Baaghi TV

Blog

  • کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متعدد ڈرون حملے،ریڈار سسٹم کو پہنچا نقصان

    کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متعدد ڈرون حملے،ریڈار سسٹم کو پہنچا نقصان

    کویت کے حکام نے اطلاع دی ہے کہ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متعدد ڈرون حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں ایئرپورٹ کے ریڈار سسٹم کے کچھ حصے کو نقصان پہنچا۔

    سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان عبداللہ الراجی کے مطابق، “کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو کئی ڈرونز نے نشانہ بنایا جنہوں نے ایئرپورٹ کے ریڈار سسٹم کو نقصان پہنچایا۔ خوش قسمتی سے کسی کے زخمی ہونے یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔” کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ریڈار سسٹم کو ایران سے منسوب ایک حملے میں متعدد ڈرونز نے نشانہ بنایا اور اسے نقصان پہنچایا۔

    دوسری جانب بحرین کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ملک میں ایرانی حملوں سے متعلق ویڈیوز پوسٹ کرنے اور غلط معلومات پھیلانے کے الزام میں چھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔وزارت داخلہ کے مطابق، “چھ افراد کو گرفتار کیا گیا اور انہیں عوامی استغاثہ کے حوالے کیا گیا کیونکہ انہوں نے ایرانی جارحیت کے اثرات کے بارے میں ویڈیوز پوسٹ کیں، دشمنانہ کارروائیوں کی تعریف کی اور جھوٹی خبریں پھیلائیں۔”اطلاعات کے مطابق، بحرین میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور درجنوں دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔

  • بھارت افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کی سرگرمیوں کو ہوا دینے سے باز رہے،ترجمان وزارت خارجہ

    بھارت افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کی سرگرمیوں کو ہوا دینے سے باز رہے،ترجمان وزارت خارجہ

    وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھارت کی وزارت خارجہ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے بھارت کے الزامات کو ’نامعقول، غیر ضروری اور شرمناک حد تک منافقانہ‘ قرار دیا۔

    وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھارت کی وزارت خارجہ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے افغان سرزمین پر دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور معاون مراکز کے خلاف کیے گئے قانونی اور ہدف شدہ اقدامات بالکل جائز ہیں،بھارت کی افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں، جن میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان شامل ہیں، کی سرگرمیوں کی حمایت اور سرپرستی اچھی طرح جانی جاتی ہے، پاکستان کی کارروائی کے نتیجے میں ان کے دہشتگرد نیٹ ورک کی تباہی پر بھارت کی مایوسی بالکل سمجھ میں آتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی بار بار خلاف ورزی کرتا رہا ہے، اور کشمیر پر غیر قانونی قبضے کے ذریعے ریاستی دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے ہندوتوا نظریے کے تحت بھارت اپنے اقلیتوں کو حاشیے پر رکھتا ہے، اسلاموفوبیا پھیلاتا ہے اور پانی کے وسائل کو بھی اپنے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے بھارت نہ صرف افغانستان میں رکاوٹ ڈال رہا ہے بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے،بھارت ایسے بیانات دینے کی کسی پوزیشن میں نہیں ہے اور اسے چاہیے کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کی سرگرمیوں کو ہوا دینے سے باز رہے۔

    قندھار میں طالبان کے ٹھکانے نشانہ، گیارہ تزویراتی مراکز مکمل طور پر تباہ

    پاکستان کی پالیسی کے حوالے سے وزرات کارجہ کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودی کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام مناسب اقدامات کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

    آپریشن غضب للحق:663 افغان طالبا ن ہلاک ،887 سے زائد زخمی اور 249 چیک پوسٹیں تباہ

  • قندھار میں طالبان کے ٹھکانے نشانہ، گیارہ تزویراتی مراکز مکمل طور پر تباہ

    قندھار میں طالبان کے ٹھکانے نشانہ، گیارہ تزویراتی مراکز مکمل طور پر تباہ

    پاکستان کی جانب سے دشمن کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی ہے جس میں قندھار سے سرحدی علاقوں تک طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا یا گیا ہے۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں اور بھاری توپ خانے نے کارروائی کرتے ہوئے دشمن کی اشتعال انگیزی کا سخت جواب دیا۔

