Baaghi TV

Blog

  • عازمین حج کی حفاظت کیلئے میزائل سسٹم اور مختلف فضائی دفاعی نظام نصب

    عازمین حج کی حفاظت کیلئے میزائل سسٹم اور مختلف فضائی دفاعی نظام نصب

    سعودی عرب نے حج 2026 کے لیے سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات مکمل کرتے ہوئے عازمینِ حج کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال کر دیا ہے۔

    سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام کے اطراف جدید اینٹی ایئرکرافٹ گنز، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز اور ریڈار نظام نصب کر دیے گئے ہیں تاکہ لاکھوں زائرین کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکےایامِ حج کے دوران زمینی نگرانی کے ساتھ ساتھ فضائی نگرانی بھی مسلسل جاری رہے گی۔

    وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ دنیا بھر سے آنے والے عازمینِ حج کی سلامتی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی نظام کو فعال بنایا گیا ہے,مکہ میں نصب کیے گئے فضائی دفاعی نظام میں اینٹی ایئرکرافٹ گنز کے علاوہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز اور جدید ریڈار بھی شامل ہیں، جو کسی بھی ممکنہ خطرے کی فوری نشاندہی اور ردعمل کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    حکام کے مطابق رواں برس فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے آنے والے غیرملکی عازمینِ حج کی تعداد 15 لاکھ 18 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے حج سیکیورٹی فورسز کے کمانڈرز نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مختلف ممالک سے آنے والے تقریباً 30 فیصد عازمین ’’روٹ ٹو مکہ انیشی ایٹو‘‘ کے تحت جدید اور تیز رفتار امیگریشن نظام کے ذریعے سعودی عرب پہنچے, اس سال عازمینِ حج کی رہائش، آمدورفت، سیکیورٹی اور نگرانی کے لیے بڑے پیمانے پر جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے تاکہ حج کے تمام مراحل کو محفوظ، منظم اور پُرسکون بنایا جا سکے۔

  • اپنے آپ کے ساتھ لطف اندوز زندگی کی شروعات کیجئے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    اپنے آپ کے ساتھ لطف اندوز زندگی کی شروعات کیجئے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    زمانے کی رنگینیوں میں اپنے شب و روز گزارتے میں دنیا دیکھنے کے شوق میں مست جیے جا رہا تھا غفلت کا یہ عالم رہا کہ کبھی اپنے آپ کے اندر رکھی خوبصورتی سے ملنے کا خیال ہی نہیں آیا۔ دنیا میں کتنے ایسے انسان ہیں جو اپنے آپ سے ملے ہوں؟میں تو اک مدت سے اپنے آپ کے ساتھ ہی رہتا ہوں اور یہ ساتھ مجھے اس قدر پسند ہے کہ میں ساری زندگی اپنے آپ کے ساتھ گزار لوں اور بوریت کا احساس تک نہ ہو۔

