Baaghi TV

Blog

  • تعاقب کرتی سبز آنکھیں،تحریر: بینا علی

    تعاقب کرتی سبز آنکھیں،تحریر: بینا علی

    آج فیس بک اسکرول کرتے ہوئے ایک پوسٹ اچانک نگاہوں کے سامنے آ گئی۔ اُس بچے کی سبز آنکھوں کے سحر نے جیسے مجھے جکڑ لیا۔ ایک لمحے کو یوں لگا جیسے سامنے عمر راٹھور شہید کھڑا ہو۔ انگلیوں کی جنبش تھم گئی، سانس بوجھل ہو گئی اور سوچیں بہت دور تک پھیلتی چلی گئیں۔جب زینب قتل کیس رونما ہوا، اُس وقت میری بیٹی بھی تقریباً چار سال کی تھی۔ عجیب اتفاق یہ تھا کہ زینب نے جس رنگ کا کوٹ پہنا ہوا تھا، ویسا ہی کوٹ میری بیٹی کے پاس بھی تھا۔ اُس سانحے کے بعد نہ جانے کتنی راتیں عدمِ تحفظ، خوف اور بے خوابی میں گزریں۔ اکثر اپنی سوئی ہوئی بیٹی کو سینے سے لگا کر دیر تک روتی رہتی تھی۔ ہر ماں اُس وقت زینب میں اپنی بیٹی دیکھ رہی تھی۔

    زینب کی خاموش آواز آپ سب بنے… آپ کی چیخ، آپ کا احتجاج اور آپ کی بے چینی ہی تھی جس نے قاتل کو کیفرِ کردار تک پہنچایا۔ آج پھر ایک عمر ہم سے انصاف مانگ رہا ہے۔ خدارا! عمر کی مدفون سسکیوں کی آواز بن جائیں۔ وہ معصوم جنت کا شہزادہ بن کر اپنے رب کے پاس چلا گیا، مگر اب زمین پر انصاف مانگنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ظلم پر خاموشی درحقیقت ظالم کا ساتھ ہوتی ہے۔ عمر کی قبر میں دفن سسکیوں کو اپنے لفظوں سے زندہ کر دیجیے۔ یہ صرف ایک بچے کی جنگ نہیں یہ ہم سب کے بچوں کے محفوظ مستقبل کی جنگ ہے۔ اگر آج بھی ہم خاموش رہے تو قاتل دندناتے پھریں گے اور یہ قیامت کبھی نہیں رکے گی۔
    خدارا اپنی آواز بلند کیجیے۔ #JusticeForUmer لکھ کر یہ پیغام آگے پہنچائیے۔

  • نفرت اور انتقام کی سیاست کسی کے مفاد میں نہیں،چودھری پرویز الہیٰ

    نفرت اور انتقام کی سیاست کسی کے مفاد میں نہیں،چودھری پرویز الہیٰ

    تحریک انصاف کے رہنما چودھری پرویزالٰہی نے نماز عید الاضحیٰ کے بعد میڈیا سے گفتگوکی ہے

    چودھری پرویزالٰہی نے پوری قوم، پی ٹی آئی کارکنوں، اوورسیز پاکستانیوں اور حجاج کرام کو عید کی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ بقرعید قربانی، صبر، اتحاد، برداشت اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتی ہے،پاکستان اس وقت سیاسی استحکام، معاشی بحالی اور قومی یکجہتی کے نازک دور سے گزر رہا ہے،شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں قوم ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی،پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے برداشت، مکالمے اور آئین کی بالادستی ضروری ہے، نفرت اور انتقام کی سیاست کسی کے مفاد میں نہیں،قومی ہم آہنگی اور سیاسی استحکام ہی ترقی کی ضمانت ہیں، عمران خان کی صحت اور فیملی کے معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے،پی ٹی آئی عمران خان کے وژن کے مطابق سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی،حکومت کو چاہیے کہ ایسا ماحول بنائے جسے لوگ اچھے الفاظ میں یاد رکھیں، پاکستان کو ایسا نظام چاہیے جہاں نوجوانوں کو امید، سرمایہ کاروں کو اعتماد اور ہر شہری کو انصاف ملے

