امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور وہاں موجود جہازوں اور عملے کو معمول کی سرگرمیوں کی طرف لوٹنے کی تیاری کرنی چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم نکات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بعض معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ تہران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے عزم کا واضح اظہار کرے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز کو فوری طور پر مکمل طور پر کھولنا ضروری ہے تاکہ عالمی تجارتی اور توانائی سپلائی چین متاثر نہ ہو۔
انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی بحری ٹریفک بلا رکاوٹ جاری رہنی چاہیے اور کسی بھی جہاز سے کسی قسم کا ٹول یا اضافی فیس وصول نہیں کی جانی چاہیے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگوں کے مسئلے کو بھی فوری طور پر حل کیا جانا چاہیے تاکہ بحری جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور افزودہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق مستقبل کے اقدامات مذاکرات کا اہم حصہ ہیں۔
ٹرمپ کے بیان کے مطابق مختلف امور پر پیش رفت ہو چکی ہے جبکہ چند اہم معاملات پر مزید مشاورت اور حتمی منظوری درکار ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مفاہمت کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی تیل منڈیوں اور سمندری تجارت کو بھی استحکام مل سکتا ہے۔
Blog
-

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے اور ایران معاہدے پر اہم شرائط بیان کر دیں
-

نیتن یاہو نے غزہ کے 70 فیصد علاقے پر قبضے کا حکم دے دیا
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دیتے ہوئے اسرائیلی فوج کو علاقے کے 70 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم ایک اسرائیلی بستی میں نیوز کانفرنس کے دوران یہ اعلان کیا۔
اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج پہلے ہی غزہ کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر چکی ہے اور اب مزید علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فورسز نے پہلے غزہ کے تقریباً 50 فیصد اور بعد ازاں 60 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کیا، جبکہ اب فوج کو 70 فیصد علاقے تک پیش قدمی کا حکم دیا گیا ہے۔
اس اعلان کے بعد غزہ میں جاری انسانی بحران کے مزید سنگین ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
غزہ کی بڑی آبادی پہلے ہی مسلسل بمباری، فوجی کارروائیوں اور نقل مکانی کے باعث محدود علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ خوراک، پانی، ادویات اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت برقرار ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ کے مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی اسرائیلی حکمت عملی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مسلسل فوجی کارروائیوں اور آبادی کی نقل مکانی سے انسانی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب فلسطینی حلقوں نے اسرائیلی اقدامات کو بین الاقوامی قوانین اور فلسطینی عوام کے حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ -

قطری امیر اور ٹرمپ کا رابطہ، پاکستان کی سفارت کاری کو سراہا گیا
قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
امیرِ قطر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی کشیدگی، سفارتی کوششوں اور امن کے امکانات پر تفصیلی بات چیت کی۔
شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے اس موقع پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں مزید کشیدگی اور تصادم سے بچنے کے لیے تمام فریقین کو مکالمے، سفارت کاری اور سیاسی حل کو ترجیح دینی چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ قطری امیر نے خطے کے مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتی ذرائع کے استعمال کی اہمیت پر زور دیا اور امن کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت اجاگر کی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے قطر کے کردار کو سراہا اور اس کی سفارتی کاوشوں کی تعریف کی۔
بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے پاکستان کی ثالثی کوششوں میں قطر کے تعاون اور کردار کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان اور قطر کی جانب سے خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے کی جانے والی کوششیں مثبت نتائج کی جانب پیش رفت میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری تناؤ کے دوران قطر اور پاکستان دونوں ممالک سفارتی سطح پر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں علاقائی طاقتوں کی جانب سے مذاکرات اور ثالثی کی کوششیں مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑے تصادم کو روکنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ -

پیٹرول اور ڈیزل 22 روپے فی لیٹرسستا
وزیراعظم شہباز شریف نے عید الاضحیٰ کے تیسرے روز عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 22 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا، جس کے بعد ملک بھر میں صارفین کو ایندھن کی خریداری پر نمایاں ریلیف ملے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور قوم سے کیا گیا وعدہ پورا کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے ہی مالی گنجائش پیدا ہوئی، حکومت نے فوری طور پر عوام کو اس کا فائدہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
وزیراعظم کے مطابق گزشتہ ہفتے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی اور حکومت مشکل معاشی حالات کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوامی ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیوں، موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والے شہریوں کو بھی ایندھن کے شعبے میں ریلیف فراہم کیا ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا رجحان جاری ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں ممکنہ توسیع اور سفارتی پیش رفت کی خبروں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوا ہے۔
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 91.77 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 87.78 ڈالر فی بیرل تک آ گیا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی نے درآمدی ممالک کے لیے مثبت صورتحال پیدا کی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے ٹرانسپورٹ اخراجات، کاروباری لاگت اور مہنگائی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

