Baaghi TV

Blog

  • سندھ میں بھی تعلیمی ادارے بند،شرجیل میمن نے اہم فیصلے بتا دیئے

    سندھ میں بھی تعلیمی ادارے بند،شرجیل میمن نے اہم فیصلے بتا دیئے

    سندھ کابینہ کے اجلاس میں صوبے بھر میں اسکولز بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    توانائی کی بچت کے اقدامات کے پیشِ نظر صوبائی کابینہ نے اسکولز کو 31 مارچ تک بند رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسکولز بند ہونے کے باوجود امتحانات اپنے مقررہ وقت پر ہی منعقد ہوں گےکراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اسکولز 16 سے 31 مارچ تک بند رہیں گے،انہوں نے کہا کہ سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی کردی گئی ہے، نئی گاڑیوں اور فرنیچر خریداری پر پابندی عائد کردی گئی ہے، وزراء نے پولیس سیکیورٹی کی گاڑیاں سرینڈر کی ہیں، 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو 2 ماہ کےلیے بند کیا جارہا ہے، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 2 ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کردی گئی ہے۔

    شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ ہمارا بیانہ ریاست کے ساتھ ہے،سوچ حکومت کے ساتھ ہے، جمعہ کو سرکاری دفاتر میں تعطیل نہیں ہوگی بلکہ ورک فرام ہوم ہوگا، سرکاری دفاتر میں ریفریشمنٹ پر 2 ماہ کےلیے پابندی عائد ہوگی، غیر ضروری پروٹوکول سے اجتناب کیا جائے،کفایت شعاری کا آغاز سندھ حکومت نے شروع کیا، سندھ حکومت نے وزیراعظم کے تمام فیصلوں کی توثیق کی، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی کی، وزراء نے 3 ماہ کی تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ کیا، 16 سے 31 مارچ تک اسکولوں میں تعطیلات ہوں گی، صوبے میں پیر سے جمعرات تک کام ہوگا، جمعہ کو ورک فرام ہوم ہے، کئی وزراء نے پولیس موبائلز واپس کرنے کا اعلان کیا، شوقیہ سیکیورٹی رکھنے والوں سے سیکیورٹی واپس لی جائے گی۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز میں سب مل کر کفایت شعاری کریں، پیپلزپارٹی وفاقی حکومت، ریاست اور فوج کے ساتھ ہے، اسکولوں میں امتحانات جاری رہیں گے، پاکستان اور ریاست کا بیانیہ ہم سب کا بیانیہ ہے۔

    صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ نے پہلے خصوصی قانون سازی کی، اب رولز بھی کابینہ سے منظور کرالیے گئے، کاشتکاری کرنے والی خواتین کے تحفظ کے قوانین شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بینظیر ورکرز کارڈ بنانے کیلئے 50 کروڑ کے فنڈ کی منظوری دی، خواتین محنت کشوں کو مساوی اجرت دی جائے گی، کسان خواتین کو بینظیر لیبر کارڈ فراہم کیے جائیں گے، خواتین کو بااختیار بنانا، تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے ملیر میں نرسنگ اسکول کے قیام کی منظوری دی، ابراہیم حیدری میں 4 ایکڑ زمین نرسنگ اسکول کیلئے منظور کی گئی، کراچی کے لوگوں کو اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال سے سہولیات ملیں گی، ملک میں پہلی بار طلباء کی حاضری اور داخلوں کا ریکارڈ رکھا جائے گا، موبائل ڈیجیٹل ایپ سسٹم ایک سال میں تمام اسکولوں میں نافذ ہوگا۔

