عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں میں تعطل کی خبروں کے بعد سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی اور تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر چلی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں 6.96 ڈالر فی بیرل اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت 94.32 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ عالمی توانائی منڈی میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
اسی طرح برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ برینٹ خام تیل 6.24 ڈالر مہنگا ہونے کے بعد 97.36 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا، جو عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں تیزی کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کے تبادلے اور ممکنہ سفارتی پیش رفت میں تعطل کی اطلاعات نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کے باعث منڈیوں میں خریداری کا رجحان بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں تیزی آئی۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا سفارتی کوششوں میں پیش رفت نہیں ہوتی تو تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔ اس صورتحال کے اثرات عالمی معیشت، مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔
پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ایک بڑا معاشی چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے درآمدی اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیاء کی قیمتوں پر دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