Baaghi TV

Blog

  • ایران اپنے یورینیم سے دستبرداری  پر راضی ہو گیا،امریکی اخبار کا دعویٰ

    ایران اپنے یورینیم سے دستبرداری پر راضی ہو گیا،امریکی اخبار کا دعویٰ

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران نے دو امریکی حکام کے جاری مغربی ایشیائی تنازع کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ ہونے والے وسیع تر امن معاہدے کے تحت اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہونے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق اس پیش رفت کی تصدیق دو امریکی حکام نے کی ہے یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن اور تہران ایک ایسے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں جس کا مقصد جنگی کشیدگی ختم کرنا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، تاہم ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، البتہ امریکی حکام کے مطابق ایران اصولی طور پر اپنے اس یورینیم ذخیرے سے دستبردار ہونے پر تیار ہوگیا ہے جو ہتھیاروں کے معیار کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس مرحلے پر دونوں ممالک کے درمیان صرف ایک وسیع فہم موجود ہے جبکہ یورینیم کو ٹھکانے لگانے کے حتمی طریقہ کار پر ابھی بات چیت ہونا باقی ہے مستقبل میں ہونے والے ایٹمی مذاکرات میں یہ طے کیا جائے گا کہ ایران یورینیم کو منتقل کرے گا، اس کی افزودگی کم کرے گا یا کسی اور طریقے سے اسے غیر مؤثر بنایا جائے گا۔

    اس پیش رفت کو مذاکرات میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جارہا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ہدایت دی تھی کہ یورینیم کا ذخیرہ ملک سے باہر نہ بھیجا جائے۔

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً 400 کلوگرام یورینیم موجود ہے جس کی افزودگی 60 فیصد تک کی جاچکی ہے، جو ہتھیاروں کے معیار کے قریب تصور کی جاتی ہے جبکہ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ اس ذخیرے کو مزید افزودہ کرکے کئی ایٹمی بموں کے لیے مواد تیار کیا جاسکتا ہے۔

    یہ معاملہ مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ بن چکا تھا ایرانی مذاکرات کار مبینہ طور پر یورینیم ذخیرے سے متعلق کسی بھی عزم کو مذاکرات کے اگلے مرحلے تک مؤخر کرنا چاہتے تھے، تاہم امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے زور دیا کہ ابتدائی معاہدے میں تہران کو کم از کم ایک ابتدائی وعدہ کرنا ہوگا، بصورت دیگر مذاکرات ناکام ہوسکتے ہیں اور فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوسکتی ہیں۔

    نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی منصوبہ سازوں نے حالیہ دنوں میں ایران کے یورینیم ذخائر کو نشانہ بنانے کے مختلف آپشنز تیار کیے تھے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ذخیرہ زیادہ تر اصفہان کی زیرِ زمین جوہری تنصیب میں محفوظ ہے، جسے گزشتہ سال امریکی ٹوماہاک میزائلوں سے نشانہ بنایا جاچکا ہے زیر غور آپشنز میں بنکر شکن بموں کے استعمال کی تجویز بھی شامل تھی تاکہ زیرِ زمین ذخیرے کو مکمل طور پر تباہ کیا جاسکے۔

    رپورٹ کے مطابق ایک مرحلے پر صدر ٹرمپ نے امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کمانڈو کارروائی کی منظوری دینے پر بھی غور کیا تھا تاکہ ایران کے دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے بعد یورینیم ذخیرے پر قبضہ کیا جاسکے، تاہم زیادہ خطرات کے باعث اس آپریشن کی منظوری نہیں دی گئی زیر غور ایک ممکنہ راستہ 2015 کے اس جوہری معاہدے جیسا ہے جو سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پایا تھا، جس کے تحت ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے بڑے حصے روس منتقل کردیے تھے ایک اور تجویز یورینیم کی افزودگی کی سطح کو کم کرکے اسے ہتھیاروں کے لیے ناقابلِ استعمال بنانا ہے۔

    مجوزہ معاہدے میں بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں میں سے اربوں ڈالر کی رہائی بھی شامل ہونے کا امکان ہے رپورٹ کے مطابق تعمیرِ نو سے متعلق زیادہ تر فنڈز اسی وقت جاری کیے جائیں گے جب حتمی جوہری معاہدہ مکمل ہوجائے گا، تاکہ تہران مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ رہے۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے اہم نکات منظر عام پر آگئے

    امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے اہم نکات منظر عام پر آگئے

