وفاقی حکومت مالی سال 2026-27 کا بجٹ 5 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کرے گی، جس میں تنخواہ دار طبقے اور سرکاری ملازمین کیلئے اہم ریلیف اقدامات متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے بجٹ اجلاس کیلئے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ اقتصادی سروے 4 جون کو جاری کیا جائے گا۔
بجٹ پیش ہونے سے قبل وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس بھی 5 جون کو منعقد ہوگا جہاں بجٹ تجاویز کی حتمی منظوری دی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تقریباً 10 فیصد اضافے کی تجویز زیر غور ہے، جس سے لاکھوں ملازمین کو ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ حکومت چار ایڈہاک الاؤنسز میں سے ایک کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے، جس سے مستقبل میں پنشن اور دیگر مالی مراعات پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تنخواہ دار طبقے کیلئے دوسری بڑی خوشخبری ممکنہ ٹیکس ریلیف کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق ماہانہ ایک لاکھ سے دو لاکھ روپے آمدن رکھنے والے افراد کو ٹیکس میں رعایت دینے کی تجویز زیر غور ہے۔
اسی طرح سالانہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے آمدن والے ملازمین کیلئے انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر تنخواہوں میں اضافہ اور ٹیکس ریلیف دونوں اقدامات شامل کیے گئے تو مہنگائی سے متاثر متوسط طبقے کو کچھ حد تک مالی سہارا مل سکتا ہے۔
دوسری جانب پنشنرز کیلئے بھی مختلف تجاویز زیر غور ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
Blog
-

بجٹ 2026-27 میں تنخواہ دار طبقے کیلئے ڈبل خوشخبری متوقع
-

ٹرمپ نے ایران معاہدے کا مسودہ اتحادی ممالک کو بھجوا دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کا مجوزہ مسودہ اسرائیل سمیت اپنے اہم اتحادی ممالک کو بھیج دیا ہے، جسے خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مکمل بحالی اور امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے متعلق اہم شقیں شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو 30 روز کے اندر جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل معمول پر آ سکے۔
مجوزہ دستاویز کے مطابق ایران کو اس کے تقریباً 12 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثوں تک مرحلہ وار رسائی دینے کی تجویز بھی شامل ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی ایک اہم کوشش سمجھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور مستقبل کے سفارتی مذاکرات کے لیے بھی فریم ورک وضع کرنے پر غور کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین اس معاہدے کی حتمی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کرانے کا خواہاں ہے تاکہ اسے بین الاقوامی قانونی حیثیت حاصل ہو سکے۔
ادھر امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی اور مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت جاری ہے اور دونوں فریق کسی ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ -

پنجاب بجٹ 2026-27 میں ترقیاتی منصوبوں پر بڑا فوکس
پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں ترقیاتی تجاویز کا دوسرا مسودہ مکمل کر لیا ہے، جس میں انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، مقامی حکومتوں اور عوامی سہولیات کے متعدد بڑے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی ترقیاتی بجٹ تقریباً 1452 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کا بڑا حصہ صوبے میں ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔
بجٹ تجاویز کے مطابق ٹرانسپورٹ کا شعبہ سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا شعبہ ہوگا، جس کے لیے 303 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس رقم سے مختلف بڑے ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کے مختلف شہروں میں جدید سہولیات سے آراستہ اسمارٹ پولیس اسٹیشنز قائم کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے، جس کا مقصد پولیسنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔
اس کے علاوہ صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں اور لاہور میں ماڈل دیہات کے قیام کو بھی اہم ترقیاتی منصوبوں میں شامل کیا گیا ہے۔
بجٹ مسودے کے مطابق لاہور میں ماڈل ویلیجز کے قیام کے لیے 30 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے منصوبوں کے لیے 42 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
مقامی حکومتوں کے شعبے کے لیے 250 ارب روپے کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے تاکہ شہری اور دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
مزید برآں، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے آئی ٹی پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم کے لیے 56 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبے منظور ہو جاتے ہیں تو صوبے میں انفراسٹرکچر، عوامی خدمات اور مقامی ترقی کے شعبوں میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ -

