمباکو سے پاک پاکستان؛ ایک صحت مند قوم کی جانب پہلا قدم،تحریر: بسمہ مجید
فضا میں تحلیل ہوتا سگریٹ کا دھواں صرف ہوا کو آلودہ نہیں کرتا بلکہ یہ انسان کی سانسوں، خوابوں اور زندگیوں کو بھی آہستہ آہستہ نگلتا چلا جاتا ہے۔ تمباکو نوشی بظاہر ایک عادت دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایسا خاموش زہر ہے جو انسان کے جسم کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں تمباکو نوشی کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ نوجوان اسے فیشن سمجھتے ہیں، کچھ لوگ ذہنی دباؤ سے نجات کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض افراد محض صحبت کے اثر میں اس لت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں پہلے ہی صحت کے مسائل، غربت اور بے روزگاری نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے، وہاں تمباکو نوشی ایک مزید خطرناک بحران بن کر ابھر رہی ہے۔ ہر سال ہزاروں افراد سگریٹ، گٹکا، نسوار اور دیگر تمباکو مصنوعات کے استعمال کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ان اموات کے پیچھے صرف ایک شخص کی غلطی نہیں ہوتی بلکہ پورا خاندان اذیت، کرب اور معاشی تباہی کا شکار ہو جاتا ہے۔تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریاں کسی ایک عضو تک محدود نہیں رہتیں۔ پھیپھڑوں کا کینسر، دل کے امراض، سانس کی تکالیف، فالج اور منہ کے سرطان جیسی مہلک بیماریاں اسی زہر کا نتیجہ ہیں۔ ایک سگریٹ وقتی سکون تو دے سکتی ہے، مگر اس کے اثرات برسوں تک انسان کی زندگی کو عذاب میں مبتلا رکھتے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب کم عمر نوجوان، جو قوم کا مستقبل سمجھے جاتے ہیں، اس عادت کا شکار ہو کر اپنی صحت اور صلاحیتیں برباد کر لیتے ہیں۔
ہمارے تعلیمی اداروں کے اطراف میں سگریٹ کی کھلے عام فروخت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نئی نسل کو محفوظ مستقبل دینے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ کئی نوجوان ابتدا میں محض تجسس کے تحت سگریٹ پیتے ہیں، مگر آہستہ آہستہ یہ عادت ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ پھر وہی نوجوان نہ صرف اپنی صحت تباہ کرتے ہیں بلکہ اپنے اردگرد موجود افراد کو بھی “پیسو اسموکنگ” یعنی بالواسطہ تمباکو نوشی کے خطرات سے دوچار کرتے ہیں۔
ایک لمحے کے لیے اس ماں کا تصور کیجیے جو اپنے جوان بیٹے کو اسپتال کے بستر پر تڑپتا دیکھتی ہے۔ اس بچے کے بارے میں سوچیے جو اپنے باپ کے ہاتھ میں سگریٹ نہیں بلکہ محبت، تحفظ اور زندگی دیکھنا چاہتا ہے۔ تمباکو نوشی صرف ایک فرد کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ یہ پورے خاندان کی خوشیوں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔بدقسمتی سے تمباکو مصنوعات بنانے والی کمپنیاں اشتہارات، فلموں اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کو متاثر کرتی ہیں۔ وہ سگریٹ نوشی کو آزادی، اسٹیٹس اور جدیدیت کی علامت بنا کر پیش کرتی ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایک تمباکو نوش انسان دراصل اپنی آزادی کھو دیتا ہے، کیونکہ وہ ایک ایسی لت کا غلام بن جاتا ہے جو اسے جسمانی، ذہنی اور مالی طور پر تباہ کر دیتی ہے۔
تمباکو سے پاک پاکستان کا خواب صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں، اساتذہ طلبہ میں شعور بیدار کریں، علما معاشرتی اصلاح میں اپنا کردار ادا کریں اور میڈیا صحت مند معاشرے کے فروغ کے لیے مثبت مہم چلائے۔ اگر معاشرہ متحد ہو جائے تو یہ ناسور جڑ سے ختم کیا جا سکتا ہے۔حکومت کو بھی چاہیے کہ تمباکو مصنوعات پر مزید ٹیکس عائد کرے، کم عمر افراد کو سگریٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور عوامی مقامات پر تمباکو نوشی پر مکمل پابندی یقینی بنائے۔ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ لوگ اس زہر کے تباہ کن نتائج سے آگاہ ہو سکیں۔
ہمیں یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ ایک صحت مند قوم ہی ترقی یافتہ قوم بن سکتی ہے۔ اگر ہمارے نوجوان بیماریوں میں مبتلا ہوں گے تو ملک کی معیشت، تعلیم اور ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔ تمباکو نوشی وقتی لذت ضرور دیتی ہے مگر اس کا انجام ہمیشہ درد، پچھتاوے اور محرومی پر ختم ہوتا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر فرد اپنے حصے کا چراغ جلائے۔ اگر ایک شخص بھی سگریٹ چھوڑنے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ صرف اپنی نہیں بلکہ اپنے خاندان کی زندگی بھی بچاتا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں، اسکولوں، کالجوں اور معاشرے میں یہ پیغام عام کرنا ہوگا کہ زندگی قیمتی ہے اور اسے دھوئیں میں اڑانا دانشمندی نہیں۔تمباکو سے پاک پاکستان محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک خواب ہے، ایسا خواب جس میں بچے صاف فضا میں سانس لیں، نوجوان صحت مند ہوں، اور اسپتالوں میں مریض کم ہوں۔ اگر ہم آج سنبھل گئے تو آنے والی نسلیں ہمیں دعائیں دیں گی، ورنہ یہ زہریلا دھواں ہمارے مستقبل کو نگلتا رہے گا۔
یہ فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم دھوئیں کو اپنی تقدیر بناتے ہیں یا زندگی کو اپنی پہچان۔ -