    میں اپنے اندرونی حسن سے آشنا ہوگیا ہوں میں نے اسے کھوجا پھر سجایا پھر خود کو خود میں بسایا۔ایک ایک معیاری احساسات و جذبات کوتلاش کیا خوشی و فخردینے والے اصولوں کو مزاج روح پہ لاگو کر کے اپنے اندر کی اُس جنت کا حصہ بنا لیا جس میں میں رہتا ہوں یہ خودی میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی والی بات ہے لوگ دیکھاؤے پر سرمایہ کاری کرتے ہیں میرا وجود میرا سرمایہ ہے۔تبھی تو میں اپنے آپ کا دوست ہی نہیں عاشق ہوں جو اپنے آپ کے ساتھ جینے کے لیے ایک زندگی کو کم سمجھتا ہے۔مجھے کوئی باہر کا منظر غمزادہ نہیں کر سکتا کیونکہ میں کسی غیر معیاری احساس کو اپنے اندر بسنا تو دُور کی بات جھانکنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔میں اپنے آپ کا پہرہ دیتا ہوں لوگ دنیاوی چیزوں کے چھن جانے کے خوف سے حفاظتی حصار بناتے ہیں تو میرے اندرنورانی علامات سمائی ہوئی ہیں مجھے ان کے لیے کچھ تو اصول وضوابط لاگو رکھنے چاہیں جن پر سمجھوتہ نہ کیا جا سکے۔جو لوگ اپنے آپ کی اہمیت سے ناواقف رہتے ہیں وہ کسی کو خوبسیرت تصور کرکے اپنے اندربسالیتے ہیں اور وقت اس فیصلے کو غلط ثابت کر دیتا ہے کہ سستے انسان پر مہنگا جذبہ قربان کر دینے سے اُن کی خصلتیں بدل نہیں جاتیں خواہش نفس اور جذبہ محبت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔محبت کے رُوحانی جذبے سے ناواقف لوگ خواہش نفس کی غرض سے بے منزل سفر میں دل تھکالیتے ہیں۔خواہش نفس وجود سے وجود کا عارضی تعلق ہے مگر محبت رُوح سے رُوح کامستقل رشتہ ہے۔شرم و حیا میں لپٹی ہوئی محبت عشق جیسی ہوتی ہے یعنی جسم کی غیر موجودگی میں رُوحوں کا ملاپ رہتا ہے۔میری تو کھوج ہی انمول ہے میں نے اپنی رُوح کو سنوارا تو میرا وجود اس کا عاشق ہو گیا اسی لیے مجھے اس خود غرض دور میں اپنے آپ کے ساتھ رہنا قرار دیتا ہے۔
    اب یہ معجزہ ہوتا کیسے ہے اسے بھی جان لیجئے تاکہ آپ کو اپنے آپ تک پہنچنے کا راز معلوم ہو سکے۔میری زندگی میں ایک مایوس وقت بھی ٹہرا رہاتھا جب مجھے اپنے ہونے پرافسوس تھا کہ میں پیدا ہی کیوں ہوا میں اپنی سالگرہ کے دن سیاہ لباس پہن کر فاقہ کیا کرتاتھا۔بے فیض منزلوں کے سفروں میں اپنے وجود کو تھکانے کی وجہ سے میری صحت جواب دے گئی اور ڈاکٹر نے مجھے سکون واطمینان کے لیے بستر پر لیٹ کر ایک سال آرام کرنے کی تاکید کر دی جو حوصلہ افزائی سے محروم تھی جس نے میراصحت مند ہونے کا یقین کمزور کر دیا۔
    ایک سال بستر پر بیمار پڑے رہنا۔۔۔یا شاید موت کا انتظار کرتے رہنا۔۔۔۔میں خوف سے لرز جاتا۔۔۔آخر کیوں۔۔۔کس لیے۔۔۔میں نے کون سا جرم کیا ہے؟جو اس سزا کا مستحق قرار پایا؟

    میں روتا اور بین کرتامیرے مزاج میں تلخی بھر گئی اور زہن بغاوت پر اتر آیا۔۔۔جیسے کسی بڑے صدمے کے موقع پر رونے اور بین کرنے کے بعد رُوح کا دُکھ شدت سے نیچے اُتر آتا ہے اس فطرتی عمل سے گزرنے کے بعد میں نے اپنے آپ کو دلاسہ دیتے ہوئے پوچھاکہ تمہارا کیا خیال ہے سال بھر بستر پرپڑے رہنا بڑا المیہ ہے؟نہیں،ایسانہیں تمہیں سوچنے اور اپنے آپ کو جاننے کے لیے وقت و ماحول مل جائے گا۔تم اگلے چند ماہ میں ہی اتنی رُوحانی ترقی حاصل کر لو گئے جو شاید ساری زندگی نہ کر سکتے۔اس خیال کے بعد میں خاموش ہو گیا اپنی گالوں سے آنسو صاف کیے اور قدروں کے نئے احساس پیدا کرنے میں مگن ہو گیا رُوحانی اور وجدانی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا جس سے پتا چلا کہ، جو تمہارے شعور اور وجدان کے اندر ہے تم صرف اسی کا اظہار کر سکتے ہو۔یہ الفاظ میرے دل کی گہرائیوں میں اُترئے اور وہیں جاگزیں ہو گئے۔میں قوت بخش خیالات سوچنے کی کوشش سے زندہ رہنے کے کامیاب سہارے تخلیق کرتا چلا گیا۔خوشی مسرت اور صحت کے خیالات ہر روز سوتے جاگتے وقت میرا معمول بنے رہے میں اُن چیزوں کو یاد کرتا جن کا شکرگزار تھا جہاں مجھ سے دنیا چھن رہی تھی وہاں میں نے اپنے آپ کے لیے ایک نایاب دنیا تخلیق کر لی جو صرف میری تھی۔

