کراچی کے جناح اسپتال میں واش روم میں بچے کی پیدائش کے مبینہ واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ میں انتظامی اور طبی سطح پر متعدد سنگین کوتاہیوں اور غفلتوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون رات تقریباً ساڑھے نو بجے جناح اسپتال کے شعبہ امراضِ نسواں میں پہنچی تھیں، تاہم انہیں بروقت طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ کمیٹی نے اپنی تحقیقات میں یہ بات سامنے لائی کہ مریضہ کا ضروری طبی معائنہ اور دیکھ بھال وقت پر نہیں کی گئی جس کے باعث صورتحال سنگین ہوتی گئی۔
تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ خاتون کا الٹراساؤنڈ نہیں کیا گیا، حالانکہ طبی تشخیص کے لیے یہ ایک اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق مریضہ کو طبی سہولت فراہم کرنے کے بجائے صرف چلنے کا مشورہ دیا گیا۔
کمیٹی نے اسپتال کے انتظامی معاملات پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت متعلقہ کنسلٹنٹ اور ریزیڈنٹ میڈیکل آفیسر (آر ایم او) اپنی ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، جس سے مریضہ کی دیکھ بھال اور بروقت فیصلوں کا عمل متاثر ہوا۔
رپورٹ میں شعبہ امراضِ نسواں کے حساس علاقے میں غیر مجاز مرد افراد کی موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جسے اسپتال کے ضابطوں اور مریضوں کی رازداری کے اصولوں کے خلاف قرار دیا گیا۔ کمیٹی نے اس معاملے کو بھی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے مناسب نگرانی نہ ہونے کی نشاندہی کی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے اسپتال کے سیکیورٹی انتظامات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی کے نظام میں موجود خامیوں کے باعث مختلف انتظامی اور طبی مسائل پیدا ہوئے، جن کے فوری حل کی ضرورت ہے۔
جناح اسپتال واش روم واقعہ، تحقیقاتی رپورٹ میں سنگین غفلتوں کا انکشاف
