لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے اسرائیل کے شہر طبریہ میں واقع ایک زیر زمین فوجی اڈے کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ کارروائی اسرائیل کی جانب سے مبینہ جنگ بندی خلاف ورزیوں کے جواب میں کی گئی۔
حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مزاحمتی فورسز نے طبریہ میں موجود اسرائیلی فوج کے ایک اہم زیر زمین اڈے پر متعدد راکٹ داغے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ یہ حملہ اسرائیلی اقدامات کے ردعمل میں کیا گیا اور اس کا مقصد اپنے موقف کا اظہار کرنا تھا۔
بیان کے مطابق حزب اللہ نے اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ کارروائی انہی واقعات کے جواب میں انجام دی گئی۔ تنظیم نے حملے کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
تاحال اسرائیلی حکام کی جانب سے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی حملے سے ہونے والے ممکنہ نقصان یا جانی نقصانات کی تصدیق کی گئی ہے۔ آزاد ذرائع سے بھی اس دعوے کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایسے دعوے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحدی کشیدگی گزشتہ عرصے سے عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جبکہ مختلف ممالک اور بین الاقوامی ادارے حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے عالمی برادری مسلسل تحمل، مذاکرات اور سفارتی حل پر زور دے رہی ہے۔
Blog
-

حزب اللہ کا طبریہ میں اسرائیلی فوجی اڈے پر راکٹ حملے کا دعویٰ
-

امریکی افواج کا کویت میں دو ایرانی بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے کویت میں تعینات امریکی فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے دو ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی سے تباہ کر دیا۔ سینٹکام کے مطابق کارروائی گزشتہ رات انجام دی گئی اور اس دوران کسی بھی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں سینٹکام نے کہا کہ امریکی دفاعی نظام نے ممکنہ خطرے کا بروقت سراغ لگایا اور فوری ردعمل دیتے ہوئے دونوں بیلسٹک میزائلوں کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔ امریکی حکام کے مطابق اس کامیاب کارروائی کے نتیجے میں فوجی تنصیبات اور اہلکار محفوظ رہے۔
سینٹکام نے مزید کہا کہ امریکی افواج اپنے اہلکاروں، اتحادیوں اور خطے میں موجود فوجی اڈوں کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ کسی بھی خطرے یا حملے کی صورت میں فوری اور مؤثر دفاعی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
امریکی فوج کے مطابق خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور دفاعی نظام کو ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے فعال رکھا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امریکی افواج اپنے دفاع اور علاقائی استحکام کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھیں گی۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عسکری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک اور عالمی ادارے خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
دوسری جانب اس دعوے پر ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ آزاد ذرائع سے بھی واقعے کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ -

وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش ہوگا، ترقیاتی پروگرام کا حجم 4264 ارب روپے
مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ 5 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 4264 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی پروگراموں کو ملکی ترقی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور عوامی فلاحی منصوبوں کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق مجموعی ترقیاتی بجٹ میں وفاقی حکومت کے ترقیاتی پروگرام کا حجم 1126 ارب روپے ہوگا، جبکہ چاروں صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگراموں کے لیے مجموعی طور پر 3138 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔
آئندہ مالی سال میں صوبوں کے اپنے وسائل سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کا مجموعی حجم 2478 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے غیر ملکی امداد اور مالی تعاون کی مد میں 660 ارب روپے فراہم کیے جانے کی تجویز بھی شامل ہے۔
صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کے جائزے کے مطابق پنجاب سب سے بڑے ترقیاتی پروگرام کے ساتھ فہرست میں سرفہرست ہے۔ پنجاب کے لیے 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے، جس میں 1306 ارب روپے صوبائی وسائل سے جبکہ 144 ارب روپے غیر ملکی امداد سے حاصل کیے جائیں گے۔
سندھ کے لیے مجموعی ترقیاتی پروگرام کا حجم 816 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ اس میں 520 ارب روپے مقامی وسائل سے جبکہ 296 ارب روپے بیرونی امداد اور ترقیاتی شراکت داریوں کے ذریعے فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔
خیبر پختونخوا کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 564 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس رقم میں 377 ارب روپے صوبائی وسائل سے جبکہ 187 ارب روپے غیر ملکی امداد کی صورت میں فراہم کیے جائیں گے۔
بلوچستان کے لیے 308 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام تجویز کیا گیا ہے، جس میں 275 ارب روپے مقامی وسائل اور 33 ارب روپے بیرونی امداد سے حاصل کیے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ -

تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: مدثریوسف پاشا
آئیں! آج عہد کریں تمباکو سے جان چھڑائیں، خود بھی بچیں، دوسروں کو بھی بچائیں
انسانی صحت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ صحت مند جسم ہی ایک خوشحال زندگی کی بنیاد بنتا ہے، مگر افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں کئی ایسی عادات عام ہو چکی ہیں جو آہستہ آہستہ انسان کو موت کے قریب لے جاتی ہیں۔ ان ہی خطرناک عادات میں ایک تمباکو نوشی بھی ہے۔ سگریٹ، نسوار، گٹکا، شیشہ اور دیگر تمباکو سے بنی اشیاء نہ صرف استعمال کرنے والے فرد کی صحت تباہ کرتی ہیں بلکہ اس کے اردگرد موجود لوگوں کو بھی مختلف بیماریوں میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی کے خلاف شعور اجاگر کیا جا رہا ہے تاکہ انسان خود کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو اس زہر سے محفوظ بنا سکے۔
تمباکو ایک خاموش قاتل ہے۔ ابتدا میں انسان اسے صرف شوق یا فیشن سمجھ کر استعمال کرتا ہے لیکن آہستہ آہستہ یہ عادت نشے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ پھر انسان چاہ کر بھی اس سے جان نہیں چھڑا پاتا۔ نوجوان طبقہ اکثر دوستوں کی صحبت، فلموں کے اثرات یا وقتی ذہنی دباؤ کی وجہ سے سگریٹ نوشی شروع کرتا ہے۔ ابتدا میں چند کش لگانے والا نوجوان جلد ہی اس کا عادی بن جاتا ہے اور پھر یہ عادت اس کی صحت، تعلیم، کردار اور مستقبل سب کچھ تباہ کر دیتی ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے کینسر، دل کے امراض، فالج، دمہ، سانس کی بیماریوں اور منہ کے کینسر جیسی مہلک بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پاکستان میں ہر سال ہزاروں لوگ صرف تمباکو کے استعمال کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ اب کم عمر بچے بھی اس لعنت کا شکار ہو رہے ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں کے باہر کھلے عام سگریٹ اور گٹکا فروخت ہونا ایک خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔
تمباکو نوشی صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ جب ایک شخص سگریٹ پیتا ہے تو اس کا دھواں اردگرد بیٹھے افراد کے پھیپھڑوں میں بھی داخل ہوتا ہے۔ اسے “Passive Smoking” کہا جاتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان بچوں، خواتین اور بزرگوں کو پہنچتا ہے۔ کئی بچے ایسے گھروں میں سانس کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں جہاں والد یا دیگر افراد مسلسل سگریٹ نوشی کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم صرف خود کو ہی نہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس زہر سے بچائیں۔