    رُوح افزاء موسیقی کتابیں اور لذیزکھانے اپنے آپ کی حوصلہ بخش عیادت و میزبانی الہامی کیفیات اور تصوراتی جہانوں کی سیر احساسات و جذبات کے لطف اندوز نظاروں کی تنہائی میں محفلیں۔ میں نے اپنے اندر موجود تحفہ خداوندی جسمانی و رُوحانی طاقتوں سے جان لیوابیماری کے اُن دنوں کونئی اور بہتر زندگی میں بدل کر رکھ دیا۔جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ رُوحانی بیماریوں سے بھی نجات کی کامیابی حاصل کر لیناکوئی عام بات نہیں تھی۔
    میں تہہ دل سے نایاب اور مسرتوں سے لدے پھندے اُس سال کا مشکورہوں جو بیماری کے بستر پر گزراجو حیرتوں کے جہان میں جینے کی وجہ بنا۔میں نے ہر روز اپنی نعمتوں کو گننے کی عادت اپنائی جو میرا قیمتی اثاثہ بنی مجھے یہ تسلیم کرتے ندامت ہوتی ہے کہ جب تک مجھ پر موت کا خوف غالب نہ آیا مجھے جینے کا ڈھنگ نہ آیا۔
    انسانی زندگی کو درپیش حادثات کھل کر کھلنے کا پیغام حیات بھی تو ہو سکتے ہیں۔ہر واقعے کے روشن پہلوکی طرف دیکھنے کی عادت کثیرمالی آمدنی سے زیادہ قیمتی ہے۔

    اس جملے نے عقل کے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے کہ،زندگی کے صرف دومقصدہیں پہلاجو تم چاہتے ہو اسے حاصل کر نادوسرا پھر اس سے لطف اٹھانا۔صرف عقل مند لوگ ہی دوسرے مقصد کو پا سکتے ہیں۔اگر آپ پریشانیوں کو دُور کرکے نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں تو اپنی زحمتوں کو نہیں بلکہ اپنی رحمتوں کو شمار کیجئے۔

  • ملکی صورتحال اور عوام کا کردار،تحریر: بینا علی

    ملکی صورتحال اور عوام کا کردار،تحریر: بینا علی

    عوام کسی بھی ملک کی معاشرت، معیشت اور ترقی کا بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ ایک مضبوط اور خوش حال ریاست صرف حکومتی اداروں، قوانین اور پالیسیوں سے قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کے پس منظر میں باشعور اور ذمہ دار شہریوں کی مشترکہ کاوشیں شامل ہوتی ہیں۔ اگر عوام ذمہ داری کا احساس کر لیں تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے، لیکن اگر ہر شخص صرف اپنے مفاد تک محدود ہو جائے تو بہترین نظام بھی ناکام ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک منظم قوم کے بجائے افراد کا ایک منتشر ہجوم ہیں۔ ہر شخص اپنی ذات کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ اجتماعی مفاد، قومی شعور اور باہمی اتحاد کا فقدان ہماری کمزوری بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار وسائل اور صلاحیتوں کے باوجود ہم ان مسائل سے دوچار ہیں جو ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ملکی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کی ناکافی سہولیات بدامنی، سیوریج کے ناقص انتظامات، صاف پانی کی قلت، بجلی اور گیس کے مسائل اور بڑھتی ہوئی غربت عوام کے اہم ترین مسائل ہیں۔ روزمرہ اشیائے ضرورت کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ متوسط اور غریب طبقے کے لیے زندگی کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ والدین بچوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات، علاج معالجے اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔یہ تمام مسائل بظاہر حکومتی ناکامی کا نتیجہ محسوس ہوتے ہیں لیکن اگر غیر جانب داری سے دیکھا جائے تو ان میں ہماری اجتماعی بے حسی اور غیر ذمہ داری بھی کسی حد تک شامل ہے۔ ہم اپنے حقوق کے لیے آواز تو بلند کرتے ہیں مگر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتتے ہیں۔ قانون کی پاسداری، ٹیکس کی ادائیگی، صفائی ستھرائی، وقت کی پابندی، دیانت داری اور دوسروں کے حقوق کا احترام وہ بنیادی اصول ہیں جن پر معاشرے قائم ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے احتجاج کے نام پر بھی ہمارا طرزِ عمل اکثر ذمہ داری سے عاری ہوتا ہے۔ اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن کسی بھی احتجاج کی صورت میں پرتشدد راستہ اختیار کرنا، سڑکیں بند کرنا، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا، گاڑیوں کو آگ لگانا اور عوامی سہولیات تباہ کرنا کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں۔ ایسا طرزِ عمل مسائل کے حل کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے اور قومی خزانے پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔ درحقیقت جس ملک کے وسائل پہلے ہی محدود ہوں، وہاں ملکی املاک کو نقصان پہنچانا اپنے ہی مستقبل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

