Baaghi TV

Blog

  • ڈرون حملوں کا بدلہ ، پاک افواج نےافغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    ڈرون حملوں کا بدلہ ، پاک افواج نےافغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    افغانستان کے شہر قندھار کے فضائی حدود میں پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں کی نچلی پروازوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف مقامات پر حملے بھی کیے گئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے قندھار کے اوپر نچلی پروازیں کیں، جس کے دوران علاقے میں فائرنگ کی تیز آوازیں بھی سنی گئیں عینی شاہدین کے مطابق گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے فضا گونج اٹھی جس کے باعث مقامی آبادی میں تشویش کی فضا پیدا ہوگئی پاک فضائیہ کی جانب سے قندھار میں مختلف مقامات پر کارروائی کرتے ہوئے طالبان اور دہشتگردوں کے متعدد اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق فضائی حملوں میں طالبان کی خفیہ ایجنسی جی ڈی آئی کے علاقائی ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جسے دہشتگردوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کا ایک اہم مرکز قرار دیا جاتا ہے،علاوہ ازیں قندھار میں افواج پاکستان نے کل ہونے والے ڈرون حملوں کا بدلہ لے لیا، افغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    دوسری جانب افغانستان کے صوبہ تخار میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) کے جنگجوؤں نے ایک حملے میں بدخشاں کے پولیس چیف خارجی معراج الدین کو جہنم واصل کر دیا اطلاعات کے مطابق خارجی معراج الدین بدخشاں سے تخار جا رہا تھا کہ راستے میں نیشنل ریزسٹنس کے جنگجوؤں نے اس کی گاڑی کو گھات لگا کر مار ڈالا-

  • افغانستان: تخار میں حملہ، بدخشاں کے پولیس چیف معراج الدین ہلاک

    افغانستان: تخار میں حملہ، بدخشاں کے پولیس چیف معراج الدین ہلاک

    افغانستان کے صوبہ تخار میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے جنگجوؤں نے ایک حملے میں بدخشاں کے پولیس چیف خارجی معراج الدین کو جہنم واصل کر دیا۔

    اطلاعات کے مطابق خارجی معراج الدین بدخشاں سے تخار جا رہا تھا کہ راستے میں نیشنل ریزسٹنس کے جنگجوؤں نے اس کی گاڑی کو گھات لگا کر مار ڈالا، جنگجوؤں نے اچانک فائرنگ کر کے گاڑی کو نشانہ بنایا اور بعد ازاں موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔حملہ انتہائی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا،حملے میں گاڑی کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ان کے ساتھ موجود دیگر افراد کے بارے میں فوری طور پر واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

  • ایران میں امریکی و اسرائیلی جاسوسی کے الزام میں 33 افراد گرفتار

    ایران میں امریکی و اسرائیلی جاسوسی کے الزام میں 33 افراد گرفتار

    ایرانی حکام نے امریکا اور اسرائیل کے لیے مبینہ طور پر حساس معلومات جمع کرنے کے الزام میں 33 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان افراد کو انٹیلیجنس ونگ نے کارروائی کرتے ہوئے حراست میں لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد پر الزام ہے کہ وہ ایران کے فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مراکز سے متعلق معلومات اور تصاویر اکٹھی کر رہے تھے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر ایران میں ممکنہ فوجی اہداف اور حملوں سے متعلق معلومات بھی جمع کر رہے تھے، جنہیں امریکا اور اسرائیل تک پہنچانے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے اور ان کے نیٹ ورک کے ممکنہ دیگر ارکان کی تلاش بھی کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • ترکیہ کا ایران کے میزائل حملوں کی تردید پر اعتراض، تکنیکی شواہد پیش کرنے کا دعویٰ

    ترکیہ کا ایران کے میزائل حملوں کی تردید پر اعتراض، تکنیکی شواہد پیش کرنے کا دعویٰ

    ترک وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ترکیہ نے ایران کی جانب سے ترک سرزمین کی طرف میزائل فائر کرنے کی تردید کو چیلنج کر دیا ہے اور اس حوالے سے انقرہ کے پاس تکنیکی شواہد موجود ہیں جو ایرانی مؤقف سے متصادم ہیں۔

    دارالحکومت انقرہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ نے بتایا کہ ترک حکام نے میزائل لانچنگ سے متعلق مفصل تکنیکی ڈیٹا اور شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ڈیٹا کی روشنی میں ایران کی جانب سے میزائل فائر نہ کرنے کا دعویٰ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ترکیہ اس معاملے پر ایران کے حکام کے ساتھ باضابطہ رابطے میں ہے اور ان سے ان تضادات کی وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انقرہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے کیونکہ یہ علاقائی سلامتی اور خودمختاری سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔

    ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیہ کی سیکیورٹی اور دفاعی اداروں نے میزائلوں کی پرواز، سمت اور ممکنہ لانچ پوائنٹس سے متعلق معلومات حاصل کی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ میزائل ترک حدود کی جانب فائر کیے گئے تھے۔ تاہم انہوں نے میزائلوں کی تعداد یا ان کے درست مقام کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    دوسری جانب ایران کی جانب سے اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس نے ترکیہ کی سرزمین کی طرف کوئی میزائل فائر نہیں کیا اور ایسے الزامات بے بنیاد ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس کے فوجی اقدامات مخصوص اہداف تک محدود ہوتے ہیں اور وہ ہمسایہ ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے۔

  • خلیجی پانیوں میں دو ہفتوں کے دوران 17 جہازوں پر حملے، ایک شخص ہلاک

    خلیجی پانیوں میں دو ہفتوں کے دوران 17 جہازوں پر حملے، ایک شخص ہلاک

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے آغاز کے بعد گزشتہ دو ہفتوں کے دوران خلیجی سمندری راستوں میں کم از کم 17 جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ یہ معلومات برطانیہ کی سمندری سکیورٹی تنظیم نے جاری کی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق حملوں کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا ہے، جو بھارتی شہری تھا۔ اس ہلاکت کی تصدیق عمان میں موجود عمان میں بھارتی سفارتخانے نے بھی کی ہے۔حملے زیادہ تر اہم سمندری راستوں کے اطراف میں رپورٹ ہوئے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

    یکم مارچ:
    UKMTO کے مطابق آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکروں کو میزائل نما گولوں سے نشانہ بنایا گیا جبکہ ایک اور ٹینکر بحرین میں لنگر انداز ہونے کے دوران حملے کی زد میں آیا۔ اسی روز خلیج عمان میں MKD VYOM نامی ٹینکر پر حملہ ہوا جس میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ مزید ایک جہاز کے قریب بھی گولہ پھٹنے کی اطلاع دی گئی۔

    3 مارچ:
    خلیج عمان میں لنگر انداز دو جہازوں پر حملہ کیا گیا جبکہ ایک کارگو جہاز کے قریب ڈرون بھی دیکھا گیا جس نے پانی میں گر کر دھماکہ کیا۔

    4 مارچ:
    آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں دو جہازوں کے اندر دھماکے رپورٹ ہوئے جبکہ ایک اور جہاز سے تقریباً ایک ناٹیکل میل کے فاصلے پر گولہ پھٹنے کی اطلاع ملی۔

    6 مارچ:
    آبنائے ہرمز میں ایک ٹگ بوٹ کو گولوں سے نشانہ بنایا گیا۔

    7 مارچ:
    خلیج فارس میں سمندر میں قائم ایک آئل ڈرلنگ رگ کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں عملے کے کچھ افراد زخمی ہوئے اور اہلکاروں کو فوری طور پر نکالنا پڑا۔

    10 مارچ:
    خلیج فارس میں ایک جہاز پر گولہ گرنے سے اس کے ڈھانچے کو ممکنہ نقصان پہنچا۔

    11 مارچ:
    آبنائے ہرمز میں Mayuree Naree نامی کنٹینر شپ کو نشانہ بنایا گیا جبکہ خلیج فارس میں مزید تین جہاز بھی حملوں کا شکار ہوئے۔

    12 مارچ:
    خلیج فارس میں ایک کنٹینر جہاز پر گولہ لگنے سے آگ بھڑک اٹھی۔

    ماہرین کے مطابق ان حملوں نے خطے میں سمندری سکیورٹی اور عالمی تیل کی ترسیل کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔

  • عید پرزائد کرایہ وصول کرنیوالوں کیخلاف فوری کارروائی  کی جائے،شرجیل میمن

    عید پرزائد کرایہ وصول کرنیوالوں کیخلاف فوری کارروائی کی جائے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے عیدالفطر کے موقع پر زائد کرایے وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف بھرپور مہم شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    سینئر وزیر شرجیل میمن نے پولیس، تمام اضلاع کی انتظامیہ، این ایچ اے، ٹریفک پولیس اور ٹرانسپورٹ سمیت تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ زائد کرایہ وصول کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی یقینی بنائیں۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ بعض ٹرانسپورٹرز کی جانب سے خودساختہ طور پر کرایوں میں اضافہ مسافروں پر اضافی مالی بوجھ ڈال دیتا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا اور بغیر اجازت کرایوں میں اضافے کو روکنا متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے تمام افسران اپنے اپنے دائرہ اختیار میں زائد کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں اور روزانہ کی بنیاد پر کارروائیوں کی رپورٹ محکمے کو ارسال کریں۔

