Baaghi TV

Blog

  • اسرائیلی فوج میں بنکرز کی کمی، اہلکاروں کا ڈیوٹی سے انکار

    اسرائیلی فوج میں بنکرز کی کمی، اہلکاروں کا ڈیوٹی سے انکار

    اسرائیلی فوج کو درپیش لاجسٹک مسائل ایک نئے بحران کی صورت اختیار کر گئے ہیں، جہاں بنکرز کی کمی کے باعث بعض اہلکاروں نے ڈیوٹی انجام دینے سے انکار کر دیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق فوج کے رضاکار اہلکاروں نے راکٹ اور میزائل حملوں کے دوران ناکافی تحفظ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ان کی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں، تاہم اس کے باوجود انہیں مناسب حفاظتی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حکام کی جانب سے بنکرز کی فراہمی کو بارہا لاجسٹک مسائل کا جواز بنا کر مؤخر کیا جا رہا ہے، جس پر فوجیوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ایک اسرائیلی فوجی نے صورتحال کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ "جب سائرن بجتا ہے تو ہم صرف ہیلمٹ پہن کر بیٹھ جاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ کچھ نہ ہو۔”ایک اور اہلکار نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی زخمی ہو جائے تو کیا صرف افسوس کا اظہار ہی کافی ہوگا؟ ان کا کہنا تھا کہ فوج کو اپنے اہلکاروں کے تحفظ کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔اہلکاروں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "جو فوج دو ہزار کلومیٹر دور اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، کیا وہ اپنے ہی سپاہیوں کو ایک محفوظ بنکر فراہم نہیں کر سکتی؟”

  • خلیجی ریاستوں میں توانائی کے مراکز پر مزید حملے

    خلیجی ریاستوں میں توانائی کے مراکز پر مزید حملے

    خلیجی خطے میں کشیدگی کے دوران توانائی کے اہم مراکز پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق کویت اور سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ایران نے کویت کی مینا الاحمدی اور مینا عبداللہ آئل ریفائنریوں پر حملہ کیا ہے جس سے دونوں مقامات پر آگ بھڑک اٹھی ہے۔یہ دونوں سہولیات کویت کے ریفائننگ کے اہم مرکزوں میں سے ہیں، جن کی مشترکہ گنجائش 800000 بیرل یومیہ ہے۔دوسری جانب سعودی عرب نے بھی تصدیق کی ہے کہ بحیرہ احمر کی بندرگاہی شہر میں واقع سمرف ریفائنری کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق یانبوع کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل بھی فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کیے جانے کے بعد سعودی عرب کے لیے یانبوع بندرگاہ خام تیل کی برآمد کا اہم ترین راستہ بن چکی ہے۔

    توانائی کے مراکز پر حملوں کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات بھی کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے ایران کے سب سے بڑے گیس فیلڈ South Pars Gas Field پر اسرائیلی حملے پر غیر معمولی تشویش کا اظہار کیا۔صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بنائے بغیر کہا کہ اس نے "شدید ردعمل” دیا ہے، اور واضح کیا کہ اگر ایران کی جانب سے اشتعال انگیزی نہ ہوئی تو اس گیس فیلڈ پر مزید حملے نہیں کیے جائیں گے۔

    ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہوں۔ اس سے قبل بھی اسرائیل کی جانب سے ایرانی فیول ڈپوؤں پر حملوں پر امریکی حکام نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔امریکہ میں بھی اس صورتحال کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 70 فیصد امریکی ووٹرز کو خدشہ ہے کہ جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جو سیاسی طور پر بھی اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔صدر ٹرمپ اگرچہ عالمی منڈیوں پر اثرات کو کم کر کے دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے ایران کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر بارہا خبردار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی اسی گزرگاہ سے ہوتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

  • مودی سرکار نےبھارت کو سائبر فراڈ مافیا کے نشانے پر پہنچا دیا،  انکشاف

    مودی سرکار نےبھارت کو سائبر فراڈ مافیا کے نشانے پر پہنچا دیا، انکشاف

    بھارت کو اے آئی ہب بنانے کا دعویدار مودی بھارتی عوام کو سائبر سیکیورٹی فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکا،