  • اسرائیل کے جنوبی لبنان میں فضائی حملے،31 افراد جاں بحق

    اسرائیل کے جنوبی لبنان میں فضائی حملے،31 افراد جاں بحق

    جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں کے نتیجے میں 31 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جن میں 4 بچے اور 3 خواتین شامل ہیں۔

    لبنانی وزارت صحت کے مطابق حالیہ حملوں میں کم از کم 31 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں جبکہ 40 افراد زخمی ہوئے ہیں،ہلاکتوں کی اطلاعات جنوبی شہر صور کے قریب برج الشمالی، کوتھریات الرز، حباش، معرکہ اور صلا سمیت مختلف علاقوں سے موصول ہوئی ہیں عینی شاہد ین اور مقامی صحافیوں کے مطابق شہر نبطیہ میں متعدد مقامات پر دھماکوں کے بعد دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے جبکہ فضائی حملوں کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک حملہ ایک عوامی اسپتال کے قریب بھی ہوا جس سے اسپتال کے بعض حصوں کو نقصان پہنچا ہے، اسرائیلی فوج کی جانب سے 50 سے زائد جنوبی اور مشرقی قصبوں اور دیہات کے لیے انخلا کے انتباہات جاری کیے گئے ہیں جن میں نبطیہ شہر بھی شامل ہے، اسرائیلی دستے اس نام نہاد یلو لائن سے آگے بھی کارروائیاں کر رہے ہیں جو تقریباً 10 کلومیٹر اندر لبنانی حدود میں واقع ہے۔

    دوسری جانب حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے جنوبی علاقے زوطر الشرقیہ میں اسرائیلی افواج کی پیش قدمی کو روکا اور متعدد حملوں کا جواب دیا تنظیم نے ڈرون اور راکٹ حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے مشرق لبنان میں وادی بیکا کے علاقے میں بھی حملوں کی اطلا عات ہیں جہاں وزارت صحت کے مطابق مشغارہ کے مقام پر حملے میں کم از کم 11 افراد جاں بحق ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ متعدد زخمی ہیں۔

  • غزہ میں عیدالاضحیٰ کی رونقیں ماند، جنگ نے خوشیاں چھین لیں

    غزہ میں عیدالاضحیٰ کی رونقیں ماند، جنگ نے خوشیاں چھین لیں

    غزہ میں اس سال عیدالاضحیٰ ایسے ماحول میں منائی جا رہی ہے جہاں خوشیوں، رونقوں اور تہوار کی روایتی چہل پہل کی جگہ تباہی، بے گھری اور معاشی بدحالی نے لے لی ہے۔ اسرائیلی حملوں، مسلسل بمباری اور شدید مہنگائی کے باعث ہزاروں خاندان اپنے بچوں کی معمولی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہیں۔

    ماضی میں غزہ کی گلیاں عید کے موقع پر نئے کپڑوں، مٹھائیوں اور قربانی کی تیاریوں سے سج جایا کرتی تھیں۔ بچے خوشی خوشی بازاروں کا رخ کرتے، گھروں میں مامول اور کاک جیسی روایتی مٹھائیاں تیار ہوتیں اور ہر طرف عید کا سماں ہوتا تھا، لیکن اب حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ بازاروں میں موجود اشیاء عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔غزہ کے شمالی علاقے سے بے گھر ہو کر دیرالباح میں مقیم فلسطینی خاتون نادیہ ابو شمالہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف بازار دیکھنے جاتی ہیں کیونکہ خریداری کی استطاعت نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر چیز کی قیمت سن کر دل ٹوٹ جاتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بار عید میں وہ خوشی باقی نہیں رہی جو کبھی غزہ کی پہچان ہوا کرتی تھی۔

    اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی تقریباً 80 فیصد عمارتیں جنگ میں تباہ ہو چکی ہیں جبکہ بیشتر آبادی بنیادی ضروریات کے لیے امدادی سامان پر انحصار کر رہی ہے۔ امدادی اداروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے سرحدی راستوں پر سخت کنٹرول کے باعث امدادی سامان اور ضروری اشیاء کی ترسیل محدود ہے، جس سے غذائی بحران اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