تمباکو نوشی کے معاشی نقصانات بھی بے شمار ہیں۔ ایک غریب آدمی جو روزانہ سگریٹ پر پیسے خرچ کرتا ہے، اگر وہی رقم اپنے بچوں کی تعلیم، خوراک یا علاج پر خرچ کرے تو اس کے گھر کی حالت بہتر ہو سکتی ہے۔ تمباکو پر خرچ ہونے والی دولت دراصل بیماریوں کو خریدنے کے مترادف ہے۔ حکومت کو بھی تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر اربوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اگر یہ لعنت کم ہو جائے تو ملک کی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اسلام بھی ہر اس چیز سے منع کرتا ہے جو انسانی جان اور صحت کے لیے نقصان دہ ہو۔ چونکہ تمباکو انسان کی صحت کو تباہ کرتا ہے، اس لیے علما کرام بھی اس کے استعمال سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ایک باشعور مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے جسم کو نقصان پہنچانے والی عادات سے دور رہیں۔
تمباکو سے پاک پاکستان صرف حکومت کی کوششوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں بری صحبت سے بچائیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم چلائیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ تمباکو نوشی کے نقصانات پر زیادہ پروگرام نشر کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ کم عمر بچوں کو تمباکو کی فروخت پر سخت پابندی عائد کرے اور عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروائے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ تمباکو نوشی چھوڑنا ناممکن نہیں۔ اگر انسان مضبوط ارادہ کر لے تو وہ اس بری عادت سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔ ابتدا میں مشکل ضرور پیش آتی ہے لیکن آہستہ آہستہ انسان اس نشے سے دور ہو جاتا ہے۔ ورزش، مثبت سرگرمیاں، اچھی صحبت اور اہلِ خانہ کی حوصلہ افزائی اس عادت کو ترک کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر ایک عہد کریں کہ نہ خود تمباکو استعمال کریں گے اور نہ دوسروں کو اس کی ترغیب دیں گے۔ ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو اس زہر سے پاک بنانا ہوگا۔ ایک صحت مند قوم ہی ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت بن سکتی ہے۔
آئیں! آج یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی، اپنے خاندان اور اپنے وطن کو تمباکو جیسی خطرناک لعنت سے بچائیں گے۔ کیونکہ ایک تمباکو سے پاک پاکستان ہی ایک صحت مند، خوشحال اور روشن پاکستان کی بنیاد ہے۔
-

کراچی میں پانی کا شدید بحران، شہری سراپا احتجاج
کراچی میں پانی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے، جس کے باعث لاکھوں شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شدید گرمی اور حبس کے موسم میں پانی کی قلت نے عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں لوگ بنیادی ضرورت کے لیے بھی پانی حاصل کرنے سے محروم ہیں۔
شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی عدم فراہمی کے خلاف شہری سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاجی مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے فوری طور پر پانی کی فراہمی بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے اس بحران کا ذمہ دار کے الیکٹرک کو قرار دیا ہے۔ واٹر کارپوریشن کے ترجمان کے مطابق 31 مئی کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فنی خرابی پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں نارتھ ایسٹ کراچی پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہو گئی تھی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ بجلی کی بندش کے باعث کے ٹو (K-II) اور کے تھری (K-III) پمپنگ اسٹیشنز سے پانی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی، جس سے شہر کو روزانہ تقریباً 122 ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال نے ضلع وسطی، ضلع غربی اور دیگر کئی علاقوں میں پانی کے بحران کو مزید گہرا کر دیا۔
واٹر کارپوریشن کے مطابق بجلی کی فراہمی متاثر ہونے سے پمپنگ آپریشن رکاوٹ کا شکار ہوا، جس کے باعث سپلائی سسٹم میں خلل پیدا ہوا اور شہریوں تک پانی کی ترسیل متاثر ہوئی۔ کئی علاقوں میں ٹینکر مافیا کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے شہریوں کے مسائل مزید بڑھ گئے۔