    میٹا رپورٹ نے بھارت میں سوشل میڈیا پر آن لائن فراڈ اور اے آئی کے ذریعے بڑھتے جرائم کی نشاندہی کر دی،پہلی ششماہی 2026 کی میٹا رپورٹ نے بھارت کے لیے تشویشناک صورتحال کا عندیہ دے دیا،بھارتی جریدہ انڈین ایکسپریس کے مطابق بھارت بین الاقوامی دھوکہ دہی کرنے والے نیٹ ورکس کے بڑے ہدف کے طور پر ابھر رہا ہے،رپورٹ کے مطابق فراڈ کرنے والے بھارتی گروہ سب سے زیادہ امریکہ اور بھارت میں صارفین کو نشانہ بناتے ہیں،بھارتی صارفین متوسط آمدنی، سستے ڈیٹا اور کم ڈیجیٹل خواندگی کی وجہ سے سائبر جرائم نیٹ ورکس کے نشانے پر ہیں،میٹا کے مطابق بھارتی فراڈ میں مجرم فون اور ویڈیو کالز کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اہلکار بن کر صارفین کو ہدف بناتے ہیں

    عالمی ماہرین کے مطابق مودی کی ریاستی سرپرستی اور نااہلی نے بھارت میں جرائم پیشہ گروہوں کی بھارتی عوام تک رسائی کو بے حد آسان بنا دیا ہے،بھارت میں سائبر سیکیورٹی کی ابتر صورتحال نے مودی کا شائننگ انڈیا کا کھوکھلا نعرہ زمیں بوس کر دیا

  • افغانستان، بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بے نقاب، سابق بھارتی فوجی افسر کے ہوشربا انکشافات

    افغانستان، بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بے نقاب، سابق بھارتی فوجی افسر کے ہوشربا انکشافات

    انتہا پسند مودی کی پاکستان مخالف سرپرستی اور مذموم سازشوں کا پردہ چاک ہو گیا

    سابق بھارتی فوجی نے بھارت کا پاکستان کے خلاف افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی کا اعتراف کر لیا،بھارتی فوج کے ریٹائرڈ کرنل راجیش پاور کے مطابق فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے افغانستان کی زمین استعمال کر رہے ہیں،پاکستان کے خلاف دونوں دہشتگرد تنظیموں کو مالی امداد بھارت جبکہ ہتھیار اور انٹیلیجنس اسرائیل فراہم کر رہا ہے،ان تینوں ممالک (افغانستان، بھارت، اسرائیل) کے مفادات مشترکہ اور اہم ہدف پاکستان ہے،اسرائیل کو پاکستان سے یہ مسئلہ ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اور اسرائیل کو تاحال تسلیم نہ کرنے والا واحد یہ اسلامی ملک ہے،اسرائیل پاکستان کے اسرائیل مخالف موقف سے آگاہ ہے اور وقت آنے پر پاکستان اسے بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے

    عالمی ماہرین کے مطابق ویڈیو میں بھارتی افسر کا اعتراف پاکستان کے مؤقف کی واضح توثیق ہے کہ بھارت طویل عرصے سے پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے،افغانستان کی دہشتگرد تنظیموں کی بھارتی اور اسرائیلی معاونت سے سرگرمیاں پورے خطہ کے لیے سنگین چیلنج بن چکی ہیں،یہود و ہنود گٹھ جوڑ پاکستان جیسی ایٹمی قوت کے خلاف ناپاک سازشوں سے خطہ میں عدم توازن اور مسلسل انتشار کو ہوا دے رہا ہے.