    غزہ کے رہائشی ابو عبداللہ الموسادر نے کہا کہ جنگ بندی کے دعوؤں کے باوجود حملے جاری ہیں، تاہم والدین پھر بھی اپنے بچوں کے چہروں پر خوشی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر تقریباً 13 ہزار شیکل جمع کیے تاکہ قربانی کے لیے ایک بھیڑ خرید سکیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں اتنی مہنگی قربانی کرنا عام شہری کے لیے تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارے کے مطابق جنگ سے پہلے غزہ میں موجود بھیڑوں کی تعداد اب ایک چوتھائی رہ گئی ہے۔ 21 لاکھ آبادی والے غزہ میں صرف تقریباً 15 ہزار بھیڑیں باقی بچی ہیں، جس کے باعث قربانی کے جانوروں کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں۔غزہ کی وزارت زراعت کے ترجمان رفعت اسالیا کے مطابق جنگ سے قبل ایک بھیڑ تقریباً ایک ہزار شیکل میں دستیاب تھی، لیکن اب اس کی قیمت 11 ہزار سے 15 ہزار شیکل تک جا پہنچی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چارے کی قلت، ٹرانسپورٹ اخراجات، فارموں کی تباہی اور سپلائی میں کمی نے مویشی پالنا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔

    دوسری جانب غزہ میں گیس کی شدید قلت کے باعث گھروں میں کھانا پکانا اور روایتی عید کی مٹھائیاں تیار کرنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ جنوبی غزہ میں پناہ گزین ابو احمد وافی کا کہنا تھا کہ بازاروں میں مٹھائیاں تو موجود ہیں لیکن لوگ انہیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، جبکہ گھروں میں انہیں تیار کرنے کے لیے گیس بھی دستیاب نہیں۔

  • احمد آباد طیارہ حادثے کے مقام پر نئے ہاسٹل کی تعمیر کا فیصلہ ،لواحقین کا احتجاج

    احمد آباد طیارہ حادثے کے مقام پر نئے ہاسٹل کی تعمیر کا فیصلہ ،لواحقین کا احتجاج

    بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں گزشتہ برس 12 جون 2025 کو پیش آنے والے ایئر انڈیا طیارہ حادثہ کے مقام پر میڈیکل طلبا کے لیے نئے ہاسٹل کی تعمیر کی منظوری دے دی گئی ہے، تاہم متاثرہ خاندانوں نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس مقام کو یادگار قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ریاستی حکومت کے مطابق میگھانی نگر کے علاقے میں واقع سابق ’اتولیہ ہاسٹل‘ کی جگہ جدید 8+8 منزلہ عمارت تعمیر کی جائے گی، جہاں 236 ڈاکٹروں اور پوسٹ گریجویٹ طلبا کی رہائش کا انتظام ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے لیے ایئر انڈیا کی مالک کمپنی ٹاٹا گروپ کی ایئرلائن شاخ ’ٹاٹا ایئرلائنس‘ محکمہ صحت کو 53 کروڑ روپے سے زائد کا معاوضہ ادا کرے گی۔

    حادثہ 12 جون 2025 کو دوپہر 1 بج کر 38 منٹ پر پیش آیا تھا، جب ایئر انڈیا کا طیارہ میگھانی نگر میں واقع ہاسٹل اور میس کی عمارت پر گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ حادثے کے وقت ہاسٹل میں 92 طلبا موجود تھے۔ بعد ازاں ڈھانچہ جاتی آڈٹ کے بعد عمارت کو غیر محفوظ قرار دے کر منہدم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔گجرات کے وزیر صحت پرفل پانسیریا کے مطابق اساروا کے سول اسپتال کے قریب نئے کیمپس میں 105 کروڑ روپے کی لاگت سے سپر اسپیشلٹی ہاسٹل اور کینٹین بلاک تعمیر کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت ’اتولیہ 1 سے 7‘ کے نام سے جدید طرز کا پی جی ہاسٹل بنایا جائے گا، جس میں اسٹوڈیو اپارٹمنٹ طرز کے فلیٹس، جدید میس، جم، انٹرٹینمنٹ روم، بیسمنٹ پارکنگ، فائر سیفٹی سسٹم، آر او پلانٹ اور نکاسی آب کی جدید سہولیات شامل ہوں گی۔ریاستی حکومت نے بتایا کہ میڈیکل شعبے میں آئندہ برسوں میں اضافی 48 سپر اسپیشلٹی نشستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے رہائش کی گنجائش بڑھائی جا رہی ہے، جبکہ منصوبے کے لیے زمین بھی مختص کر دی گئی ہے۔

