Baaghi TV

Blog

  • حملے نہ رکے تو جواب کیلئے تیار رہو،سعودی عرب کی ایران کو وارننگ

    حملے نہ رکے تو جواب کیلئے تیار رہو،سعودی عرب کی ایران کو وارننگ

    سعودی عرب نے ایران کو واضح اور سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی جارحیت کے خلاف اس کا صبر لامحدود نہیں، اور اگر خلیجی ممالک پر حملے فوری بند نہ کیے گئے تو سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

    سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا کہ امید ہے ایران آج کے پیغام کو سمجھ چکا ہوگا ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات کے بجا ئے دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، تاہم یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہوگی بلکہ الٹا نقصان دہ ثابت ہوگی، سعودی عرب کسی بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران پر جو معمولی اعتماد باقی تھا وہ بھی حالیہ حملوں کے بعد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، جبکہ خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کے جواز ناقابل قبول ہیں انہوں نے خبردار کیا کہ ان حملوں کے نتائج ضرور سامنے آئیں گے اور ایران کی علاقائی تنہائی میں مزید اضافہ ہوگا۔

    تہران میں علی لاریجانی سمیت دیگر شہداء کی نماز جنازہ ادا، ہزاروں افراد کی شرکت

    رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے ایران نے ریاض سمیت متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور قطر پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے، جنہیں تہران نے امریکی و اسرائیلی کارروائیوں کا ردعمل قرار دیا ہے۔

    سعودی وزارت دفاع کے مطابق حالیہ حملے میں ریاض کی جانب داغے گئے چار بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، جبکہ اب تک سعودی فضائی دفاعی نظام 457 سے زائد ڈرونز، 40 بیلسٹک میزائل اور 7 کروز میزائل ناکام بنا چکا ہے۔

    ایران جنگ، ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ انٹیلیجنس حکام کے بیانات میں تضاد

  • تہران میں علی لاریجانی سمیت دیگر شہداء کی نماز جنازہ ادا، ہزاروں افراد کی شرکت

    تہران میں علی لاریجانی سمیت دیگر شہداء کی نماز جنازہ ادا، ہزاروں افراد کی شرکت

    اسرائیلی حملوں میں شہید جانے والے علی لاریجانی سمیت اہم ایرانی رہنماؤں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی-

    سرکاری میڈیا کے مطابق سابق سیکیورٹی سربراہ علی لاریجانی، بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی سمیت دیگر افراد کی نمازِ جنازہ انقلاب اسکوائر پر ادا کی گئی، جہاں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ،اسی روز امریکی کارروائی میں نشانہ بننے والے ایرانی بحری جہاز کے شہید ہونے وا لے اہلکاروں کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی گئی۔

    ادھر ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے، فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ حملوں کا جواب غیر معمولی ہوگا، جبکہ صدر مسعود پزشکیان اور عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ ان ہلاکتوں کا بدلہ ہر صورت لیا جائے گا۔

    ایرانی کا جوابی وار جاری،تل ابیب پرمیزائل حملے،عمارت،گاڑیاں تباہ،خوف و ہراس

    دوسری جانب ایرانی فورسز نے قومی سلامتی کے سیکرٹری علی لاریجانی کی شہادت کے بعد وسطی اسرائیل پر کلسٹر میزائلوں سے بڑا حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں تل ابیب میں متعدد گاڑیاں تباہ جبکہ تل ابیب میں دو سو افراد ہلاک ہوگئے۔

    ایرانی پاسداران انقلاب بیان کے مطابق اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب پر خرمشہر 4، قدر، عماد اور خیبرشکن میزائل داغے اور 100 سے زائد فوجی اور سکیورٹی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا جبکہ 200 افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    یروشلم، رامات گن اور بنی براک سمیت مرکزی اسرائیل کے مختلف مقامات پر بھی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اس حملے میں ایک 70 سالہ مرد اور خاتون ہلاک ہوگئے جو کسی محفوظ پناہ گاہ میں موجود نہیں تھے، شارون کے علاقے میں کم از کم پانچ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    ایران جنگ، ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ انٹیلیجنس حکام کے بیانات میں تضاد