  • پاک ترک وزرائے خارجہ کی ملاقات،خطے میں بدلتی ہوئی صورتِ حال پر تبادلہ خیال

    پاک ترک وزرائے خارجہ کی ملاقات،خطے میں بدلتی ہوئی صورتِ حال پر تبادلہ خیال

    وزیرِ خارجہ و ڈپٹی وزیراعظم سینٹر محمد اسحاق ڈار نے گزشتہ شب ریاض میں مشاورتی وزارتی اجلاس کے موقع پر ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حکان فیدان سے ملاقات کی۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران فریقین نے خطے میں بدلتی ہوئی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا اور پاکستان و ترکیہ کے دوطرفہ شراکت داری کو مضبوط بنانے اور قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    قبل ازیں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ترکیہ کے وزیر خارجہ حکان فیدان سے ٹیلیفونک گفتگو کی تھی،گفتگو کے دوران خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا،سینیٹر اسحاق ڈار نے فوری طور پر تناؤ میں کمی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ تعمیری مذاکرات اور سفارتکاری ہی مسائل کے حل اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے واحد مؤثر ذرائع ہیں۔

    مذہبی جذبات کو تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔فیلڈ مارشل

    عیدالفطر اور یومِ پاکستان کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں خصوصی کمی کی منظوری

    جدہ: قدیم ترین مسجد میں جدید نوعیت کا تقریباً 800 سال پرانا آبی نظام دریافت

  • افغانستان یاد رکھے،پاکستان تسلیم شدہ ایٹمی طاقت،تجزیہ،شہزاد قریشی

    افغانستان یاد رکھے،پاکستان تسلیم شدہ ایٹمی طاقت،تجزیہ،شہزاد قریشی

    خطے میں بگڑتی صورتحال میں افغانوں کا پاکستان سے پنگا بدنیتی کی علامت
    احسان فراموش افغان اسلام آباد کی میزبانی بھول گئے،ہم ذمہ داراور زندہ قوم ہیں
    مسائل کا واحد حل ڈائیلاگ،کشیدگی امن کیلئے خطرہ،محاذ آرائی بندکی جائے
    تجزیہ:شہزاد قریشی
    خطے کی بدلتی صورتحال اور افغانستان کے لئے ایک سنجیدہ پیغام،جنوبی ایشیاءاس وقت ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں معمولی غلط فہمیاں بھی بڑے تناز عات کو جنم دے سکتی ہیں،ایسے میں افغانستان کی موجودہ پالیسیوں اور علاقائی طرزِ عمل پر سوال اٹھنا فطری ہے، خاص طور پر پاکستان کے ساتھ تعلقات کے تناظر میںیہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان نے تاریخ کے مختلف ادوار میں افغانستان کا بھرپور ساتھ دیا، لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی سے لے کر سفارتی اور انسانی امداد تک، پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہونے کا ثبوت دیا،یہی وجہ تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد اور مذہبی و ثقافتی رشتوں پر قائم رہے،تاہم حالیہ برسوں میں ابھرتی ہوئی صورتحال تشویش ناک ہے،یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین بعض ایسے عناصر کے لئے استعمال ہو رہی ہے جو پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں،مزید برآں بھارت کے ساتھ افغانستان کی بڑھتی قربت بھی خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر رہی ہے، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں،افغانستان کو یہ حقیقت نظرانداز نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان ایک ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے جس کی دفاعی طاقت اور عسکری تیاری دنیا میں تسلیم شدہ ہے،اس تناظر میں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن کے لئے خطرہ بن سکتی ہے،دوسری جانب افغانستان کو درپیش اصل چیلنج اندرونی استحکام ہے،دہائیوں پر محیط جنگ، معاشی مشکلات اور سماجی مسائل اس بات کے متقاضی ہیں کہ وہ اپنی توجہ اپنے عوام، خصوصاً نوجوان نسل کی تعلیم، ترقی اور بہتر مستقبل پر مرکوز کرے،ایک مستحکم افغانستان ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے،

    آخرکار، دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں ممالک محاذ آرائی کے بجائے سفارت کاری، مکالمے اور باہمی احترام کے ذریعے اپنے اختلافات کو حل کریں کیونکہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جنگ نہیں، بلکہ تعاون ہی خطوں کو ترقی اور استحکام کی طرف لے جاتا ہے۔