    امریکا اور ایران ایک اہم معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کے تحت 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کو آزادانہ تیل فروخت کی اجازت دی جا سکتی ہے،تاہم خطے میں تعینات امریکی افواج 60 روزہ مدت کے دوران خطےمیں ہی موجود رہیں گی اور صرف حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں انخلا ہوگا-

    امریکی خبر ایجنسی ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا بتانا ہےکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جائیں گے جس کی مدت 60 روز ہوگی اور اس میں توسیع بھی کی جا سکے گی معاہدے کے تحت ان 60 دنوں کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے بحری آمدورفت کے لیے کھلا رکھا جائے گا اور ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹانے پر آمادہ ہوگا تاکہ جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال ہو سکے جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق مذاکرات بھی جاری رکھے جائیں گے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس کے بدلے امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں نرم کرے گا اور بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی دی جائے گی تاکہ ایران عالمی منڈی میں آزادانہ تیل فروخت کر سکے اور اس اقدام سے ایرانی معیشت کو فائدہ ہوگا تاہم عالمی تیل مارکیٹ کو بھی نمایاں ریلیف ملنے کی توقع ہے امریکی حکام کے مطابق معاہدے کا بنیادی اصول ’کارکردگی کے بدلے ریلیف‘ ہوگا، یعنی ایران جتنی تیزی سے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹائے گا اور بحری تجارت بحال کرے گا، امریکا اسی رفتار سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں نرم کرے گا۔

    خبر ایجنسی کا ذرائع کے حوالے سے کہنا ہے کہ ایران فوری طور پر منجمد فنڈز کی بحالی اور مستقل پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں تھا تاہم امریکی مؤقف یہ ہے کہ یہ اقدامات صرف عملی رعایتوں کے بعد کیے جائیں گے مجوزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں ایران اس بات کی یقین دہانی کرائے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا جبکہ یورینیم افزودگی پروگرام کی معطلی اور انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنے سے متعلق مذاکرات بھی ہوں گے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق ایران نے ثالثی کرنے والے ممالک کے ذریعے امریکا کو زبانی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ یورینیم افزودگی محدود کرنے اور حساس جوہری مواد سے متعلق رعایتوں پر آمادہ ہے امریکی حکام کا بتانا ہے کہ خطے میں تعینات امریکی افواج 60 روزہ مدت کے دوران خطےمیں ہی موجود رہیں گی اور صرف حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں انخلا ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدے میں لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے خاتمے کا نکتہ بھی شامل ہے پاکستانی فریق اس معاہدے میں مرکزی ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے جس کی قیادت فیلڈ مارشل عاصم منیر کر رہے ہیں اور فیلڈ مارشل معاہدے کو حتمی شکل دلوانے کی کوششوں کے سلسلے میں جمعہ اور ہفتے کو تہران میں موجود رہےامریکی حکام کا کہنا ہےکہ وائٹ ہاؤس کو امید ہے کہ باقی معاملات آئندہ چند گھنٹوں میں حل ہو جائیں گے اور معاہدے کا اعلان آج اتوار کے دن کیا جا سکتا ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کا امن مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہونے کا عندیہ

    وزیراعظم شہباز شریف کا امن مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہونے کا عندیہ

    وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خطے میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف ممالک کی قیادت کے ساتھ ہونے والی حالیہ مشاورت انتہائی مفید اور نتیجہ خیز رہی۔

    اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’امن کے فروغ کے لیے غیرمعمولی کوششوں‘ کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف ممالک کے رہنماؤں اور نمائندوں کے ساتھ ہونے والا حالیہ ٹیلیفونک رابطہ انتہائی مفید اور مثبت رہا،انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان جلد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کرے گا، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس رابطے میں پاکستان کی نمائندگی کی انہوں نے امن عمل کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ’انتھک کوششوں‘ کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا،انہوں نے کہا کہ اس گفتگو کے دوران خطے کی موجودہ صورتحال اور جاری امن کوششوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ خطے میں دیرپا استحکام یقینی بنایا جا سکے پاکستان مکمل خلوص کے ساتھ اپنی امن کوششیں جاری رکھے گا اور امید ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور جلد منعقد ہوگا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کوششوں کے سلسلے میں کی جانے والی غیرمعمولی سفارتی سرگرمیوں نے عالمی توجہ حاصل کرلی انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر، متحدہ عرب امارات، اردن اور پاکستان کی قیادت کے ساتھ اہم ٹیلیفونک رابطہ کیا گیا ہے۔

    پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی براہِ راست مذاکرات کا پہلا دور 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، جو 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد ممکن ہوا۔ اگرچہ ان مذاکرات میں کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا، تاہم بات چیت تعطل کا شکار بھی نہیں ہوئی تھی۔