    اطلاعات کے مطابق اس کارروائی کے دوران قندھار میں طالبان کے اہم تزویراتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا بتایا گیا ہے کہ کارروائی کے نتیجے میں طالبان کے گیارہ تزویراتی مراکز مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور وہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے۔ذرائع کے مطابق ان مراکز کو عسکری اہمیت حاصل تھی اور انہیں پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی میں پاک فضائیہ کے طیاروں نے اہم کردار ادا کیا جبکہ بھاری توپ خانے کی مدد سے بھی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں قندھار سمیت سرحد کے قریب موجود متعدد ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کارروائی کا مقصد دشمن کی جانب سے کی جانے والی اشتعال انگیزی کا مؤثر اور فوری جواب دینا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران انتہائی اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں طالبان کے تزویراتی مراکز کو شدید نقصان پہنچا۔
    بتایا گیا ہے کہ کارروائی کے نتیجے میں قندھار میں موجود طالبان کے گیارہ مراکز مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور ان کی عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئیں۔ ذرائع کے مطابق یہ مراکز عسکری لحاظ سے اہم سمجھے جاتے تھے۔
    اس کارروائی کو ایک بڑا اور فیصلہ کن اقدام قرار دیا جا رہا ہے جس میں پاک فضائیہ کے شاہینوں اور بھاری توپ خانے نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ اس کارروائی کو دشمن کی اشتعال انگیزی کے جواب میں کیا گیا جس میں پاکستان کی فضائی اور زمینی عسکری صلاحیتوں کا استعمال کیا گیا۔ اس دوران قندھار میں طالبان کے گیارہ تزویراتی مراکز تباہ ہو کر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے۔

  • سربیا جنگ کی تیاریوں میں مصروف، خطے میں کشیدگی کا خدشہ

    سربیا جنگ کی تیاریوں میں مصروف، خطے میں کشیدگی کا خدشہ

    سربیا کے صدر نے کہا کہ کروشیا، البانیہ اور کوسوو مبینہ طور پر سربیا پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    صدر ووچیچ نے ایک بیان میں کہا کہ مذکورہ ممالک موجودہ عالمی حالات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور ان کی امید ہے کہ اگر روس اور یورپ کے درمیان جاری کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں عالمی سطح پر پیدا ہونے والا انتشار ان ممالک کو سربیا کے خلاف کارروائی کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی بعض ممالک کے لیے ایسا ماحول پیدا کر سکتی ہے جس میں وہ اپنے علاقائی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

    صدر ووچیچ نے اس موقع پر یہ بھی دعویٰ کیا کہ سربیا کے پاس جدید انتہائی تیز رفتار بیلسٹک میزائل موجود ہیں، جو ملک کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بناتے ہیں۔ سربیا اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ سربیا کا نیٹومیں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے

  • افغان طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کی ہلاکت کی خبر جھوٹی قرار

    افغان طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کی ہلاکت کی خبر جھوٹی قرار

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس خبر کو فیک نیوز قرار دیا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ہیبت اللہ اخوندزادہ پاکستانی فوج کے حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ دعویٰ حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے۔

    اطلاعات کے مطابق افغانستان کی مزاحمتی تنظیم این آر ایف سے منسوب سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے یہ دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج نے ایک کارروائی کے دوران طالبان کے امیر کو نشانہ بنایا۔ تاہم اس حوالے سے کسی قسم کے شواہد یا قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔سرکاری اور معتبر ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے ایسی کوئی فوجی کارروائی نہیں کی گئی جس میں ہیبت اللہ اخوندزادہ کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ دفاعی اور سیکیورٹی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غیر مصدقہ معلومات اکثر سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا یا معلوماتی جنگ کے طور پر پھیلائی جاتی ہیں تاکہ عوام میں کنفیوژن پیدا کیا جا سکے۔