گلگت بلتستان میں الیکشن مہم کے دوران پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر گرفتار
تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں الیکشن مہم کے دوران جنید اکبر کو گرفتار کیا گیا۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جنید اکبر کی گرفتاری اور انہیں الیکشن مہم سے روکنا قابل مذمت ہے،بیرسٹر گوہر نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بھی سیاسی اسپیس نہ دینے سے جمہوریت کا نقصان ہوگا۔
دوسری جانب گرفتاری کے موقع پر جنید اکبر کا کہنا تھا کہ مجھے کہا گیا کہ آپ کی این او سی نہیں ہے اس لیے آپ گلگت سے نکل جائیں، اور اب پھر ہمیں چیک پوسٹ پر روکا گیا ہے۔ کیا گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے؟ بزدل نہ بنیں، ہمت کریں اور میدان مقابلہ کریں۔
پی ٹی آئی کے مطابق جنید اکبر، سلیم الرحمن، ڈاکٹر امجد، محبوب شاہ، نعیم اور چیف کوآرڈینیٹر گلگت بلتستان الیکشن نواز شانگلہ کو گرفتار کیا گیا ہے
گلگت بلتستان میں جنید اکبر کی گرفتاری،سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی ٹیم، جس کی قیادت جنید اکبر کر رہے تھے، کو کل ورکرز اور عوام نے شاندار استقبال کیا، جس سے پورے علاقے میں تحریک انصاف کا ایک نیا سیاسی مومنٹم پیدا ہوا۔افسوس کے ساتھ آج انہیں غذر میں داخلے سے روکا گیا اور بعد ازاں واپسی کے دوران مبینہ طور پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔یہ چیف الیکشن کمشنر کا انتظامیہ نام بتا رہی ہے اور ہمیں تو پتہ ہی ہے چیف الیکشن کمشنر نے ہمیشہ سے ہی بتایا کہ پچھلے جتنے بھی واقعات ہیں فیصلے وقت بند کمرے میں ہوتے ہیں، خالد خورشید کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف، عمران خان کی قیادت میں، ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام ہر صورت میں یقینی بنایا جائے۔ ہم نہ کسی ادارے کے خلاف ہیں اور نہ ہی تصادم چاہتے ہیں، بلکہ صرف شفافیت، انصاف اور جمہوری اصولوں کی بالادستی کے حامی ہیں۔تمام ورکرز سے گزارش ہے کہ وہ پُرامن رہیں، نظم و ضبط قائم رکھیں اور اپنے سیاسی و جمہوری حقوق کے لیے آئینی و قانونی راستہ اختیار کریں۔
علاوہ ازیں پی ٹی آئی رہنما بابر سلیم سواتی کا کہنا تھا کہ صوبائی صدر پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا جنید اکبر خان کی گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ میں گرفتاری انتہائی قابلِ مذمت، غیر جمہوری اور سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ ایک عوامی مینڈیٹ رکھنے والے رہنما کو اس انداز میں گرفتار کرنا نہ صرف سیاسی کارکنوں کی توہین ہے بلکہ عوام کے حقِ نمائندگی پر بھی حملہ ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور قیادت ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے والے نہیں۔ جنید اکبر خان پارٹی کا ایک بہادر، نظریاتی اور عوامی رہنما ہیں جنہوں نے ہمیشہ عوام کے حقوق کی آواز بلند کی۔ سیاسی انتقام اور گرفتاریاں حق و سچ کی جدوجہد کو نہیں روک سکتیں۔ہم وفاقی و گلگت بلتستان حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر جنید اکبر خان کو رہا کیا جائے اور سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بند کیا جائے
-

عمان کے خلاف امریکی دھمکیوں پر ایران کا سخت ردعمل
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے عمان کے خلاف امریکی حکام کے مبینہ دھمکی آمیز بیانات کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں ایک خودمختار ریاست پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق اسماعیل بقائی نے امریکی وزیرِ خزانہ کی جانب سے عمان پر ممکنہ پابندیوں کی دھمکی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کے منافی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی خودمختار ملک کو سیاسی اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرنا قابل قبول نہیں اور یہ اقوام متحدہ کے منشور کی روح کے خلاف ہے۔
ایرانی ترجمان کے مطابق عمان خطے میں امن، مذاکرات اور سفارتی رابطوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس کے خلاف دھمکی آمیز زبان کا استعمال خطے میں استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر پابندیوں کی دھمکی دینا مکمل طور پر غیر قانونی اقدام ہے اور عالمی برادری کو ایسے رویوں کا نوٹس لینا چاہیے۔
انہوں نے بین الاقوامی اداروں اور عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور ریاستوں کی خودمختاری کے اصولوں کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیرِ خزانہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر عمان ایران کو آبنائے ہرمز میں کسی نئے ٹولنگ یا انتظامی نظام کے قیام میں مدد فراہم کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی سے متعلق مختلف تجاویز بھی زیر بحث رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمان خطے میں کئی اہم سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے، اس لیے اس کے حوالے سے سامنے آنے والے بیانات کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ -

وزیر اعلیٰ بلوچستان کاشہداء کے بھائیوں کے لیے سرکاری ملازمت کا اعلان
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ایک روزہ دورے پر پیرکوہ پہنچ گئے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایف سی کے شہداء اختر علی اور عیدو خان کے اہلخانہ سے ملاقات اور فاتحہ خوانی کی۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نےشہداء کے بھائیوں کے لیے ایک ایک سرکاری ملازمت دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ شہداء کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی خدمات قابل فخر ہیں، حکومت متاثرہ خاندانوں کی مکمل سرپرستی کرے گی، امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جائیں گی۔ حکومت شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، شہداء کی قربانیاں تا قیامت یاد رکھی جائیں گی،
-

دھریندر‘‘ کاپروڈکشن ڈیزائنر جنسی ہراسانی کا مجرم قرار
بالی ووڈ فلم ’’دھریندر‘‘ کے پروڈکشن ڈیزائنر سینی ایس جوہرے کے خلاف جنسی ہراسانی کیس میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں داخلی تحقیقاتی کمیٹی نے انہیں الزامات میں قصوروار قرار دے دیا، جس کے بعد مختلف فلمی اور ویب پروجیکٹس سے ان کا نام ہٹایا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی دہلی سے تعلق رکھنے والی متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا کہ سینی ایس جوہرے نے انہیں چندی گڑھ کے ایک ہوٹل میں ملاقات کے لیے بلایا، جہاں مبینہ طور پر انہیں جنسی ہراسانی، جسمانی تشدد اور زبردستی روک کر رکھنے کا سامنا کرنا پڑا۔خاتون نے اپنی شکایت میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے مشروب میں نشہ آور شے ملائی گئی تھی، جس کے باعث ان کی طبیعت غیر ہوگئی۔متاثرہ خاتون نے 20 اپریل کو سیکٹر 17 پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کروایا، جس کے بعد پولیس نے ابتدائی تحقیقات مکمل کرکے ایف آئی آر درج کی۔
رپورٹس کے مطابق خاتون نے پولیس کے ساتھ ساتھ فلم ساز ادیتیا دہر اور پروڈیوسر لوکیش دہر کی پروڈکشن کمپنی ’’بی 62 اسٹوڈیوز‘‘ میں بھی باضابطہ شکایت جمع کروائی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی کی انسدادِ جنسی ہراسانی کمیٹی نے اکتوبر 2025 میں شکایت موصول ہونے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا، جو تقریباً 6 ماہ تک جاری رہیں۔ تحقیقات مارچ کے آخر یا اپریل 2026 میں مکمل ہوئیں، جن میں سینی ایس جوہرے کو دو الزامات میں قصوروار قرار دیا گیا۔کمیٹی نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ شکایت کنندہ کو بھی فراہم کردی ہے۔
دوسری جانب چندی گڑھ پولیس نے ایف آئی آر درج ہونے کے بعد سینی ایس جوہرے کو گرفتار کیا تھا، تاہم بعد ازاں ضلعی عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کردیا۔معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد فلمی صنعت میں بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق فلم ’’دھریندر‘‘ کے او ٹی ٹی ورژن سے سینی ایس جوہرے کا کریڈٹ ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ یش راج فلمز نے بھی اپنی آنے والی ویب سیریز ’’اکا‘‘ سے ان کا نام نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
-

صدر مملکت نے قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس طلب کر لیا
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کی شام 5 بجے طلب کر لیا ہے، جبکہ سینیٹ کا اجلاس بھی اسی روز شام 6 بجے طلب کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق رواں سال 60 سے زائد اراکینِ پارلیمنٹ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب گئے ہوئے ہیں، جن کی جون کے پہلے ہفتے میں وطن واپسی متوقع ہے۔ اسی صورتحال کے پیشِ نظر حکومت کو بجٹ اجلاسوں کے شیڈول میں تبدیلی کرنا پڑی۔ذرائع کے مطابق حکومت نے ابتدائی طور پر یکم جون کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم ارکانِ پارلیمنٹ کی عدم دستیابی کے باعث اب دونوں اجلاس 5 جون کو طلب کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ نئے بجٹ میں عوام پر کم سے کم مالی بوجھ ڈالا جائے۔باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کو مدِنظر رکھتے ہوئے مختلف تجاویز پر غور جاری ہے، جبکہ حکومت پارلیمنٹ کے مکمل اور مؤثر اجلاس کو یقینی بنانے کے لیے تمام ارکان کی موجودگی چاہتی ہے۔
-

