کراچی میں پاکستان اسٹیل ملز سے قیمتی دھاتیں اور اسکریپ چوری کرنے والے گروہ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 10 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا، جن میں 5 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق بن قاسم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسٹیل ملز سے لوہا اور تانبا چوری کرنے والے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا۔
پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان میں عبدالکریم، عاشق علی، صدام حسین، جاوید، قاضی طاہر جبکہ پولیس اہلکار منیب، رحمت، محمد علی، سعد اللہ اور عرفان شاہ شامل ہیں۔
تحقیقات کے مطابق کانسٹیبل عرفان شاہ دیگر ملزمان کے ذریعے پاکستان اسٹیل ملز سے چوری کرواتا تھا جبکہ گروہ چوری شدہ سامان مختلف گوداموں اور اسکریپ ڈیلرز کو فروخت کرتا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ چھاپہ مار کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 30 کلو کاپر وائر، 3 موٹرسائیکلیں اور موبائل فونز برآمد کیے گئے۔
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ یہ گروہ کافی عرصے سے اس قسم کی وارداتوں میں ملوث تھا اور منظم انداز میں قیمتی دھاتیں چوری کر کے فروخت کر رہا تھا۔
پولیس کے مطابق گرفتار اہلکاروں میں سے 4 اہلکار بن قاسم تھانے جبکہ ایک اہلکار مددگار 15 میں تعینات تھا۔
حکام نے بتایا کہ چوری شدہ سامان “علی” نامی ایک اسکریپ ڈیلر کو فروخت کیا جاتا تھا جبکہ گروہ کے دیگر ممکنہ ساتھیوں کی تلاش کیلئے مزید کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق سرکاری اداروں میں اس قسم کی چوری اور اندرونی ملی بھگت اہم صنعتی تنصیبات کیلئے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
عوامی حلقوں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
Blog
-

پاکستان اسٹیل ملز اسکریپ چوری کیس میں 5 پولیس اہلکار گرفتار
-

چین نے ایران تنازع میں جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دے دیا
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے ایران تنازع میں شامل فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کا راستہ اپنائیں تاکہ مشرق وسطیٰ میں جلد امن بحال ہو سکے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق وانگ یی نے اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ فریقین کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔
چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ دیرینہ تنازعات ایک دن میں حل نہیں ہوتے، لیکن مذاکرات کی جانب بڑھنے والا ہر قدم امن کی امید کو مضبوط بناتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “تنازع جتنا جلد ختم ہوگا، اتنی ہی کم شہری ہلاکتیں ہوں گی۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ امریکا نے جنوبی ایران میں کارروائی کرتے ہوئے نام نہاد دفاعی حملے کیے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران تنازع کے خاتمے کیلئے معاہدے تک پہنچنے میں ابھی چند دن لگ سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں چین عالمی سطح پر ایک متوازن سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خطے میں کشیدگی مزید نہ بڑھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتا تناؤ عالمی امن، تیل کی منڈیوں اور مشرق وسطیٰ کے استحکام کیلئے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
چین اس سے قبل بھی ایران کے جوہری مسئلے اور خلیجی کشیدگی کے حل کیلئے سفارتی مذاکرات اور جنگ بندی کی حمایت کرتا رہا ہے۔ -

مری میں قربانی کا بیل گہری کھائی میں گر گیا
مری کے علاقے سرکل بکوٹ یونین کونسل پلک میں قربانی کیلئے لایا گیا ایک بیل بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گرا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق بیل کو گاڑی سے اتارنے کے بعد اچانک وہ قابو سے باہر ہو گیا اور قریب موجود ایک گھر کی چھت پر چڑھ گیا۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ چھت کے اطراف مناسب رکاوٹ یا حفاظتی دیوار نہ ہونے کی وجہ سے بیل توازن برقرار نہ رکھ سکا اور گہری کھائی میں گر گیا۔
حادثے کے بعد علاقے میں بھگدڑ مچ گئی جبکہ شہری فوری طور پر مدد کیلئے موقع پر پہنچ گئے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق بلندی سے گرنے کے باعث بیل بری طرح زخمی ہوگیا تھا، جس کے بعد موقع پر ہی اسے ذبح کر دیا گیا۔
واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر بھی گردش کرتی رہیں جہاں صارفین نے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ ملک بھر میں آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے اور مسلمان سنتِ ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کر رہے ہیں۔
کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں نمازِ عید کے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے جہاں ملکی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور امتِ مسلمہ کیلئے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔
عیدالاضحیٰ کے موقع پر مویشی منڈیوں، قربانی کے مقامات اور رہائشی علاقوں میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی جا رہی ہے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے صفائی اور سکیورٹی کے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ -

موسمیاتی تبدیلی اینٹی بائیوٹک مزاحمت بڑھانے لگی
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف درجہ حرارت میں اضافے اور قدرتی آفات کا باعث نہیں بن رہی بلکہ یہ انسانی صحت کیلئے ایک نئے اور سنگین خطرے کو بھی جنم دے رہی ہے۔
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ موسمیاتی بحران دنیا بھر میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت میں اضافے کا سبب بن رہا ہے، جس سے خطرناک بیکٹیریا کے خلاف ادویات کی تاثیر کم ہوتی جا رہی ہے۔
دی لانسیٹ پلانیٹری ہیلتھ جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اینٹی بائیوٹک مزاحمت تیزی سے عالمی صحت کیلئے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں ہر سال 10 لاکھ سے زائد اموات ہو سکتی ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور سالمونیلا بیکٹیریا میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت کے درمیان واضح تعلق موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق 1940 سے 2040 کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سالمونیلا میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت کی شرح میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تحقیق میں کہا گیا کہ اگرچہ اینٹی بائیوٹک ادویات کا غیر ضروری اور زیادہ استعمال اب بھی اس مسئلے کی بنیادی وجہ ہے، لیکن بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت اس خطرے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
محققین کے مطابق شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے جراثیموں کے افعال اور رویوں کو تبدیل کیا ہے، جس کے نتیجے میں ان میں ادویات کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں درجہ حرارت بڑھنے سے بیکٹیریا زیادہ مضبوط اور خطرناک ہوتے جا رہے ہیں، جس سے عام انفیکشنز کا علاج بھی مشکل ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے دوران 1940 سے 2023 تک 139 ممالک میں سالمونیلا کے 4 لاکھ 80 ہزار سے زائد نمونوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور درجہ حرارت میں تبدیلیوں کے ساتھ اینٹی بائیوٹک مزاحمت کرنے والے جینز کا موازنہ کیا گیا۔
ماہرین نے حکومتوں اور عالمی اداروں پر زور دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کیلئے فوری اور مؤثر پالیسیاں بنائی جائیں تاکہ انسانی صحت کو مستقبل کے خطرات سے بچایا جا سکے۔ -

پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بننے لگا
امریکی جریدے نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان تیزی سے ایک ابھرتی ہوئی سفارتی اور معاشی طاقت کے طور پر عالمی سطح پر اپنی اہمیت منوا رہا ہے، جس کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مختلف معاشی اور سیاسی چیلنجز کے باوجود پاکستان عالمی مالیاتی منڈیوں میں اعتماد بحال کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہیں جبکہ پاکستانی روپیہ تقریباً 280 روپے فی ڈالر کی سطح پر مستحکم رہا۔
اسی طرح پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے کے ایس ای 100 انڈیکس میں سال بھر کے دوران صرف 1.3 فیصد معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جسے ماہرین معاشی استحکام کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معاشی مضبوطی کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں جن میں آئی ایم ایف کے ساتھ تعاون، خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط سفارتی تعلقات اور سعودی عرب و چین کی مالی معاونت شامل ہیں۔
امریکی جریدے کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کیلئے 3 ارب ڈالر کے ذخائر اور 5 ارب ڈالر کی قرض سہولت میں توسیع کی ہے، جس سے ملکی مالی صورتحال کو سہارا ملا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ چین نے پاکستان کے پہلے “پانڈا بانڈ” کیلئے 257 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جسے دونوں ممالک کے معاشی تعاون میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی جریدے کے مطابق عالمی معاشی طاقتیں پاکستان کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کر رہی ہیں، خاص طور پر گوادر بندرگاہ مستقبل میں خطے کے ایک اہم لاجسٹکس اور تجارتی مرکز کے طور پر ابھر سکتی ہے۔ -

کوئی اٹھائیسویں ترمیم نہیں،یہ میڈیا کی مہربانی ہے،خورشید شاہ
سینئر سیاستدان، پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید احمد شاہ نے نماز عید ادا کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا دن تاریخ اسلام میں بہت اہمیت رکھتا ہے،
خورشید احمد شاہ کا کہناتھا کہ انسان کو بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب بندے کا امتحان لیتا ہے تو آزمائشیں آتی ہیں،آج کے دن پر سب کو عید کی مبارکباد پیش کرتا ہوں،قربانی کا اصل مقصد قربانی سے گریز نہ کرنا ہے، آج کے حالات اچھے نہیں ہیں،امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے مسلم ممالک میں جنگ کی صورتحال ہے،پاکستان نے اس معاملے پر بہت اچھا کردار ادا کیا ہے،پاک فوج اور پاکستانی عوام قربانی کے لیے تیار ہیں، ہم ضرور کامیاب ہوں گے،اس وقت کوئی اٹھائیسویں ترمیم نہیں،یہ میڈیا کی مہربانی ہے جس نے ترمیم کا تاثر پیدا کیا،ہم سب بڑے ہو گئے ہیں، سیانے ہو گئے ہیں
-