  • مذہبی جذبات کو  تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔فیلڈ مارشل

    مذہبی جذبات کو تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔فیلڈ مارشل

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہےکہ پاکستان میں تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مذہبی جذبات کو ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے راولپنڈی میں اہل تشیع علما سے ملاقات کی جس میں انہوں نے قومی سلامتی اور بین الصوبائی ہم آہنگی پرتبادلہ خیال کیا،اس موقع پر فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کا کہنا تھا کہ اتحاد، رواداری اورقومی یکجہتی کے فروغ میں علما کا کردار کلیدی ہے، غلط معلومات اورفرقہ وارانہ بیانیے کی روک تھام کے لیے علما اپنا کردار اداکریں،پاکستان میں تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی، مذہبی جذبات کو ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، افغان طالبان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں، پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائےگا، دہشتگردوں اور ان کے ٹھکانے جہاں کہیں بھی ہوئے نشانہ بنایا جائےگا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علما کی جانب سے تشدد کی بھرپورمذمت کی گئی اورامن و استحکام کے لیے سکیورٹی اداروں کی حمایت کا اعلان بھی کیا گیا، آپریشن غضب للحق سے متعلق فیلڈمارشل نے دہشتگردوں کے مکمل خاتمےکا عزم بھی کیا۔

  • بچے کو گولی لگنے پر  فوجی مشقیں معطل

    بچے کو گولی لگنے پر فوجی مشقیں معطل

    جنوبی کوریا میں فوج نے ملک بھر میں اس وقت آتشیں اسلحے سے متعلق بعض تربیتی مشقیں معطل کر دیں جب جنوبی شہر ڈائیگو میں ایک کھیل کے میدان میں موجود ایک کم عمر بچے کی گردن میں مبینہ طور پر قریبی شوٹنگ رینج سے آنے والی گولی لگ گئی۔

    حکام کے مطابق واقعہ پیر کے روز پیش آیا جب بچہ کھیل میں مصروف تھا اور قریب ہی فوجی فائرنگ کی مشق جاری تھی گولی لگنے کے فورا بعد بچے کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں بروقت طنی طبی امداد فراہم کی گئی اور خوش قسمتی سے اس کی حالت خطرے سے باہر رہی، بعد ازاں اسے ڈسچارج کردیا گیا۔

    جنوبی کوریا کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ بی سوک جن نے منگل کو پریس بریفنگ میں بتایا کہ واقعے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر انفرادی آتشیں ہتھیاروں کی فائرنگ کی تمام مشقیں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں، حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    عیدالفطر اور یومِ پاکستان کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں خصوصی کمی کی منظوری

    یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق ایک فوجی اہلکار نے بتایا کہ اسپتال میں علاج کے دوران بچے کے زخم سے گولی کا ٹکڑا بھی برآمد ہوا، جس سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گولی قریبی شوٹنگ رینج سے آئی تھی، حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ حفاظتی اقدامات میں کہاں کمی رہ گئی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی جنوبی کوریا میں فوجی مشقوں کے دوران ایسے حادثات پیش آ چکے ہیں 2020 میں ایک گولف کیڈی آوارہ گولی لگنے سے زخمی ہو گئی تھی جبکہ گزشتہ سال مشترکہ فوجی مشق کے دوران غلطی سے ایک گاؤں پر بم گرنے سے تقریباً 30 افراد زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد حفاظتی اقدامات پر سوالات اٹھے تھے۔

    جدہ: قدیم ترین مسجد میں جدید نوعیت کا تقریباً 800 سال پرانا آبی نظام دریافت

  • عیدالفطر اور یومِ پاکستان کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں خصوصی کمی کی منظوری

    عیدالفطر اور یومِ پاکستان کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں خصوصی کمی کی منظوری

    ایوانِ صدر کے میڈیا ونگ کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے اہم قانون سازی، تقرری، سول اعزازات اور سزاؤں میں خصوصی کمی کی منظوری دی ہے۔

