آج فیس بک اسکرول کرتے ہوئے ایک پوسٹ اچانک نگاہوں کے سامنے آ گئی۔ اُس بچے کی سبز آنکھوں کے سحر نے جیسے مجھے جکڑ لیا۔ ایک لمحے کو یوں لگا جیسے سامنے عمر راٹھور شہید کھڑا ہو۔ انگلیوں کی جنبش تھم گئی، سانس بوجھل ہو گئی اور سوچیں بہت دور تک پھیلتی چلی گئیں۔جب زینب قتل کیس رونما ہوا، اُس وقت میری بیٹی بھی تقریباً چار سال کی تھی۔ عجیب اتفاق یہ تھا کہ زینب نے جس رنگ کا کوٹ پہنا ہوا تھا، ویسا ہی کوٹ میری بیٹی کے پاس بھی تھا۔ اُس سانحے کے بعد نہ جانے کتنی راتیں عدمِ تحفظ، خوف اور بے خوابی میں گزریں۔ اکثر اپنی سوئی ہوئی بیٹی کو سینے سے لگا کر دیر تک روتی رہتی تھی۔ ہر ماں اُس وقت زینب میں اپنی بیٹی دیکھ رہی تھی۔
زینب کی خاموش آواز آپ سب بنے… آپ کی چیخ، آپ کا احتجاج اور آپ کی بے چینی ہی تھی جس نے قاتل کو کیفرِ کردار تک پہنچایا۔ آج پھر ایک عمر ہم سے انصاف مانگ رہا ہے۔ خدارا! عمر کی مدفون سسکیوں کی آواز بن جائیں۔ وہ معصوم جنت کا شہزادہ بن کر اپنے رب کے پاس چلا گیا، مگر اب زمین پر انصاف مانگنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ظلم پر خاموشی درحقیقت ظالم کا ساتھ ہوتی ہے۔ عمر کی قبر میں دفن سسکیوں کو اپنے لفظوں سے زندہ کر دیجیے۔ یہ صرف ایک بچے کی جنگ نہیں یہ ہم سب کے بچوں کے محفوظ مستقبل کی جنگ ہے۔ اگر آج بھی ہم خاموش رہے تو قاتل دندناتے پھریں گے اور یہ قیامت کبھی نہیں رکے گی۔
خدارا اپنی آواز بلند کیجیے۔ #JusticeForUmer لکھ کر یہ پیغام آگے پہنچائیے۔
