Baaghi TV

اپنے آپ کے ساتھ لطف اندوز زندگی کی شروعات کیجئے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

zafar iqbal zafar

زمانے کی رنگینیوں میں اپنے شب و روز گزارتے میں دنیا دیکھنے کے شوق میں مست جیے جا رہا تھا غفلت کا یہ عالم رہا کہ کبھی اپنے آپ کے اندر رکھی خوبصورتی سے ملنے کا خیال ہی نہیں آیا۔ دنیا میں کتنے ایسے انسان ہیں جو اپنے آپ سے ملے ہوں؟میں تو اک مدت سے اپنے آپ کے ساتھ ہی رہتا ہوں اور یہ ساتھ مجھے اس قدر پسند ہے کہ میں ساری زندگی اپنے آپ کے ساتھ گزار لوں اور بوریت کا احساس تک نہ ہو۔

میں اپنے اندرونی حسن سے آشنا ہوگیا ہوں میں نے اسے کھوجا پھر سجایا پھر خود کو خود میں بسایا۔ایک ایک معیاری احساسات و جذبات کوتلاش کیا خوشی و فخردینے والے اصولوں کو مزاج روح پہ لاگو کر کے اپنے اندر کی اُس جنت کا حصہ بنا لیا جس میں میں رہتا ہوں یہ خودی میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی والی بات ہے لوگ دیکھاؤے پر سرمایہ کاری کرتے ہیں میرا وجود میرا سرمایہ ہے۔تبھی تو میں اپنے آپ کا دوست ہی نہیں عاشق ہوں جو اپنے آپ کے ساتھ جینے کے لیے ایک زندگی کو کم سمجھتا ہے۔مجھے کوئی باہر کا منظر غمزادہ نہیں کر سکتا کیونکہ میں کسی غیر معیاری احساس کو اپنے اندر بسنا تو دُور کی بات جھانکنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔میں اپنے آپ کا پہرہ دیتا ہوں لوگ دنیاوی چیزوں کے چھن جانے کے خوف سے حفاظتی حصار بناتے ہیں تو میرے اندرنورانی علامات سمائی ہوئی ہیں مجھے ان کے لیے کچھ تو اصول وضوابط لاگو رکھنے چاہیں جن پر سمجھوتہ نہ کیا جا سکے۔جو لوگ اپنے آپ کی اہمیت سے ناواقف رہتے ہیں وہ کسی کو خوبسیرت تصور کرکے اپنے اندربسالیتے ہیں اور وقت اس فیصلے کو غلط ثابت کر دیتا ہے کہ سستے انسان پر مہنگا جذبہ قربان کر دینے سے اُن کی خصلتیں بدل نہیں جاتیں خواہش نفس اور جذبہ محبت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔محبت کے رُوحانی جذبے سے ناواقف لوگ خواہش نفس کی غرض سے بے منزل سفر میں دل تھکالیتے ہیں۔خواہش نفس وجود سے وجود کا عارضی تعلق ہے مگر محبت رُوح سے رُوح کامستقل رشتہ ہے۔شرم و حیا میں لپٹی ہوئی محبت عشق جیسی ہوتی ہے یعنی جسم کی غیر موجودگی میں رُوحوں کا ملاپ رہتا ہے۔میری تو کھوج ہی انمول ہے میں نے اپنی رُوح کو سنوارا تو میرا وجود اس کا عاشق ہو گیا اسی لیے مجھے اس خود غرض دور میں اپنے آپ کے ساتھ رہنا قرار دیتا ہے۔
اب یہ معجزہ ہوتا کیسے ہے اسے بھی جان لیجئے تاکہ آپ کو اپنے آپ تک پہنچنے کا راز معلوم ہو سکے۔میری زندگی میں ایک مایوس وقت بھی ٹہرا رہاتھا جب مجھے اپنے ہونے پرافسوس تھا کہ میں پیدا ہی کیوں ہوا میں اپنی سالگرہ کے دن سیاہ لباس پہن کر فاقہ کیا کرتاتھا۔بے فیض منزلوں کے سفروں میں اپنے وجود کو تھکانے کی وجہ سے میری صحت جواب دے گئی اور ڈاکٹر نے مجھے سکون واطمینان کے لیے بستر پر لیٹ کر ایک سال آرام کرنے کی تاکید کر دی جو حوصلہ افزائی سے محروم تھی جس نے میراصحت مند ہونے کا یقین کمزور کر دیا۔
ایک سال بستر پر بیمار پڑے رہنا۔۔۔یا شاید موت کا انتظار کرتے رہنا۔۔۔۔میں خوف سے لرز جاتا۔۔۔آخر کیوں۔۔۔کس لیے۔۔۔میں نے کون سا جرم کیا ہے؟جو اس سزا کا مستحق قرار پایا؟