اڈیالہ جیل، عمران خان نماز عید میں شریک نہ ہوئے
ملک بھر کی طرح راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بھی آج عیدالاضحیٰ مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی، جہاں قیدیوں، حوالاتیوں اور جیل حکام نے نمازِ عید ادا کی۔
جیل انتظامیہ کے مطابق اڈیالہ جیل میں نمازِ عید کے دو بڑے اجتماعات منعقد کیے گئے۔ ایک اجتماع جیل کی جامع مسجد جبکہ دوسرا امام بارگاہ میں ہوا، جس میں سیکڑوں قیدیوں، حوالاتیوں اور افسران نے شرکت کی۔ نمازِ عید کے بعد ملکی سلامتی، امن و استحکام اور قیدیوں کی اصلاح کے لیے خصوصی دعائیں بھی مانگی گئیں۔ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نمازِ عید کے اجتماعات میں شریک نہیں ہو سکے۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ اپنے اپنے سیلز میں موجود رہے اور انہوں نے وہیں وقت گزارا۔
واضح رہے کہ رواں برس عیدالفطر کے موقع پر بھی سیکیورٹی خدشات کے باعث عمران خان نمازِ عید کے اجتماعی اجتماع میں شریک نہیں ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے سیل میں ہی قیام کیا تھا۔جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر قیدیوں کو خصوصی کھانے اور محدود پیمانے پر سہولیات بھی فراہم کی گئیں تاکہ وہ عید کی خوشیوں میں کسی حد تک شریک ہو سکیں۔
-

سوات،شوہر کی بیوی اور بھابھی پر فائرنگ،خود کو بھی گولی مار لی
خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں گھریلو تنازع ایک خوفناک سانحے میں تبدیل ہوگیا جہاں مٹہ کے علاقے شوخدڑہ میں شوہر نے فائرنگ کرکے اپنی بیوی کو قتل جبکہ بھابھی کو زخمی کردیا، بعد ازاں ملزم نے خود پر بھی گولی چلا کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ مٹہ کی حدود میں پیش آیا جہاں ملزم نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر گھر کے اندر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ملزم کی بیوی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئی جبکہ اس کی بھابھی شدید زخمی ہوگئیں۔ زخمی خاتون کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے مٹہ اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں انہیں علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے بعد ملزم نے خود کو بھی گولی مار لی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کرلیے ہیں۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ ملزم آئس کے نشے کا عادی تھا اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نشے کی حالت میں اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ تاہم واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس افسوسناک واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کردیا ہے۔ دوسری جانب پولیس نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کرکے قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔
-

حج 2026: وقوف مزدلفہ مکمل، حجاج رمی جمرات کے لیے روانہ
مکہ مکرمہ میں حج کے تیسرے روز مناسکِ حج کا پہلا واجب، وقوفِ مزدلفہ، مکمل کر لیا گیا جبکہ حجاج کرام رمی جمرات کے لیے جمرات کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔
ترجمان مذہبی امور کے مطابق حجاج آج 10 ذی الحجہ کو بڑے شیطان کو 7 کنکریاں مار کر دوسرا واجب ادا کریں گے سرکاری حجاج کرام کے لیے قربانی کا وقت شام 6 بجے مقرر کیا گیا ہے،قربانی کے بعد حجاج حلق یا قصر کروا کر احرام کھول دیں گے، جبکہ حج کا تیسرا فرض، طوافِ زیارت، آج یا آئندہ 2 روز کے دوران مکمل کیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق حجاج آج اور کل منیٰ میں قیام کریں گے اور زوال کے بعد تینوں شیطانوں کو کنکریاں ماریں گے۔ بیشتر حجاج 12 ذی الحجہ کی رمی مکمل کرنے کے بعد مکہ مکرمہ میں اپنی رہائش گاہوں کو واپس روانہ ہو جائیں گے، جبکہ بعض مکاتب کے حجاج 13 ذی الحجہ کی اختیاری رمی کے بعد منیٰ سے واپسی کریں گے۔
حکام کے مطابق پاکستان کے لیے حج بعد واپسی پروازوں کا آغاز 31 مئی سے ہوگا، جبکہ وطن واپسی سے قبل حجاج کرام طوافِ وداع ادا کریں گے۔
-