ایران کا نیا فضائی دفاعی نظام متعارف کرانے کا دعویٰ
ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب فضائی نگرانی اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک نئے فضائی دفاعی نظام متعارف کرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ نیا دفاعی نظام "آرش کمان گیر” مستقبل میں آبنائے ہرمز اور حساس ساحلی علاقوں کے قریب دشمن ڈرونز اور فضائی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس نئے نظام کا نام فارسی داستانوں کے مشہور ہیرو "آرش” کے نام پر رکھا گیا ہے، جسے قومی دفاع اور مزاحمت کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس دفاعی نظام کے ذریعے جدید امریکی ایم کیو نائن ریپر ڈرون کو نشانہ بنانے کا کامیاب تجربہ بھی کیا گیا۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نظام روایتی ریڈار پر مکمل انحصار کے بجائے جدید اسٹیلتھ اور خفیہ ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جس سے اسے دشمن کی نظروں سے محفوظ رہتے ہوئے مؤثر کارروائی کی صلاحیت حاصل ہوتی ہے۔
حکام کے مطابق نئے دفاعی نظام کا مقصد سرحدی اور ساحلی علاقوں میں فضائی نگرانی کو بہتر بنانا اور ممکنہ خطرات کا بروقت جواب دینا ہے۔
دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران مسلسل پابندیوں اور دباؤ کے باوجود اپنے مقامی دفاعی نظام کو جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
مغربی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نظام کم لاگت، متحرک اور بغیر روایتی ریڈار کے کام کرنے والی دفاعی صلاحیتوں پر مبنی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایرانی دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نظام خطے میں فضائی آپریشنز کی حکمت عملی پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور مخالف قوتوں کو زیادہ فاصلے سے مہنگے ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو نمایاں کر کے خطے میں اپنی عسکری موجودگی اور دفاعی تیاری کا پیغام دینا چاہتا ہے۔ -

ٹرمپ کی تصویر والے 250 ڈالر نوٹ کی تیاریوں کا دعویٰ
امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر والے 250 ڈالر کے نئے کرنسی نوٹ کی تیاریوں سے متعلق رپورٹس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کے موقع پر خصوصی یادگاری کرنسی نوٹ جاری کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر شامل کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خزانہ نے بھی 250 ڈالر کے مجوزہ نوٹ پر ٹرمپ کی تصویر چھاپنے کی تیاریوں کی تصدیق کی ہے۔
اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو ایک صدی سے زائد عرصے بعد امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی زندہ شخصیت کی تصویر کرنسی نوٹ پر شائع ہوگی۔
اطلاعات کے مطابق امریکا کی بعض وفاقی عمارتوں پر بھی صدر ٹرمپ کی تصاویر پر مشتمل بینرز آویزاں کیے گئے ہیں جبکہ ان کی تصویر والے یادگاری سونے کے سکے اور خصوصی پاسپورٹ ڈیزائنز پر بھی کام جاری ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئے کرنسی نوٹ پر صدر ٹرمپ کے دستخط بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم امریکی قانون کے تحت کسی زندہ شخص کی تصویر سرکاری کرنسی نوٹ پر شائع کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
اسی وجہ سے اس قانونی پابندی کو ختم کرنے کے لیے امریکی کانگریس میں ایک بل بھی پیش کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں، ناقدین اور بعض سیاسی مبصرین نے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ سرکاری دستاویزات، کرنسی اور قومی علامات پر موجودہ صدر کی تصویر شامل کرنے کی کوشش سیاسی شخصیت پرستی کو فروغ دے سکتی ہے۔ -

عید کے تیسرے روز سونا مزید سستا ہوگیا
عید الاضحیٰ کے تیسرے روز ملک بھر میں سونے کی قیمت میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد خریداروں اور سرمایہ کاروں کیلئے قیمتی دھات نسبتاً سستی ہو گئی ہے۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 500 روپے کی کمی ہوئی ہے۔
کمی کے بعد ملک میں ایک تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 74 ہزار 862 روپے ہو گئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 429 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد 10 گرام سونا 4 لاکھ 7 ہزار 17 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔
عالمی بازار میں فی اونس سونے کی قیمت 5 ڈالر کم ہو کر 4525 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، ڈالر کی قدر، عالمی سیاسی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے رجحانات مقامی مارکیٹ پر بھی براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں بہتری کے باعث محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی طلب میں کچھ کمی دیکھی ۔
صرافہ بازار کے ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں مقامی سطح پر بھی سونا مزید سستا ہو سکتا ہے۔ -