    دوسری جانب اسرائیل میں مختلف علاقوں، خصوصاً تل ابیب اور وسطی علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں بعض مقامات پر آگ لگنے کی بھی خبریں ہیں،ایرانی وزارت صحت کے مطابق حالیہ اسرائیلی حملوں میں ایران میں 1400 سے زائد افراد جاں بحق اور 18 ہزار زخمی ہوئے ہیں۔

    ادھر ایران نے ایک شخص کو غیر ملکی خفیہ ایجنسی کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت دینے کا بھی اعلان کیا ہے متحدہ عرب امارات کی وزار ت دفاع کے مطابق اس کے دفاعی نظام نے ایران سے آنے والے 13 بیلسٹک میزائلوں اور 27 ڈرونز کو تباہ کر دیا، دبئی سمیت مختلف علاقوں میں دھما کوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

    ایران کے گیس فیلڈز پر حملے سے متعلق متضاد دعوے، امریکا نے تردید کر دی

    عراق میں امریکی سفارتخانے کے قریب ڈرون حملے کی کوشش کو ناکام بنانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ قطر کی وزارت دفاع کے مطابق ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، اسی طرح کویت کی نیشنل گارڈ نے ایک ڈرون مار گرانے کی تصدیق کی ہے، جبکہ سعودی عرب نے بھی ایک ڈرون تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں حکام نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر عیدالفطر کی نماز کھلے میدانوں میں ادا کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے، اور ہدایت کی گئی ہے کہ نماز عید صرف مساجد میں ادا کی جائے گی۔

    توانائی تنصیبات حملوں کے بعد قطر کا ایرانی فوجی و سیکیورٹی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم

  • ایرانی کا جوابی وار جاری،تل ابیب پرمیزائل حملے،عمارت،گاڑیاں تباہ،خوف و ہراس

    ایرانی کا جوابی وار جاری،تل ابیب پرمیزائل حملے،عمارت،گاڑیاں تباہ،خوف و ہراس

    ایران نے اسرائیل پر جوابی کاروائی کرتے ہوئے ایک بار پھر میزائل حملے کئے ہیں،

    تل ابیب میں دھماکے سنے گئے ہیں،ابتدائی اطلاعات کے مطابق شہر کے مختلف حصوں میں زور دار دھماکہ سنا گیا، اور ہنگامی خدمات فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے ایک اور کلسٹر سب میونیشن میزائل تل ابیب کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کے بعد اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی کہ متعدد آبادکار ملبے تلے پھنس گئے ہیں۔شہر کے شمال میں شَرون علاقے میں ایک ایرانی کلسٹر میزائل حملے کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ تل ابیب میں ایک عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جس میں لوگ اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔اسرائیلی حکام نقصان اور جانی نقصان کے حجم کا جائزہ لے رہے ہیں اور شہریوں کو حفاظتی علاقوں میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

  • ایران جنگ، ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ انٹیلیجنس حکام کے بیانات میں تضاد

    ایران جنگ، ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ انٹیلیجنس حکام کے بیانات میں تضاد

    واشنگٹن: ایران کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے تقریباً تین ہفتے بعد بدھ کے روز پہلی بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اعلیٰ انٹیلیجنس حکام نے عوامی سطح پر سینیٹ کی اہم کمیٹی کے سامنے گواہی دی، جہاں ان کے بیانات نے حکومتی مؤقف پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔

    یہ سماعت امریکی انٹیلی جنس کمیٹی میں ہوئی، جس میں ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ، سی آئی اے کے سربراہ جوہن اور ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل نے شرکت کی۔ سینیٹرز نے ایران جنگ سے متعلق حکومتی دعوؤں اور انٹیلیجنس رپورٹس میں پائے جانے والے تضادات پر سخت سوالات کیے۔امریکی سینیٹ کی انٹیلی جینس کمیٹی میں امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تُلسی گبارڈ کی کھنچائی کردی۔تلسی نے پچھلے سال جون میں ایران پر حملوں کے بعد کہا تھا کہ ایران کی ایٹمی افزودگی کی صلاحیت بالکل ختم کر دی گئی ہے۔ کمیٹی نے پوچھا کہ اب وائٹ ہاؤس نے یکم مارچ کو کہا کہ امریکا نے ایران کے لازمی ایٹمی خطرے کو ختم کرنے کے لیے مہم شروع کی ہے۔ جب جون میں ایران کی ایٹمی صلاحیت ختم ہو گئی تھی تو اس کا خطرہ دوبارہ کیسے پیدا ہو گیا ؟تُلسی گبارڈ کئی بار پوچھنے کے باوجود جواب نہ دے سکیں، کہا کہ یہ طے کرنا صدر کا کام ہے کہ کوئی خطرہ لازمی ہے یا نہیں۔کمیٹی کے ایک رکن نے یہ بھی کہا کہ آپ نے ایران کی ایٹمی افزودگی کی صلاحیت ختم کرنے کا بیان اپنے تحریری جواب میں نقل کیا مگر تقریر میں کیوں چھوڑ دیا؟ اس پر تلسی گبارڈ نے کہا کہ ایسا وقت کی کمی کی وجہ سے کیا؟

    صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ایران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو جلد امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن انٹیلیجنس حکام نے اس دعوے کی بھی مکمل حمایت نہیں کی۔تلسی گبارڈ کے مطابق ایران اگر کوشش کرے بھی تو 2035 سے پہلے مؤثر بین البراعظمی میزائل تیار کرنا ممکن نہیں۔جبکہ جوہن نے بھی کسی مخصوص ٹائم لائن دینے سے گریز کیا، جس سے حکومتی بیانیے پر مزید شکوک پیدا ہوئے۔

    ایران جنگ کا سب سے اہم جواز یہ بتایا گیا تھا کہ ایران امریکہ کے لیے “فوری خطرہ” بن چکا تھا۔ تاہم سماعت میں اس دعوے کی بھی واضح توثیق نہیں ہو سکی۔تلسی گبارڈ نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا کہ کوئی خطرہ فوری ہے یا نہیں، صدر کا اختیار ہے، نہ کہ انٹیلیجنس اداروں کا۔دوسری جانب جوہن نے کہا کہ ایران ایک مستقل خطرہ ضرور ہے، لیکن انہوں نے بھی اسے واضح طور پر “فوری” خطرہ قرار نہیں دیا۔

    سماعت سے ایک روز قبل نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جو اس معاملے میں ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔اپنے استعفیٰ میں انہوں نے عندیہ دیا کہ حکومت نے ایران کے خطرے کے بارے میں مبالغہ آرائی یا غلط بیانی کی۔ تاہم سینیٹ میں ڈیموکریٹ ارکان نے ان کے مؤقف کو زیادہ نمایاں طور پر زیر بحث نہیں لایا۔

    سماعت کے دوران یہ بات واضح ہوئی کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ایران جنگ کے حوالے سے مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔انٹیلیجنس حکام کے بیانات، وائٹ ہاؤس کے دعوؤں اور مستعفی ہونے والے افسر کے الزامات ،سب مل کر ایک پیچیدہ اور متضاد تصویر پیش کرتے ہیں۔سماعت کے دوران تلسی گبارڈ سے جارجیا کمیں ایک متنازع ایف بی آئی چھاپے میں ان کی موجودگی پر بھی سوالات کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ وہ صدر کی ہدایت پر وہاں موجود تھیں، لیکن اس معاملے پر بھی حکومتی بیانات میں تضاد پایا گیا، جس سے مزید شکوک جنم لے رہے ہیں۔

    سینیٹ کی اس اہم سماعت نے ایران جنگ کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کے بیانیے کو شدید چیلنج کر دیا ہے۔انٹیلیجنس حکام کے بیانات نے نہ صرف حکومتی دعوؤں کی نفی کی بلکہ یہ بھی ظاہر کیا کہ جنگ کے جواز، خطرات کی نوعیت اور مستقبل کی حکمت عملی پر خود امریکی قیادت کے اندر واضح تقسیم موجود ہے۔