    واضح رہے کہ اس وقت تک ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہلاکت سے متعلق کوئی مستند یا تصدیق شدہ اطلاع سامنے نہیں آئی ہے اور اس حوالے سے گردش کرنے والی خبریں من گھڑت اور گمراہ کن قرار دی جا رہی ہیں۔

  • جنگ میں تباہ شدہ علاقوں کو پہلے سے بھی بہتر انداز میں تعمیر کریں گے،ایرانی صدر

    جنگ میں تباہ شدہ علاقوں کو پہلے سے بھی بہتر انداز میں تعمیر کریں گے،ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا ہے کہ مشکلات اور دباؤ کے باوجود حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہے اور عوام کے تعاون سے موجودہ صورتحال پر قابو پا لیا جائے گا-

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ 15 روز سے جاری اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے باوجود دوران ملک میں ہونے والی تباہی کے باوجود ایران کے بیشتر حصوں میں معمولات زندگی برقرار ہیں جن علاقوں میں جنگ کے باعث تباہی ہوئی ہے اُن علاقوں کو پہلے سے بھی زیادہ بہتر انداز میں دوبارہ تعمیر کریں گے اور عوام کی ضروریات کی فراہمی جاری رکھی جائے گی۔

    صدر پزیشکیان نے کہا کہ مشکلات اور دباؤ کے باوجود حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہے اور عوام کے تعاون سے موجودہ صورتحال پر قابو پا لیا جائے گا ،ایرانی قوم نے ماضی میں بھی مشکل حالات کا سامنا کیا ہے اور اس بار بھی ملک ان چیلنجز سے نکل آئے گا۔

    امریکا کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا،ٹرمپ

    ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سماجی ویب سائٹ ایکس پراپنے بیان میں کہا ہے کہ اس جنگ نے ایک بات ثابت کردی ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے کسی کو تحفظ نہیں دیتے، امریکا نے جسے بھی کپڑے پہنائے وہ برہنہ ہوگیا امریکی اڈے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں خطے کے ممالک کو سیکیورٹی کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی خودمختاری اور علاقائی تعاون پر توجہ دینی چاہیے۔

    ایران کی خلیجی بندرگاہوں کے قریبی رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ

    انہوں نے امریکا پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ اپنے اتحادیوں کے مفادات کے مقابلے میں اسرائیل کو ترجیح دیتا ہے قالیباف کے بقول امریکا سب کو اسرائیل کے لیے قربان کرتا ہے، اسے اسرائیل کے سوا کسی کی بھی پروا نہیں،جو بھی امریکہ کی سیکیورٹی کے سہارے کھڑا ہے، وہ دراصل غیر محفوظ ہے،خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے امریکی فوجی موجودگی کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

    دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز محفوظ بنانے کیلئے دوسروں سے مدد مانگ رہا ہے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے کئی ممالک یہاں تک کہ چین سے بھی بحری جہاز بھیجنے کی اپیل کی ہے امریکا کی سکیورٹی چھتری اب بہت کمزور ہو چکی ہے، امریکا کی سکیورٹی چھتری میں کئی سوراخ ہو چکے ہیں ایران پڑوسی ممالک سے غیر ملکی فوجی موجودگی ختم کرنے کے اپیل کر رہا ہے، خطے میں کشیدگی کی اصل وجہ اسرائیل ہے۔

    زرنج ایئر بیس،جبہ استقلال کا حملہ،ہیلی کاپٹر تباہ

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے امریکا کے ساتھ کئی ممالک جنگی بحری جہاز بھیجنے پر آمادہ ہیں انہیں امید ہے کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک بھی اس اہم بحری راستے کی حفاظت کے لیے اپنے بحری جہاز تعینات کریں گے۔