کراچی کے کھلے سمندر میں دو جہاز ٹکرا گئے
کراچی بندرگاہ کے باہر کھلے سمندر میں دو بحری جہازوں کے درمیان تصادم کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں ایک جہاز سے متعدد کنٹینرز سمندر میں گر گئے۔
پورٹ حکام کے مطابق حادثہ ایم وی نیوا اور ایم وی پاپو نامی جہازوں کے درمیان پیش آیا۔ تصادم کے بعد ایم وی پاپو کو نقصان پہنچا جبکہ اس پر لدا کچھ سامان سمندر میں جا گرا۔
حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے فوراً بعد متعلقہ اداروں نے صورتحال کا جائزہ لیا اور حفاظتی اقدامات شروع کر دیے گئے۔
چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ شاہد احمد کے مطابق یہ حادثہ گزشتہ رات پیش آیا اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں جہاز حادثاتی طور پر ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔
انہوں نے بتایا کہ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور عملے کے تمام افراد محفوظ ہیں۔
حادثے کے بعد ایم وی نیوا کو برتھ نمبر 5 پر منتقل کر دیا گیا جبکہ متاثرہ جہاز اور سمندر میں گرنے والے کنٹینرز کے حوالے سے معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
پورٹ حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ تصادم کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندری راستوں پر بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کے باعث جہازوں کی نقل و حرکت میں احتیاط اور جدید نیویگیشن نظام کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
تحقیقات مکمل ہونے کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ حادثہ انسانی غلطی، تکنیکی خرابی یا موسمی عوامل کی وجہ سے پیش آیا۔
کراچی بندرگاہ پاکستان کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہ ہے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں ملکی اور بین الاقوامی بحری جہاز آمد و رفت کرتے ہیں۔ -

ٹرمپ کی ریڈ لائنز واضح، ایران کو یورینیم افزودگی روکنا ہوگی
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنی ریڈ لائنز واضح کر دی ہیں اور کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم سے دستبردار ہونا ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسکاٹ بیسینٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے معاملے پر کوئی کمزور یا ناقص معاہدہ قبول نہیں کریں گے اور امریکی مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی مؤقف واضح ہے اور تہران کو ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو خطے اور عالمی برادری کے تحفظات کو دور کر سکیں۔
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھلا رکھنا بھی کسی بھی ممکنہ مفاہمت کا اہم حصہ ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل میں آبنائے ہرمز کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے، اس لیے وہاں کسی قسم کی رکاوٹ قابل قبول نہیں ہو سکتی۔
ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ 60 روزہ جنگ بندی اور مفاہمتی یادداشت سے متعلق سوال پر اسکاٹ بیسینٹ نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم حتمی فیصلے صدر ٹرمپ کی منظوری کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عمانی حکام نے امریکا کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس عائد کرنے یا نیا مالیاتی نظام نافذ کرنے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں مثبت اثرات مرتب کیے ہیں جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور علاقائی سلامتی آئندہ مذاکرات کے اہم ترین نکات ہوں گے۔ -

راحت فتح علی خان کو ہائیکورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا
عالمی شہرت یافتہ گلوکار راحت فتح علی خان کو وراثتی جائیداد کے تنازع میں لاہور ہائیکورٹ سے اہم قانونی ریلیف مل گیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے سیشن عدالت کی جانب سے درخواست مسترد کیے جانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ عدالت کو ہدایت کی ہے کہ کیس کا فیصلہ دو ماہ کے اندر کیا جائے۔
رپورٹس کے مطابق راحت فتح علی خان نے وراثتی جائیداد سے متعلق اپنے کیس میں ایڈیشنل سیشن جج فیصل آباد کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی، جس پر سماعت ہوئی۔
جسٹس سجاد محمود سیٹھی نے کیس کی سماعت کے دوران قرار دیا کہ مقدمے کا فیصلہ اس کے میرٹ پر ہونا چاہیے، نہ کہ صرف تکنیکی بنیادوں پر۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کورٹ فیس جمع نہ ہونے کی بنیاد پر درخواست مسترد کرنا انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا اور فریقین کو مکمل سماعت کا حق حاصل ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس کو دوبارہ میرٹ پر سننے کا حکم دیا۔
عدالت نے تمام فریقین کو 2 جون کو متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت بھی جاری کی ہے تاکہ مقدمے کی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔
واضح رہے کہ قبل ازیں ایڈیشنل سیشن جج فیصل آباد نے کورٹ فیس کے معاملے پر راحت فتح علی خان کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد گلوکار نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ اس اصول کو تقویت دیتا ہے کہ مقدمات کا فیصلہ تکنیکی نکات کے بجائے حقائق اور قانونی میرٹ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