    بعدازاں صدر ٹرمپ نے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا مجوزہ دورہ منسوخ کردیا تھا، جہاں ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ہونا تھا۔ تاہم انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر جنگ بندی میں غیرمعینہ مدت تک توسیع کردی تھی۔

    تازہ سفارتی رابطے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا اور اس کے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ایران پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں محدود وقت کے اندر دوبارہ حملوں کی دھمکی بھی دی تھی اسی ہفتے کے اختتام پر انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بڑی حد تک اتفاق ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، جبکہ اس معاہدے کی مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔

    دریں اثنا، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہفتے کے روز تہران کا اعلیٰ سطحی دورہ مکمل کیا، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ان مذاکرات کے نتیجے میں ’حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیشرفت‘ ہوئی ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مسلسل ان سے رابطے میں ہے اور امریکی حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر بھی ان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان امن معاہدے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو ’قابلِ تعریف‘ قرار دیا۔

    ذرائع کے مطابق حالیہ مذاکرات اب محض سیاسی بیانات سے آگے بڑھ کر تفصیلی امور پر بات چیت کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور مستقبل میں ممکنہ فوجی کارروائیوں کے خلاف ضمانتیں شامل ہیں پاکستان نے مذاکراتی تعطل ختم کرنے کے لیے اپنی سفارتی سرگرمیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ اسی سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ کو ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسری مرتبہ تہران بھیجا گیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر، اسپیکر پارلیمنٹ اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیں تاکہ مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنایا جا سکے۔

  • ایران امریکا ممکنہ مذاکرات: اسحاق ڈار نے اہم پیشرفت کی تصدیق کر دی

    ایران امریکا ممکنہ مذاکرات: اسحاق ڈار نے اہم پیشرفت کی تصدیق کر دی

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی قیادت میں پاکستان سمیت سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے سربراہان کے درمیان ایک تاریخی ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیان میں اسحاق ڈار نے اسے خطے میں پائیدار امن، استحکام اور جلد ممکنہ سفارتی حل کی جانب ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے اس حساس عمل میں وزیر اعظم شہباز شریف کے وژن اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مرکزی سفارتی کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    اسحاق ڈار نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے رہنماؤں کے ساتھ کیا جانے والا آج کا اہم ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن، استحکام اور جلد ممکنہ سفارتی حل کے ہمارے مشترکہ ہدف کی جانب ایک بڑا اور اہم قدم ہے، ان شاء اللہ۔

    اسحاق ڈار نے صدارتی سفارت کاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم صدر ٹرمپ کی قیادت اور مذاکرات و سفارت کاری کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم کو دل سے تسلیم کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور پوری امریکی ٹیم (بشمول اسٹو وٹکوف اور جیرڈ کشنر) کی کوششوں کی بھی تعریف کی، جن کے مسلسل رابطوں نے جاری مذاکرات میں بامعنی پیش رفت حاصل کرنے میں مدد فراہم کی۔

    نائب وزیر اعظم نے ان امن کوششوں کو آگے بڑھانے میں ایرانی قیادت کے تعمیری کردار کا اعتراف کیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مثبت رویے کو دل سے سراہتے ہیں۔

    اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ وہ خود 28 فروری سے اس پورے سفارتی عمل کے دوران عالمی قیادت کے ساتھ مسلسل قریبی رابطے میں رہے انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس اور برادر علاقائی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا، جن میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی اور قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی شامل ہیں، جن کے تعمیری تعاون اور حمایت نے اس حتمی نتیجے کے حصول میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

    پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ میں خاص طور پر پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے دور اندیش وژن اور امن کے لیے ان کے پختہ عزم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات کو سراہتا ہوں جنہوں نے اس انتہائی حساس اور دور رس عمل کے دوران ایک مرکزی کردار ادا کیا اور آج کی اس اہم ترین عالمی بات چیت میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی انہوں نے اس طویل کاوش میں مسلسل اور مستقل سفارتی تعاون فراہم کرنے پر پاکستان کی وزارتِ خارجہ (دفتر خارجہ) کا بھی شکریہ ادا کیا۔

    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پائیدار امن، باہمی احترام اور علاقائی استحکام کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے ان مذاکرات کے کامیاب نتائج اس امید کو تقویت دیتے ہیں کہ ایک مثبت اور پائیدار حل اب ہماری پہنچ میں ہے، ان شاء اللہ۔ ہمارے خطے اور اس سے آگے کے ممالک کی مشترکہ خوشحالی اور سلامتی کے لیے جنگ و تصادم کے مقابلے میں ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کو ہی فتح ملنی چاہیے۔

  • وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنیوالا مسلح شخص  جوابی کارروائی میں ہلاک

    وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنیوالا مسلح شخص جوابی کارروائی میں ہلاک

    امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے انتہائی سخت حفاظتی حصار کے قریب ایک مسلح شخص نے سیکیورٹی اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس پر امریکی سیکرٹ سروس کے ایجنٹوں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔

    حکام کے مطابق ہفتے کی شام وائٹ ہاؤس کے قریب ایک مسلح شخص نے فائرنگ کر دی، جس کے بعد امریکی سیکرٹ سروس کے ایجنٹوں نے جوابی فائرنگ کر کے حملہ آور کو ہلاک کر دیا واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اندر موجود تھے تاہم وہ مکمل طور پر محفوظ رہے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران وہاں موجود ایک راہ گیر بھی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔

    سیکرٹ سروس کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ انتھونی گوگلیلمی نے ایک بیان میں بتایا کہ واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں موجود تھے اور ایران کے ساتھ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے تھے، تاہم وہ اس واقعے سے مکمل محفوظ رہے اور ان پر کوئی آنچ نہیں آئی۔

    یہ جھڑپ شام 6 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی صبح 3 بجے) کے فوراً بعد اس وقت ہوئی جب وائٹ ہاؤس کے حفاظتی حصار کے قریب موجود ایک شخص نے ’اپنے بیگ سے ہتھیار نکالا اور فائرنگ شروع کر دی۔

    گوگلیلمی نے راہ گیر کی حالت کے بارے میں تفاصیل فراہم کیے بغیر بتایا کہ سیکرٹ سروس پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو نشانہ بنایا، جسے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی موت کی تصدیق کر دی گئی فائرنگ کے دوران ایک راہ گیر کو بھی گولی لگی۔‘ واقعے میں سیکرٹ سروس کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

    متعدد امریکی میڈیا اداروں نے مشتبہ شخص کی شناخت ریاست میری لینڈ کے 21 سالہ نصیر بیسٹ کے نام سے کی ہے اور رپورٹ کیا ہے کہ نصیر ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھا اور ماضی میں بھی کئی بار سیکرٹ سروس کے اہلکاروں کے ساتھ اس کا سامنا ہو چکا تھا۔

    واقعے کے فوراً بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر راستے سیل کر دیے، جبکہ نیشنل گارڈز کے اہلکاروں نے اے ایف پی کے رپورٹر کو واشنگٹن ڈاؤن ٹاؤن کے اس علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا فائرنگ کا یہ واقعہ 17 ویں اسٹریٹ اور پنسلوانیا ایونیو این ڈبلیو کے قریب آئزن ہاور ایگزیکٹو آفس بلڈنگ سے متصل علاقے میں پیش آیا، یہ ایک بہت بڑا سرکاری کمپلیکس ہے جو وائٹ ہاؤس کی عمارت کے بالکل ساتھ واقع ہے۔

    یونائیٹڈ اسٹیٹس سیکرٹ سروس کے مطابق، مشتبہ شخص بیگ میں ہتھیار چھپا کر سیکرٹ سروس کی سیکیورٹی چوکی کے قریب آیا اور سیکیورٹی بوتھ کے اندر موجود اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ ایجنٹوں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو شدید زخمی کر دیا، جو بعد میں مقامی اسپتال میں دم توڑ گیا۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے دوران 15 سے 30 راؤنڈ فائر کیے گئے۔ وائٹ ہاؤس کے شمالی لان (North Lawn) پر موجود صحافیوں نے بتایا کہ انہوں نے یکے بعد دیگرے فائرنگ کی آوازیں سنیں، جس کے فوراً بعد سیکرٹ سروس کے عملے نے میڈیا نمائندوں کو عجلت میں عمارت کے اندر منتقل کر دیا اور پورے وائٹ ہاؤس کمپلیکس میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔ یہ لاک ڈاؤن شام 7 بجے سے کچھ دیر پہلے ختم کیا گیا۔

    یہ سنسنی خیز واقعہ ایک انتہائی حساس وقت پر پیش آیا دنیا بھر کے میڈیا مینڈوبین وائٹ ہاؤس میں جمع تھے کیونکہ صدر ٹرمپ نے ابھی کچھ دیر پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن، ایران کے ساتھ ایک ممکنہ امن معاہدے یا تاریخی پیش رفت کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے میڈیا کی غیر معمولی موجودگی کی وجہ سے کئی صحافیوں نے وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے گرد شام کے پرسکون ماحول میں گولیوں کی تھرتھراہٹ سے پھیلنے والی اس افراتفری کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