  • ایران کے گیس فیلڈز پر حملے سے متعلق متضاد دعوے، امریکا نے تردید کر دی

    ایران کے گیس فیلڈز پر حملے سے متعلق متضاد دعوے، امریکا نے تردید کر دی

    ایران کے توانائی کے اہم مراکز پر مبینہ حملوں کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں، جہاں ایک جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے امریکا اور اسرائیل پر حملے کا الزام عائد کیا، وہیں امریکی حکام نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔

    ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ایران کے گیس فیلڈز پر حملہ امریکا نے نہیں کیا، بلکہ یہ کارروائی اسرائیل کی جانب سے کی گئی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں امریکا براہِ راست ملوث نہیں تھا۔اس سے قبل ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کی تیل و گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں دنیا کا سب سے بڑا گیس فیلڈ ساؤتھ پارس بھی شامل ہے۔ادھر ایک اسرائیلی ذریعے نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ اسرائیل نے جنوب مغربی ایران میں واقع اسالوئیہ کی گیس تنصیب پر حملہ کیا۔ ایک اور اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ساؤتھ پارس فیلڈ پر حملہ امریکا کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت کیا گیا۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے اہم گیس فیلڈ پر حملے کے بعد ایرانی توانائی تنصیبات پر مزید حملوں کی مخالفت کردی،امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو واضح پیغام دیا جا چکا ہے، اس لیے توانائی تنصیبات پر مزید حملوں کی ضرورت نہیں،

    رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے بدھ کے روز ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا، جو دنیا کے سب سے بڑے گیس ذخائر میں شمار ہوتا ہے اور ایران کی توانائی کا اہم ذریعہ ہے،امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ کو اس حملے کا پیشگی علم تھا تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی صدر کا مؤقف حتمی نہیں اور اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں مزید اشتعال انگیز اقدامات کیے تو وہ دوبارہ ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حمایت کر سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ ایران نے ساؤتھ پارس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے بعد خطے کی ان تمام تیل تنصیبات کو اپنا ہدف قرار دے دیا جو امریکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں یا ان کے زیرِ انتظام چلائی جارہی ہیں،اسی سلسلے میں ایران نے قطر میں راس لفان انڈسٹریل سٹی پر میزائل سے حملہ کیا، حملے کے بعد آگ لگ گئی، قطر انرجی کے مطابق حملے سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا،

  • توانائی تنصیبات حملوں کے بعد قطر کا  ایرانی فوجی و سیکیورٹی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم

    توانائی تنصیبات حملوں کے بعد قطر کا ایرانی فوجی و سیکیورٹی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران قطر نے ایران کے فوجی اور سیکیورٹی اتاشیوں کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے بدھ کے روز جاری بیان میں کہا گیا کہ دوحہ میں ایرانی سفارت خانے کو باضابطہ نوٹ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں فوجی اتاشی، سیکیورٹی اتاشی اور ان کے دفاتر میں کام کرنے والے عملے کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدام ایران کی جانب سے بار بار حملوں اور قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے۔ بیان میں ایران کو خبردار کیا گیا کہ اگر اس نے اپنا “جارحانہ رویہ” جاری رکھا تو قطر اپنے قومی مفادات، سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے مناسب جواب دے گا۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قطر نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی اہم گیس تنصیب راس لفان نیچرل گیس پروسیسنگ فیسلٹی کو ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ تنصیب قطر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔دوسری جانب تہران پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل پر اپنے تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کر چکا ہے اور خبردار کیا تھا کہ وہ خطے میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر جواب دے سکتا ہے۔