بعد ازاں واٹر کارپوریشن نے بتایا کہ کے الیکٹرک کی جانب سے مین کیبل میں پیدا ہونے والی خرابی کو دور کر دیا گیا ہے اور نارتھ ایسٹ کراچی پمپنگ اسٹیشن کی بجلی بحال ہو چکی ہے۔ بجلی کی بحالی کے بعد کے ٹو اور کے تھری پمپنگ اسٹیشنز سے پانی کی فراہمی دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ سپلائی لائنوں میں پریشر بحال ہونے اور پانی کی ترسیل مکمل طور پر معمول پر آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں صورتحال معمول پر آنے کی توقع ہے۔ -

تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:ملک اویس
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ اپنی محنت کی کمائی سے خریدی گئی سگریٹ کا ہر کش دراصل آپ کی زندگی کا ایک حصہ جلا رہا ہوتا ہے؟ کیا آپ نے کبھی یہ محسوس کیا ہے کہ جس دھویں کو آپ اپنے منہ سے باہر نکالتے ہیں، وہ دراصل آپ کے خوابوں، آپ کی صحت، آپ کے مستقبل اور آپ کے خاندان کی خوشیوں کو بھی ساتھ لے جا رہا ہوتا ہے؟
پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔ یہاں کروڑوں نوجوان اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں، لیکن افسوس کہ انہی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تمباکو نوشی جیسی مہلک عادت کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ ہر روز ہزاروں افراد اپنی جیب سے پیسے نکال کر ایسی چیز خریدتے ہیں جو نہ صرف ان کے جسم کو کھوکھلا کر رہی ہے بلکہ ان کی زندگی کو بھی مختصر بنا رہی ہے۔سوچیے، ایک مزدور جو سارا دن دھوپ میں پسینہ بہا کر چند سو روپے کماتا ہے، وہ ان میں سے کچھ رقم سگریٹ پر خرچ کر دیتا ہے۔ ایک طالب علم جو اپنے والدین کی امیدوں کا مرکز ہوتا ہے، وہ اپنی جیب خرچ کا حصہ تمباکو پر ضائع کر دیتا ہے۔ ایک باپ جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھتا ہے، وہ اپنے ہی ہاتھوں اپنے خاندان کی خوشیوں کو دھویں میں اڑا دیتا ہے۔
آپ پیسے بھی دے رہے ہیں، اپنی صحت بھی کھو رہے ہیں، اپنے پھیپھڑوں کو بھی تباہ کر رہے ہیں اور اپنے پیاروں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی چیز ہو جسے خریدنے والا خود بھی نقصان اٹھائے اور اس کے آس پاس موجود لوگ بھی متاثر ہوں، مگر تمباکو ایسی ہی ایک لعنت ہے۔ہر سال لاکھوں لوگ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ کینسر، دل کے امراض، فالج، سانس کی بیماریاں اور بے شمار دیگر مسائل انسان کو وقت سے پہلے قبر کے قریب لے جاتے ہیں۔ مگر افسوس کہ اس کے باوجود بہت سے لوگ یہ سوچ کر سگریٹ سلگا لیتے ہیں کہ "ایک سگریٹ سے کیا ہوگا؟”حقیقت یہ ہے کہ تباہی کبھی ایک ہی دن میں نہیں آتی۔ ایک ایک کش، ایک ایک سگریٹ اور ایک ایک دن انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں واپسی ممکن نہیں رہتی۔
پاکستان کو آج مضبوط معیشت، صحت مند نوجوانوں اور باصلاحیت افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ لیکن جب ہماری نوجوان نسل اپنے خون میں زہر گھول رہی ہو تو ترقی کا خواب کیسے پورا ہوگا؟ ایک بیمار قوم کبھی مضبوط قوم نہیں بن سکتی۔ جو سرمایہ تعلیم، تحقیق، کاروبار اور خاندان پر خرچ ہونا چاہیے، وہ سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات کے دھویں میں برباد ہو رہا ہے۔ذرا اپنے بچوں کے چہروں کو دیکھیے۔ ان کی آنکھوں میں سجے خوابوں کو دیکھیے۔ کیا وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے والدین اپنی صحت کو تباہ کر کے انہیں وقت سے پہلے یتیمی، بیماری یا معاشی مشکلات کے حوالے کر دیں؟ کیا ہمارے نوجوان اس قابل نہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں، اپنے ملک کا نام روشن کریں اور اپنی زندگی کو کامیابی کی مثال بنائیں؟یاد رکھیے، سگریٹ صرف ایک کاغذ میں لپٹا ہوا تمباکو نہیں ہوتا۔ یہ انسان کے ارادے، صحت، خوشیوں اور مستقبل کا دشمن ہوتا ہے۔ یہ آہستہ آہستہ انسان سے اس کی طاقت، خوبصورتی، اعتماد اور زندگی کی رونق چھین لیتا ہے۔
آج وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے ایک سوال پوچھیں: آخر کیوں؟ آخر کیوں ہم اپنی محنت کی کمائی کو آگ لگا رہے ہیں؟ کیوں ہم اپنے بچوں کے حق کا پیسہ دھویں میں اڑا رہے ہیں؟ کیوں ہم اپنی زندگی کو مختصر کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟ کیوں ہم ایک ایسی صنعت کو فائدہ پہنچا رہے ہیں جو ہماری صحت کی قیمت پر اربوں کماتی ہے؟اگر آپ تمباکو نوشی کرتے ہیں تو آج ہی فیصلہ کیجیے کہ آپ اپنی زندگی کو اس قید سے آزاد کریں گے۔ اگر آپ کے دوست یا عزیز اس عادت میں مبتلا ہیں تو انہیں سمجھائیے، ان کا ہاتھ پکڑیے اور انہیں اس تباہ کن راستے سے واپس لائیے۔ ایک سگریٹ چھوڑنا مشکل ضرور ہو سکتا ہے، مگر ناممکن نہیں۔ اور یاد رکھیے کہ ہر وہ دن جس میں آپ تمباکو سے دور رہتے ہیں، آپ اپنی زندگی میں اضافہ کر رہے ہوتے ہیں۔
