Baaghi TV

Blog

  • یکم محرم کو غلافِ کعبہ تبدیل کیا جائے گا، نیا غلاف کلید بردارِ کعبہ کے حوالے

    یکم محرم کو غلافِ کعبہ تبدیل کیا جائے گا، نیا غلاف کلید بردارِ کعبہ کے حوالے

    مکہ مکرمہ: خانۂ کعبہ کا نیا غلاف یکم محرم الحرام کو روایتی تقریب کے دوران تبدیل کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں خادم الحرمین الشریفین کی نیابت میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں نیا غلافِ کعبہ کلید بردارِ کعبہ کے حوالے کر دیا گیا۔

    تقریب میں متعلقہ حکام اور ذمہ دار شخصیات نے شرکت کی، جہاں غلافِ کعبہ کی تبدیلی کے سالانہ انتظامات کا جائزہ بھی لیا گیا۔ نیا غلاف حسبِ روایت یکم محرم الحرام کو خانۂ کعبہ پر چڑھایا جائے گا۔حرمین شریفین انتظامیہ کے مطابق غلافِ کعبہ کی تبدیلی ایک روح پرور اور باوقار مذہبی روایت ہے، جس کا اہتمام ہر سال نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی جس میں غلاف کی تنصیب کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ غلافِ کعبہ اعلیٰ معیار کے سیاہ ریشم سے تیار کیا جاتا ہے جس پر سونے اور چاندی کے تاروں سے قرآنی آیات کی کشیدہ کاری کی جاتی ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان اس بابرکت روایت کو نہایت عقیدت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

  • دنیا آخر کس طرف جا رہی ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا آخر کس طرف جا رہی ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا نازک موڑ پر سفارتی تعطل اور جنگی خطرات میں اضافہ

    امریکہ، ایران اور روس تنازع عالمی امن کو نئے چیلنجز درپیش

    بڑھتی کشیدگی، کمزور سفارت کاری دنیا کس سمت بڑھ رہی ہے؟

    تجزیہ شہزاد قریشی

    دنیا اس وقت ایک غیر یقینی، بے اعتمادی اور طاقت کے توازن کی نئی جنگ کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات سلجھنے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، تو دوسری جانب روس اور مغرب کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں رومینیا میں روسی ڈرون گرنے کے واقعے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ رومینیا یورپی یونین اور نیٹو کا رکن ملک ہے۔ اگرچہ اطلاعات کے مطابق یہ براہِ راست مکمل جنگی حملہ نہیں بلکہ یوکرین جنگ کے تناظر میں ایک ڈرون واقعہ بتایا جا رہا ہے، لیکن اس کے اثرات بہت سنگین ہو سکتے ہیں۔

    میری رائے میں مسئلہ صرف جنگوں کا نہیں، بلکہ قیادت کے بحران کا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اب فوری حل کے بجائے “اسٹریٹجک انتظار” کی پالیسی پر چل رہی ہیں۔ امریکہ، جو خود کو عالمی قیادت کا مرکز سمجھتا ہے، اسے صرف ردعمل نہیں بلکہ پیشگی سفارت کاری، مؤثر مذاکرات اور تنازعات کے مستقل حل پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ ایران کے ساتھ معاہدہ مسلسل تعطل کا شکار ہے، مشرقِ وسطیٰ میں بے یقینی موجود ہے، روس اور یوکرین کی جنگ پورے یورپ کے امن کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے، جبکہ خطے کے کئی دیگر تنازعات بھی حل طلب ہیں۔

    حیرت ہے اگر ایک معاملہ حل نہیں ہو رہا تو دوسرا محاذ کھل جاتا ہے۔ یہی صورتحال عالمی نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ کہیں جنگ بندی پائیدار نہیں، اور کہیں سفارت کاری سیاسی مفادات کی نذر ہو رہی ہے۔ دنیا میں طاقت تو موجود ہے، مگر اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔

    لیکن یہاں ایک احتیاطی نقطہ بھی ضروری ہے: ہر واقعہ کو فوری طور پر “عالمی جنگ” کا آغاز سمجھنا شاید درست نہ ہو۔ اکثر اوقات سرحدی یا جنگی سیکیورٹی اور سیاسی تناؤ بڑے بحران کا اشارہ تو ہوتے ہیں، مگر عالمی طاقتیں انہیں قابو میں رکھنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ رومینیا کے معاملے پر نیٹو نے سخت ردعمل دیا ہے، مگر ساتھ ہی کشیدگی کو مکمل جنگ میں بدلنے سے بچنے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔

    دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر بڑی طاقتیں انا، سیاسی مفادات اور طاقت کے کھیل سے اوپر نہ اٹھیں تو چھوٹے واقعات بڑے تصادم میں بدل سکتے ہیں۔ امریکہ سمیت عالمی قیادت کو سنجیدہ، دوراندیش اور فوری سفارتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی، ورنہ دنیا امن سے زیادہ خوف، غیر یقینی اور تقسیم کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

  • لاہور میں بارش،بجلی کا نظام درہم برہم

    لاہور میں بارش،بجلی کا نظام درہم برہم

    لاہورشہر کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش اور ژالہ باری سے بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا

    لاہور کے علاقوں گلبرگ ، گڑھی شاہو، ایبٹ روڈ اور ریگل چوک، لکشمی چوک، مسلم ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن اور مال روڈ پربارش ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ دھرم پورہ، صحافی کالونی، جیل روڈ، کلمہ چوک، مانگ چونگی اور فیروز پور روڈ سمیت دیگر علاقوں میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی،لیسکو ذرائع کے مطابق موسلادھار بارش سے بجلی کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا اور 100 سے زائد فیڈرز ٹرپ کرگئے ،اس حوالے سے لیسکو حکام کا کہنا ہے کہ بارش رکنے کے بعد بجلی کی بحالی کا کام شروع ہوگا۔

    بارش کے دوران نکاسی آب کا جامع ایکشن پلان فعال ،ڈی سی لاہور کی زیرِ نگرانی واسا اور انتظامیہ فیلڈ میں متحرک ہیں،تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور واسا کے متعلقہ افسران فیلڈ میں موجود ہیںَ،لاہور کے تمام نشیبی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر عملہ اور مشینری موجود ہے،ترجمان لاہور حکومت کے مطابق بارش کی صورتحال پر کنٹرول روم سے مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے ،نشیبی علاقوں سے نکاسی آب کے لیے تمام ڈسپوزل اسٹیشنز فعال ہیں،

  • کرنٹ لگا کر بیوی کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار،اعتراف جرم

    کرنٹ لگا کر بیوی کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار،اعتراف جرم

    قصور
    خاتون کے کرنٹ لگنے سے ہلاک ہونے کا ڈراپ سین، خاوند نے ناجائز تعلقات کے شبہ میں تشدد کر کے قتل کر دیا، خاوند گرفتار
    تھانہ مندی عثمان والا کے علاقے روڈے میں ملزم کا اپنی بیوی کو بجلی کے شاک سے ہلاکت کا ڈرامہ بے نقاب ہو گیا
    خاوند شکیل نے مبینہ ناجائز تعلقات کے شبہ میں اپنی بیوی شکیلہ بی بی کو تشدد کر کے قتل کر دیا
    ملزم شکیل نے چالاکی سے واقعہ کو الیکٹرک شاک قرار دینے کی کوشش کی اور ورثا نے بھی کاروائی سے انکار کر دیا تاہم ایس ایچ او عثمانوالا ملک جبار نے سکیورٹی کانسٹیبل سے اطلاع موصول ہوتے ہی فوری تحقیقات شروع کیں
    قصور پولیس کی پیشہ وارانہ مہارت سے اندھے قتل کو 6 گھنٹوں کے قلیل وقت میں ٹریس کیا گیا
    ملزم نے دوران تفتیش اعتراف جرم کر لیا
    پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم سے مذید تحقیقات شروع کر دیں

  • 
اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی اہم ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق

    
اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی اہم ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق

    ‎پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے اہم ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی صورتحال سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎امریکی محکمہ خارجہ میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو کی۔
    ‎ملاقات میں تجارتی روابط، سرمایہ کاری کے فروغ، معاشی تعاون، انسداد دہشت گردی اور خطے میں امن و استحکام سے متعلق امور خصوصی طور پر زیر بحث آئے۔
    ‎دونوں ممالک کے حکام نے مذاکرات کو مثبت، تعمیری اور مستقبل پر مبنی قرار دیا اور باہمی مفادات کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
    ‎پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق یہ ملاقات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور تعمیری شراکت داری کی بنیاد پر مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریقین نے اقتصادی تعاون کو وسعت دینے، سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے اور علاقائی امن کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔
    ‎یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو حال ہی میں بھارت کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق جنوبی ایشیا میں سفارتی رابطوں کا مقصد خطے کے اہم شراکت دار ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔
    ‎ملاقات کے دوران پاکستان کے علاقائی استحکام اور امن کے فروغ میں کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک باہمی تعلقات میں نئی پیش رفت اور تعاون کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔

  • 
جی 7 سربراہی اجلاس میں مودی اور ٹرمپ ملاقات متوقع

    
جی 7 سربراہی اجلاس میں مودی اور ٹرمپ ملاقات متوقع

    ‎فرانس میں 15 سے 17 جون تک ہونے والے جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم دوطرفہ ملاقات متوقع ہے، جس کے لیے سفارتی تیاریاں جاری ہیں۔
    ‎سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کو جی 7 اجلاس میں خصوصی مہمان کے طور پر شرکت کی دعوت دی گئی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اجلاس میں اپنی شرکت کی تصدیق کر چکے ہیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے حکام مجوزہ ملاقات کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔ اس ملاقات میں تجارت، ٹیرف، توانائی کے شعبے میں تعاون، دفاعی تعلقات، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور بحرالکاہل خطے کی صورتحال سمیت متعدد اہم امور زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بدلتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال کے تناظر میں واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
    ‎جی 7 اجلاس میں بھارت کے علاوہ برازیل، کینیا، جنوبی کوریا اور دیگر مہمان ممالک بھی شرکت کریں گے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے باضابطہ طور پر وزیراعظم مودی کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔
    ‎مبصرین کے مطابق جی 7 اجلاس دونوں رہنماؤں کے درمیان براہ راست ملاقات کے لیے ایک موزوں سفارتی پلیٹ فارم فراہم کرے گا، جبکہ یہ ملاقات مستقبل میں ممکنہ وائٹ ہاؤس دورے کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے۔
    ‎اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی وزیراعظم مودی کو صدر ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت پہنچا چکے ہیں، جسے دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ملاقات طے پاتی ہے تو اس کے نتیجے میں امریکا اور بھارت کے درمیان اقتصادی، دفاعی اور تزویراتی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

  • 
کرن جوہر نے بالی وڈ ستاروں کو ان فالو کر دیا

    
کرن جوہر نے بالی وڈ ستاروں کو ان فالو کر دیا

    ‎بالی وڈ کے معروف پروڈیوسر اور ہدایت کار کرن جوہر نے سوشل میڈیا پر ایک غیر متوقع اقدام کرتے ہوئے کئی قریبی دوستوں اور مشہور بالی وڈ شخصیات کو ان فالو کر دیا، جس کے بعد شوبز حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔
    ‎بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کرن جوہر نے جن شخصیات کو ان فالو کیا ہے ان میں بالی وڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان، اداکارہ کرینہ کپور خان، عالیہ بھٹ، کارتک آریان، اننیا پانڈے، ورون دھون، سدھارتھ ملہوترا، ملائکہ اروڑا اور معروف فیشن ڈیزائنر منیش ملہوتھرا شامل ہیں۔
    ‎کرن جوہر کے اس اقدام نے مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین کو حیران کر دیا ہے کیونکہ ان میں سے کئی شخصیات کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات اور طویل دوستی مشہور رہی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کے بعد کرن جوہر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی زندگی میں غیر ضروری شور اور توجہ ہٹانے والی چیزوں کو کم کرنا چاہتے ہیں۔
    ‎انہوں نے اشارہ دیا کہ یہ فیصلہ کسی ذاتی اختلاف یا تنازعے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی ذہنی سکون اور ذاتی ترجیحات کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
    ‎سوشل میڈیا صارفین اس اقدام پر مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ صرف ایک ڈیجیٹل صفائی مہم کا حصہ ہے جبکہ کچھ مداح اسے بالی وڈ کے اندرونی تعلقات سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
    ‎کرن جوہر بالی وڈ کی بااثر شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے تعلقات انڈسٹری کے تقریباً تمام بڑے ستاروں کے ساتھ رہے ہیں، اسی لیے ان کا یہ اقدام خبروں کی زینت بن گیا ہے۔