  • اسرائیل کے ایرانی بحری اہداف پر بحیرہ کیسپین میں حملے

    اسرائیل کے ایرانی بحری اہداف پر بحیرہ کیسپین میں حملے

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں اسرائیل نے پہلی بار ایران کے شمالی علاقے میں واقع بحیرہ کیسپین میں ایرانی بحری اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایک اسرائیلی ذریعے نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ تقریباً تین ہفتوں سے جاری جنگ کے دوران یہ اپنی نوعیت کے پہلے حملے ہیں۔اسرائیلی فوج، نے تصدیق کی ہے کہ ان کارروائیوں کے لیے بحریہ اور عسکری انٹیلی جنس کی معلومات کا استعمال کیا گیا۔ بیان کے مطابق، جنگ کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کے شمالی حصے میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اب تک اس جنگ میں امریکہ کی توجہ زیادہ تر ایران کی بحری صلاحیتوں کو نقصان پہنچانے پر رہی ہے، تاہم امریکی کارروائیاں زیادہ تر خلیجِ عمان اور خلیج فارس تک محدود تھیں۔ اس کے برعکس، بحیرہ کیسپین میں ہونے والے حالیہ حملے ایک نئے جغرافیائی دائرے میں کشیدگی کے پھیلاؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    بحیرہ کیسپین ایک خشکی میں گھرا ہوا سمندر ہے، جس کی سرحدیں کئی ممالک سے ملتی ہیں، جن میں روس بھی شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق اس علاقے میں فوجی کارروائی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی بڑے سفارتی اور سیکیورٹی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے جنگ کے دائرہ کار میں مزید وسعت آ سکتی ہے اور دیگر ممالک بھی اس تنازع میں بالواسطہ یا براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔

  • مشرقِ وسطیٰ  کشیدگی ، خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی

    مشرقِ وسطیٰ کشیدگی ، خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی

    بدھ کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد سامنے آیا، جس نے عالمی مارکیٹس کو شدید متاثر کیا اوروائیٹ ہاؤس کی جانب سے قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی کوششیں بھی ناکافی ثابت ہوئیں۔

    عالمی معیار کے مطابق Brent crude کی قیمت 110.90 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جبکہ امریکی خام تیل WTI crude oil 99.78 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گیا۔ اس اضافے کی بڑی وجہ ایران کی جانب سے توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔رپورٹس کے مطابق قطر کی اہم گیس تنصیبات میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے، جبکہ سعودی عرب نے فضائی خطرات کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا۔ یہ پیش رفت ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری وارننگ کے بعد سامنے آئی۔

    اس سے قبل بھی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا جب ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی نے تیل و گیس کی تنصیبات پر حملوں کی اطلاع دی تھی۔ اس دوران برینٹ کروڈ 3.83 فیصد اضافے کے ساتھ 107.38 ڈالر جبکہ امریکی خام تیل 96.32 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا تھا۔ادھر وائیٹ ہاؤس نے عارضی طور پر Jones Act میں نرمی دیتے ہوئے غیر ملکی جہازوں کو 60 دن کے لیے امریکی بندرگاہوں کے درمیان سامان کی ترسیل کی اجازت دی، تاکہ سپلائی میں بہتری لائی جا سکے، تاہم اس اقدام کے باوجود قیمتوں میں اضافہ جاری رہا۔

    ماہرین کے مطابق توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان عالمی سپلائی چین پر طویل المدتی اثر ڈال سکتا ہے۔ سرمایہ کاری فرم کے سینئر مینیجر روب تھمل کا کہنا ہے کہ "اگر توانائی کے ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کی بحالی میں مہینوں یا حتیٰ کہ سال لگ سکتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔”تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور توانائی بحران کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔

  • ایران کے قطر میں توانائی تنصیات پر حملے،ریاض  پر بیلسٹک میزاٸل حملے

    ایران کے قطر میں توانائی تنصیات پر حملے،ریاض پر بیلسٹک میزاٸل حملے

    ایران کی جانب سے خلیج فارس کے ممالک میں آج توانائی کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں راس لفان انڈسٹریل سٹی میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ ریاض میں فضائی خطرات کو ناکام بنا دیا گیا۔