ہمیں ایک ایسے پاکستان کی ضرورت ہے جہاں نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتابیں ہوں، سگریٹ نہیں۔ جہاں سانسوں میں تازگی ہو، زہر نہیں۔ جہاں ہسپتالوں کی قطاریں کم اور کامیابیوں کی داستانیں زیادہ ہوں۔ جہاں قوم اپنی دولت بیماریوں پر نہیں بلکہ ترقی پر خرچ کرے۔آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے وطن کو تمباکو سے پاک پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ہم اپنی نسلوں کو اس لعنت سے بچائیں گے۔ ہم اپنی صحت، اپنے خاندان اور اپنے مستقبل کو دھویں کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔کیونکہ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، اور کوئی بھی نعمت اس قابل نہیں کہ اسے اپنے ہی ہاتھوں دھویں میں اڑا دیا جائے۔
-

ایپکا کا تنخواہوں میں 200 فیصد اور الاؤنسز میں 500 فیصد اضافے کا مطالبہ
آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ سے قبل آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (ایپکا) نے سرکاری ملازمین کے لیے بڑے مالی ریلیف کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے سامنے 6 نکاتی چارٹر پیش کر دیا ہے۔ تنظیم نے تنخواہوں اور الاؤنسز میں نمایاں اضافے کے مطالبات کے ساتھ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔
ایپکا کی مرکزی قیادت کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتوں اور روزمرہ اخراجات میں اضافے نے سرکاری ملازمین کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں فوری طور پر 200 فیصد اضافہ کیا جائے۔
تنظیم نے اپنے مطالبات میں ہاؤس رینٹ الاؤنس، میڈیکل الاؤنس اور دیگر مراعات میں 500 فیصد اضافے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ایپکا کا مؤقف ہے کہ موجودہ الاؤنسز مہنگائی کی موجودہ شرح کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہو چکے ہیں اور ملازمین کی ضروریات پوری نہیں کر پا رہے۔
اپنے 6 نکاتی ایجنڈے میں ایپکا نے سرکاری اداروں کی ممکنہ نجکاری کے عمل کو بھی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نجکاری سے ملازمین کے روزگار اور مستقبل سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ایپکا رہنماؤں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں مہنگائی کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس نے متوسط اور کم آمدنی والے سرکاری ملازمین کی معاشی حالت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ تنخواہوں کے ساتھ گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔
تنظیم نے اپنے مطالبات کے حق میں دو جون کو اسلام آباد میں ملک گیر احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایپکا کا کہنا ہے کہ ملک بھر سے سرکاری ملازمین اور کلرک بڑی تعداد میں وفاقی دارالحکومت پہنچیں گے تاکہ اپنے مطالبات حکومت تک مؤثر انداز میں پہنچا سکیں۔
اطلاعات کے مطابق احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد کی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سکیورٹی انتظامات سخت کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ سے قبل سرکاری ملازمین کی جانب سے سامنے آنے والے یہ مطالبات حکومتی مالی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ -

انمول پنکی کے مبینہ سہولت کاروں کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ
کراچی میں منشیات اسمگلنگ کے ایک اہم مقدمے میں پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مبینہ کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کے دو اہم سہولت کاروں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے سیشن عدالت سے رجوع کر لیا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواستِ ضمانت پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جیل میں قید ملزمہ انمول عرف پنکی کے مبینہ ساتھیوں سہیل الرحمان اور ذیشان نے سیشن عدالت جنوبی میں قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ دونوں ملزمان کے خلاف کراچی کے تھانہ گارڈن میں منشیات فروشی اور مبینہ سہولت کاری کا مقدمہ درج ہے۔
سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکلان بے قصور ہیں اور ان کا انمول عرف پنکی یا کسی منشیات کے نیٹ ورک سے کوئی تعلق نہیں۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں، اس لیے انہیں ضمانت دی جائے۔
دوسری جانب سرکاری وکیل نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزمان مبینہ طور پر انمول پنکی کے نیٹ ورک کے اہم کردار ہیں۔ استغاثہ کے مطابق انمول پنکی کے جیل میں ہونے کے باوجود اس کا نیٹ ورک بیرونِ جیل فعال رہا اور اس میں سہیل الرحمان اور ذیشان کا کردار انتہائی اہم بتایا جا رہا ہے۔
سرکاری وکیل نے عدالت سے مؤقف اپنایا کہ ملزمان کی گرفتاری تفتیش کے لیے ضروری ہے اور انہیں ضمانت دینا تحقیقات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ عدالت نے دونوں جانب کے دلائل تفصیل سے سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
عدالتی ذرائع کے مطابق محفوظ فیصلہ رواں ہفتے سنائے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ ملزمان کو ریلیف ملتا ہے یا انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔
یاد رہے کہ انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات اسمگلنگ اور منشیات کے مبینہ نیٹ ورک چلانے کے الزامات کے تحت مختلف مقدمات زیرِ تفتیش ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ -

فیری میڈوز جانے والی سیاحوں کی گاڑی حادثے کا شکار، 7 افراد جاں بحق
گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے علاقے چلاس میں سیاحتی مقام فیری میڈوز جانے والی ایک گاڑی خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب سیاحوں کو لے جانے والی گاڑی دشوار گزار پہاڑی راستے پر سفر کر رہی تھی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق گاڑی بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری، جس کے باعث متعدد افراد شدید زخمی بھی ہوئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی شناخت اور حادثے کی وجوہات کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ زخمیوں کو قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
فیری میڈوز پاکستان کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے اور ہر سال ملک بھر کے علاوہ غیر ملکی سیاح بھی بڑی تعداد میں یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم اس مقام تک جانے والے پہاڑی راستے دشوار اور خطرناک سمجھے جاتے ہیں، جس کے باعث ڈرائیوروں کو انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
مقامی حکام نے سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پہاڑی علاقوں میں سفر کے دوران حفاظتی ہدایات پر عمل کریں اور صرف تجربہ کار ڈرائیوروں کی خدمات حاصل کریں تاکہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔ -

سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی،چاندی مہنگی
سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے،پاکستان میں فی تولہ سونا 4 ہزار 400 روپے سستا ہوگیا، جبکہ چاندی کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق کاروباری ہفتے کے پہلے یعنی پیر کے روز ملکی صرافہ مارکیٹوں میں سونا سستا ہوا ہے، جس کے بعد عالمی اور مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونے کی قیمتیں بلند ترین سطح سے نیچے آگئیں۔
ملک میں فی تولہ سونا 4400 روپے کمی کے بعد 4 لاکھ 71 ہزار 762 روپے کا ہو گیا ہے۔ جب کہ 10 گرام سونا 3 ہزار 773 روپے کم ہو کر 4 لاکھ 4 ہزار 459 روپے تک پہنچ گیا ہے،جبکہ عالمی بازار میں سونا 44 ڈالر کمی کے بعد 4494 ڈالر فی اونس کا ہوگیاہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آج چاندی کی فی تولہ قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، فی تولہ چاندی کی قیمت 46 روپے کے اضافے کے بعد 8 ہزار 059 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 39 روپے بڑھ کر 6 ہزار 908 روپے ہو گئی ہے۔