    ملکی وسائل کا ضیاع بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بجلی، پانی، گیس اور دیگر قدرتی وسائل اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں، جن کے استعمال میں اعتدال اور ذمہ داری لازم ہے۔ بدقسمتی سے ہم ان وسائل کو بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ غیر ضروری پنکھے اور لائٹس چلتی رہتی ہیں، پانی بہتا رہتا ہے، اور گیس کا بے جا استعمال معمول بن چکا ہے۔ پھر جب قلت پیدا ہوتی ہے تو ہم تمام تر ذمہ داری حکومت پر ڈال دیتے ہیں۔مظفرآباد آزاد کشمیر کی شہری ہونے کے ناطے میں نے خود دیکھا ہے کہ جہاں بجلی کی قیمت نسبتاً کم ہے تقریباً 3 روپے یونٹ وہاں اس سہولت کے باعث ہر دوسرے گھر میں ائیر کنڈیشنر کا استعمال عام ہے۔ سردیوں میں گرم پانی اور کھانا پکانے کے لیے ہیٹرز اور پانی کے ٹینکوں میں برقی راڈز نصب کر دیےجاتے ہیں۔ نتیجتاً بجلی کا غیر معمولی لوڈ بڑھ جاتا ہے اور ٹرانسفارمر بار بار جل جاتے ہیں۔اسی طرح کشمیر میں پانی کی وافر فراوانی کی وجہ سے اکثر گھروں میں پانی کی ٹینکیاں دن رات اوور فلو ہوتی رہتی ہیں۔ پانی مسلسل بہتا رہتا ہے، مگر بہت کم لوگ اس ضیاع کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ حالانکہ یہی پانی دنیا کے کئی خطوں میں زندگی اور موت کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہ کرنا ناشکری کے مترادف ہے اور وسائل کا یہ ضیاع آنے والی نسلوں کے حق پر ڈاکا ڈالنے کے برابر ہے۔ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بھی ہمارے اجتماعی رویوں کا عکاس ہے۔ ہم چند لمحوں کا انتظار برداشت نہیں کرتے۔ سگنل توڑنا، ہیلمٹ نہ پہننا، اوور اسپیڈنگ کرنا، ون ویلنگ، ون وے کی خلاف ورزی کرنا اور قطار میں لگنے کے بجائے دوسروں کا حق مارنا ہماری عادت بن چکا ہے۔ یہی جلد بازی اور لاپرواہی آئے دن حادثات کا سبب بنتی ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ حادثے کے بعد زخمی کی مدد کرنے کے بجائے بہت سے لوگ ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ صفائی کے معاملے میں بھی ہمارا رویہ دوہرا ہے۔ ہم اپنے گھر تو صاف رکھتے ہیں مگر گلی، بازار اور عوامی مقامات کو گندا کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے۔ کوڑا کرکٹ سڑکوں پر پھینک دینا، نالیاں بند کرنا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا ہماری عادت بنتی جا رہی ہے۔ حالانکہ صفائی نصف ایمان ہے اور ایک صاف ماحول ہی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔تعلیم اور تربیت کے میدان میں بھی عوام کا کردار انتہائی اہم ہے۔ والدین اگر بچوں کی صرف تعلیمی کامیابی پر نہیں بلکہ اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دیں، انہیں سچائی، دیانت داری، احترامِ انسانیت اور وطن سے محبت کا درس دیں، تو یہی بچے مستقبل میں ایک باکردار قوم کی بنیاد بنتے ہیں۔ استاد، والدین اور معاشرہ مل کر نئی نسل کی شخصیت تشکیل دیتے ہیں۔دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی کامیابی کا راز ان کے عوام کے کردار میں پوشیدہ ہے۔جرمنی،جاپان،چائنہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے صرف جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ترقی نہیں کی، بلکہ وہاں کے شہری قانون کی پابندی کرتے ہیں، وقت کی قدر کرتے ہیں اور اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔قومیں نعروں، تقریروں اور وعدوں سے نہیں بنتیں بلکہ کردار، نظم و ضبط، قربانی اور احساسِ ذمہ داری سے ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ نظام ہم سے الگ کوئی شے نہیں ہم خود ہی اس نظام کا حصہ ہیں۔ اگر ہر فرد اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرنا شروع کر دے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی خود بخود آنا شروع ہو جاتی ہے۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوسروں کو بدلنے کے انتظار میں بیٹھنے کے بجائے اپنی اصلاح سے آغاز کریں۔ اگر ہم اپنے گھر، گلی، دفتر، سکول اور معاشرے میں دیانت داری، نظم و ضبط، صفائی، قانون کی پابندی اور وسائل کی قدر کو اپنا شعار بنا لیں تو ملکی صورتحال بہتر ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔یاد رکھنا چاہیے کہ اندھیروں کو کوسنے سے بہتر ہے کہ ہر فرد اپنے حصے کا ایک چراغ روشن کرے تو مسائل کے اندھیرے خود بخود چھٹ جائیں گے۔ کیونکہ نظام کا حصہ ہم خود ہیں اور جب عوام کا کردار مثبت ہو جائے تو کوئی طاقت قوم کی ترقی کا راستہ نہیں روک سکتی