ایران کا فوجی کارروائیوں کے تناظر میں امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ معطل
لبنان میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں ایران نے امریکا کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایرانی خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق یہ اقدام خطے میں جاری کشیدگی اور لبنان و غزہ کی صورتحال کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی مذاکراتی وفد نے واضح کیا ہے کہ جب تک لبنان اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق ایران کے مطالبات پر پیش رفت نہیں ہوتی، اس وقت تک امریکا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات یا سفارتی رابطوں کو آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں تہران کی توجہ خطے میں جاری تنازعات اور ان کے ممکنہ اثرات پر مرکوز ہے۔ اسی لیے سفارتی سطح پر بھی نئی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے تاکہ علاقائی صورتحال کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں۔
تسنیم کی رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادی مزاحمتی گروپوں نے خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں مختلف آپشنز اور حکمت عملیوں پر غور کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کے حوالے سے بھی مختلف تجاویز زیرِ بحث آئی ہیں۔
تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے آزاد ذرائع سے فوری تصدیق سامنے نہیں آئی اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر ان تمام نکات کی باضابطہ توثیق کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مختلف بیانات اور دعوؤں کا بغور جائزہ لینا ضروری ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں میں تعطل خطے کی سفارتی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات، توانائی کی عالمی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے مسلسل سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جا سکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ خطے میں پائیدار استحکام کے لیے سیاسی اور سفارتی حل ناگزیر ہے۔ -

حزب اللہ کا طبریہ میں اسرائیلی فوجی اڈے پر راکٹ حملے کا دعویٰ
لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے اسرائیل کے شہر طبریہ میں واقع ایک زیر زمین فوجی اڈے کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ کارروائی اسرائیل کی جانب سے مبینہ جنگ بندی خلاف ورزیوں کے جواب میں کی گئی۔
حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مزاحمتی فورسز نے طبریہ میں موجود اسرائیلی فوج کے ایک اہم زیر زمین اڈے پر متعدد راکٹ داغے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ یہ حملہ اسرائیلی اقدامات کے ردعمل میں کیا گیا اور اس کا مقصد اپنے موقف کا اظہار کرنا تھا۔
بیان کے مطابق حزب اللہ نے اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ کارروائی انہی واقعات کے جواب میں انجام دی گئی۔ تنظیم نے حملے کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
تاحال اسرائیلی حکام کی جانب سے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی حملے سے ہونے والے ممکنہ نقصان یا جانی نقصانات کی تصدیق کی گئی ہے۔ آزاد ذرائع سے بھی اس دعوے کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایسے دعوے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحدی کشیدگی گزشتہ عرصے سے عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جبکہ مختلف ممالک اور بین الاقوامی ادارے حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے عالمی برادری مسلسل تحمل، مذاکرات اور سفارتی حل پر زور دے رہی ہے۔ -

امریکی افواج کا کویت میں دو ایرانی بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے کویت میں تعینات امریکی فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے دو ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی سے تباہ کر دیا۔ سینٹکام کے مطابق کارروائی گزشتہ رات انجام دی گئی اور اس دوران کسی بھی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں سینٹکام نے کہا کہ امریکی دفاعی نظام نے ممکنہ خطرے کا بروقت سراغ لگایا اور فوری ردعمل دیتے ہوئے دونوں بیلسٹک میزائلوں کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔ امریکی حکام کے مطابق اس کامیاب کارروائی کے نتیجے میں فوجی تنصیبات اور اہلکار محفوظ رہے۔
سینٹکام نے مزید کہا کہ امریکی افواج اپنے اہلکاروں، اتحادیوں اور خطے میں موجود فوجی اڈوں کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ کسی بھی خطرے یا حملے کی صورت میں فوری اور مؤثر دفاعی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
امریکی فوج کے مطابق خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور دفاعی نظام کو ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے فعال رکھا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امریکی افواج اپنے دفاع اور علاقائی استحکام کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھیں گی۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عسکری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک اور عالمی ادارے خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
دوسری جانب اس دعوے پر ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ آزاد ذرائع سے بھی واقعے کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