    امریکا کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا،ٹرمپ

    انہوں نے کہا کہ مسافروں کو سرکاری مقررہ کرایوں پر محفوظ اور سہل سفر کی سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے تمام متعلقہ ادارے فیلڈ میں متحرک رہیں اور عوامی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنائیں۔

    ایران اپنا دفاع ضرور کرے، تاہم ہمسایہ ممالک کو نشانہ نا بنائے،حماس

  • امریکا کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا،ٹرمپ

    امریکا کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا،ٹرمپ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل متاثر نہ ہو، حتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر ساحلی علاقوں کو شدید بمباری کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ کئی ممالک، خاص طور پر وہ جو آبنائے ہرمز کی بندش سے متاثر ہو سکتے ہیں، امریکہ کے ساتھ مل کر اس آبی راستے کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے لیے جنگی جہاز بھیجیں گے۔

    امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک بھی اس کوشش میں حصہ لیں گے تاکہ عالمی تجارت کے لیے اہم اس سمندری راستے کو محفوظ بنایا جاسکے ،دنیا کے متعدد ممالک آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے بحریہ تعینات کرنے پر آمادہ ہیں تاکہ ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے اس دوران امریکا ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں جاری رکھے گا اور ایرانی کشتیوں یا جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ایران اپنا دفاع ضرور کرے، تاہم ہمسایہ ممالک کو نشانہ نا بنائے،حماس

    تاہم انہوں نے اس بات کی حتمی تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ کون سے ممالک اس اقدام میں عملی طور پر شامل ہوں گے دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ کن ممالک نے اس علاقے میں اپنے جنگی جہاز بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    خیال رہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملانے والی دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

    ایران کی خلیجی بندرگاہوں کے قریبی رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ

  • ایران  اپنا دفاع ضرور کرے، تاہم   ہمسایہ ممالک کو نشانہ نا بنائے،حماس

    ایران اپنا دفاع ضرور کرے، تاہم ہمسایہ ممالک کو نشانہ نا بنائے،حماس

    فلسطینی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ ایران امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اپنا دفاع ضرور کرے، تاہم ردعمل کے دوران ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے، تاکہ خطے میں مزید کشیدگی نہ ہو۔

    رائٹرز کے مطابق حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایران کو ایسا ردعمل اختیار کرنا چاہیے جس سے دیگر ممالک براہِ راست متاثر نہ ہوں ساتھ ہی حماس نے عالمی برادری اور خطے کے ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کریں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں اور ایسی صورتحال پیدا نہ ہونے دیں جس سے پورا مشرق وسطیٰ ایک بڑے تنازع کی طرف بڑھ جائےمشرق وسطیٰ کے ممالک کو باہمی بھائی چارے اور تعاون کے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ خطے میں استحکام قائم رکھا جا سکے۔

    ایران کی خلیجی بندرگاہوں کے قریبی رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ

    یاد رہے کہ اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای سمیت آرمی چیف، وزیر دفاع، پاسداران انقلاب کے سربراہ اور مشیر قومی سلامتی شہید ہوگئے تھے جس کے جواب میں ایران نے سعودی عرب، قطر، بحرین اور متحدہ عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈّوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے اور آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے جس کے باعث دنیا کو تیل کی سپلائی رک گئی ہے

    مبصرین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب حماس نے ایران کی پالیسیوں کے حوالے سے عوامی سطح پر اس نوعیت کا تبصرہ کیا ہے، اس سے قبل تنظیم جنگ کے دوران ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی رہی ہے، تاہم اب تک اس نے کسی ممکنہ جوابی کارروائی کی دھمکی دینے سے گریز کیا تھا۔

    دوسری جانب ایران کے حمایت یافتہ لبنانی گروپ حزب اللہ نے دو مارچ کو اسرائیل پر راکٹ فائر کیے تھے یہ کارروائی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے کی گئی اس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا اور حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کیے۔

    پرنس سلطان ایئر بیس پر کھڑے امریکی طیاروں کی تباہی کی خبریں جعلی ہیں، ٹرمپ

    اسی دوران حوثی تحریک، جو یمن میں سرگرم ہے اور ایران کے قریب سمجھی جاتی ہے، نے بھی تہران کے ساتھ مضبوط یکجہتی کا اظہار کیا ہے اس گروپ نے غزہ کی جنگ کے دوران بحیرہ احمر میں اُن جہازوں کے خلاف کارروائیاں شروع کی تھیں جنہیں وہ اسرائیل سے منسلک سمجھتا تھا، تاہم اب تک اس نے دوبارہ حملے شروع کرنے کی کوئی واضح دھمکی نہیں دی۔

  • ایران کی خلیجی بندرگاہوں کے قریبی رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ

    ایران کی خلیجی بندرگاہوں کے قریبی رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ایران نے ایک بار پھر میزائلوں کی نئی لہر فائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی افواج نے تازہ میزائل حملوں کا آغاز کر دیا ہے، تاہم ان حملوں کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں،ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران اب جدید اور زیادہ طاقتور ہتھیاروں کے استعمال میں اضافہ کرے گا، بالخصوص بیلسٹک میزائلوں اور زیادہ تباہ کن صلا حیت رکھنے والے دیگر میزائلوں کا استعمال بڑھایا جائے گا۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے متحدہ عرب امارات میں رہنے والے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اہم بندرگاہوں کے اطراف کے علاقوں کو خالی کر دیں، دبئی کی جبل علی بندرگاہ، ابوظہبی کی خلیفہ بندرگاہ اور فجیرہ بندرگاہ کے اردگرد کے علاقوں کو خالی کرنے کا کہا گیا ہے ان مقامات کو ممکنہ اہداف قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ وہاں شہری تنصیبات کے درمیان امریکی فوجی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا ہےکہ ان علاقوں کو آنے والے گھنٹوں میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    پرنس سلطان ایئر بیس پر کھڑے امریکی طیاروں کی تباہی کی خبریں جعلی ہیں، ٹرمپ

    ایران اس دوران اسرائیل اور خلیج کے بعض پڑوسی ممالک کی طرف میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے اسی کے ساتھ ایران نے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا ہے یہ وہ اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی عالمی تجارت گزرتی ہےدوسری جانب امریکا اور اسرائیل کے جنگی طیارے ایران کے اندر مختلف فوجی اور دیگر اہداف پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، اس صورتحال نے پورے خطے میں سکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے اور کئی ممالک ہائی الرٹ پر چلے گئے ہیں۔

    پرنس سلطان ایئر بیس پر کھڑے امریکی طیاروں کی تباہی کی خبریں جعلی ہیں، ٹرمپ

    واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے تہران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی یہ جنگ اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی معیشت پر مزید گہرے ہو سکتے ہیں، خطے کے ممالک اور عالمی برادری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

  • پرنس سلطان ایئر بیس پر کھڑے امریکی طیاروں کی تباہی کی خبریں جعلی ہیں، ٹرمپ

    پرنس سلطان ایئر بیس پر کھڑے امریکی طیاروں کی تباہی کی خبریں جعلی ہیں، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر کھڑے طیاروں کو نقصان پہنچنے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جعلی قرار دیا ہے۔

    امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے دو نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر موجود پانچ امریکی طیارے ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملے میں متاثر ہوئے ہیں،متاثر ہونے والے طیارے بوئنگ کے سی 135 اسٹریٹو ٹینکر ہیں جو جنگی اور بمبار طیاروں کو دوران پرواز ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، حملے کے وقت یہ طیارے زمین پر کھڑے تھے اور میزائل حملے کے نتیجے میں انہیں نقصان پہنچا،پرنس سلطان ایئر بیس سعودی دارالحکومت ریاض سے تقریباً 70 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور اسے خطے میں امریکی افواج کی ایک اہم فوجی تنصیب سمجھا جاتا ہے۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس رپورٹ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ اڈے پر چند روز پہلے حملہ ضرور ہوا تھا لیکن طیاروں کو نہ تو براہ راست نشانہ بنایا گیا اور نہ ہی وہ تباہ ہوئے پانچ میں سے چار طیاروں کو تقریباً کوئی نقصان نہیں پہنچا اور وہ دوبارہ سروس میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ ایک طیارے کو نسبتاً زیادہ نقصان پہنچا لیکن وہ بھی جلد دوبارہ پرواز کے قابل ہو جائے گا۔

    انہوں نے اس خبر کو شائع کرنے پر اخبار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بعض میڈیا ادارے ایسی خبریں دے کر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں جیسے امریکا جنگ ہار رہا ہو۔

    ٹرمپ نے ایک علیحدہ پوسٹ میں لکھا کہ جعلی خبروں کا میڈیا یہ بتانے سے نفرت کرتا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف کتنا اچھا کام کیا ہے، جو مکمل طور پر شکست خوردہ ہے اور ایک ڈیل چاہتا ہے-لیکن ایک ایسا معاہدہ جسے میں قبول کروں گا! اس معاملے پر آپ کی توجہ کے لیے آپ کا شکریہ۔

    پاکستان کے جوابی حملوں کا خوف، افغان طالبان عہدیدار کابل سے فرار

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی فضائیہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا جب ایک آپریشن کے دوران دو سی 135 طیارے آپس میں ٹکرا گئے تھے،اس حادثے کے نتیجے میں ایک طیارہ تباہ ہو گیا تھا اور اس میں سوار چھ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