    منظور کیے گئے قوانین میں پاکستان سٹیزن شپ (ترمیمی) بل 2026، اخباری ملازمین کے سروس کنڈیشنز (ترمیمی) بل 2026، زکوٰۃ و عشر (ترمیمی) بل 2026، نیشنل آرکائیوز (ترمیمی) بل 2026، پاکستان نیمز اینڈ ایمبلمز (ترمیمی) بل 2026، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کارپوریشن (ترمیمی) بل 2026، نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026، پیمرا (ترمیمی) بل 2026 اور دانش یونیورسٹی اسلام آباد بل 2026 شامل ہیں۔

    جدہ: قدیم ترین مسجد میں جدید نوعیت کا تقریباً 800 سال پرانا آبی نظام دریافت

    صدر مملکت نے اعزاز اسلم ڈار کو بلوچستان کے کوٹے پر فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کا رکن مقرر کرنے کی بھی منظوری دی ہے، ا س کے علاوہ صدر نے نمایاں خدمات کے اعتراف میں پروفیسر سرور محمد خواجہ، راشد ملک اور زین العابدین احسن کو ستارہ امتیاز عطا کرنے کی منظوری دی، صدر مملکت نے عیدالفطر اور یومِ پاکستان 2026 کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں خصوصی کمی کی بھی منظوری دی ہے۔

    امریکا کا ایران کے خلاف مزید فوجی تعیناتی پر غور

  • جدہ: قدیم ترین مسجد میں  جدید نوعیت کا تقریباً 800 سال پرانا آبی نظام دریافت

    جدہ: قدیم ترین مسجد میں جدید نوعیت کا تقریباً 800 سال پرانا آبی نظام دریافت

    مسجد عثمان بن عفان سعودی شہر جدہ کے تاریخی علاقے میں واقع ہے اور اسے شہر کے قدیم ترین آثارِ قدیمہ میں شمار کیا جاتا ہے اس مسجد کی بنیاد 33 ہجری (654 عیسوی) میں رکھی گئی تھی، جس سے اس کی تاریخی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

    حالیہ کھدائی کے دوران ماہرین نے انکشاف کیا کہ یہ مقام گزشتہ 1300 سال سے مسلسل استعمال میں رہا ہے تحقیق کے دوران مختلف ادوار کے آثار سا منے آئے جن میں اموی دور، عباسی دور اور مملوک دور شامل ہیں، کھدائی کے دوران ایک جدید نوعیت کا تقریباً 800 سال پرانا آبی نظام بھی دریافت ہوا، جو اس دور کی انجینئرنگ مہارت کو ظاہر کرتا ہے اس کے علاوہ محراب میں نصب نایاب آبنوسی ستون بھی ملے، جن کے بارے میں سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ لکڑی قدیم سری لنکا سے لائی گئی تھی، جو جدہ کے قدیم بحری تجارتی روابط کا ثبوت ہے۔

    ماہرین نے مسجد کی تعمیر کے سات مختلف ادوار کو ڈیجیٹل طور پر محفوظ کیا ہے، اس میں روایتی ساحلی طرزِ تعمیر، جیسے مرجانی پتھر اور لکڑی کے استعمال کو نمایاں کیا گیا ہے، جو اس علاقے کی مخصوص تعمیراتی پہچان ہے۔

    کھدائی کے دوران ہزاروں نوادرات بھی دریافت ہوئے، جن میں ابتدائی چینی مٹی کے برتن شامل ہیں یہ دریافت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مسجد صدیوں سے جدہ کی ثقافتی اور تجارتی تاریخ کا اہم حصہ رہی ہے، خاص طور پر اس وقت سے جب حضرت عثمان بن عفان نے جدہ کو اسلامی دنیا کی مرکزی بندرگاہ قرار دیا تھا، آج یہ مسجد جدہ کے ثقافتی راستوں کا ایک اہم مرکز بن چکی ہے، جہاں اسلامی تاریخ اور جدید سرگرمیوں کو یکجا کر کے سعودی عرب کی مذ ہبی اور تعمیراتی شناخت کو محفوظ رکھا جا رہا ہے۔