  • زرنج ایئر بیس،جبہ استقلال کا حملہ،ہیلی کاپٹر تباہ

    زرنج ایئر بیس،جبہ استقلال کا حملہ،ہیلی کاپٹر تباہ

    افغانستان کے صوبہ نیمروز میں واقع زرنج ایئر بیس پر ایک حملے کے نتیجے میں وہاں کھڑا ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق حملہ ایک کارروائی کے دوران کیا گیا جس میں “جبۂ استقلال” نامی گروپ نے زرنج ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔حملہ فوجی اڈے پر کیا گیا، جہاں بیس کے اندر پارک کیا گیا ایک ہیلی کاپٹر نشانہ بنا۔ حملے کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر کو شدید نقصان پہنچا اور وہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

  • کامران ٹیسوری  تاریخ رقم کر کے نہایت باوقار طریقے سے گورنر ہاؤس چھوڑ کر گئے ہیں،ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

    کامران ٹیسوری تاریخ رقم کر کے نہایت باوقار طریقے سے گورنر ہاؤس چھوڑ کر گئے ہیں،ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے گورنر سندھ کی تبدیلی پر وفاقی حکومت کی جانب سے اعتماد میں نہ لینے کو زیادتی قرار دے دیا کہا کہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا لیکن حق پرستی کی آواز اٹھانے کی اتنی سزا تو ہمیں ملنی ہی تھی-

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے زیرِ اہتمام خدمتِ خلق فاؤنڈیشن فیڈرل بی ایریا میں سالانہ امدادی پروگرام کا انعقاد کیا گیا تقریب میں چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان و وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سینئر مرکزی رہنما وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال اراکینِ مرکزی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار، انیس قائم خانی، سید امین الحق، کیف الوریٰ، انچارج سی او سی فرقان اطیب سمیت اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی اور مرکزی شعبہ جات کے ذمہ داران شریک تھے۔

    ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خدمتِ خلق فاؤنڈیشن کی بنیاد 1979ء میں رکھی گئی اسطرح خدمت کی تاریخ ہماری سیاسی تحریک سے بھی قدیم ہے جس شہر کے ٹیکس سے پورے پاکستان میں موٹر ویز کا جال بچھا خود اس شہر کے لیے کوئی موٹر وے نہیں ہے اور آج یہاں باہر سے آکر روزگار کمانے والے ہی ہمیں ڈکٹیٹ کر رہے ہیں اور بے لگام ہیوی ٹریفک ہمارے معصوم بچوں کو سڑکوں پر کچلتی ہوئی گزر جاتی ہے۔

    آپریشن غضب للحق:663 افغان طالبا ن ہلاک ،887 سے زائد زخمی اور 249 چیک پوسٹیں تباہ

    ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پولیس اور چور دونوں کا تعلق کراچی سے نہیں ہے اور ایک منظم منصوبے کے تحت اس شہر کی زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں عدالتیں خود کو ایسے تعصب سے پاک رکھیں جس سے شہر میں آگ لگتی ہے کیونکہ اگر انصاف زبان دیکھ کر دیا گیا تو مظلوم کہاں جائیں گے۔

    گورنر کی تبدیلی کے حوالے سے کہا کہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا لیکن حق پرستی کی آواز اٹھانے کی اتنی سزا تو ہمیں ملنی ہی تھی، کامران ٹیسوری صاحب ایک تاریخ رقم کر کے نہایت باوقار طریقے سے گورنر ہاؤس چھوڑ کر گئے ہیں انہوں نے گورنر کی تبدیلی پر وفاق سے علیحدگی یا وزارتیں چھوڑنے سے متعلق کہا کہ ہماری روایت رہی ہے ہر بار استعفیٰ دیتے ہیں مگر اس بار اپنا ریکارڈ خراب نہیں کریں گے۔

    طالبان نے افغان عوام کو دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے لیے قربان کر دیا ،احمد مسعود

    خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم کا یہ پروگرام امداد بانٹنے کے لیے نہیں بلکہ ان سفید پوشوں کی عزتِ نفس کی بحالی کے لیے ہے جو اس شہر کا فخر ہیں اور لینے والے ہاتھ نہیں بلکہ دینے والے ہاتھ ہیں، ایم کیو ایم ہر مشکل گھڑی میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک ہم موجود ہیں اس شہر کے حق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔

  • آپریشن غضب للحق:663 افغان طالبا ن ہلاک ،887 سے زائد زخمی  اور 249 چیک پوسٹیں تباہ

    آپریشن غضب للحق:663 افغان طالبا ن ہلاک ،887 سے زائد زخمی اور 249 چیک پوسٹیں تباہ

    پاکستان سیکیورٹی فورسز 26 فروری 2026 کو شروع کی گئی ٹی ٹی اے کی دشمنیوں کے جواب میں آپریشن غضب للحق کو جاری رکھے ہوئے ہیں پاک افغان سرحد پر دشمنانہ کارروائیوں کو مؤثر طریقے سے پسپا کیا جا رہا ہے، جبکہ مسلسل سزا کی کارروائیاں ٹی ٹی اے کی آپریشنل ڈھانچہ میں ان کی عسکری صلاحیتوں اور معاونت کی صلاحیت کو مسلسل کمزور کر رہی ہیں۔

    پاکستان سیکیورٹی فورسز نے کے پی کے میں پاک افغان بارڈر پر مضبوط آپریشنل تسلط برقرار رکھا، عسکریت پسندوں کی تیاریوں میں مشغول رہے، مربوط توپ خانے، مارٹر، ٹینکوں اور باجوڑ، کرم اور پاراچنار سیکٹر میں درست فائرنگ کے تبادلوں کے ذریعے دراندازی کی کوشش اور دشمن کی فائرنگ کی پوزیشنوں کو ناکام بنایا۔

    رپورٹنگ کی مدت کے دوران، سرحد پار سے ٹی ٹی اے کے عناصر کی طرف سے مارٹر، آرٹلری اور چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ سمیت متعدد معاندانہ کارروائیاں شروع کی گئیں اس کے علاوہ، تیراہ سیکٹر میں ٹی ٹی اے کے عسکریت پسندوں کی طرف سے 4 بار چھاپوں کی کوشش کی گئی، جن میں سے سبھی کو پاکستان سیکورٹی فورسز نے مربوط فائر پاور اور دفاعی ردعمل کے ذریعے کامیابی سے پسپا کر دیا۔

    کامران ٹیسوری تاریخ رقم کر کے نہایت باوقار طریقے سے گورنر ہاؤس چھوڑ کر گئے ہیں،ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

    سرویلنس گرڈز نے کئی سیکٹرز میں دشمنی ڈرون کی سرگرمیوں اور عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کا بھی پتہ لگایا، جن پر کڑی نظر رکھی گئی اور جہاں ضروری ہو مصروف تھے، سرحد کے ساتھ عسکریت پسندوں کی آپریشنل جگہ کو مزید محدود کر دیا۔

    بلوچستان فرنٹ کے ساتھ – پاک افغان بارڈر

    پاکستان سیکیورٹی فورسز قلعہ سیف اللہ، ژوب، نوشکی، چمن، چلتن اور سمبازہ سیکٹرز میں مضبوط آپریشنل پوزیشن اور آگے کی بالادستی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، مسلسل نگرانی، علاقے پر تسلط گشت اور توپ خانے اور بھاری ہتھیاروں کی تیاری کے ساتھ کسی بھی دشمنی کی سرگرمی کا فوری جواب دینے کے لیے۔

    زرنج ایئر بیس،جبہ استقلال کا حملہ،ہیلی کاپٹر تباہ

    گڈوانہ انکلیو (ژوب سیکٹر) مضبوطی سے پاکستان کے کنٹرول میں ہے، دفاعی استحکام اور آس پاس کے علاقوں پر تسلط جاری ہے رپورٹنگ کی مدت کے دوران، سرحد پار سے آنے والے راکٹ فائر نے گڈوانہ انکلیو کو نشانہ بنایا، تاہم تمام راکٹ انکلیو کے علاقے میں گرے جس میں کوئی جانی یا بڑا نقصان نہیں ہوا۔