پنکی جیسے کام کیے جائیں گے تو رنگ بھی پنک ہی ہوں گے،خلیل الرحمان قمر
ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر نے حالیہ وائرل انمول عرف پنکی کیس پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے معاشرے میں موجود دہرے معیار، اشرافیہ کے کردار اور سماجی منافقت پر کھل کر تنقید کی ہے۔
ایک نجی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خلیل الرحمان قمر نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ “جب انمول پنکی جیسے کام کیے جائیں گے تو رنگ بھی پنک ہی ہوں گے، ابھی کئی لوگوں کے رنگ پنک ہونے والے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ اگر معاشرے کے طاقتور اور بااثر طبقات کی خفیہ سرگرمیوں اور برائیوں کو بے نقاب کر دیا جائے تو لوگ حیران رہ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ “اگر ہم ان بڑے لوگوں کی برائیوں کا چٹھہ کھول دیں تو خدا کی قسم ہمارے منہ سے چیخیں نکل جائیں گی۔” خلیل الرحمان قمر کے مطابق کئی معاملات ایسے ہوتے ہیں جو مکمل طور پر عوام کے سامنے نہیں آتے کیونکہ اکثر فیصلے بند کمروں میں ہی طے کر لیے جاتے ہیں۔
ڈرامہ نگار نے منشیات کے استعمال کے موضوع پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ یہ ایک نہایت مہنگا نشہ ہے جس تک عام آدمی کی رسائی ممکن نہیں، اسی لیے ایسے معاملات میں اکثر بااثر اور صاحبِ حیثیت افراد کے نام سامنے آتے ہیں۔گفتگو کے دوران انہوں نے ماڈل ایان علی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاشرہ طاقتور شخصیات کے معاملات پر مختلف ردِعمل دیتا ہے، جبکہ عام افراد کے لیے الگ پیمانے اختیار کیے جاتے ہیں۔خلیل الرحمان قمر نے معاشرتی رویوں اور معاشی مشکلات پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ “ہم دن بھر حب الوطنی کی باتیں کرتے ہیں اور رات کو دوست سے کہتے ہیں کہ پیٹرول بہت مہنگا ہو گیا ہے، ذرا ڈلوا دو۔”
-

شکارپور میں معروف گلوکارہ صنم سندھو اور اُن کی ٹیم پر مبینہ تشدد،معاوضہ بھی نہ ملا
سندھ کی معروف گلوکارہ صنم سندھو نے الزام عائد کیا ہے کہ شکارپور میں ایک شادی کی تقریب کے دوران اُن اور اُن کی ٹیم پر حملہ کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی رپورٹ درج کرتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
صنم سندھو کے مطابق انہیں لکھ برادری کی جانب سے نیو فوجداری تھانے کی حدود میں واقع میرانی علاقے میں ایک شادی کی تقریب میں پرفارم کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔گلوکارہ نے بتایا کہ تقریب کے دوران بعض افراد نشے کی حالت میں تھے اور انہوں نے بدتمیزی شروع کر دی۔ صنم سندھو کا کہنا تھا کہ میزبان بھی نشے میں غیر اخلاقی حرکات کرتا رہا۔انہوں نے الزام لگایا کہ تقریب کے دوران اُن پر حملہ کیا گیا جبکہ اُن کی پوری ٹیم، بشمول اُن کے چھوٹے بھائی، کو بھی شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔صنم سندھو کے مطابق اس واقعے کے باعث اُن کی ٹیم میں خوف و ہراس پھیل گیا اور تمام افراد شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے۔
گلوکارہ نے مزید دعویٰ کیا کہ انہیں اور اُن کی ٹیم کو کئی گھنٹوں تک یرغمال بنا کر رکھا گیا جبکہ اُن کا موسیقی کا سامان بھی چھین لیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پرفارمنس کے لیے طے شدہ معاوضہ بھی ادا نہیں کیا گیا۔صنم سندھو نے صوبائی وزیر ثقافت، آئی جی سندھ اور دیگر متعلقہ حکام سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی اور فنکاروں کو تقریبات میں تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔دوسری جانب ایس ایس پی کلیم ملک نے بتایا کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف رپورٹ درج کر لی گئی ہے اور شکایت میں نامزد افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس واقعے کے بعد سندھ میں نجی تقریبات میں پرفارم کرنے والے فنکاروں اور ثقافتی شخصیات کی سکیورٹی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