نقلی نوٹ ،اصلی بےحسی ،تحریر: بینا علی
آج اخبار میں ایک خبر پڑھی جس نے دل کو اندر تک جھنجوڑ کر رکھ دیا۔پل قمبر منڈی ایک غریب بزرگ نے اپنی بکری 27,000 روپے میں فروخت کی۔وہ شاید دل ہی دل میں خوش تھے کہ اب گھر جا کر بچوں کی ضروریات پوری کریں گے عید کے لیے کچھ سامان لے آئیں گے اور کئی دنوں سے چہرے پر چھائی پریشانی شاید کچھ کم ہو جائے گی۔وہ بکری شاید صرف ایک جانور نہیں تھی وہ اُن کی محنت تھی۔ اُن کی جمع پونجی تھی، اُن کی امید تھی۔
شاید اُس بزرگ نے اُسے مہینوں پال کر اس دن کا انتظار کیا ہوگا کہ عید قریب آئے گی تو اچھی قیمت مل جائے گی اور گھر کے حالات کچھ بہتر ہو جائیں گے۔مگر افسوس…
جس شخص نے بکری خریدی اُس نے ان بزرگ کی سادہ لوحی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہاتھ میں نقلی نوٹ تھما دیے۔سوچیے۔۔۔جب وہ بزرگ بازار میں اپنی ضروریات خریدنے گئے ہوں گے۔ کسی دکان دار نے نوٹ ہاتھ میں لے کر غور سے دیکھا ہوگاپھر یہ کہا ہوگا:
"بابا جی یہ نوٹ تو نقلی ہیں”اُس لمحے اُن کے دل پر کیا گزری ہوگی؟کیسے اُن کے قدم لڑکھڑائے ہوں گے؟کیسے اُن کی آنکھوں کی روشنی ایک دم ماند پڑ گئی ہوگی؟شاید چند لمحوں کے لیے اُنہیں یقین ہی نہ آیا ہو کہ اُن کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ ہو گیا ہے۔وہ سوچ رہے ہوں گے کہ اب گھر کیسے جائیں؟بچوں کو کیا جواب دیں؟ گھر والوں کی امید بھری نظریں کیسے برداشت کریں؟
شاید اُن کے کانوں میں صرف ایک ہی آواز گونجی ہوگی:
"میری ساری محنت لٹ گئی”ذوالحجہ کا مہینہ ہمیں قربانی، رحم، محبت اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔مگر افسوس کہ آج لوگ جانور خریدتے ہوئے بھی انسانیت بیچ دیتے ہیں۔خدارا، غریب لوگوں کے ساتھ ایسا ظلم مت کیا کریں۔آپ کے لیے شاید چند ہزار روپے معمولی ہوں مگر ایک سفید پوش انسان کے لیے یہی رقم اُس کے گھر کا چولہا جلاتی ہے، بچوں کی دوائیں بنتی ہے، اور عید کی خوشیوں کا سہارا ہوتی ہے۔یاد رکھیے، مظلوم کی آہ کبھی خالی نہیں جاتی۔اللہ تعالیٰ دیر ضرور کرتا ہے مگر حساب ضرور لیتا ہے۔
غریب آدمی کا دل دکھا کر شاید وقتی فائدہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے،مگر اُس نقصان کا ازالہ کبھی ممکن نہیں ہوتا جو انسان اپنے کردار، اپنی آخرت، اور اپنی انسانیت کو پہنچا دیتا ہے۔یہ صرف فراڈ نہیں تھا
یہ ایک بوڑھے انسان کی امیدوں، اُس کی محنت، اُس کی عزتِ نفس، اور اُس کے اعتماد کا قتل تھا۔
اور سچ تو یہ ہے کہ ان بزرگ نے تو چلو ایک وقتی نقصان اٹھایا ہے اوروقت گزرنے کے ساتھ شاید اُن کا یہ زخم کچھ بھر بھی جائے۔لیکن جس شخص نے اُنہیں دھوکہ دیا، جس بیوپاری نے چند ہزار روپے کے لالچ میں ایک غریب انسان کی دعائیں اور اعتماد کھو دیا
پتہ نہیں اُسے ساری زندگی کتنے بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔کیونکہ مال کا نقصان شاید پورا ہو جاتا ہے۔
مگر کردار کا نقصان، انسانیت کا نقصان، اور مظلوم کی آہوں کا بوجھ ایسا قرض ہوتا ہے جس کا کوئی ازالہ نہیں ہوتا۔ان بابا جی کو پہچان لیں اور عید کی خوشیوں میں انہیں شامل کریں۔کاش ہم اتنے بے حسی نہ ہوتے۔