Baaghi TV

غزہ میں عیدالاضحیٰ کی رونقیں ماند، جنگ نے خوشیاں چھین لیں

غزہ میں اس سال عیدالاضحیٰ ایسے ماحول میں منائی جا رہی ہے جہاں خوشیوں، رونقوں اور تہوار کی روایتی چہل پہل کی جگہ تباہی، بے گھری اور معاشی بدحالی نے لے لی ہے۔ اسرائیلی حملوں، مسلسل بمباری اور شدید مہنگائی کے باعث ہزاروں خاندان اپنے بچوں کی معمولی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہیں۔

ماضی میں غزہ کی گلیاں عید کے موقع پر نئے کپڑوں، مٹھائیوں اور قربانی کی تیاریوں سے سج جایا کرتی تھیں۔ بچے خوشی خوشی بازاروں کا رخ کرتے، گھروں میں مامول اور کاک جیسی روایتی مٹھائیاں تیار ہوتیں اور ہر طرف عید کا سماں ہوتا تھا، لیکن اب حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ بازاروں میں موجود اشیاء عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔غزہ کے شمالی علاقے سے بے گھر ہو کر دیرالباح میں مقیم فلسطینی خاتون نادیہ ابو شمالہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف بازار دیکھنے جاتی ہیں کیونکہ خریداری کی استطاعت نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر چیز کی قیمت سن کر دل ٹوٹ جاتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بار عید میں وہ خوشی باقی نہیں رہی جو کبھی غزہ کی پہچان ہوا کرتی تھی۔

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی تقریباً 80 فیصد عمارتیں جنگ میں تباہ ہو چکی ہیں جبکہ بیشتر آبادی بنیادی ضروریات کے لیے امدادی سامان پر انحصار کر رہی ہے۔ امدادی اداروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے سرحدی راستوں پر سخت کنٹرول کے باعث امدادی سامان اور ضروری اشیاء کی ترسیل محدود ہے، جس سے غذائی بحران اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

غزہ کے رہائشی ابو عبداللہ الموسادر نے کہا کہ جنگ بندی کے دعوؤں کے باوجود حملے جاری ہیں، تاہم والدین پھر بھی اپنے بچوں کے چہروں پر خوشی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر تقریباً 13 ہزار شیکل جمع کیے تاکہ قربانی کے لیے ایک بھیڑ خرید سکیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں اتنی مہنگی قربانی کرنا عام شہری کے لیے تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارے کے مطابق جنگ سے پہلے غزہ میں موجود بھیڑوں کی تعداد اب ایک چوتھائی رہ گئی ہے۔ 21 لاکھ آبادی والے غزہ میں صرف تقریباً 15 ہزار بھیڑیں باقی بچی ہیں، جس کے باعث قربانی کے جانوروں کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں۔غزہ کی وزارت زراعت کے ترجمان رفعت اسالیا کے مطابق جنگ سے قبل ایک بھیڑ تقریباً ایک ہزار شیکل میں دستیاب تھی، لیکن اب اس کی قیمت 11 ہزار سے 15 ہزار شیکل تک جا پہنچی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چارے کی قلت، ٹرانسپورٹ اخراجات، فارموں کی تباہی اور سپلائی میں کمی نے مویشی پالنا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔

دوسری جانب غزہ میں گیس کی شدید قلت کے باعث گھروں میں کھانا پکانا اور روایتی عید کی مٹھائیاں تیار کرنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ جنوبی غزہ میں پناہ گزین ابو احمد وافی کا کہنا تھا کہ بازاروں میں مٹھائیاں تو موجود ہیں لیکن لوگ انہیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، جبکہ گھروں میں انہیں تیار کرنے کے لیے گیس بھی دستیاب نہیں۔

More posts