    دوسری جانب حادثے میں متاثرہ خاندانوں نے حکومت کو ای میل کے ذریعے اپیل کی ہے کہ اس مقام کو نئی تعمیرات کے بجائے یادگاری مقام کے طور پر محفوظ رکھا جائے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ جگہ ایک عمارت نہیں بلکہ انسانی جانوں، غم اور ناقابلِ تلافی نقصان کی علامت ہے، اس لیے اسے عوامی یادگار کے طور پر برقرار رکھا جانا چاہیے۔متاثرین نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے مقامات تاریخ اور اجتماعی یادداشت کا حصہ ہوتے ہیں اور انہیں جلد ختم کر دینا انسانی المیے کی حقیقت کو پس منظر میں دھکیل سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل متاثرہ خاندانوں سے مشاورت کی جائے۔

  • اسرائیلی فوج کا حماس کے فوجی سربراہ محمد عودہ کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا حماس کے فوجی سربراہ محمد عودہ کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے حماس کے فوجی سربراہ محمد عودہ کو شمالی غزہ میں حالیہ حملے کے دوران شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی ملٹری نے اپنے ایک بیان میں محمد عودہ کی شہادت کا دعویٰ کیا ہے،دوسری جانب، حماس کی جانب سے تاحال سربراہ کی شہادت کے حوالے سے تصدیق نہیں کی گئی جبکہ اسرائیلی میڈیا مسلسل دعویٰ کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ محمد عودہ کو مئی میں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا، انہوں نے عزالدین الحداد کی جگہ سنبھالی تھی جو ایک اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے تھے۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ژوب کا دورہ،عید اگلے مورچوں پر جوانوں کے ساتھ

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ژوب کا دورہ،عید اگلے مورچوں پر جوانوں کے ساتھ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے عید الاضحیٰ کے موقع پر بلوچستان کے ضلع ژوب کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مغربی سرحدوں پر تعینات اگلے مورچوں کے جوانوں کے ساتھ عید منائی۔

    پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق دورے کا آغاز نمازِ عید کی ادائیگی سے ہوا، جس میں پاکستان کے پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں جبکہ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے لیے بھی دعائے مغفرت کی گئی۔اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے افسران اور جوانوں کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے ان کی غیر معمولی جرات، غیر متزلزل عزم، اعلیٰ عملی تیاری اور غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف مستقل چوکسی کو سراہا۔ انہوں نے ملکی دفاع میں جوانوں کی بے مثال قربانیوں اور بہادری کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

    انہوں نے کوئٹہ میں حالیہ دہشت گرد حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے سرپرست فتنہ الہندوستان اور اس کے سہولت کار عناصر کی ایسی بزدلانہ کارروائیاں پاکستان کی مسلح افواج اور قوم کے حوصلے کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بلوچستان کے عوام دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے متحد اور پرعزم ہیں۔فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے تمام سہولت کاروں، معاونین اور عناصر کا پوری قوت سے تعاقب جاری رکھا جائے گا تاکہ ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

    دورے کے دوران فیلڈ مارشل کا استقبال کمانڈر کوئٹہ کور نے کیا۔ انہوں نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی اور وطنِ عزیز کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کرنے والے بہادر سپوتوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

  • نیویارک،نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی سرگرمیاں،ملاقاتیں

    نیویارک،نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی سرگرمیاں،ملاقاتیں

    نیویارک میں نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں جہاں انہوں نے مختلف عالمی رہنماؤں اور وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔

    ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے برونو روڈریگیز پاریلا سے ملاقات کے دوران علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور کیوبا کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور باہمی مفاد کے نئے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم نے 2005 کے تباہ کن زلزلے کے دوران کیوبا کی جانب سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی امداد اور طبی معاونت کو سراہا، جبکہ کیوبا کے وزیرِ خارجہ نے قدرتی آفات کے دوران پاکستان کی جانب سے اظہارِ یکجہتی اور تعاون کو قابلِ قدر قرار دیا۔