    ابتدائی خدشات کے باوجود، حکام نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کی ذات کو کبھی بھی کوئی براہ راست سنگین خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ رپورٹس کے مطابق جب فائرنگ ہوئی تو صدر وائٹ ہاؤس کے اندر، ممکنہ طور پر اوول آفس (صدارتی دفتر) یا اس کے قریب موجود تھے۔ تاہم، اوول آفس پنسلوانیا ایونیو کی اس بیرونی حد سے کافی فاصلے پر واقع ہے جہاں یہ حملہ ہوا۔

    وائٹ ہاؤس سے قربت کی وجہ سے یہ علاقہ ایک بڑا سیاحتی مرکز بھی ہے۔ اس کے آس پاس ریسٹورنٹس، سووینئر شاپس، کیفے، دفتری عمارتیں اور آرٹ گیلری سمیت ثقافتی مراکز موجود ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے سامنے واقع تاریخی پارک ’لافائیٹ اسکوائر‘ عام طور پر سیاحوں، مظاہرین، پولیس کے گشتی دستوں اور ٹیلی ویژن کروز سے بھرا رہتا ہے۔ اس ضلع میں عام طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول سیکرٹ سروس، ایف بی آئی (FBI) ایجنٹس، یونیفارم میں ملبوس پولیس افسران اور مختلف وفاقی سیکیورٹی یونٹس کی بھاری نفری تعینات رہتی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص مبینہ طور پر ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھا، تاہم ہفتے کی دیر رات تک تفتیش کاروں نے باضابطہ طور پر اس کی شناخت (میڈیا کے سامنے) ظاہر نہیں کی تھی اور نہ ہی حملے کا کوئی مقصد سامنے آسکا تھا۔

    واقعے کے بعد پولیس کی گاڑیاں، ایمبولینسز اور وفاقی ایجنٹس بڑی تعداد میں علاقے میں پہنچ گئے، فضا میں ہیلی کاپٹر چکر لگاتے رہے اور وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے گرد سڑکوں کو عارضی طور پر سیل کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قریب چیک پوائنٹ پر فائرنگ کے تبادلے میں حملہ آور ہلاک ہو گیا۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مسلح شخص کے خلاف سیکریٹ سروس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کی ، جس پر سیکریٹ سروس اہلکاروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، حملہ آور کا مجرمانہ ریکارڈ تھا، اسے اہم عمارتوں میں غیر معمولی دلچسپی تھی، مستقبل میں صدور کیلئے انتہائی محفوظ اورمضبوط سکیورٹی نظام کی ضرورت ہے، ہمارے ملک کی قومی سلامتی اس کا مطالبہ کرتی ہے-

  • پرانا گولیمار میں وفاقی سول حساس ادارے اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، مطلوب گینگ وار کمانڈر مارا گیا

    پرانا گولیمار میں وفاقی سول حساس ادارے اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، مطلوب گینگ وار کمانڈر مارا گیا

    کراچی کے علاقے پرانا گولیمار میں پولیس اور حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی کے دوران انتہائی مطلوب گینگ وار کمانڈر مہراج ہلاک ہوگیا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقے پرانا گولیمار میں پولیس اور حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی کے دوران انتہائی مطلوب گینگ وار کمانڈر مہراج ہلاک ہوگیا ہلاک ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ملزم منشیات فروشی کے نیٹ ورک میں بھی ملوث تھا-

    شہر کے مختلف علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں اسی سلسلے میں ایس آئی یو اور رینجرز نے لیاقت آباد میں مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے ایک مبینہ بھتہ خور کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا، جس کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا علاوہ ازیں درخشاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے آن لائن منشیات فروخت کرنے والے مبینہ نیٹ ورک کے 4 کارندوں کو گرفتار کر لیا۔

  • سی پیک اور پاک چین سیاسی تعاون پر اہم اجلاسوں میں شرکت کیلئےاسحاق ڈار بیجنگ روانہ

    سی پیک اور پاک چین سیاسی تعاون پر اہم اجلاسوں میں شرکت کیلئےاسحاق ڈار بیجنگ روانہ