  • فائیو جی اسپیکٹرم کی آکشن کا پہلا اسٹیج مکمل ہونے پر نتائج کا اعلان

    فائیو جی اسپیکٹرم کی آکشن کا پہلا اسٹیج مکمل ہونے پر نتائج کا اعلان

    فائیو جی اسپیکٹرم کی آکشن کا پہلا اسٹیج مکمل ہونے پر نتائج کا اعلان کردیا گیا۔

    وزیرخزانہ محمد اورنگزیب، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیراطلاعات عطا تارڑ نے چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان کے ہمراہ فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کا آغاز کیا اور اس موقع پر پی ٹی اے نے 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلامی کیلئے پیش کیا۔وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ نے کہا کہ پاکستان میں تاریخی دن ہے کہ 600 میگا ہرٹز کا اسپیکٹرم آکشن ہوا جب کہ پاکستان میں اس سے قبل 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم موجود ہے ،شزا فاطمہ نے کہا کہ اسی کی وجہ سے انٹرنیٹ کی اسپیڈ سلو ہے اور پاکستان خطے میں سب سے کم اسپیکٹرم پر کام کر رہا تھا۔

    وزیر آئی ٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ فیلڈ مارشل بھی ہمیں ہر مرحلہ عبور کرنے میں مکمل مدد دیتے ہیں۔

  • پاکستان نے عالمی سطح پر بھارت اور  اس کی پراکسی افغان طالبان کو بے نقاب کر دیا

    پاکستان نے عالمی سطح پر بھارت اور اس کی پراکسی افغان طالبان کو بے نقاب کر دیا

    افغان طالبان اور بھارت کے پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے ناپاک عزائم دنیا بھر میں آشکار ہو گئے

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستانی مستقل مندوب نے افغان طالبان اور بھارت کے مذموم گٹھ جوڑ کی قلعی کھول دی ،پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے یو این سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں بھارت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو افغانستان میں دہشت گردوں پر کی گئی بھاری سرمایہ کاری کے ضائع ہونے پر تکلیف ہو رہی ہے ،پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گرد کیمپوں اور مراکز کو درست انداز میں نشانہ بنایا جا رہاہے، دنیا کو بھارت جیسے قانون شکن اور عالمی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کرنے والے ملک سے کسی لیکچر کی ضرورت نہیں، بھارت نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی اور غیر قانونی طور پر کشمیر پر قابض ہے ، بھارت غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور اس سے باہر ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کرتا ہے ، بھارت اپنی ہی اقلیتوں کو منظم طریقے سے دیوار کیساتھ لگاتا ہے اور نفرت و تقسیم پھیلاتا ہے ،بھارت نے مذموم مقاصد کیلئے پانی کو ہتھیار بنا کرپاکستان کی آبادی کو بھوکا رکھنے کی ناپاک سازش کی ،

    عالمی ماہرین کے مطابق بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں مصروف ہے،دہشت گردی اور خطرناک منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی بدولت افغانستان دنیا بھر میں تنہا ہو رہاہے ،بھارت کے غیر قانونی اقدامات اور جارحانہ پالیسی کے تحت خطے کا امن خطرہ میں پڑ گیا ہے ،

  • 25 کروڑ لیٹر پیٹرول سے لدے جہاز پورٹ قاسم پہنچ گئے

    25 کروڑ لیٹر پیٹرول سے لدے جہاز پورٹ قاسم پہنچ گئے

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

    پورٹ قاسم پر پیٹرول سے لدے چار جہاز پہنچ گئے ہیں، جس کے بعد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی بہتر ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔پورٹ حکام کے مطابق تقریباً 25 کروڑ لیٹر پیٹرول پر مشتمل کھیپ بندرگاہ پر پہنچ چکی ہے۔ حکام نے بتایا کہ ایک جہاز سے 37 ہزار ٹن پیٹرول کی منتقلی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے،پورٹ انتظامیہ کے مطابق ایک اور جہاز سے 50 ہزار ٹن پیٹرول کی ترسیل جاری ہے جبکہ 55 ہزار ٹن پیٹرول لے کر آنے والا ایک اور جہاز 12 مارچ کو پورٹ قاسم پر لنگر انداز ہوگا،حکام کا مزید کہنا ہے کہ ایک چوتھا جہاز 13 مارچ کو بندرگاہ پر پہنچے گا جو تقریباً 34 ہزار ٹن پیٹرول اتارے گا۔