    دریں اثنا، اسحاق ڈار کی انتونیو گوتریس سے بھی ملاقات ہوئی جس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کے فروغ پر گفتگو کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات، جموں و کشمیر تنازع، افغانستان اور فلسطین سمیت متعدد اہم علاقائی و عالمی امور زیرِ بحث آئے۔ اس موقع پر انتونیو گوتریس نے عالمی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے فعال کردار اور اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے میں اس کی خدمات کو سراہا۔

    علاوہ ازیں، نیویارک میں اسحاق ڈار نے عبداللطیف بن راشد الزیانی سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بحرین کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کی توثیق کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا۔ملاقات میں علاقائی صورتحال اور اقوامِ متحدہ سمیت مختلف کثیرالجہتی فورمز پر تعاون کو مزید فروغ دینے پر بھی گفتگو ہوئی، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

  • ایران  امریکہ جنگ اور موسمیاتی تبدیلی،پاکستان کے لیے بڑھتا ہوا ماحولیاتی خطرہ، تحریر: سعدیہ مقصود

    ایران امریکہ جنگ اور موسمیاتی تبدیلی،پاکستان کے لیے بڑھتا ہوا ماحولیاتی خطرہ، تحریر: سعدیہ مقصود

    دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں جنگیں صرف سرحدی تنازعات نہیں رہیں بلکہ ان کے اثرات ماحول، موسم اور انسانی زندگی کے ہر پہلو تک پہنچ چکے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام پیدا کیا ہے بلکہ اس کے اثرات اب موسمیاتی تبدیلی کی صورت میں بھی واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ تیل کی تنصیبات پر حملے، آئل ریفائنریوں کی تباہی، اور بڑے پیمانے پر ایندھن کے جلنے سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، زہریلی گیسیں اور دھواں شامل ہو رہا ہے جو عالمی درجہ حرارت اور فضائی معیار دونوں کو متاثر کر رہا ہے۔ماہرین کے مطابق جب جنگی صورتحال میں صنعتی تنصیبات، تیل کے ذخائر اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے تو اس سے نہ صرف فوری آلودگی بڑھتی ہے بلکہ اس کے اثرات طویل مدت تک بارشوں کے نظام، درجہ حرارت اور موسمی توازن کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے متاثر ہونے سے عالمی توانائی سپلائی میں خلل پڑا ہے جس کے باعث کئی ممالک مہنگے اور زیادہ آلودہ ایندھن کی طرف جا رہے ہیں، جو مزید کاربن اخراج کا سبب بن رہا ہے۔اس صورتحال کا براہِ راست اثر پاکستان پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کمزور ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

    اگر خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور جنگی حالات اسی طرح برقرار رہتے ہیں تو پاکستان میں شدید گرمی کی لہریں، غیر متوازن مون سون بارشیں، سیلاب اور خشک سالی کے واقعات میں اضافہ، اور فضائی آلودگی کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خطرہ موجود ہے۔اسی لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف حالات کا تماشائی نہ رہے بلکہ ایک مضبوط موسمیاتی تیاری اختیار کرے۔ سب سے پہلے پانی کے نظام کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ بڑے ڈیمز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام اور جدید آبپاشی کے طریقوں کو اپنانا ہوگا تاکہ پانی کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ آنے والے سالوں میں پانی پاکستان کی معیشت اور بقا دونوں کے لیے سب سے اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔دوسرا اہم قدم شجرکاری اور جنگلات میں اضافہ ہے۔ پاکستان کے شہروں میں درختوں کی کمی گرمی اور آلودگی کو بڑھا رہی ہے۔ اگر بڑے پیمانے پر درخت لگائے جائیں، شہری علاقوں میں سبز کوریڈورز بنائے جائیں اور شہری منصوبہ بندی میں ماحول کو مرکزی حیثیت دی جائے تو درجہ حرارت میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔اگر پاکستان میں شہروں، سڑکوں اور خالی جگہوں پر نیم، پیپل، برگد، شیشم اور جامن جیسے مقامی درخت زیادہ لگائے جائیں تو یہ نہ صرف درجہ حرارت کم کرتے ہیں بلکہ فضائی آلودگی بھی کم کرتے ہیں اور شہری ماحول کو زیادہ قابلِ رہائش بناتے ہیں۔تیسرا اہم شعبہ توانائی کا ہے۔ ایران اور امریکہ کی جنگ جیسے حالات عالمی تیل کی قیمتوں کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان کو فوری طور پر قابلِ تجدید توانائی یعنی شمسی توانائی، ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی اور آبی توانائی کی طرف منتقل ہونا ہوگا تاکہ مہنگے تیل پر انحصار کم ہو سکے۔چوتھا پہلو شہری منصوبہ بندی ہے۔ پاکستان کے بڑے شہر تیزی سے کنکریٹ کے جنگل بنتے جا رہے ہیں جہاں گرمی جذب ہو کر حرارتی جزیرے کا اثر پیدا کرتی ہے۔ اس کے لیے سبز عمارتیں، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ اور ماحول دوست بنیادی ڈھانچے کی ترقی ضروری ہے۔پانچواں قدم زراعت میں مزید بہتری اور اس کی مکمل جدید کاری ہے۔