  • شکار پور:کچے کے علاقے میں کامیاب آپریشن، لاہور اور پشاور سے اغوا کی گئی لڑکیاں بازیاب،2 ڈاکو ہلاک

    شکار پور:کچے کے علاقے میں کامیاب آپریشن، لاہور اور پشاور سے اغوا کی گئی لڑکیاں بازیاب،2 ڈاکو ہلاک

    شکار پور پولیس نے کچے کے علاقے میں کامیاب آپریشن کر کےلاہور پشاور سے اغوا کی گئی2 لڑکیوں کو بحفاظت بازیاب کرالیا-

    ترجمان سندھ پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مغویہ 11 سالہ حورم سعید پٹھان کو پولیس نے بحفاظت بازیاب کرالیا ہے اورآپریشن کے دوران مرکزی ڈاکو عبدالوحید عرف ملا سمیت 2 ڈاکو ہلاک ہوگئے ہیں، آئی جی سندھ نے پشاور سے تعلق رکھنے والی 11 سالہ بچی حورم سعید پٹھان کے اغوا سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی شکارپور کو بچی کی باحفاظت بازیابی کی ہدایت جاری کی تھی جس پر شکار پور میں کچے کے علاقے کوٹ شاہو میں 2 روز قبل آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا آپریشن کے نتیجے میں 22 مئی کو لاہور کی رہائشی نوکری کے جھانسے میں اغوا ہونے والی لڑکی جنیفر عامر مسیح جبکہ 23 مئی کو پشاور سے تعلق رکھنے والی حورم سعید پٹھان کو پولیس نے باحفاظت بازیاب کرالیا اور آپریشن کے دوران دو اغوا کار ڈاکو عبدالوحیدعرف ملا اور یاسین بنگلانی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کامیاب آپریشن پر ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب، ایس ایس پی شکار پور محمد کلیم ملک اور آپریشن میں حصہ لینے والی پوری پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے افسران اور جوانوں کے لیے نقد انعامات اور تعریفی اسناد کا اعلا ن کیا ہے،انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کے افسران اور جوانو ں نے بہادری، پیشہ ورانہ مہارت، جرأت اور جوانمردی کامظاہرہ کرتے ہوئے مغوی بچیوں کو بحفاظت بازیاب کرایاجو قابل تحسین اقدام ہے شکارپور پولیس اور آپریشن میں شریک افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر معصوم بچیوں کو بازیاب کیا، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سندھ پولیس کے آپر یشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے اور عوام کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

  • پاکستانی فائٹر  نے ایشین مکسڈ مارشل آرٹس چیمپئن شپ کے فائنل کیلئے کوالیفائی کر لیا