    واضح رہے کہ حکومت نے حالیہ دنوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے تک اضافہ کیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں مہنگائی اور عوامی ردعمل میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ماہرین کے مطابق نئی کھیپ آنے سے آئندہ دنوں میں سپلائی کی صورتحال میں بہتری متوقع ہے۔

  • ایرانی میزائل حملوں کی ویڈیو بنانے پر 5 پاکستانی بحرین میں گرفتار

    ایرانی میزائل حملوں کی ویڈیو بنانے پر 5 پاکستانی بحرین میں گرفتار

    ‏بحرین نے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی ویڈیوز بنانے پر 5 پاکستانی اور ایک بنگلہ دیشی شہری کو گرفتار کر لیا ہے

    بحرینی حکام کے مطابق گرفتار افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران کے حملوں کے حق میں خوشی/ہمدردی کا اظہار کیا، سوشل میڈیا پر گمراہ کن معلومات پھیلائیں اور ایسی ویڈیوز بنائیں جو ملک کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی تھیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور دشمن کارروائیوں کی حمایت کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

  • آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں،گریز کیا جائے،وزیر قانون

    آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں،گریز کیا جائے،وزیر قانون

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خطے میں کشیدہ صورتحال ہمارے لئے بھی چیلنج ہے،پاکستان نے کوشش کی ہے تنازع کا سفارتی حل نکلے،ہم تبصرے کرتے ہوئے غیرضروری معاملات میں الجھ رہے ہیں ،آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں۔

    اعظم نذیر تارڑ نے دیگر وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے، دوست ممالک پر حملوں کے معاملے کو بھی دیکھا گیا، ہم تبصرے کرتے ہوئے غیرضروری معاملات میں الجھ رہے ہیں ،دوست ممالک کی جانب سے بے چینی کااظہار کیا گیا ہے، آرٹیکل 19کے تحت ہر شہری کو اظہاررائے کی آزادی ہے،ہر شخص کو دل کی بات کرنے کا حق ہے لیکن آئین کو بھی دیکھنا ہے،وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے آرٹیکل 19پڑھ کر سنایا،انہوں نے کہاکہ قانون کے تحت اظہاررائے میں احتیاط کا دامن نہیں چھوڑیں گے،آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں،میڈیا کا ذمہ درانہ کردار ادا کرنا ضروری ہے،سوشل میڈیا پر تبصروں کی وجہ سے دوست ملک کی جانب سے بے چینی کا اظہار ہوا ہے اور پوچھا گیا کہ کیا یہ پاکستان کا مؤقف ہے؟ اس لیے میڈیا یا سوشل میڈیا پر بات کرتے ہوئے آئین پاکستان کو ذہن میں رکھیں اور بین الاقومی سطح پر جو خارجہ پالیسی ہے اس کو بھی سامنے رکھنا ہے۔ ہمارے صحافیوں اور پاکستان اور بیرون ملک کے لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے آئین کو مدنظر رکھیں۔ اگر اس طرح کے بیانات گروپوں کی طرف سے دیے جاتے ہیں اور دوست ممالک تک پہنچتے ہیں اور انہیں تکلیف پہنچاتے ہیں تو ان سے گریز کیا جانا چاہیے،

    اس موقع پر وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ آج کل وی لاگز میں، لوگ اکثر ایسی باتیں کہتے ہیں کہ زیادہ آراء یا زیادہ رقم کمائی جائے، یہاں تک کہ دوست ممالک کے بارے میں بھی۔ لیکن میرا آئین اور حلف مجھے پابند کرتا ہے کہ میں اپنی خارجہ پالیسی پر عمل کروں۔ ہماری پالیسی واضح ہے، پاکستان کے مفادات پہلے آتے ہیں،ویلاگ میں ویوز لینے اور ٹی وی شوز میں تبصرہ میں بہت احتیاط کریں.

