لبنان میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں ایران نے امریکا کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایرانی خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق یہ اقدام خطے میں جاری کشیدگی اور لبنان و غزہ کی صورتحال کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی مذاکراتی وفد نے واضح کیا ہے کہ جب تک لبنان اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق ایران کے مطالبات پر پیش رفت نہیں ہوتی، اس وقت تک امریکا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات یا سفارتی رابطوں کو آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں تہران کی توجہ خطے میں جاری تنازعات اور ان کے ممکنہ اثرات پر مرکوز ہے۔ اسی لیے سفارتی سطح پر بھی نئی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے تاکہ علاقائی صورتحال کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں۔
تسنیم کی رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادی مزاحمتی گروپوں نے خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں مختلف آپشنز اور حکمت عملیوں پر غور کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کے حوالے سے بھی مختلف تجاویز زیرِ بحث آئی ہیں۔
تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے آزاد ذرائع سے فوری تصدیق سامنے نہیں آئی اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر ان تمام نکات کی باضابطہ توثیق کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مختلف بیانات اور دعوؤں کا بغور جائزہ لینا ضروری ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں میں تعطل خطے کی سفارتی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات، توانائی کی عالمی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے مسلسل سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جا سکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ خطے میں پائیدار استحکام کے لیے سیاسی اور سفارتی حل ناگزیر ہے۔
ایران کا فوجی کارروائیوں کے تناظر میں امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ معطل