میں روتا اور بین کرتامیرے مزاج میں تلخی بھر گئی اور زہن بغاوت پر اتر آیا۔۔۔جیسے کسی بڑے صدمے کے موقع پر رونے اور بین کرنے کے بعد رُوح کا دُکھ شدت سے نیچے اُتر آتا ہے اس فطرتی عمل سے گزرنے کے بعد میں نے اپنے آپ کو دلاسہ دیتے ہوئے پوچھاکہ تمہارا کیا خیال ہے سال بھر بستر پرپڑے رہنا بڑا المیہ ہے؟نہیں،ایسانہیں تمہیں سوچنے اور اپنے آپ کو جاننے کے لیے وقت و ماحول مل جائے گا۔تم اگلے چند ماہ میں ہی اتنی رُوحانی ترقی حاصل کر لو گئے جو شاید ساری زندگی نہ کر سکتے۔اس خیال کے بعد میں خاموش ہو گیا اپنی گالوں سے آنسو صاف کیے اور قدروں کے نئے احساس پیدا کرنے میں مگن ہو گیا رُوحانی اور وجدانی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا جس سے پتا چلا کہ، جو تمہارے شعور اور وجدان کے اندر ہے تم صرف اسی کا اظہار کر سکتے ہو۔یہ الفاظ میرے دل کی گہرائیوں میں اُترئے اور وہیں جاگزیں ہو گئے۔میں قوت بخش خیالات سوچنے کی کوشش سے زندہ رہنے کے کامیاب سہارے تخلیق کرتا چلا گیا۔خوشی مسرت اور صحت کے خیالات ہر روز سوتے جاگتے وقت میرا معمول بنے رہے میں اُن چیزوں کو یاد کرتا جن کا شکرگزار تھا جہاں مجھ سے دنیا چھن رہی تھی وہاں میں نے اپنے آپ کے لیے ایک نایاب دنیا تخلیق کر لی جو صرف میری تھی۔

رُوح افزاء موسیقی کتابیں اور لذیزکھانے اپنے آپ کی حوصلہ بخش عیادت و میزبانی الہامی کیفیات اور تصوراتی جہانوں کی سیر احساسات و جذبات کے لطف اندوز نظاروں کی تنہائی میں محفلیں۔ میں نے اپنے اندر موجود تحفہ خداوندی جسمانی و رُوحانی طاقتوں سے جان لیوابیماری کے اُن دنوں کونئی اور بہتر زندگی میں بدل کر رکھ دیا۔جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ رُوحانی بیماریوں سے بھی نجات کی کامیابی حاصل کر لیناکوئی عام بات نہیں تھی۔
میں تہہ دل سے نایاب اور مسرتوں سے لدے پھندے اُس سال کا مشکورہوں جو بیماری کے بستر پر گزراجو حیرتوں کے جہان میں جینے کی وجہ بنا۔میں نے ہر روز اپنی نعمتوں کو گننے کی عادت اپنائی جو میرا قیمتی اثاثہ بنی مجھے یہ تسلیم کرتے ندامت ہوتی ہے کہ جب تک مجھ پر موت کا خوف غالب نہ آیا مجھے جینے کا ڈھنگ نہ آیا۔
انسانی زندگی کو درپیش حادثات کھل کر کھلنے کا پیغام حیات بھی تو ہو سکتے ہیں۔ہر واقعے کے روشن پہلوکی طرف دیکھنے کی عادت کثیرمالی آمدنی سے زیادہ قیمتی ہے۔

اس جملے نے عقل کے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے کہ،زندگی کے صرف دومقصدہیں پہلاجو تم چاہتے ہو اسے حاصل کر نادوسرا پھر اس سے لطف اٹھانا۔صرف عقل مند لوگ ہی دوسرے مقصد کو پا سکتے ہیں۔اگر آپ پریشانیوں کو دُور کرکے نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں تو اپنی زحمتوں کو نہیں بلکہ اپنی رحمتوں کو شمار کیجئے۔

More posts