    افغانستان کے اندر اسٹریٹجک حملے

    12/13 مارچ 2026 کی رات کے دوران، پاکستان نے افغانستان کے اندر دہشت گردی سے منسلک بنیادی ڈھانچے کے خلاف درست حملے کیے، پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کی سہولت فراہم کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا اہم اہداف میں قندھار ایئر فیلڈ میں تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات تھیں، جنہیں افغان طالبان عناصر اور اس سے منسلک دہشت گرد نیٹ ورک عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں مدد کے لیے استعمال کر رہے تھے-

    ڈرون حملوں کا بدلہ ، پاک افواج نےافغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    پاک افواج کی کارروائیوں میں 663 افغان طالبا ن ہلاک ،887 سے زائد زخمی ہوئے اور 249 چیک پوسٹیں تباہ ہوئیں جبکہ 44 چیک پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا اور تباہ کی گئیں، 224 ٹینک/اے پی سی/گاڑیاں/توپ خانے تباہ کئے گئے جبکہ پاک فضائیہ نے 70 مقامات کو نشانہ بنایا-

    میدان جنگ میں بار بار کی ناکامیوں کے باوجود، TTA پروپیگنڈہ آؤٹ لیٹس زمینی صورتحال کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش میں جھوٹے دعوے اور مسخ شدہ بیانیہ پھیلاتے رہتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سیکیورٹی فورسز سرحد پر واضح آپریشنل برتری اور مضبوط کنٹرول برقرار رکھتی ہیں-

    طالبان نے افغان عوام کو دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے لیے قربان کر دیا ،احمد مسعود

    علاوہ ازیں آپریشن غضب للحق میں پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملوں کی ویڈیو جاری کر دی گئی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افواج نے 14/15 مارچ کی درمیانی شب افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگرد ٹھکانوں سمیت فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ،ان حملوں میں پاک افواج نے قندھار میں ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور ایکوپمنٹ سٹوریج کو موثر انداز میں تباہ کیا ،یہ انفراسٹرکچر اور ایکوپمنٹ سٹوریج افغان طالبان اور دہشت گرد استعمال کرتے تھے –

    سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق جاری رہے گا اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دشمنی کے عزائم اور عسکریت پسندوں کے انفراسٹرکچر کو پاک افغان سرحد کے اس پار سے پاکستان کو خطرہ لاحق نہیں ہو جاتا۔

  • طالبان نے افغان عوام کو دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے لیے قربان کر دیا ،احمد مسعود

    طالبان نے افغان عوام کو دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے لیے قربان کر دیا ،احمد مسعود

    افغانستان کے معروف مزاحمتی رہنما اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ احمد مسعود نے طالبان حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان نے افغانستان کے عوام کو دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے لیے قربان کر دیا ہے۔

    یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جو افغانستان کی اسلامی وحدت پارٹی کے سابق رہنما عبدالعلی مزاری کی شہادت کی 31ویں برسی کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔تقریب سے خطاب میں احمد مسعود نے کہا کہ طالبان کی موجودہ پالیسیوں کے باعث افغانستان ایک بار پھر خطے میں سلامتی اور جیوپولیٹیکل کھیل کا میدان بن چکا ہے۔ طالبان مختلف شدت پسند تنظیموں کو پناہ دے رہے ہیں جس سے نہ صرف افغانستان بلکہ پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے۔ طالبان نے متعدد بین الاقوامی اور علاقائی عسکریت پسند گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رکھی ہیں جن میں القاعدہ، انصاراللہ، جیش العدل، ٹی ٹی پی سمیت دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔

    نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ کے مطابق طالبان کی ان پالیسیوں نے افغانستان کو ایک ایسے میدان میں تبدیل کر دیا ہے جہاں مختلف طاقتیں اپنے مفادات کے تحت سلامتی اور سیاسی کھیل کھیل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان افغان عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

    احمد مسعود نے اپنے خطاب میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین پر عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی کے باعث پاکستان کی فوجی کارروائیاں اور سرحدی حملے سامنے آئے ہیں،موجودہ کشیدہ صورتحال دراصل طالبان کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کا نتیجہ ہے