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ہانگژو میں پاک چین بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ کانفرنس میں شرکت کے بعد وہ اہم سیاسی اور اقتصادی اجلاسوں میں شرکت کے لیے بیجنگ روانہ ہو رہے ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی شعبے کے سربراہ لیو ہائیشنگ کے ساتھ دوسرے پاکستان۔چین پولیٹیکل پارٹیز فورم اور سی پیک پولیٹیکل پارٹیز جوائنٹ کنسلٹیشن میکانزم کے چوتھے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ان اجلاسوں میں سیاسی باہمی اعتماد کو مزید مضبوط بنانے، اعلیٰ معیار کے سی پیک تعاون کو فروغ دینے اور پاک چین دیرینہ دوستی کو مزید گہرا کرنے پر نتیجہ خیز گفتگو متوقع ہے،اسحاق ڈار نے ہانگژو کو خوبصورت اور متحرک شہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس شہر کی خوشگوار یادیں ساتھ لے کر بیجنگ روانہ ہو رہے ہیں۔

  • کوئٹہ :ریلوے ٹریک کے پاس خودکش دھماکا اور شدید فائرنگ

    کوئٹہ :ریلوے ٹریک کے پاس خودکش دھماکا اور شدید فائرنگ

    کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک کے پاس زور دار خودکش دھماکے اور شدید فائرنگ کے نتیجے میں ٹرین پٹڑی سے اُتر گئی، زوردار دھماکے کے باعث قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور 20 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے،جبکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا،

    پولیس کے مطابق دھماکا چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر ہوا، دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی گونج سے قریبی عمارتوں کے شیشے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئیں دھماکے سے ٹرین کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ چار افراد زخمی بھی ہوئے، دھماکے کے نتیجے میں 10 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا دھماکے کے بعد پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو کوئٹہ اسٹیشن پر ہی روک لیا گیا ہے۔

    دھماکے کے بعد سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ڈاکٹرز اور طبی عملے کو طلب کر لیا گیا ہےریسکیو ذرائع کے مطابق ریلوے ٹریک پر دھماکے کے 20 سے زائد زخمیوں کو سول سنڈیمن اسپتال منتقل کیاگیا،جبکہ 8 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے،پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں دھماکے کو خودکش حملہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم واقعے کی نوعیت سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔

    کوئٹہ میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد جائے وقوعہ پر شدید فائرنگ کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں، پولیس اور ریسکیو ٹیموں کو فوری طور پر جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ٹرین کو ریلوے ٹریک کے قریب نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ٹرین پٹڑی سے اُتر گئی۔

    سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں حکام کے مطابق دھماکے اور فائرنگ سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔

    معاون خصوصی برائے داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی کے مطابق واقعہ کی معلومات حاصل کررہے ہیں، جیسے ہی مزید تفصیلات ملیں گی میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا ، تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے ، عوام سے اپیل ہے وقوعہ جاۓ کے قریب جمع نہیں ہوں –

    وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ بزدلانہ دہشت گردی، ایسے حملے قومی عزم کو کمزور نہیں کر سکتے بھارت اور افغانستان میں موجود پاکستان دشمن عناصر دہشت گردی کی سرپرستی کر رہے ہیں، بھارت اور افغانستان سے چلنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے دہشت گرد انسانیت اور ملک کے دشمن ہیں اور انہیں عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے گا پاکستان ریلوے کی آپریشنل سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں گی انہوں نے انتظامیہ کو واقعے کی فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

  • عازمین حج کی حفاظت کیلئے میزائل سسٹم اور مختلف فضائی دفاعی نظام نصب

    عازمین حج کی حفاظت کیلئے میزائل سسٹم اور مختلف فضائی دفاعی نظام نصب

    سعودی عرب نے حج 2026 کے لیے سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات مکمل کرتے ہوئے عازمینِ حج کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال کر دیا ہے۔

    سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام کے اطراف جدید اینٹی ایئرکرافٹ گنز، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز اور ریڈار نظام نصب کر دیے گئے ہیں تاکہ لاکھوں زائرین کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکےایامِ حج کے دوران زمینی نگرانی کے ساتھ ساتھ فضائی نگرانی بھی مسلسل جاری رہے گی۔

    وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ دنیا بھر سے آنے والے عازمینِ حج کی سلامتی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی نظام کو فعال بنایا گیا ہے,مکہ میں نصب کیے گئے فضائی دفاعی نظام میں اینٹی ایئرکرافٹ گنز کے علاوہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز اور جدید ریڈار بھی شامل ہیں، جو کسی بھی ممکنہ خطرے کی فوری نشاندہی اور ردعمل کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    حکام کے مطابق رواں برس فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے آنے والے غیرملکی عازمینِ حج کی تعداد 15 لاکھ 18 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے حج سیکیورٹی فورسز کے کمانڈرز نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مختلف ممالک سے آنے والے تقریباً 30 فیصد عازمین ’’روٹ ٹو مکہ انیشی ایٹو‘‘ کے تحت جدید اور تیز رفتار امیگریشن نظام کے ذریعے سعودی عرب پہنچے, اس سال عازمینِ حج کی رہائش، آمدورفت، سیکیورٹی اور نگرانی کے لیے بڑے پیمانے پر جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے تاکہ حج کے تمام مراحل کو محفوظ، منظم اور پُرسکون بنایا جا سکے۔

