ریاست کو ہمیشہ ماں کہا جاتا ہے۔ماں جو اپنے بچوں کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے ان کی بھوک، پیاس، سانسوں اور خوابوں کی محافظ ہوتی ہے۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ، تعلیم، صحت اور بنیادی حقوق کی فراہمی ریاست کی سب سے مقدس ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ مگر جب یہی ریاست اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ لے، تو پھر سڑکوں پر صرف حادثے نہیں ہوتے جنازے اٹھتے ہیں۔ضلع حویلی کہوٹہ کے علاقے خورشید آباد میں پیش آنے والا المناک حادثہ صرف ایک خبر نہیں سات ماؤں کا نوحہ ہے۔سات نوجوان، سات خواب، سات گھروں کے چراغ ایک لمحے میں بجھ گئے۔
دوستوں کا یہ گروہ ہلاں آبشار کی سیر کے لیے گیا تھا۔ وہ ہنستے ہوئے نکلے تھے مگر واپسی پر سفید کفنوں میں لپٹے لوٹے۔ واپسی کے دوران ان کا لوڈر رکشہ بے قابو ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے حویلی کی فضاؤں میں چیخیں گونج اٹھیں۔ ہر گلی ماتم کدہ بن گئی ہر دروازے پر کہرام برپا ہو گیا۔اور سوال یہ ہے کہ اُس وقت ہماری “ماں” ریاست کہاں تھی؟حضرت عمرؓ کا وہ قول آج بھی حکمرانوں اور ریاستی اداروں کے لیے ایک آئینہ ہے جب آپ نے فرمایا تھا:
"اگر دریائے فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی پیاس سے مر جائے، تو عمر اس کا بھی جوابدہ ہو گا۔” مگر سات نوجوان تڑپ تڑپ کر جان دے گئے تو سوال یہ ہے کہ ان معصوم جانوں کا جوابدہ کون ہو گا؟کون ان ماؤں کے آنسوؤں کا حساب دے گا؟
کون ان اجڑے گھروں کی خاموشیوں کا بوجھ اٹھائے گا؟
اور کون قیامت کے دن ان بجھتے چراغوں کے سامنے خود کو بے قصور ثابت کر سکے گا؟
کیا زخمیوں کو بروقت ایمبولینس فراہم کی گئی؟
اگر تمام سہولیات موجود تھیں تو پھر زخمی نوجوان نجی گاڑیوں اور ڈالوں میں ہسپتال کیوں منتقل کیے گئے؟ خون میں لت پت جسم، سڑک کنارے تڑپتی سانسیں، اور پیچھے خاموش کھڑی سرکاری مشینری یہ منظر کسی بھی حساس دل کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔دو نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ پانچ شدید زخمی حالت میں رات گئے ہسپتال پہنچائے گئے۔ مگر سوال اب بھی زندہ ہے:
کیا انہیں بروقت طبی امداد ملی؟
کیا ایمبولینسوں میں آکسیجن سلینڈر موجود تھے؟
کیا ابتدائی طبی سہولیات دستیاب تھیں؟یا پھر ان کی سانسیں بھی سرکاری غفلت کے اندھیروں میں بجھ گئیں؟پانچ زخمیوں کو ادویات تک میسر نہ ہونا حادثہ نہیں ایک بے حس نظام میں کھلا قتل ہے۔
یہ صرف ایک ٹریفک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا اجتماعی المیہ ہے جو ہماری انتظامی بے حسی، ناکارہ نظام اور مردہ ضمیر کی عکاسی کرتا ہے۔ جب ریاست ماں کے بجائے سوتیلی ماں کا کردار ادا کرنے لگے تو پھر بیٹے یوں ہی سڑکوں پر دم توڑتے ہیں۔گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ تو چیک کیے جاتے ہیں، مگر ان سرکاری ایمبولینسوں کی فٹنس کون دیکھتا ہے؟ان خطرناک سڑکوں پر حفاظتی بیرئیر کیوں موجود نہیں؟