    پاکستانی فائٹر نے ایشین مکسڈ مارشل آرٹس چیمپئن شپ کے فائنل کیلئے کوالیفائی کر لیا

    پاکستانی فائٹر شاہ زیب خان نے تاشقند میں جاری ایشین مکسڈ مارشل آرٹس چیمپئن شپ کے فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

    شاہ زیب خان نے فلپائن، چین اور قازقستان کے مضبوط حریفوں کے خلاف شاندار فتوحات حاصل کرکے فائنل میں جگہ بنائی،ایونٹ سعودی عرب میں ہونے والے ایشین انڈور اینڈ مارشل آرٹس گیمز 2026 کے لیے کوالیفائنگ راؤنڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔

    شاہ زیب خان ایشین چیمپئن شپ اور ایم ایم اے ورلڈ چیمپئن شپ کے برانز بھی اپنے نام کرچکے ہیں،پاکستان مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن کے صدر ذوالفقار علی نےتوقع ظاہر کی ہے کہ شاہ زیب خان فائنل میں بھی کامیابی کے ساتھ پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیت کر قومی پرچم بلند کریں گے۔

  • چین:کوئلے کی کان میں خوفناک گیس دھماکہ، 82 کان کن ہلاک، 188 زخمی

    چین:کوئلے کی کان میں خوفناک گیس دھماکہ، 82 کان کن ہلاک، 188 زخمی

    چین کے شمالی صوبے میں واقع کوئلے کی کان میں گیس بھر جانے کے باعث ایک ہولناک دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 82 کان کن ہلاک اور متعدد لاپتا ہیں جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جس وقت یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا، اس وقت کان کے اندر 247 کان کن کام میں مصروف تھے دھماکے کے فوری بعد انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر ریسکیو اور سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا تھاامدادی کارروائیوں کے دوران کان میں پھنسے ہوئے 100سے زائد افراد کو بحفاظت زندہ نکال لیا گیا ہے، جبکہ 188 کان کنوں کو شدید زخمی حالت میں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

    مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ کان کے اندر پھیلی زہریلی گیس کی وجہ سے زیادہ تر زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہےابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حادثے کی جگہ پر کاربن مونو آکسائیڈ گیس خطرناک حد تک جمع ہو گئی تھی، جسے اس ہولناک دھماکے کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل سال 2009میں بھی شمال مشرقی صوبے ہیلونگ جیانگ کی ایک کان میں دھماکے سے 100ے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ سال 2023 میں اندرونِ منگولیا کی ایک اوپن پٹ کان بیٹھنے سے 53 کان کن مارے گئے تھے۔

  • امریکا-ایران امن معاہدے کے  مجوزہ ڈرافٹ کو اہم شخصیات کی منظوری  مل گئی،واشنگٹن ٹائمز

    امریکا-ایران امن معاہدے کے مجوزہ ڈرافٹ کو اہم شخصیات کی منظوری مل گئی،واشنگٹن ٹائمز

    واشنگٹن ٹائمز کے مطابق امریکا اور ایران آئندہ 24 گھنٹوں میں اہم اعلان کر سکتے ہیں، امن معاہدے کے مجوزہ مسودے کی منظوری میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔

    امریکی اخبار ’واشنگٹن ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تیار کیے گئے مجوزہ ڈرافٹ کو اہم شخصیات کی منظوری حاصل ہو گئی ہے، جس کے بعد معاہدے کو حتمی منظوری کے لیے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کو ارسال کر دیا گیا ہے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکا ف، جیرڈ کشنر اور ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف سمیت دیگر اہم شخصیات نے مجوزہ مسودے کی منظوری دے دی ہے۔

    واشنگٹن ٹائمز کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والی اس پیشرفت کے بعد آئندہ 24 گھنٹوں میں باضابطہ اعلان متوقع ہے، رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے کے اعلان کے بعد خطے میں مختلف محاذوں پر جاری جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، پا کستان نے اس تمام سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کیا، جب کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مؤثر کردار نبھایا۔