  • اپنے آپ کے ساتھ لطف اندوز زندگی کی شروعات کیجئے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    اپنے آپ کے ساتھ لطف اندوز زندگی کی شروعات کیجئے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    زمانے کی رنگینیوں میں اپنے شب و روز گزارتے میں دنیا دیکھنے کے شوق میں مست جیے جا رہا تھا غفلت کا یہ عالم رہا کہ کبھی اپنے آپ کے اندر رکھی خوبصورتی سے ملنے کا خیال ہی نہیں آیا۔ دنیا میں کتنے ایسے انسان ہیں جو اپنے آپ سے ملے ہوں؟میں تو اک مدت سے اپنے آپ کے ساتھ ہی رہتا ہوں اور یہ ساتھ مجھے اس قدر پسند ہے کہ میں ساری زندگی اپنے آپ کے ساتھ گزار لوں اور بوریت کا احساس تک نہ ہو۔

    میں اپنے اندرونی حسن سے آشنا ہوگیا ہوں میں نے اسے کھوجا پھر سجایا پھر خود کو خود میں بسایا۔ایک ایک معیاری احساسات و جذبات کوتلاش کیا خوشی و فخردینے والے اصولوں کو مزاج روح پہ لاگو کر کے اپنے اندر کی اُس جنت کا حصہ بنا لیا جس میں میں رہتا ہوں یہ خودی میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی والی بات ہے لوگ دیکھاؤے پر سرمایہ کاری کرتے ہیں میرا وجود میرا سرمایہ ہے۔تبھی تو میں اپنے آپ کا دوست ہی نہیں عاشق ہوں جو اپنے آپ کے ساتھ جینے کے لیے ایک زندگی کو کم سمجھتا ہے۔مجھے کوئی باہر کا منظر غمزادہ نہیں کر سکتا کیونکہ میں کسی غیر معیاری احساس کو اپنے اندر بسنا تو دُور کی بات جھانکنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔میں اپنے آپ کا پہرہ دیتا ہوں لوگ دنیاوی چیزوں کے چھن جانے کے خوف سے حفاظتی حصار بناتے ہیں تو میرے اندرنورانی علامات سمائی ہوئی ہیں مجھے ان کے لیے کچھ تو اصول وضوابط لاگو رکھنے چاہیں جن پر سمجھوتہ نہ کیا جا سکے۔جو لوگ اپنے آپ کی اہمیت سے ناواقف رہتے ہیں وہ کسی کو خوبسیرت تصور کرکے اپنے اندربسالیتے ہیں اور وقت اس فیصلے کو غلط ثابت کر دیتا ہے کہ سستے انسان پر مہنگا جذبہ قربان کر دینے سے اُن کی خصلتیں بدل نہیں جاتیں خواہش نفس اور جذبہ محبت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔محبت کے رُوحانی جذبے سے ناواقف لوگ خواہش نفس کی غرض سے بے منزل سفر میں دل تھکالیتے ہیں۔خواہش نفس وجود سے وجود کا عارضی تعلق ہے مگر محبت رُوح سے رُوح کامستقل رشتہ ہے۔شرم و حیا میں لپٹی ہوئی محبت عشق جیسی ہوتی ہے یعنی جسم کی غیر موجودگی میں رُوحوں کا ملاپ رہتا ہے۔میری تو کھوج ہی انمول ہے میں نے اپنی رُوح کو سنوارا تو میرا وجود اس کا عاشق ہو گیا اسی لیے مجھے اس خود غرض دور میں اپنے آپ کے ساتھ رہنا قرار دیتا ہے۔
    اب یہ معجزہ ہوتا کیسے ہے اسے بھی جان لیجئے تاکہ آپ کو اپنے آپ تک پہنچنے کا راز معلوم ہو سکے۔میری زندگی میں ایک مایوس وقت بھی ٹہرا رہاتھا جب مجھے اپنے ہونے پرافسوس تھا کہ میں پیدا ہی کیوں ہوا میں اپنی سالگرہ کے دن سیاہ لباس پہن کر فاقہ کیا کرتاتھا۔بے فیض منزلوں کے سفروں میں اپنے وجود کو تھکانے کی وجہ سے میری صحت جواب دے گئی اور ڈاکٹر نے مجھے سکون واطمینان کے لیے بستر پر لیٹ کر ایک سال آرام کرنے کی تاکید کر دی جو حوصلہ افزائی سے محروم تھی جس نے میراصحت مند ہونے کا یقین کمزور کر دیا۔
    ایک سال بستر پر بیمار پڑے رہنا۔۔۔یا شاید موت کا انتظار کرتے رہنا۔۔۔۔میں خوف سے لرز جاتا۔۔۔آخر کیوں۔۔۔کس لیے۔۔۔میں نے کون سا جرم کیا ہے؟جو اس سزا کا مستحق قرار پایا؟