    اگرچہ پنجاب میں پہلے ہی سپر سیڈر اور جدید مشینری کے ذریعے فصلوں کی باقیات جلانے کے مسئلے کو کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نظام کو مزید وسیع اور مؤثر بنایا جائے۔ کسانوں کو ایسے بیج فراہم کیے جائیں جو کم پانی اور زیادہ گرمی برداشت کر سکیں، اور جدید زرعی تحقیق کو عام کاشتکار تک پہنچایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمی پیشگوئی کے نظام کو مزید مضبوط کرنا ہوگا تاکہ کسان بروقت فیصلے کر سکیں اور فصلوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔آخر میں سب سے اہم چیز آفات سے نمٹنے کی تیاری ہے۔ پاکستان کو ایسا مضبوط نظام قائم کرنا ہوگا جو سیلاب، شدید گرمی کی لہروں اور فضائی آلودگی جیسے خطرات کے لیے بروقت وارننگ دے سکے اور فوری ردعمل ممکن بنا سکے۔نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران اور امریکہ کی جنگ صرف ایک سیاسی یا عسکری تنازع نہیں بلکہ ایک وسیع تر ماحولیاتی خطرہ بن چکی ہے۔ اگر پاکستان نے آج سے سنجیدہ منصوبہ بندی نہ کی تو 2030 تک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید شدید اور خطرناک ہو سکتے ہیں، لیکن بروقت اقدامات کے ذریعے پاکستان نہ صرف ان خطرات سے بچ سکتا ہے بلکہ ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل بھی تشکیل دے سکتا ہے۔

  • عیدالاضحیٰ ،صدر زرداری سے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی،صوبائی وزرا کی ملاقات

    عیدالاضحیٰ ،صدر زرداری سے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی،صوبائی وزرا کی ملاقات

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے عیدالاضحیٰ کی نماز زرداری ہاؤس نواب شاہ میں ادا کی۔

    صدر آصف علی زرداری نے ملکی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعا کی۔صدرِ مملکت نے نمازِ عید کے بعد شہریوں اور عمائدین سے عید ملی۔عیدالاضحیٰ کے موقع پر زرداری ہاؤس نواب شاہ میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ، صوبائی وزیر علی حسن زرداری، ضیاء الحسن لنجار اور عاشق حسین زرداری نے بھی زرداری ہاؤس میں نمازِ عید ادا کی۔میئر نواب شاہ رشید بھٹی، ڈپٹی میئر مبشر آرائیں، منتخب نمائندوں اور اعلیٰ افسران نے بھی عیدالاضحیٰ کی نماز میں شرکت کی۔

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے زرداری ہاؤس نواب شاہ میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ، صوبائی وزراء اور دیگر معززین کی ملاقات ہوئی ہے،معززین نےصدرِ مملکت کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر مبارکباد پیش کی،ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور دیگر امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ منتخب نمائندے اپنے حلقوں کے عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور عوام کے درمیان رہیں،