پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سفارت کاری میں اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے خطے کے تمام اہم فریقین اور باہمی اختلافات رکھنے والے ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے،آرمی چیف،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دوسری بار دورہ ایران رنگ لے آیا، باخبر ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے مابین ایک اہم مفاہمتی معاہدے کا اعلان آئندہ ایک یا دو روز میں متوقع ہے۔
عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی کوششوں اور چیف آف ڈیفنس فورس فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پس پردہ سفارت کاری، علاقائی مشاورت اور بیک چینل رابطوں کے ذریعے نہ صرف متحارب قوتوں کے درمیان اعتماد سازی کی فضا قائم کی بلکہ خطے کے اہم ممالک کو بھی ایک مشترکہ فریم ورک پر متفق کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں کئی حساس امور پر پیش رفت ہوئی اور اب ایک باضابطہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا اور سفارتی حلقے پاکستان کے کردار کو “فیصلہ کن”، “متوازن” اور “تاریخی” قرار دے رہے ہیں۔امریکا اور ایران کے مابین جنگ بندی پاکستان کی درخواست پر ہوئی، جنگ بندی میں توسیع بھی پاکستان کی درخواست پر ہوئی، جنگ بندی کے بعد باضابطہ معاہدے کے لئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان سفارتی سطح پر اہم کردار ادا کر رہا تھا ،وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک ہفتے میں ایران کے دو دورے کئے، جس کے بعد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دورے پر گئے اور ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں،آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی گہری بات چیت کے نتیجے میں حتمی مفاہمت کی طرف حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔ ایران پہنچنے پر فیلڈ مارشل کا استقبال ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے سینئر سول اور عسکری حکام کے ہمراہ کیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں میں خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن کے قیام کے لیے جاری ثالثی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، یہ ملاقاتیں جاری سفارتی و ثالثی کوششوں کا حصہ تھیں،فیلڈ مارشل نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، فیلڈ مارشل نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات کی۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئیں، ملاقاتوں نے ثالثی کے عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا،گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی گہری بات چیت کے نتیجے میں حتمی مفاہمت کی طرف حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔ ملاقاتوں کا مقصد 8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد خطے میں پیدا کشیدگی میں کمی یقینی بنانا ہے، ملاقاتوں کا مقصد تعمیری روابط کے فروغ کو یقینی بنانا ہے،ایرانی قیادت نے علاقائی مسائل کے پرامن حل میں پاکستان کے مخلصانہ اور تعمیری کردار کو سراہا، ایرانی قیادت نے مذاکرات کے فروغ میں پاکستان کے مخلصانہ اور تعمیری کردار کو سراہا۔
مختلف عالمی رہنماؤں اور مبصرین نے پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے غیرمعمولی پیش رفت قرار دیا ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے نہ صرف رابطہ کار بلکہ عملی ثالث اور امن مذاکرات کے مرکزی سہولت کار کا کردار ادا کیا۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل اور مذاکراتی ماحول کی تشکیل میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کوششوں میں چیف آف ڈیفنس فورس ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور متحرک سفارت کاری کو خصوصی اہمیت حاصل رہی،متعدد عالمی رہنماؤں نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے ایک ذمہ دار اور مؤثر علاقائی طاقت کے طور پر امن کے قیام میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔
سیاسی و دفاعی مبصرین کے مطابق پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی نے عالمی سطح پر اس کے وقار اور اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جبکہ اسلام آباد اب خطے میں ایک قابلِ اعتماد ثالث اور مذاکراتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متوقع معاہدے پر دستخط اگلے ایک دو روز میں متوقع ہیں،پاکستان خطے میں امن، ڈائیلاگ اور استحکام کا مرکز بن کر ابھر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دوراندیش قیادت میں ہماری علاقائی سفارت کاری مضبوط سے مضبوط تر ہو رہی ہے،دنیا نے دیکھا کہ پاکستان بحران میں بھی ذمہ داری، تدبر اور قیادت دکھاتا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی یہ کامیابی پوری قوم کے لیے فخر کا لمحہ ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت ایک واضح سمت کی عکاسی کرتی ہے: تنازع کے بجائے تعاون، اور کشیدگی کے بجائے ترقی۔ یہی وژن خطے کو استحکام کی طرف لے جا رہا ہے۔