    میں روتا اور بین کرتامیرے مزاج میں تلخی بھر گئی اور زہن بغاوت پر اتر آیا۔۔۔جیسے کسی بڑے صدمے کے موقع پر رونے اور بین کرنے کے بعد رُوح کا دُکھ شدت سے نیچے اُتر آتا ہے اس فطرتی عمل سے گزرنے کے بعد میں نے اپنے آپ کو دلاسہ دیتے ہوئے پوچھاکہ تمہارا کیا خیال ہے سال بھر بستر پرپڑے رہنا بڑا المیہ ہے؟نہیں،ایسانہیں تمہیں سوچنے اور اپنے آپ کو جاننے کے لیے وقت و ماحول مل جائے گا۔تم اگلے چند ماہ میں ہی اتنی رُوحانی ترقی حاصل کر لو گئے جو شاید ساری زندگی نہ کر سکتے۔اس خیال کے بعد میں خاموش ہو گیا اپنی گالوں سے آنسو صاف کیے اور قدروں کے نئے احساس پیدا کرنے میں مگن ہو گیا رُوحانی اور وجدانی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا جس سے پتا چلا کہ، جو تمہارے شعور اور وجدان کے اندر ہے تم صرف اسی کا اظہار کر سکتے ہو۔یہ الفاظ میرے دل کی گہرائیوں میں اُترئے اور وہیں جاگزیں ہو گئے۔میں قوت بخش خیالات سوچنے کی کوشش سے زندہ رہنے کے کامیاب سہارے تخلیق کرتا چلا گیا۔خوشی مسرت اور صحت کے خیالات ہر روز سوتے جاگتے وقت میرا معمول بنے رہے میں اُن چیزوں کو یاد کرتا جن کا شکرگزار تھا جہاں مجھ سے دنیا چھن رہی تھی وہاں میں نے اپنے آپ کے لیے ایک نایاب دنیا تخلیق کر لی جو صرف میری تھی۔

    رُوح افزاء موسیقی کتابیں اور لذیزکھانے اپنے آپ کی حوصلہ بخش عیادت و میزبانی الہامی کیفیات اور تصوراتی جہانوں کی سیر احساسات و جذبات کے لطف اندوز نظاروں کی تنہائی میں محفلیں۔ میں نے اپنے اندر موجود تحفہ خداوندی جسمانی و رُوحانی طاقتوں سے جان لیوابیماری کے اُن دنوں کونئی اور بہتر زندگی میں بدل کر رکھ دیا۔جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ رُوحانی بیماریوں سے بھی نجات کی کامیابی حاصل کر لیناکوئی عام بات نہیں تھی۔
    میں تہہ دل سے نایاب اور مسرتوں سے لدے پھندے اُس سال کا مشکورہوں جو بیماری کے بستر پر گزراجو حیرتوں کے جہان میں جینے کی وجہ بنا۔میں نے ہر روز اپنی نعمتوں کو گننے کی عادت اپنائی جو میرا قیمتی اثاثہ بنی مجھے یہ تسلیم کرتے ندامت ہوتی ہے کہ جب تک مجھ پر موت کا خوف غالب نہ آیا مجھے جینے کا ڈھنگ نہ آیا۔
    انسانی زندگی کو درپیش حادثات کھل کر کھلنے کا پیغام حیات بھی تو ہو سکتے ہیں۔ہر واقعے کے روشن پہلوکی طرف دیکھنے کی عادت کثیرمالی آمدنی سے زیادہ قیمتی ہے۔

    اس جملے نے عقل کے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے کہ،زندگی کے صرف دومقصدہیں پہلاجو تم چاہتے ہو اسے حاصل کر نادوسرا پھر اس سے لطف اٹھانا۔صرف عقل مند لوگ ہی دوسرے مقصد کو پا سکتے ہیں۔اگر آپ پریشانیوں کو دُور کرکے نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں تو اپنی زحمتوں کو نہیں بلکہ اپنی رحمتوں کو شمار کیجئے۔