    قبل ازیں امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات کار جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں مجوزہ حتمی معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا اور یہ بھی یقینی بنائے گا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو تسلی بخش انداز میں سنبھالا جائے، میں صرف ایسے معاہدے پر دستخط کروں گا جس میں ہمیں وہ سب کچھ حاصل ہو جو ہم چاہتے ہیں،تازہ تجاویزمیں آبنائے ہرمزکوکھولنا، بعض ایرانی اثاثے بحال کرنا اور مذاکرات جاری رکھنا شامل ہے۔

  • مناسک حج کے دوران سخت گرمی کا امکان ہے،سعودی محکمہ  موسمیات

    مناسک حج کے دوران سخت گرمی کا امکان ہے،سعودی محکمہ موسمیات

    سعودی محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہےکہ مناسک حج کے دوران مکہ مکرمہ میں سخت گرمی کا امکان ہے اور 25 مئی تک درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاسکتا ہےجبکہ مدینہ منورہ میں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنےکا امکان ہے۔

    سعودی محکمہ موسمیات کے مطابق مناسک حج کے دوران ہوا میں نمی کا تناسب 40 فیصد رہے گا اور کھلے علاقوں میں گرد آلود ہوا چلنےکا امکان ہے، جازان، عسیر الباحہ اور مکہ کے پہاڑی علاقوں میں طوفان اور بارش کا بھی امکان ہے حکام نے اپیل کی ہے کہ عازمین حج ہدایات پر عمل کریں اور زیادہ مقدار میں پانی کا استعمال کرکے سخت گرمی میں پانی کی کمی سے بچنےکی کوشش کریں اور رہنما حفاظتی اصولوں پر ہر حال میں عمل کریں۔

    سعودی حکام کے مطابق جمعہ کی دوپہر تک بیرون ملک سے آنے والے حجاج کی تعداد 15 لاکھ 18 ہزار سے تجاوز کر چکی تھی، جن میں سے 14 لاکھ 57 ہزار سے زیادہ فضائی راستے سے پہنچےگزشتہ روز ذی الحج کے پہلے جمعے کو لاکھوں زائرین نے مسجد الحرام میں نماز جمعہ ادا کی، مناسک حج کا اہم ترین رکن وقوف عرفہ 26مئی کو ادا کیا جائے گا۔

  • نیو یارک ٹائمز نے  فیلڈ مارشل کے دورہ ایران کو اعلیٰ سطح کی سفارتکاری قرار دیدیا

    نیو یارک ٹائمز نے فیلڈ مارشل کے دورہ ایران کو اعلیٰ سطح کی سفارتکاری قرار دیدیا

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ ایران کو اعلیٰ سطح کی سفارتکاری قرار دے دیا۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران مفاہمت کے قریب آگئے ہیں، امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہونے والی ہے، اس مفاہمت میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کلیدی کردار ادا کیا فیلڈ مارشل کا حالیہ دورہ اعلیٰ سطح کی سفارت کاری ہے۔

    امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ پورے مشرق وسطیٰ میں لوگوں نے نئی لڑائی کے امکان کے لیے کمر کس لی تھی، ایسے میں دونوں اطراف کے حکام نے کہا کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ وہ ایک معاہدے کے قریب جا رہے ہیں، ایرانی اور امریکی حکام نے کہا کہ ہفتے کے روز مکمل جنگ کی واپسی کو روکنے کی آخری سفارتی کوششوں میں پیشرفت ہوئی، کیونکہ دونوں فریقوں کے درمیان ایک ماہ تک جاری رہنے والی جنگ بندی میں توازن برقرار ہے۔

    امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران مفاہمت کی یادداشت کا مسودہ تیار کرنے کے آخری مرحلے میں ہیں ایک ایسا فریم ورک جس میں ممکنہ طور پر ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کو آگے بڑھایا جائے گااسماعیل بقائی نے کہا کہ ہم باہمی طور پر قابل قبول حل تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

  • عباس عراقچی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    عباس عراقچی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے ۔

    تفصیلات کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ،دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال، بالخصوص خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا دونوں جانب سے نیو یارک میں جاری جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے جائزہ اجلاس سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی۔

    عباس عراقچی نے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی عمل کی تازہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی بداعتمادی پر مبنی پالیسی، خصوصاً سفارتی وعدوں کی بار بار خلاف ورزی، ایران کے خلاف فوجی جارحیت، متضاد مؤقف اور حد سے زیادہ مطالبات، پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