  • ایرانی بیلسٹک میزائل حملہ، اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد 12 ہو گئی

    ایرانی بیلسٹک میزائل حملہ، اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد 12 ہو گئی

    اسرائیل میں ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے نتیجے میں مزید ایک شخص ہلاک ہو گیا، جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 12 تک پہنچ گئی ہے۔

    اسرائیل کی ہنگامی امدادی سروس کے مطابق پیر کے روز داغا گیا ایرانی بیلسٹک میزائل، جس میں کلسٹر ایمونیشن نصب تھی، نے بیک وقت تل ابیب کے جنوب میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔میزائل حملے کے نتیجے میں شہر یہود میں واقع ایک تعمیراتی مقام پر ایک شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا، جبکہ شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے ایک اور شخص نے بعد میں دم توڑ دیا۔ہنگامی امدادی ادارے کے مطابق ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں کے نتیجے میں اب تک اسرائیل میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور مزید نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • مصنوعی سیاستدان اور قیادت کا بحران،تجزیہ :شہزاد قریشی

    مصنوعی سیاستدان اور قیادت کا بحران،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاست اس وقت ایک عجیب دور سے گزر رہی ہے۔ بظاہر جمہوریت موجود ہے، پارلیمنٹ قائم ہے، سیاسی جماعتیں فعال ہیں اور ہر روز بیانات اور پریس کانفرنسوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ لیکن اگر اس ساری سیاسی سرگرمی کو ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہماری سیاست میں اصل قیادت اور فکری گہرائی تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پارلیمنٹ کے ایوان میں حقیقی سیاستدانوں کی جگہ مصنوعی کردار ادا کرنے والے لوگ بڑھتے جا رہے ہیں۔

    آج اگر کوئی شخص پارلیمنٹ ہاؤس کی کارروائیوں کو غور سے دیکھے تو اسے اندازہ ہوگا کہ قومی مسائل پر سنجیدہ بحث کم اور سیاسی تماشہ زیادہ نظر آتا ہے۔ ایسے ایسے بیانات سننے کو ملتے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک اس وقت جن سنگین مسائل کا شکار ہے، ان پر وہ توجہ دکھائی نہیں دیتی جس کی ایک ذمہ دار قیادت سے توقع کی جاتی ہے۔

    پاکستان اس وقت مہنگائی، بے روزگاری، توانائی بحران اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، صنعتیں توانائی کی قلت سے پریشان ہیں اور نوجوان طبقہ روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہے۔ ایسے میں قوم کو ایسی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو مسائل کو سمجھتی ہو، ان کے حل کے لیے واضح حکمت عملی رکھتی ہو اور قوم کو اعتماد دے سکے۔

    مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ میں ایسے افراد کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے۔ چند ایک لوگ ضرور موجود ہیں جو سیاسی بصیرت رکھتے ہیں، جنہیں ملکی اور عالمی حالات کا ادراک ہے اور جو سنجیدہ انداز میں بات کرتے ہیں، مگر ان کی تعداد اتنی کم ہے کہ انہیں انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ باقی اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل دکھائی دیتی ہے جن کے نزدیک سیاست ایک سنجیدہ قومی ذمہ داری کے بجائے محض ایک سیاسی مشغلہ بن چکی ہے۔

    یہ صورتحال صرف پارلیمنٹ تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں کے اندر بھی یہی مسئلہ موجود ہے۔ جماعتوں میں نظریاتی کارکن کم ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ ایسے لوگ لے رہے ہیں جن کا سیاست سے تعلق زیادہ تر اقتدار کے حصول تک محدود ہے۔ سیاسی تربیت، مطالعہ اور فکری بحث کا جو کلچر کبھی سیاست کا حصہ ہوا کرتا تھا، وہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔

    ان حالات میں جب قیادت کے بحران کی بات ہوتی ہے تو اکثر لوگوں کی نظر ایک ہی نام پر جا کر ٹھہرتی ہے اور وہ نام ہے نواز شریف ۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے پاکستان کی سیاست میں طویل عرصہ گزارا ہے اور اقتدار و اپوزیشن دونوں کے تجربات سے گزرے ہیں۔ ان کے حامی انہیں ایک مضبوط سیاسی لیڈر کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ مخالفین ان پر تنقید بھی کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود یہ بات اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کی سیاست میں ان کا کردار اور اثر و رسوخ ایک حقیقت ہے۔