  • 
رومانیہ میں روسی ڈرون گرنے سے 2 افراد زخمی

    
رومانیہ میں روسی ڈرون گرنے سے 2 افراد زخمی

    ‎رومانیہ کے مشرقی شہر گالاتسی میں ایک روسی ڈرون رہائشی عمارت سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور دو افراد زخمی ہو گئے۔
    ‎رومانیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ واقعہ جمعے کے روز پیش آیا۔ گالاتسی شہر یوکرین کی سرحد کے قریب واقع ہے اور حالیہ برسوں میں سرحدی کشیدگی کے باعث حساس علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
    ‎حادثے کے بعد عمارت میں آگ لگ گئی جس پر امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قابو پا لیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق زخمی ہونے والے دو افراد کو موقع پر طبی امداد فراہم کی گئی اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
    ‎حکام نے احتیاطی اقدامات کے تحت عمارت سے تقریباً 70 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا تاکہ مزید کسی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
    ‎رومانیہ کی وزارتِ خارجہ نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے روس کی جانب سے "سنگین اور غیر ذمہ دارانہ اشتعال انگیزی” قرار دیا ہے۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ نیٹو کے رکن ملک کی سرزمین پر اس نوعیت کا واقعہ خطے کی سلامتی کے لیے تشویش ناک ہے اور اس کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
    ‎یوکرین اور روس کے درمیان چار سال سے جاری جنگ کے دوران متعدد بار روسی ڈرونز اور میزائل نیٹو ممالک کی فضائی حدود کے قریب پہنچے یا ان میں داخل ہوئے ہیں، تاہم رومانیہ میں یہ پہلا واقعہ ہے جس میں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
    ‎دفاعی ماہرین کے مطابق اس واقعے سے خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں اور نیٹو ممالک اپنی فضائی نگرانی اور دفاعی اقدامات مزید مضبوط کر سکتے ہیں۔
    ‎دوسری جانب روس کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
    ‎سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات یوکرین جنگ کے اثرات کو سرحدوں سے باہر پھیلنے کے خطرات کی یاد دہانی کراتے ہیں اور یورپی سلامتی کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔

  • 
ایران امریکا معاہدے کی خبروں پر تیل سستا، عالمی مارکیٹس میں تیزی

    
ایران امریکا معاہدے کی خبروں پر تیل سستا، عالمی مارکیٹس میں تیزی

    ‎ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ ایشیائی اور پاکستانی اسٹاک مارکیٹوں میں مثبت رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    ‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت ایک فیصد سے زائد کم ہو گئی ہے، جس کے بعد برینٹ خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 87 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔
    ‎معاشی ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی پیش رفت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے، جس کے باعث توانائی کی منڈیوں میں دباؤ کم ہوا اور قیمتوں میں نرمی دیکھنے میں آئی۔
    ‎دوسری جانب ممکنہ معاہدے اور خطے میں کشیدگی میں کمی کی توقعات کے باعث ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی تیزی کا رجحان سامنے آیا ہے۔
    ‎جاپان کے اہم نکئی انڈیکس میں 2.67 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں ایک فیصد سے زائد بہتری دیکھی گئی۔
    ‎سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو مشرق وسطیٰ میں استحکام پیدا ہوگا، جس کے مثبت اثرات عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر مرتب ہوں گے۔
    ‎پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی کاروباری ہفتے کے پہلے سیشن کے دوران زبردست تیزی دیکھی گئی۔
    ‎کاروبار کے آغاز پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں 1400 پوائنٹس سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جسے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی پاکستان جیسے درآمدی ممالک کے لیے خوش آئند ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے درآمدی بل، مہنگائی اور توانائی کے اخراجات پر مثبت اثر پڑنے کا امکان ہے۔

  • 
لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدت، ایران کی شدید مذمت

    
لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدت، ایران کی شدید مذمت

    ‎ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لبنان کے مختلف علاقوں، بشمول دارالحکومت بیروت، پر اسرائیلی حملوں میں حالیہ شدت کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی اداروں کی خاموشی خطے میں مزید عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے۔
    ‎ایک بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ لبنان پر جاری حملے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں اور ان کے نتیجے میں شہری آبادی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں کی خاموشی اور بے حسی اسرائیل کو مزید جارحانہ اقدامات کرنے کا موقع فراہم کر رہی ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
    ‎ایرانی ترجمان کے مطابق لبنان، فلسطینی علاقوں اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حصوں میں جاری صورتحال پر عالمی برادری کو فوری توجہ دینی چاہیے تاکہ مزید جانی نقصان روکا جا سکے۔
    ‎اسماعیل بقائی نے امریکا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن خطے میں اسرائیل کی پالیسیوں اور اقدامات کی حمایت کے باعث ان واقعات سے الگ نہیں رہ سکتا۔
    ‎دوسری جانب حالیہ دنوں میں لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملوں میں درجنوں افراد کے جاں بحق اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
    ‎اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا ہدف حزب اللہ کے ٹھکانے اور عسکری تنصیبات ہیں، جبکہ لبنانی حکام اور مختلف تنظیمیں ان حملوں میں شہری نقصانات پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔
    ‎اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان اور بعض دیگر علاقوں کے رہائشیوں کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے اور نسبتاً محفوظ شمالی علاقوں کی طرف منتقل ہونے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں سفارتی کوششوں اور جنگ بندی کے اقدامات کو فروغ دینا خطے میں مزید تباہی روکنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