    یہ پیش رفت ایران کی پاسدارانِ انقلاب یعنی اسلامی انقلابی گارڈ کور کی جانب سے جاری انتباہ کے بعد سامنے آئی ہے۔قطر کی وزارتِ داخلہ کے مطابق شہری دفاع کی ٹیمیں راس لفان کے صنعتی علاقے میں لگنے والی آگ پر قابو پانے میں مصروف ہیں، جو ملک کی معیشت کے لیے نہایت اہم قدرتی گیس پروسیسنگ مرکز ہے۔ حکام کے مطابق یہ حملہ ایرانی جانب سے کیا گیا۔دوسری جانب قطر انرجی نے تصدیق کی ہے کہ راس لفان پر میزائل حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔ کمپنی کے مطابق ہنگامی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ کو قابو کرنے کی کوششیں شروع کر دیں، جبکہ تمام عملہ محفوظ ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔قطر کی وزارتِ خارجہ نے اس حملے کو “خطرناک کشیدگی، خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ” قرار دیا ہے، اور خبردار کیا ہے کہ اس سے خطے کے استحکام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    ادھر سعودی عرب میں وزارتِ دفاع نے بتایا کہ دارالحکومت ریاض کے اوپر آٹھ بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ تاہم ان کے ملبے کے باعث شہر کے مختلف علاقوں، خصوصاً ایک آئل ریفائنری کے قریب، نقصان پہنچا۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق چار غیر ملکی (ایشیائی) شہری زخمی ہوئے ہیں۔سعودی حکام کے مطابق مزید چھ ڈرونز کو بھی مار گرایا گیا، جن میں سے ایک مشرقی صوبے میں واقع گیس تنصیب کو نشانہ بنا رہا تھا، تاہم اسے بغیر کسی نقصان کے تباہ کر دیا گیا۔

    اس سے قبل ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے مخالفین کو “سخت جواب” کی دھمکی دی تھی، اور الزام عائد کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل نے اس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جن میں ساؤتھ پارس گیس فیلڈ بھی شامل ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا گیس فیلڈ سمجھا جاتا ہے۔IRGC نے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات میں بعض آئل تنصیبات کے قریب رہنے والے افراد اور عملے کو انخلا کی وارننگ بھی جاری کی ہے، جس سے مزید حملوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

  • ترکی ،سعودی عرب،قطر کا پاکستان کے افغانستان پر حملے روکنے کا خیرمقدم

    ترکی ،سعودی عرب،قطر کا پاکستان کے افغانستان پر حملے روکنے کا خیرمقدم

    ترکی، سعودی عرب، قطر نے عیدالفطر کے موقع پر افغانستان اور پاکستان کے درمیان اعلان کردہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے

    ترکی کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ہمیں خوشی ہے کہ افغانستان اور پاکستان نے ترکیے، قطر اور سعودی عرب کی طرف سے کی گئی اپیل کا مثبت جواب دیا ہے اور عید الفطر کے دوران جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کی بنیاد پر، ہم امید کرتے ہیں کہ جنگ بندی کی پاسداری کی جائے گی اور یہ ایک ایسے عمل کی راہ ہموار کرے گا جو افغانستان اور پاکستان کے لوگوں کے لیے دیرپا امن اور خوشحالی لائے گا۔

    قطر نے عیدالفطر کے موقع پر افغانستان اور پاکستان کے درمیان اعلان کردہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے، جسے کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن کے فروغ کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ عارضی جنگ بندی دونوں ممالک کے درمیان حالات کو معمول پر لانے اور کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ وزارت نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدام ایک پائیدار سیزفائر معاہدے کی راہ ہموار کرے گا، جو نہ صرف شہریوں کی جانوں کو محفوظ بنائے بلکہ خطے میں امن و استحکام کو بھی یقینی بنائے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ قطر ان دونوں فریقین کی جانب سے جنگ بندی کے لیے مثبت ردعمل کو سراہتا ہے، خاص طور پر ان اپیلز کے تناظر میں جو سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ مل کر کی گئی تھیں۔وزارتِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے مکالمہ اور پرامن ذرائع ہی سب سے مؤثر راستہ ہیں، اور یہی طریقہ دیرپا امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔آخر میں، قطر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور خطے میں سلامتی و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔

    علاوہ ازیں سعودی عرب نے بھی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے،سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے اس بابت اعلامیہ جاری کیا گیا ہے.