کیا یہاں انسان کی جان واقعی پتھروں سے بھی سستی ہو چکی ہے؟
اور افسوس کی انتہا یہ ہے کہ انہی علاقوں سے منتخب ہو کر لوگ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے ہیں، مگر کرسی ملتے ہی اپنے ہی لوگوں کے زخم بھول جاتے ہیں۔ اقتدار تو مل جاتا ہے، مگر احساس مر جاتا ہے۔
عید کے دوسرے دن جب ہر گھر میں خوشیوں کی روشنی تھی حویلی کے سات گھروں میں قیامت اتر آئی۔ ایک روزہ سوگ کا اعلان کر کے شاید ذمہ دار ادارے بری الذمہ ہو جائیں، مگر ان والدین کی زندگی اب ہمیشہ کے لیے سوگ بن چکی ہے۔ جوان بیٹے کا جنازہ اٹھانا وہ درد ہے جو انسان کو زندہ رہتے ہوئے بھی اندر سے دفن کر دیتا ہے۔ اولاد چند ماہ کی بھی ہو تو اس کا چھوٹا سا جنازہ باپ کے کندھے جھکا دیتا ہے اور یہاں تو سات گھروں کے سہارے ایک ساتھ چھین لیے گئے۔یہ دکھ، یہ ماتم، یہ المیے آخر حویلی کے نصیب ہی کیوں بنا دیے گئے؟
ابھی عمر راٹھور معصوم کی ترازو کے نیچے دبی چیخوں کے زخم بھرے بھی نہ تھے کہ سات نئے زخم دلوں پر ثبت ہو گئے۔ اب ان گھروں میں عیدیں شاید کبھی پہلے جیسی نہ آئیں۔ ان کے دروازوں پر خوشیوں کے بجائے خاموشیاں دستک دیں گی۔ جنہوں نے اپنا جگر کا ٹکڑا کھویا ہو صرف وہی اس اذیت کو محسوس کر سکتے ہیں۔
اور ایک سوال دل کو چیر دیتا ہے۔۔
اگر ان نوجوانوں کی جگہ کسی وزیر، مشیر یا بااختیار شخصیت کے بچے ہوتے تب بھی کیا یہی ہوتا؟
کیا تب بھی ایمبولینسیں دیر سے پہنچتیں؟
کیا تب بھی سڑکوں پر حفاظتی انتظامات نہ ہوتے؟
کیا تب بھی خاموشی چھا جاتی؟
ہم صرف مظلوم نہیں، کہیں نہ کہیں ظالم بھی ہیں
ظالم اس لیے کہ ہم خاموش ہیں۔ہم لاشیں گنتے ہیں، چند دن افسوس کرتے ہیں اور پھر اگلے سانحے کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔محکمہ صحت کو دیے گئے فنڈز کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ان سڑکوں پر ہونے والے کام کی حقیقت بھی سامنے آنی چاہیے۔ کہیں یہ ترقی بھی مظفر آباد کے فلائی اوور جیسی تو نہیں، جو نام کا منصوبہ اور حقیقت میں کھنڈر ثابت ہوا؟
اور اگر واقعی ہم ایسے سانحات کو روکنا چاہتے ہیں تو صرف افسوس اور تعزیتی بیانات کافی نہیں ہوں گے۔ خطرناک سڑکوں پر مضبوط حفاظتی بیرئیر نصب کیے جائیں، ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کروایا جائے سیاحتی مقامات پر ریسکیو مراکز اور مکمل سہولیات سے آراستہ ایمبولینسیں ہر وقت موجود ہوں۔ ڈرائیورز کی تربیت اور گاڑیوں کی باقاعدہ فٹنس چیکنگ کو یقینی بنایا جائے اور حادثات کی صورت میں فوری طبی امداد کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔ کیونکہ حادثات صرف قسمت سے نہیں ہوتے اکثر غفلت بھی جانیں لے لیتی ہے۔
خدارا اب تو بولو!
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل شاید ہماری باری ہو۔
