Baaghi TV

ایرانی معاہدہ آج ہی قبول کیے جانے کی توقع ہے، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کردہ معاہدے کو آج ہی قبول کر سکتا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں اہم پیش رفت کے آثار سامنے آئے ہیں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ رہے ہیں، جب کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی مذاکراتی عمل میں پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے آئندہ چند روز میں اہم اعلان کا اشارہ دیا ہے۔

اپنے دورہ بھارت کے موقع پر نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مارکو بیورو نے کہا کہ ایران سے متعلق سفارتی کوششیں جاری ہیں اور پس پردہ مختلف سطح پر کام ہو رہا ہے یہ ممکن ہے کہ آج، کل یا پھر اگلے چند روز کے اندر ہمارے پاس اس حوالے سے کوئی بڑا اعلان کرنے کے لیے موجود ہو۔

ایرانی وزارت خارجہ اور مذاکراتی وفد کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے لیے رابطے جاری ہیں۔

قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دونوں ممالک کے مؤقف میں قربت آئی ہے، تاہم حتمی نتائج کے لیے آئندہ چند دن اہم ہوں گے ایران اس وقت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے پر توجہ دے رہا ہے، جب کہ مختلف معا ملات پر سفارتی رابطے مسلسل جاری ہیں ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں، تاہم مذاکراتی عمل آگے بڑھ رہا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ مختصر مدت میں کسی بڑے نتیجے کی توقع نہیں کی جا سکتی کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی تاریخ طویل ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس تجویز کی مختلف شقوں پر فریقین نے اپنے اپنے مؤقف کا تبادلہ کیا ہے اور گزشتہ چند دنوں میں بعض نکات اور الفاظ پر اختلافات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے امریکی بحری جارحیت جسے امریکا بحری ناکا بندی قرار دیتا ہے کے خاتمے اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں پر سے پابندیوں کے خاتمے جیسے معاملات اس یادداشت کا اہم حصہ ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں، جب کہ پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی ممالک بھی ثالثی کوششوں میں سرگرم ہیں۔

واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقاتیں کیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اعلیٰ سطح کی بیٹھک میں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتِ حال، علاقائی امن اور جنگ بندی کے مسودے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ان اہم ملاقاتوں میں پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی آرمی چیف کے ہمراہ شریک تھے۔

More posts