    تاہم ایک صحت مند جمہوری نظام کا تقاضا یہ ہے کہ قیادت صرف چند افراد تک محدود نہ رہے بلکہ نئی قیادت سامنے آئے۔ نوجوان سیاستدان تیار ہوں، سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری روایات مضبوط ہوں اور ایسے لوگ آگے آئیں جو ملک کے مسائل کو سمجھتے ہوں اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی کر سکیں۔پاکستان کی غریب عوام اس وقت سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ وہ روزانہ مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی سے لڑ رہی ہے۔ ان کے لیے سیاسی بیانات یا ٹی وی ٹاک شوز کی گرما گرمی سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ان کی زندگی میں بہتری آئے۔اگر پاکستان کی سیاست کو واقعی مضبوط بنانا ہے تو مصنوعی سیاستدانوں کے اس ہجوم سے نکل کر حقیقی قیادت کو سامنے لانا ہوگا۔ سیاست کو دوبارہ سنجیدگی، نظریے اور قومی خدمت کے جذبے سے جوڑنا ہوگا۔ کیونکہ قومیں صرف نعروں اور تقریروں سے نہیں بلکہ بصیرت، دیانت اور مضبوط قیادت سے آگے بڑھتی ہیں۔

  • عدلیہ کی سرپرستی میں بچوں کو یتیم نہیں کرسکتے، سپریم کورٹ

    عدلیہ کی سرپرستی میں بچوں کو یتیم نہیں کرسکتے، سپریم کورٹ

    عدلیہ کی سرپرستی میں بچوں کو یتیم نہیں کرسکتے، سپریم کورٹ نے سزائے موت کے خلاف اہم فیصلہ جاری کردیا، بیوی اور بیٹی کے قاتل محمد امین کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس اشتیاق ابراہیم نے سزائے موت کیخلاف تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے کہا کہ والد کو پھانسی دینا عدلیہ کی سرپرستی میں بچوں کو یتیم کرنے کے مترادف ہے، ریاست کو ایک بچے کی مکمل بے چارگی، خاندان کی تباہی کا معمار نہیں بننا چاہئے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کنونشن کے تحت بچوں کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے، جب وارث مقتول کا براہ راست وارث ہو تو دفعہ 306 کے تحت قصاص نافذ نہیں ہوتا، مجرم اپنی 15 سال کی بیٹی کا واحد بچ جانے والا سہارا ہے۔

  • بحرین میں موساد کو حساس معلومات فراہم کرنے کے الزام میں بھارتی ٹیلی کام انجینئر گرفتار

    بحرین میں موساد کو حساس معلومات فراہم کرنے کے الزام میں بھارتی ٹیلی کام انجینئر گرفتار

    بحرین کی انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں نے ایک بھارتی شہری کو اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کو حساس معلومات فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

    حکام کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت نتن موہن کے نام سے ہوئی ہے جو پیشے کے لحاظ سے ٹیلی کمیونیکیشن انجینئر ہے۔بحرینی حکام کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ وہ ملک کے اہم اور حساس مقامات سے متعلق جغرافیائی معلومات ، تصاویر اور ویڈیوز اسرائیل کی بیرونی خفیہ ایجنسی موساد کو فراہم کر رہا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس نے مختلف مقامات کی تصویری اور عملی نوعیت کی معلومات بھی شیئر کیں جو غیر ملکی انٹیلی جنس کے لیے تجزیے اور ممکنہ اہداف کے تعین میں استعمال ہو سکتی تھیں۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فراہم کی گئی معلومات میں اسٹریٹجک مقامات کی نگرانی سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر شامل تھیں، جنہیں ممکنہ طور پر انٹیلی جنس تجزیے اور سکیورٹی جائزوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔

    بحرین کی وزارت داخلہ نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ تاہم وزارت نے ابھی تک اس کیس کی تکنیکی تفصیلات یا مزید تفتیشی معلومات جاری نہیں کیں۔حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید حقائق سامنے لائے جائیں گے