فرانس میں 15 سے 17 جون تک ہونے والے جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم دوطرفہ ملاقات متوقع ہے، جس کے لیے سفارتی تیاریاں جاری ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کو جی 7 اجلاس میں خصوصی مہمان کے طور پر شرکت کی دعوت دی گئی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اجلاس میں اپنی شرکت کی تصدیق کر چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے حکام مجوزہ ملاقات کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔ اس ملاقات میں تجارت، ٹیرف، توانائی کے شعبے میں تعاون، دفاعی تعلقات، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور بحرالکاہل خطے کی صورتحال سمیت متعدد اہم امور زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بدلتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال کے تناظر میں واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
جی 7 اجلاس میں بھارت کے علاوہ برازیل، کینیا، جنوبی کوریا اور دیگر مہمان ممالک بھی شرکت کریں گے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے باضابطہ طور پر وزیراعظم مودی کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔
مبصرین کے مطابق جی 7 اجلاس دونوں رہنماؤں کے درمیان براہ راست ملاقات کے لیے ایک موزوں سفارتی پلیٹ فارم فراہم کرے گا، جبکہ یہ ملاقات مستقبل میں ممکنہ وائٹ ہاؤس دورے کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی وزیراعظم مودی کو صدر ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت پہنچا چکے ہیں، جسے دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ملاقات طے پاتی ہے تو اس کے نتیجے میں امریکا اور بھارت کے درمیان اقتصادی، دفاعی اور تزویراتی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
جی 7 سربراہی اجلاس میں مودی اور ٹرمپ ملاقات متوقع
